بلوچستان کا خلفشار؟؟؟؟

پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال میں بلاچ مری کی ہلاکت سمیت بلوچستان میں کافی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور تین بلوچ قائدین کی حالیہ ہلاکتوں کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں ۔ میرے ایک گزشتہ کالم سے کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں ۔
خطے کے چند صحافیوں جن کا تعلق اشک آبا ماسکو زہدان‘ قند ھار اور کوئٹہ سے ہے نے سابقہ سویٹ یونین کے دو سابقہ کے جی بی کے افسروں سے ملکر اس چیز کا سراغ لگا نے کی کوشش کی ہے کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی رپورٹ جو سات ہفتوں میں تیار ہوئی اور 13صفحوں پر مشتمل ہے انٹر نیٹ پر اس موضوع سے موجود ہے۔ " The stunning investigation story on Birth of Balochistan Liberation Army"  اس رپورٹ میں زیادہ تر مواد KGB کے دو افسروں جو آجکل ماسکو میں retired زندگی گزار رہے ہیں اور سویٹ یونین کے افغانستان پر حملے اور قبضے کے ایام میں اس خطے میں موجود تھے سے انٹر ویو کرکے حاصل کیا گیا۔ اس رپورٹ کا مختصر خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ سویت یونین نے جب افغانستان پر یلغار کی تو پاکستان اور اسکے اتحادیوں کی طرف سے موثر دفاعی حکمت عملی نے اس سپر طاقت کو حیران کر دیا ۔ سویت KGBنے اس وقت بھی یعنی 1983-82ء میں پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر نے کیلئے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی بنیاد رکھی تھی جس میں بنیادی طور پر کچھ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (BSO) کے لوگ استعمال ہوئے BLA سویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد غائب ہوگئی لیکن 9/11 کے بعد جب روس اور امریکہ نے بلوچستان میں ایک دوسرے سے تعاون پر رضا مندی ظاہر کی تو جنوری 2002ء میں بلوچستان میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم ہو گیا۔
اس گروپ میں دو ہندوستانی اور دو امریکن تھے جن کے پاس ایک بھورے رنگ کی ٹو یوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن تھی جس کو افغان ڈرائیور چلا تے ہوئے رشید قلعہ کے مقام سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے اور پھر مسلم باغ سے ہوتے ہوئے 17جنوری کو کولہو پہنچے وہاں سے دو ہندوستانی اور دو امریکن ڈیرہ بگٹی گئے اور پھر کچھ دنوں کے بعد واپس کو لہو آگئے ۔رپورٹ کیمطابق بلاچ مری جو کہ نواب خیر بخش مری کا بیٹا ہے اور جس نے ماسکو سے الیکٹرونک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے کا اس گروپ سے رابطہ تھا چونکہ کولہو اور کوہان کے درمیان پہاڑیاں مری قبائل کی ہیں اور بلاچ مری کے ہندوستان اور روس سے رابطے ہیں اسلئے اسکو رپورٹ کیمطابق BLA کا سر براہ مقرر کیا گیاتھا۔ اس کیمپ میں تقریبا ً بیس نوجوانوں کو جن مضامین پر ٹریننگ دی گئی اس میں بلو چستان کا تصور ‘ سیاسی جدو جہد کیلئے تخریب کاری کا استعمال پنجاب کی زیادتیا ں اور اجتما عی احتجاج کے مختلف طریقے شامل تھے۔ کے ۔جی ۔ بی کے آفیسر ز کی رپورٹ کیمطابق انکے پاس ہر طرح کی تربیت کیلئے مواد موجود رہتا ہے ۔ ساتھ ہی افغانستان سے اسلحہ اور گو لہ بارو د آنا شروع ہو اسکے علاوہ گولہ بارود کی سپلائی کا دوسرا راستہ کشن گڑھ جو بلوچستان اور سندھ کے ملاپ پر پاکستان ہندوستان کے بارڈر سے صرف 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوستان میں واقعہ ہے ۔ وہاں سپلائی ڈپو اور ٹریننگ کیمپ کیساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہندوستان کا شیر شاہ گڑھ جو کہ کشن گڑھ سے تقریباً 90 کلو میٹر دور ہے سے بھی ہندوستانی سپلائیز اور ماہرین کیساتھ رابطہ رہتا ہے۔ اسلحہ اور گولہ بارود کشن گڑھ اور شاہ گڑھ سے اونٹوں پرپاکستان لایا جا تا ہے اور وہاں سے ٹرکوں کے اندر دوسرے عام ضرورت کے سامان کے نیچے ڈال کر اور اوپر تر پال دے کر سوئی اور کوہلو پہنچا یا جاتا ہے ۔ گولہ بارود زیادہ تر روسی ساخت کا ہو تا ہے اس راستے سے کشمور‘ اوچ ‘ ملتا ن اور سوئی۔
سکھر والی پاکستانی گیس پائپ لائین کو بھی نقصان پہنچا یا جا سکتا ہے۔ اس علاقے میں تخریبی کاروائی کی ٹریننگ ہندوستان کی ایجنسی کی ذمہ داری ہے BLAکو قائم کر نے کیلئے (RAW) کی مدد بہت مفید ثابت ہوئی کیونکہ (RAW) کے بہت سے رابطے بلوچستان میں ہیں اس وقت بلوچستان میں 45سے 55ٹریننگ کیمپ ہیں ۔ ہر کیمپ میں 300سے 550 تخریب کار موجود ہیں ۔ KGB کے آفیسر نے بتا یا :

