بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

آج کل ہر کوئی تو کر کٹ کی بات نہیں کر رہا مگر کئی کر بھی رہے ہیں، اپنے ملک کی ٹیم کے کپتان کے اُس بیان کی کافی شہرت ہے ے جس میں جناب نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور بین الاقوامی کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ اس کا فیصلہ تو تجریہ نگار ہی کرتے اچحے لگتے ہیں کہ کرکٹ کھیل ہے یا تفریح؟ کھیل و تفریح کا بنیادی فرق کیا ہے؟ اور بندر کی ذات تفریح کا کتنا سبب بنتی ہے؟ آیا کرکٹ سے ذیادہ یا کم؟ جی میں بندر کی بات کر رہا ہوں؟ آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں؟ اور یہ کہ بندر و کرکٹ میں کیا تعلق ہے؟

شاید اس ویڈیو کو دیکھ کر کچھ رائے آپ قائم کر سکیں؟

مکمل تحریر پڑھیں ←

ڈالر

1951 وہ سال تھا جب تک پاکستان روس کی دعوت کو مسترد کر کے امریکہ سے یاری پالنے کے شوق میں آگے بڑھ چکا تھا،  دلچسپ بات یہ کہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت بنانے کے لئےنوٹوں کے  بریف کیس  وفاداری کی خرید کے ضمن میں ادا کئے گئے تھے اب یہ معلوم نہیں وہ نوٹ ڈالر کی شکل میں تھے یا روپے کی؟؟ بہر حال  یہ کوئی واقف حال ہی بیان کر سکتا ہے مگر ڈالر کی کارستانی کا آغاز ہو ہی چکا تھا۔ تب ہی تو اُس وقت نعیم صدیقی مرحوم کی ذیل کی نظم "ڈالر" 1951 میں کراچی کے ایک مقامی رسالے میں چھپی تھی ناں، آپ نظم پر ایک نظر ڈالےتو پھر بتائیں کہ کیا شاعر کے وجدان کا قائل ہونا بنتا ہے یا نہیں؟؟

ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو ظلم کا حاصل
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص
سرمائے کی اولاد
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل
تو سود کا فرزند!
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے
بیواوں کی فریاد!
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش
توضعیف کی اک چیخ
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر
تو کتنی تمناوں کی ایک قبر سنہری
تاریخ کا اک اشک
تو جنگ کی پرہول نفیروں کا تجسم
تو موت کی پریوں کا فسوں کارترتم
تو برق جہاں سوز کا خوں خوار تکلم
لاشوں سے کمائی ہوئی دولت
تہذیب کوتو  زخم لگانے کی   ہے اجرت
اف کتنی ہی اقوام کے نیلام کی قیمت
بچھو کا ترا ڈنگ
سانپوں کا ترا زہر
انگاروں کا ہے سوز
ہے سونے کے لفظوں میں لکھی تلخ حقیقت
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
اے سونے کے ڈالر!
اس فاقہ و افلاس پہ تو رحم نہ فرما
بھوکے ہیں یہاں پیٹ
ننگے ہیں یہاں جسم
پھر روگ ہیں اور درد
جو چارہ گری کے نہیں شرمندہ احساں
یہ ٹھیک ! "چچا سام" کے اے راج دلارے
لیکن مری اس بات سے ناراض نہ ہونا
بھوکے ہیں اگر پیٹ تو ہم بھوکے ہی اچھے
ننگے ہیں اگر جسم تو ہم ننگے ہی اچھے
بیمار ہیں بیچارے، تو ہم مرتے ہیں اچھے
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو آئے تو ڈالر!
سو عیش تو ہوں گے، سکھ چین اڑیں گے
زرخیز ہیں گوکھیت، پر قحط اُگیں گے
کھیت تو بھریں گے، ہم فاقت کریں گے
جامے تو سلیں گے، تن کم ہی ڈھکیں گے
آمد تو گرے گی، اور بھاو چڑھیں گے
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
اس دیس میں تو آئے تو اے سونے کے ڈالر!
آئے کا زبا بھی
پھیلے کا جوا بھی
چھائے گا زنا بھی
اُڑ جائے گا ہر پھول سے پھر رنگ حیا کا
اخلاق پہ منڈلائے گی ہر گندی ہوا بھی
تو  آئے تو ڈالر
یاں لائے گا اک اور ہی افتاد یقینا
ہاں پھیلے گا نظریہ الحاد یقینا
ہو جائیں گے ایمان تو برباد یقینا
انسان کو بنا دے گا تو جلاد یقینا
پس جائے کی یہ ملت آزاد یقینا
عبرت کا بنا نقش ترے فیض سے
برباد فلسطین
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو آئےتو پھر ہم میں حمیت نہیں رہے گی
اس قوم میں، اس دیس میں غیرت نہ رہے گی
اشراف میں کچھ بوئے شرافت نہ رہے گی
رشتوں میں کہیں روح اخوت نہ رہے گی
ڈرتا ہو میں اسلام کی عزت نہ رہے گی
تو آئے تو ڈالر
تقلید کی بو آ کے رہے گی
احساس کی آواز رکے گی
افکار کی پرواز رکے گی
کچھ اور عنایات بھی ساتھ آئیں گی
کچھ خفیہ ہدایات بھی ساتھ آئیں گی
مغرب کی روایات بھی ساتھ آئیں گی
ادبار کی آیات بھی آئیں گی
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
یہ خاک مقدس!
اک قوم کا گھر ہی نہیں
اسلام کا گھر ہے
یہ حق کے لئے وقف ہے مسجد کی طرح
مخصوص جو قرآں کے اصولوں کے لئے ہے
اللہ کے لئے ، اُس کے رسولوں کے لئے ہے
کانٹوں کے لئے یہ کب ہے؟ پھولوں کے لئے ہے
اس دیس میں اب بزم نئی ایک سجے گی
اس دیس سے تہذیب نئی ایک اٹھے گی
انساں کو نئی روشنی اب یاں سے ملے گی
پھر مطلع خورشید ہے شعلہ بداماں
رنگوں کے یہ گرداب، کرنوں کے یہ طوفاں
اک صبح  کے ساماں
یہ آدم خاکی کے لئے آخری امید
یہ جنت اخلاق کی تاسیس، یہ تمہید
مستقبل انسان کی تاریخ کی تسوید
یہ آخری امید
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا

