آہ

تحریر: محمد اعجاز الحق               بشکریہ: اردو پوائنٹ

آہ

بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

آج کل ہر کوئی تو کر کٹ کی بات نہیں کر رہا مگر کئی کر بھی رہے ہیں، اپنے ملک کی ٹیم کے کپتان کے اُس بیان کی کافی شہرت ہے ے جس میں جناب نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور بین الاقوامی کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ اس کا فیصلہ تو تجریہ نگار ہی کرتے اچحے لگتے ہیں کہ کرکٹ کھیل ہے یا تف…

بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

ڈالر

1951 وہ سال تھا جب تک پاکستان روس کی دعوت کو مسترد کر کے امریکہ سے یاری پالنے کے شوق میں آگے بڑھ چکا تھا،  دلچسپ بات یہ کہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت بنانے کے لئےنوٹوں کے  بریف کیس  وفاداری کی خرید کے ضمن میں ادا کئے گئے تھے اب یہ معلوم نہیں وہ نوٹ ڈالر کی شکل میں تھے یا روپے کی؟؟ بہر حال  یہ کوئی واقف حال ہی بیان کر …

ہو گا کیا؟؟

ہم تو اُس دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے! مگر اپنے بڑوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب 1965 میں پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو جتنے دن ملک میں جنگ ہوتی رہی! اتنے دن نہ تو کوئی ملک میں کوئی چوری ہوئی نہ ڈاکا پڑا لاہور جیسے بڑے شہر پر دشمن قبصہ کرنا چاہتا تھا مگر لاہور راتوں کو جاگ اور دن میں کاروبار زندگی چل رہا تھا! باقی…

اپارٹمنٹ نمبر 1455 اور تین لڑکیاں

یک امریکی خاتون ماہر نفسیات کے پاس گئی اور اپنی ذہنی حالت بیان کرتے کہا کہ میں ہر غلطی اور گناہ کا مورد الزام خود کو ٹھہراتی ہوں۔ اپنے تمام مسائل کا ذمہ دارہ خود کو سمجھتی ہوں۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ ماہر نفسیات نے کہا کہ تم خود کو مجرم سمجھنا چھوڑ دو گی تو تمہاری پریشانی ختم ہو جائیگی۔ خاتون بولی کہ پھر میں کس کو …

انتہا پسندوں یا طالبان کی ایک اور شکل!

ڈاکٹر عنیقہ ناز نے اپنے بلاگ پر ندیم ایف پراچہ کے مضمون سے تحریک پا کر ایک تحریر لکھی جس میں “طالبانی“ رویہ پر روشنی ڈالی، اور اس سلسلے میں دو مزید واقعات بھی شیئر کئے! یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ “طالبانی“ رویوں کہ کے یہ کردار بھی “پٹھان“ ہی تھے! عوامی میں طالبان کے تصور کے عین مطابق!!  میں اسے ہر گز حسن اتفاق نہیں کہوں گ…

یہ حفاظت کو بنایا ہے

یہ اُس دور کی بات ہے جب ہم نے تازہ تازہ پی اے ایف انٹر کالج ملیر میں داخلہ لیا تھا! ہم اُن چند طالب علموں میں سے تھے جن کے والد فوجی میں نہیں تھے، کلاس فیلوز کی اکثریت فوجی پس منظر رکھتی تھی۔ ایسے ہی ایک دن گفتگو مختلف انداز میں جاری تھی، ہم اُس میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہے تھے ساتھ بیٹھے دوست سے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے …

وطنی مہاجر

پرائی جنگ جب اپنی ہو، آنگن میں جب اپنے مریں، دشمن دوست سمجھے جائیں، گھر تب تباہ ہوتے ہیں، اپنے بے گھر ہوتے ہیں، رہنما جب جھک جائیں، حکمراں بک جائیں، اپنوں کی ہو قیمت وصول، وہ زخم خود ہی لگتے ہیں، بھیک جن پر ملتی ہے، محافظ جب ہو بے یقین، خود ہی پر وار کرتے ہیں، اپنوں سے ہی ڈرتے ہیں،…

شرپسندوں کی ہرتال اور حکومت کی چھٹی

شر پسند وہ ہی ہوتے ہیں جنہیں “شر“ پسند ہو! شریر ہر گز نہیں ہوتے! مگر شرارت کرتے رہتے ہیں! اچھے تو ہر گز نہیں ہوتے! مگر اچھے کہلاتے ہیں۔ یہ اِیسے ہی شر پسندوں کی کارستانی تھی جس کی بناء پر آج تمام سندھ چھٹی منا رہا تھا۔ ہمیں شر پسندوں کو پہچانے میں کافی ذیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ کام خود شرپسندوں و حکومت وق…