"A massive amount of cash is flowing into these camps from Afghanistan through U.S. Defence contractors (Pantagon Operatives in civvies), CIA foot soldiers, (instigators in double guise), fortune hunters, rehired ex soldiers and free lancers."

ان پیسوں سے دالبندین ‘ نوشکی ‘ کوہلو ‘ سبی ‘ خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں نئے گھر بنا ئے گئے ہیں۔ ہندوستانی قونصلیٹ نے ایران کے شہر زاہد ان میں واقع ہو ٹل امین کے پاس گھر کر ائے پر لیا ہو ا ہے ۔ یہ گھر لوگوں کے افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے ایران آنے جانے کیلئے استعمال ہو تا ہے۔ انٹر نیٹ پر دی گئی اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے اندر تخریب کاری میں ملوث ہندوستانی ‘ افغانی اور ایرانی باشندوں کی انکی اپنی حکومتوں سے وابستگی کی بات تو شائد و ثوق سے نہیں کہی جا سکتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکنوں اور روسیوں کو پینٹا گان اور کریملین کی آشیرباد حاصل ہے کے جی بی کے افسروں کیساتھ انٹر ویو کے دوران مختصر ً ایہ واضح ہو ا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانی تک رسائی تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ عظیم بلو چستان بنا نا چاہتے تھے۔  BLA  کو اب دوبارہ زندہ کر نے کی ذمہ داری پینٹا گان اور کریملین پر ہے جس کیلئے ان کو RAW  کی مدد حاصل ہے۔ امریکن روسیوں پر پورا اعتماد نہیں کر رہے۔ KGB  کے افسروں سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ اپنے Front line ally پاکستان کیلئے مصائب کیوں کھڑے کر یگا اس پر KGB  کے افسروں کا جواب یہ تھا :۔
ـ ’’صف اول کا اتحادی؟ آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد آ جائیگی۔ اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موذوں اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف حکومت کے نیچے ایران ہے اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں (Regime Change) کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکنوں اور اسکے اتحادیوں کیلئے بے فائدہ ہے۔ KGB کے افسر نے کہا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانا ئی کا حصول اور دوسرا چین کیخلاف گھیرا تنگ کر نا۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان اور اسکی گوادر اور پسنی کی بندر گاہیں اہمیت کی حامل ہیں
کے جی بی کے افسروں کے ساتھ انٹر ویو کے دوران مختصر ً ایہ واضح ہو ا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانی تک رسائی تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ عظیم بلو چستان بنا نا چاہتے تھے۔ BLAکو اب دوبارہ زندہ کر نے کی ذمہ داری پینٹا گان اورکریملین پر ہے جس کیلئے ان کو RAWکی مدد حاصل ہے۔ امریکن روسیوں پرپورا اعتماد نہیں کر رہے۔ KGBکے افسروں سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ اپنے Front line ally پاکستان کیلئے مصائب کیوں کھڑے کر یگا اس پر KGBکے افسروں کا جواب یہ تھا :۔
۔ “صف اول کا اتحادی؟……. آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد آ جائیگی۔ اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موذوں اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف
حکومت کے نیچے ایران ہے اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں (Regime Change) کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکنوں اور اسکے اتحادیوں کے لیے بے فائدہ ہے
KGBکے افسر نے کہا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانا ئی کا حصول اور دوسرا چین کے خلاف گھیرا تنگ کر نا۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان اور اس کی گوادر اور پسنی کی بندر گاہیں اہمیت کی حامل ہیں۔ امریکن جنوبی ایشیاء کی معیشت اور وسط ایشیا کی توانا ئی کو خود استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے امریکہ چین کو بلوچستان سے دور رکھنا چاہتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں تخریب کاری موجود رہے تا کہ وسط ایشیاء کا تیل اور گیس اس راستے سے دنیا میں تقسیم ہو نا شروع نہ ہو جائیں جو پہلے صرف روس کے ذریعے باہر دنیا کو جا سکتا ہے اس لئے روس اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اسکے علاوہ ہندوستان نہیں چا ہتا کہ پاکستان وسط ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ بلاواسطہ تجارتی راستہ کھول لے انکی دلچسپی یہ بھی ہے کہ انکی ایران کے گیس کے ذخائر تک رسائی ہو خواہ اس کیلئے پاکستان کا علاقہ ہی کیوں نہ استعمال کر نا پڑے ۔ اسکے علاوہ ہندوستان افغانستان پر اپنا اثرورسوخ اس لئے بڑھا رہا ہے تا کہ وہ وسط ایشیا ء کی تیل سے مالا مال ریاستوں کیساتھ براہ راست رابطے میں ہو ۔ ایران نے اپنی چاہ بہار بند گاہ اور اس سے منسلک سٹرکیں اور ریلوے لائن پر بہت رقم خرچ کی ہے۔ ایران کو یہ ڈر ہے کہ بلوچستان میں امن ہو نے اور گوادر کی بند گاہ کھلنے سے چاہ بہار کی اہمیت کم ہو جا ئے گی چونکہ وسط ایشیاء کی ریاستوں سے گوادر کے ذریعے سمندر تک پہنچنا زیادہ مفید ہو گا اسکے علاوہ KGBکے آفیسر نے کہا کہ ایران اپنے و عدوں کی پاسداری میں بھی کمزور ہے۔ مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑرہا ہے لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اسکے اندر بہت سے طاقت کے دائرے ہیںجن میں سے کچھ پاکستان کے حق میں ہیں لیکن کچھ موقع ملنے پر پاکستان کو نقصان پہنچا نے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ہندوستان ایران اور افغانستان کے کچھ نمائندوں نے اپنا ایک معاشی تجارتی اور مواصلا تی اتحاد بنا یا ہو ا ہے جس میں سے پاکستان کو باہر رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلو چستان کے اندر BLAکے علاوہ بلو چ اتحاد پونم اور کچھ چھوٹے گروپ بھی سر گرم عمل ہیں لیکن یہ سارے گروپ اور بلوچی سر دار بلوچستان کی عوام کے خیر خواہ بالکل نہیں ۔ سر دار مہر اللہ مری نے 1885ء میں خاطان کے علاقے کے پٹرولیم سے متعلق حقو ق حکومت بر طانیہ کو صرف 200روپے ما ہا نہ پر بیچ دئیے ۔ 1861ء میں جام آف لسبیلہ نے برطانوی حکومت سے صرف 900روپے ما ہوار لیکر ٹیلی گراف لائن لگانے کی اجازت دے دی ۔ 1883ء میں خان آف قلات نے کوئٹہ کا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقہ برطا نیہ کو صرف25ہزار روپے میں فروخت کر دیا ۔اسی سال بگٹی سر داروں کو بر طانوی حکومت نے 5500روپے ادا کر کے کچھ فوائد حاصل کئے رپورٹ میں کہا گیا ہے