مکمل تحریر پڑھیں ←

ہو گا کیا؟؟

ہم تو اُس دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے! مگر اپنے بڑوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب 1965 میں پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو جتنے دن ملک میں جنگ ہوتی رہی! اتنے دن نہ تو کوئی ملک میں کوئی چوری ہوئی نہ ڈاکا پڑا لاہور جیسے بڑے شہر پر دشمن قبصہ کرنا چاہتا تھا مگر لاہور راتوں کو جاگ اور دن میں کاروبار زندگی چل رہا تھا! باقی ملک کا کیا حال ہو گا؟ پنجاب صوبے کا گورنر نواب آف کالا باغ تھا جس نے تمام تاجروں کو اپنے بلا کر کہہ دیا تھا کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہونے چاہئے! لہذا بازار کھلے تھے اوراشیاء خردونوش کی کوئی کمی نہیں تھی! اور پاکستان اُس وقت جنگ جیت گیا (یہ الگ بات ہے کئی کی رائے ہے کہ پاکستان وہ جنگ ہارا تھا!)
اب سوال یہ ہے کہ آج جب پاکستانی فوجیں حالت جنگ میں ہیں! جن علاقوں میں جنگ ہورہی ہے وہاں سے جان بچا کر بھاگنے والے ہم وطنوں کو وہ اپنے علاقوں میں قبول کرنے کو تیار نہیں جن کے نبی نے ہجرت کی، اور اُس نبی کے پیروکاروں نے ایک ہجرت کے بعد انصار و مہاجرین کی محبت کی عظیم داستانیں رقم کی اُس ملک کے باسی اپنے ہم وطنوں کی میزبانی سے انکاری ہے جن کی میزبانی ایک نئی مملکت کے شہریوں نے کی۔ اس بات ہر اختجاج کر رہے ہیں! ہرتال کر رہے ہیں! اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں! اپنی املاک کو جلا رہے ہے! آپس میں نفرت کا بیج بو رہے ہیں! سیاست چمکا رہے ہیں! ملک میں لسانیت، عصبیت، فرقہ واریت، صوبائیت عروج پر ہے۔ ملک میں مرنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اُن کا قاتل کون ہے؟ کیوں ہے؟ اس ملک میں جب پوری قوم کو ایک ہو جانا چاہئے! قوم منقسم ہے!
حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ وہ بیرونی دوروں میں مصروف ہیں! وہ اہل بننے کے بجائے قرار دئے جانے پر جشن مناتے ہیں! وہ ملک کو بھیک میں قرضہ ملنے کو کامیابی بتاتے ہیں! وہ کروڑوں کا فائدہ بتا کا اربوں کا نقصان پنچاتے ہیں! وہ نجکاری کے نام پر ملکی املاک فروخت کرتے ہیں! وہ جدیدیت کے نام پر نظریات گروی رکھتے ہیں! وہ سفر کے نام پر عیاشی کرتے ہیں!
یہ معاملات امن میں ملکوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور ہم تو حالت جنگ میں ہیں!
سوچیں!
یوم تکبیر پرکہ
آخر ان حالات میں اس ملک کا ہو گا کیا!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

اپارٹمنٹ نمبر 1455 اور تین لڑکیاں

یک امریکی خاتون ماہر نفسیات کے پاس گئی اور اپنی ذہنی حالت بیان کرتے کہا کہ میں ہر غلطی اور گناہ کا مورد الزام خود کو ٹھہراتی ہوں۔ اپنے تمام مسائل کا ذمہ دارہ خود کو سمجھتی ہوں۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ ماہر نفسیات نے کہا کہ تم خود کو مجرم سمجھنا چھوڑ دو گی تو تمہاری پریشانی ختم ہو جائیگی۔ خاتون بولی کہ پھر میں کس کو لعن طعن کروں، کس پر اپنا غصہ اتاروں؟ ماہر نفسیات نے مشورہ دیا کہ ’’تم شیطان کو Curse کیا کرو۔ گاڈ نے شیطان پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ اسکے بندے اپنے تمام جرائم اور گناہوں کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرائیں‘‘۔ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے۔ امریکہ نہ ہوتا تو اپنے مسائل اور محرومیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہراتے؟ علماء کرام، مذہبی، سماجی اور سیاسی تنظیمیں اپنی کمزوریوں کا مورد الزام کس کو ٹھہراتیں۔ امریکہ جسے شیطان بھی بولا جاتا ہے اس پرلعن طعن اور بددعائوں سے پاکستانی اپنا غم و غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ امریکہ نہ ہوتا تو حکمران دوروں کو جواز بنا کر عیاشی کیلئے کہاں جاتے؟ امریکہ نہ ہوتا تو اقتدار کیلئے کس کا دروازہ کھٹکاتے؟ جرنیلوں کا کیا بنتا؟ امریکہ نہ ہوتا تو ابلیس کا کاروبار بھی ٹھپ ہو جاتا۔ پاکستانیوں کی تسلی کیلئے ابلیس کبھی امریکہ بن جاتا ہے کبھی بھارت، کبھی روس، کبھی اسرائیل اور کبھی حامد کرزئی کا روپ دھار لیتا ہے۔
ایک پاکستانی حج کو گیا‘ وہاں سے پلٹا تو افسردہ تھا‘ کہنے لگا کہ جب شیطان کو کنکریاں مارنے گیا تو اپنے تما م گناہ، جرائم اور کمزوریاں میرے سامنے آکھڑی ہوئیںکہ اتنی مسافت اور تھکاوٹ کی کیا ضرورت تھی یہ کام تم گھر بیٹھے بھی کر سکتے تھے۔ شیطان تیرے اندر ہے باہر نہیں، اپنے وجود کو کنکریوں سے لہو لہان کر لیا کرو، گھر بیٹھے تمہارا حج ہو جائیگا۔ لوگ شیطان کے سامنے کھڑے ہو کر بھی امریکہ کو بددعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ کتنا خوش نصیب ہے کہ لوگ اسے اللہ کے گھر جا کر بھی یاد کرتے ہیں بالخصوص مذہنی پیشواء اور سیاسی جماعتوں کی زندگی کا آسر ہی امریکہ کو لعن طعن کرنا ہے جبکہ صاحب اقتدار ’’امریکہ امریکہ‘‘ کی تسبیح جپتے ہیں۔ صدر زرداری نے بھی دورہ امریکہ کے دوران پاکستانیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ ہمارا ہمدرد ہے۔ ہمارا دوست ہے۔ ہمارا خیر خواہ ہے۔ اسکے ساتھ نبھا کر رکھنا ہے تو اسے Curse کرنا چھوڑ دو۔
امریکہ کو شیطان سمجھنا اور لعن طعن کرنا حکمرانوں کا نہیں ہمیشہ اپوزیشن کا مرض رہا ہے۔ نواز لیگ کا مسئلہ وکھری ٹائپ کا ہے۔ انہیںابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ امریکہ اور حکومتی پارٹی میں بڑا شیطان کون ہے۔ اس تذبذب کا شکار وہ کبھی اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور کبھی حکومت کیساتھ۔ امریکہ میں کارکنان کو بھی یہی حکم ہے کہ بحیثیت اپوزیشن پی پی کیساتھ فاصلہ رکھیں لیکن اسکے خلاف مظاہروں میں شرکت سے بھی گریز کریں۔
واشنگٹن کے بعد نیویارک میں صدر زرداری کیلئے استقبالیہ دیا گیا۔ پاکستان سفارتخانہ کی جانب سے واشنگٹن میں دیئے گئے عشایہ میں قریبََا دو ہزار پاکستانی مدعو تھے جس پر پانچ لاکھ ڈالر کا خرچہ ہوا۔ یہ سارا پیسہ عوام کا ہے جسے امریکہ میں عیاشیوں اور تقریبات پر لٹایا جاتا ہے‘ سترہ کروڑ عوام بجلی کو ترس رہے ہیں‘ دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہے‘ لاکھوں بھوکے مر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا دوسرا امیر ترین شخص انکا صدر ہے اور اسے رومال بھی خریدنا ہو تو سرکار کے خزانے سے خریدتا ہے۔ صدر زرداری کو ’’مشکوک دورہ نیویارک‘‘ میں بھی پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے استقبالیہ دیا گیا جسے پیپلز پارٹی کا شو کہنا زیادہ مناسب ہو گا جو کہ جیالوں کی بدتمیزی اور بدنظمی کی نظر ہو گیا۔ ہوٹل کے ہال میں موجود چار سو بندوں نے تماشہ دیکھا۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی مہذب نہ بن سکے۔ صدر اوبامہ اپنے نائب صدر کے ساتھ ڈی سی کے ریستوران میں اچانک پہنچ گئے۔ عام شہری کی طرح قطار میں کھڑے ہو کر برگر کا آرڈر دیا۔ گورے اپنے لیڈر کو اپنے درمیان دیکھ کر حیران ہوگئے لیکن نظم و ضبط نہیں توڑا۔ کسی نے آگے بڑھ کر اوبامہ سے ہاتھ نہیں ملایا‘ ہنگامہ ہوا نہ ہلڑ بازی ہوئی‘ جذبات بے قابو ہوئے اور نہ ہی نعرے بازی ہوئی‘ ڈسپلن قائم رہا جبکہ پاکستان کا صدر اپنی ہی پارٹی کے دنگا فساد سے خوفزدہ سٹیج چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ ہم گوروں کو لعن طعن کرتے ہیں اور یہ ہم پر ہنستے ہیں۔ صدر پاکستان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب میں قومی ترانہ بجا اور نہ ہی بابائے قوم کی تصویر وہاں موجود تھی۔ پی پی کی تقریبات میں جئے بھٹو کے نعرے ہی اول و آخر رہے۔ تقریب میں مسلم لیگ نے بھی شرکت کی البتہ یہ مظاہرے میں شامل نہیں ہوئے۔ ہوٹل کے باہر امریکی پالیسی، ڈرونز حملے، کراچی میں بارہ مئی کا واقعہ، پشتونوں کا واقعہ، سوات کے حالات، بلوچستان کی صورتحال کیلئے مظاہرہ بھی ہوا جسکی کوریج نہیں ہوئی‘ نیویارک میں سرکاری وفد کی رنگ رلیاں لوکل صحافیوں سے ڈھکی چھپی نہیں ہوتیں اور نہ ہی اسے ’’ذاتی فعل‘‘ کہہ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ اسلامی مملکت پاکستان کے نمائندے ہیں۔ ایک باریش وفاقی وزیر کی نیویارک کے نامور علاقے فاٹی سیکنڈ سٹریٹ کی ایک معروف بار میں ایک گورے کیساتھ تلخ کلامی ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ بات بڑھتی میزبان دوست ’’عوام کے خادم‘‘ کو بار سے نکال کر لے گئے۔ وزیر نے خبر کی تردید کرنا چاہی تو مخبروں نے لائٹ برائوں رنگ کی جیپ پلیٹ نمبر 08268MS جس میں وزیر صاحب بار سوار تھے کی معلومات پیش کیں تو تردید سناٹے میں تبدیل ہو گئی۔ عوام کے خادم جب فاٹی سیکنڈ سٹریٹ کی چکا چوند روشنیوں میں غرق ہوتے ہیں تو وطن کے اندھیروں کو بھول جاتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا نیویارک کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے اپارٹمنٹ 1455 میں پانچ روز قیام رہا۔ ملاقاتوں اور سرگرمیوں کو میڈیا سے مخفی رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی طاقتوں نے اپنی عورتوں اور پالیسیوں کو آلہ کار بنا کر مسلمان حکمرانوں کو نقصان پہنچایا اور انکے ملک و قوم کو بدنام کیا۔ سکیورٹی والوں نے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والی تین لڑکیوں کو اپارٹمنٹ میں جانے سے روکا لیکن حسین حقانی کے کہنے پر انہیں بلا پوچھ گچھ آنے جانے کا اجازت نامہ بھی بنوا دیا۔ عام انسان ذاتی زندگی کے قول و فعل ذمہ دار خود ہے لیکن ایک حساس اور ذمہ دار عہدہ پر فائز شخصیت اپنے لوگوں کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہونا چاہئے۔ وہ اپنے عوام کو جوابدہ ہے۔ اسکے کردار، افعال، معاملات ذاتی نہیں بلکہ سترہ کرور عوام کیساتھ منسلک ہیں۔ سرکار کا 5 روزہ دورہ واشنگٹن 9 دن تک جاری رہا جبکہ پاکستان میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے ’’آر یا پار‘‘ ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ لاکھوں انسان بے گھر ہیں اور حکمران گھر سے باہر ہے؟ ملک کے سنگین حالات میں سرکاری وفد کا دورہ امریکہ اور ’’نجی مصروفیات‘‘ پر پاکستانی کمیونٹی ناخوش ہے۔ امریکی میڈیا بھی طنز کر رہا ہے۔ امریکی چینل کے مشہور مزاحیہ شو کے میزبان Jon Stewart, نے صدر زرداری کے سی این این چینل میں دیئے جانیوالے انٹرویو کو تضحیک کا نشانہ بناتے اور اسکی چند جھلکیاں دکھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت جبکہ پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلو میٹر دور ہیں، پاکستانی صدر امریکہ آیا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ اسکے ملک کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ ہم سے امداد کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ صدر کے دورہ امریکہ کے بارے میں لکھنے اور بولنے کو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن

تحریر: طیبہ ضیاء
مکمل تحریر پڑھیں ←

انتہا پسندوں یا طالبان کی ایک اور شکل!

ڈاکٹر عنیقہ ناز نے اپنے بلاگ پر ندیم ایف پراچہ کے مضمون سے تحریک پا کر ایک تحریر لکھی جس میں “طالبانی“ رویہ پر روشنی ڈالی، اور اس سلسلے میں دو مزید واقعات بھی شیئر کئے! یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ “طالبانی“ رویوں کہ کے یہ کردار بھی “پٹھان“ ہی تھے! عوامی میں طالبان کے تصور کے عین مطابق!!  میں اسے ہر گز حسن اتفاق نہیں کہوں گا! اور ایس بھی نہیں ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہوتے! ایسے طالبان اکثر گھروں میں کسی بزرگ کے روپ میں، یا بھائی و باپ یا کسی اور رشتے کے روپ میں موجود ہوتے ہیں!

کسی خاتون کو غلط لباس پر کسی غیر مرد کے ہاتھوں بازار میں سخت رویئے کا سامنا کرنے کا ایک واقعہ ہمارے محلے کا ہے، وہ خاتون لباس کے معاملے میں درحقیقت کچھ مخضوص قسم کی “لاپرواہ“ ہیں! یہاں تک کہ ایک بار جب اُن کے ایک مرد عزیز انہیں ایئرپورٹ سے ریسیو کر کے گھر لے کر آئے اور آئندہ ان کے ساتھ بھی آنے جانے سے انکار کیا کہ اُن کے لباس کی بناء پر وہ شرمندہ ہوتے رہے!! خیر اُن خاتون نے شام میں چہل قدمی اسٹارٹ کی وجہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ موٹی ہوتی جا رہی ہیں! کہ ایسے ہی ایک دن ایک بابا جی نے انہیں منہ پر دو تھپڑ دے مارے کہ بی بی کو شرم حیا نام کی بھی کوئی چیز ہو تی ہے اپنے لباس کو درست کرو! وہ اس قدر خوف زدہ ہوئیں کہ پھر “جاگنگ“ سے دستبردار ہو گئی! انہیں تھپڑ پڑا یہ واقعی اُن کی ساس کی زبانی ہماری والدہ اور پھر ہمارے علم میں آیا!! بہر یہ طالبانی رویہ اُس دور کا کہ جب امریکہ نے تازہ تازہ “القاعدہ“ کا بت ڈرنے و ڈرانے کے لئے تراشا تھا! طالبان کو القاعدہ کا میزبان مانا جاتا تھا۔۔
بہر حال ایک طرف یہ رویہ دوسری طرف ہمارے معاشرے کا ایک نہایت عجیب رویہ ہے جو قابل توجہ ہے، ہمارے علاقے کی ایک مسجد ہے مسجد حرا، یوں تو میرا مسلکی اختلاف ہے مسجد انتظامیہ سے لیکن ہم وہاں اکثر نماز پڑھا کرتے تھے بلکہ کچھ عرصہ اُن کے مدرسے سے بھی منسلک رہا، تو وہاں ایک موذن آئے (بعد میں خطیب و امام کی زمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اُٹھائی) نوجوان تھے اور کافی علم تھا، چونکہ ابھی جوان تھے اس لئے کئی معاملات میں باقی انتظامیہ سے مختلف تھے جس کی بناء پر کئی احباب کے لئے عجوبہ تھے! سچی بات ہے اُس دور میں ہمیں بھی اُن کی یہ باتیں عجیب لگتی تھیں! اور آج اُس وقت کی اپنی سوچ۔۔ خیر معاملہ یہ تھا کہ وہ فجر کے بعد باقاعدہ ٹریک سوٹ پہن کر “جاگنگ“ کے لئے جاتے تھے، علاقے کے کئی لوگ یہ ہی دیکھنے کہ مولوی صاحب “جاگنگ“ کرتے ہیں صبح سویرے جاگنگ کے مقام پر پہنچ جاتے، مدرسے کے لڑکوں کو عصر سے مغرب کے درمیان کرکٹ کھلنے کی اجازت انہوں نے ہی سب سے پہلے دی تھے۔ ایک دن ہم اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کر کے آ رہے تھے تو دیکھا کہ مسجد حرا کے سامنے والے میدان آج معمول سے زیادہ رش ہے وہاں جا کر دیکھا تو مولوی صاحب بیٹنگ کر رہے تھے! اور مجھ سمیت کئی احباب کے لئے یہ ایک عجوبہ تھا۔ ہماری تو اتنی ہمت وسوچ نہیں تھی مگر ایک ساتھ کی کھڑے ہم سے بڑے لڑکے نے کہا “ابے مولوی کو کہو جا کر نمازیں پڑھائے! یہ ان کا کام نہیں ہے“۔ جناب نے کافی اچھی بیٹنگ کی!
بہرحال بعد میں وہ کہیں اور چلے گئے! وہ خراسان والی اور کالے جھنڈوں والی حدیث سب سے پہلے ہم نے اُن ہی سے سنی تھے!
یہ ہی نہیں ایسے کئی معاملات میں ہمارا رویہ بہت تنگ نظر ہوتا ہے! ابھی پچھلے دنوں فیس بُک پر ایک ویڈیو ہم نے دیکھی جس میں ایک شخص اسپورٹ کار چلا رہا تھا حلیہ کے اعتبار سے اُس نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی تھی، سفید شلور قمیض میں ملبوس تھا ویڈیو بنانے والوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دیکھو مولوی کیا کر رہا ہے! جیسے کوئی انوکھا کام ہو! ایسے ہی ہمارے علاقے نے ایک لڑکی نے ایک رشتہ سے اس لئے انکار کر دیا کہ لڑکے نے داڑھی رکھی ہوئی ہے!!
وہ ضمیر جعفری نے اس معاملے کو یوں بیان کیا ہے!

مولوی اونٹ پہ جائے ہمیں منظور مگر
مولوی کار چلائے، ہمیں منطور نہیں
وہ نمازیں تو پڑھائے ہمیں منظور مگر
پارلیمنٹ میں آئے، ہمیں منظور نہیں
حلوہ خیرات کا کھائے تو ہمارا جی خوش
حلوہ خود گھر میں پکائے، ہمیں منظور نہیں
علم و اقبال و رہائش ہو کہ خواہش کوئی
وہ ہم سا نظر آئے، ہمیں منظور نہیں
احترام آپ کو واجب ہے مگر مولانا
حضرت والا کی رائے، ہمیں منظور نہیں

اب کہیں کراچی میں شرعی داڑھی کے حامل افراد کو جینز کی پینٹ شرٹ میں لوگ دیکھ کر کسی حد قبول کرتے نظر آتے ہیں ورنہ تو یہ معاملہ بھی قابل تنقید ہوا کرتا تھا وجہ شائد نوجوان نسل کے نیا رجحان ہے، مگر سچ یہ ہے کہ بیمار ذہنوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے درمیان موجود ہے جن میں ایک گروہ زبردستی دوسروں کو اچھا مسلمان بنانے پر بصد ہے اور دوسرا بلاوجہ دینی معاملات پر عمل پیرا افراد کو جاہل سمجھتا ہے!
کیا کبھی آپ نے کسی بحث میں یہ جملہ سنا ہے۔۔۔ “اگر ایسی بات ہے تو تم چھوڑ کیوں نہیں دیتے ان بسوں میں سفر کرنا، یہ موبائل فون کا استعمال، یہ بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔“

مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ حفاظت کو بنایا ہے

یہ اُس دور کی بات ہے جب ہم نے تازہ تازہ پی اے ایف انٹر کالج ملیر میں داخلہ لیا تھا! ہم اُن چند طالب علموں میں سے تھے جن کے والد فوجی میں نہیں تھے، کلاس فیلوز کی اکثریت فوجی پس منظر رکھتی تھی۔ ایسے ہی ایک دن گفتگو مختلف انداز میں جاری تھی، ہم اُس میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہے تھے ساتھ بیٹھے دوست سے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے متعلق خیالات کا تبادلہ کر رہے تھے۔
تب اتنے میں محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔
اب جب کہ پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے، جہاں قوم کا ایک بڑا حصہ ایٹمی قوت ہونے پر فخر کرتا ہے، اسے کارنامہ مانتے ہوئے مختلف شکلوں میں اس کا کریڈٹ اپنی اپنی جماعت کے سر ڈالتا ہے کوئی اپنے لیڈر کو اس کے شروع کرنے پر ہیرو بتاتا ہے اور کوئی اپنے لیڈر کو دھماکے کرنے کا فیصلہ کرنے کی بناء پر اُسے قوم کا مسیحا بتاتا ہے تو ایک طرف کئی ایسے احباب ہیں جو اسے ایک غلطی قرار دیتے ہیں! نہ صرف غلطی بتاتے ہیں بلکہ یہ دعٰوی بھی کرتے ہیں کہ یہ ایٹمی قوت ہونا ہی دراصل تمام مصیبتوں کی جڑ ہے، اس سلسلے میں ایسی ہی ایک کالمی بحث کا آغاز بزرگ کالم نگار حقانی صاحب نے اپنے کالم کے ذریعہ ہوا جناب نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا جس میں انہوں نے ایٹمی دھماکا کرنے کی مخالفت کی تھی، جواب میں مجید نظامی نے ایک کالم لکھ دیا۔
دشمن پر قابو پانے کے لئے ضروری ہوتا ہے اُس کی طاقت کو ختم کیا جائے! اُس کی جس قوت سے ڈر لگتا ہو اُس کو اُس سے جدا کرنے یا چھین لینے کو سہی کی جائے۔ اُسے اپنا محتاج بنانا ہو، اُسے اپنے رحم و کرم پر رکھنا ہو، اُسے فتح کرنا ہو، اُسے زیر کرنا ہو تو لازم ہے کہ اُسے اُس خصوصیت، اہلیت، قابلیت و ہنر سے محروم کر دیا جائے جس کی بنیاد پر ایسا کرنا دشوار و ناممکن ہو۔ آج ہمارا ایٹمی طاقت ہونا ہماری بقا کی کنجی ہے۔ اگر کبھی یہ شور اُٹھتا ہے کہ یہ “مذہبی انتہا پسندوں“ کے ہاتھ لگ سکتا ہے اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہمارے حوالے کر دو تو یہ وہ طاقت ختم کرنے کی ہی کوشش ہے، یہ جو خبر آتی ہے ناں کہ امریکی فوج کا ایک دستہ افغانستان پہنچ گیا ہے پاکستان کے ایٹمی پلانٹ پر قبصہ کرنے (یہ خبر فوسک بیوز نے چلائی تھی) یا کہ پاکستان امدادی رقم ایٹمی اسلحہ کی پیداوار پر خرچ کرے گا لہذا نظر رکھی جائے یہ وہ نفسیاتی حملہ ہیں جو کسی کو اپنے قابو میں لانے کے لئے کئے جاتے ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے انہیں یہ بھی علم نہیں کہ کہ پاکستان کا ایٹمی پلان کیسے چل رہا ہے! کہاں کہاں ہے! کون سی یا کس قسم کی پروسیسنگ کہاں ہو رہی ہے، البتہ یہ اُن کے علم میں ہے کہ ہم نے اپنے ایٹمی پلانٹ کی موبائل یونٹیں بنا رکھی ہیں! اور مختلف کام مختلف مقامات پر ہوتے ہیں! لہذا اب اسے کسی بھی حملے سے تباہ اور فوجی کاروائی سے اپنے قبصہ میں نہیں لیا جا سکتا۔
شکر ہے ہم نے یہ بنا لیا اور ہمیں فخر ہے کہ ہم دنیا کا جدید ترین و سستا ترین طریقہ یورینیم کی افزائش کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ دشمن یہاں سے ہی ہماری طاقت کا اندازہ لگا چکا ہے اور وہ جانتا ہے ایٹم بم ہم نے اپنی حفاظت کے لئے بنایا ہے! اور ہم جانتے ہیں حفاظت کس طرح کی جاتی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

وطنی مہاجر

پرائی جنگ جب اپنی ہو،
آنگن میں جب اپنے مریں،
دشمن دوست سمجھے جائیں،
گھر تب تباہ ہوتے ہیں،
اپنے بے گھر ہوتے ہیں،

رہنما جب جھک جائیں،
حکمراں بک جائیں،
اپنوں کی ہو قیمت وصول،
وہ زخم خود ہی لگتے ہیں،
بھیک جن پر ملتی ہے،

محافظ جب ہو بے یقین،
خود ہی پر وار کرتے ہیں،
اپنوں سے ہی ڈرتے ہیں،
انہی کو تباہ حال کرتے ہیں،
لوگ وطن میں مہاجر بنتے ہیں،

(میں اسے شاعری تو نہیں کہوں گا مگر یہ ایک خیالات کا تسلسل تھا جو آج ذہین میں آیا اور میں نے تحریر کر لیا)

مکمل تحریر پڑھیں ←

شرپسندوں کی ہرتال اور حکومت کی چھٹی

شر پسند وہ ہی ہوتے ہیں جنہیں “شر“ پسند ہو! شریر ہر گز نہیں ہوتے! مگر شرارت کرتے رہتے ہیں! اچھے تو ہر گز نہیں ہوتے! مگر اچھے کہلاتے ہیں۔ یہ اِیسے ہی شر پسندوں کی کارستانی تھی جس کی بناء پر آج تمام سندھ چھٹی منا رہا تھا۔ ہمیں شر پسندوں کو پہچانے میں کافی ذیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ کام خود شرپسندوں و حکومت وقت نے سرانجام دیا۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ مئی کے مہینے کے آغاز سے قبل کراچی شہر کے حالات کافی خراب ہو گئے!اہل بصیرت نے آگاہ کیا کہ ایسا اس بناء پر ہوا ہے کہ “کراچی کے طالبان اور شر پسندوں کا ایک  گروہ“ بارہ مئی کو “عوامی طاقت“ کا سوگ منانا چاہتا تھا! لہذا “اہلیان کراچی“ کے سکون کو غارت کرنے کی اس کاوش کو ناکام بنانے کے لئے “ذمہ دار“ ہاتھ حرکت میں آئے اور اس دوران میں پنتیس افراد اپنی جان سےگئے، “صاحب علم حضرات“ نے آگاہ کیا نہ صرف یہ جانی نقصان شرپسندوں کے ہاتھوں ہوا بلکہ شہر میں خوف وحراس پھیلانے کے لئے مختلف املاک کو آگ لگانے کی کاروائی بھی شرپسندوں کی تھی۔ ہم شرپسندوں کی تلاش میں تھے جب حکومتی نمائندے نے شرپسندوں کے سربراہوں کے ہمراہ یہ نوید سنائی کہ دونوں پارٹیاں شہر میں امن ومان قائم کرنے پر راضی ہو گئی ہیں دونوں سربراہوں نے اپنے بیان میں شرپسندوں کو ناکام بنا دینے کی سارش اوہ معافی چاہتا ہوں عزم کیا۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے یہ واحد تاریخی دعوٰٰی تھا جہاں فریقین نے خود کو ناکام کرنے کا عہد کیا ہو۔
حکومت نے شرپسندوں کی آپس میں صلح تو کروا دی مگر شر پسند اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے! لہذا حکومت یہ نے اس سے قبل کہ عوام کو علم ہو جائے کہ کراچی جیسے شہر میں بھی رٹ نہیں شرپسندوں کی رٹی رٹائی مان لی! چونکہ شرپسندوں کی چھٹی نہیں ہو سکتی تھی حکومت خود ہی چھٹی دے بیٹھی!! اب بیٹھی ہوئی حکومت تو یہ ہے نہیں! آپ کچھ اور سمجھ رہے ہیں!! “شر“ یر نہ ہو تو!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

نیا سانچہ!

ہر گز نہیں! میں عوام کو کسی نئے سانچے میں جکڑنے کی بات نہیں کر رہا! میں ملک کو طالبان کے سانچے میں آنے کی بات کرنے لگا ہوں! میں تو آپ لوگوں سے اپنے بلاگ کے اس نئے سانچے سے متعلق رائے جاننا چارہا تھا! مزید بہتری کے لئے کیا کیا جائے؟؟ جن دوستوں نے پہلے ہی پسندیدگی کا اظہار کر دیا اُن کا شکریہ، ویسے یہ  ایسا سانچہ کسی اور اردو بلاگر نے ہم سے پہلے بھی اپنے بلاگ پر لگا رکھا ہے ذرا بتائیں کون؟؟

مکمل تحریر پڑھیں ←