Any positive development would go against the Sardars and any fool would expect them to do any thing for the good of their people.” ”

موجو دہ حالات میں اگر صحیح اقدام نہ اٹھائے گئے تو پاکستان کی سا لمیت خطرے میں پڑ جائیگی KGBکے افسر نے کہا ابھی تک میں نے کوئی ایسی پاکستانی کوشش نہیں دیکھی جس کا مد عا عام بلوچیوں سے رابطے بڑھا نا ہوا بھی بھی حکومت صرف
سرداروں کو خوش کر نے میں لگی ہوئی ہے جو پاکستان بننے سے اب تک بلیک میلنگ میں مصروف رہے ہیں ۔ پا کستان جس طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے حیرانی ہو تی ہے۔ KGBکے آفیسر نے کہا کہ میں جب چند سال افغانستان میں رہا تو میں نے یہ دیکھا کہ جہان بلوچ سر دار پیسے لیکر اپنی وفا داریاں بیچ دیتے تھے وہاں عام بلوچی بے وقوفی کی حد تک محب وطن تھا انکو خریدنا اور اپنے لئے استعمال کرنا نہایت مشکل تھا اگر میراتعلق پاکستانی حکومت سے ہوتا تو میں عام تعلیم یا فتہ بلوچوں کو اکٹھا کر کے سر دااروں کا اثر ور سوخ ختم کر دیتا ۔ ایک سوال کے جواب میں رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ کہ روس و افغا ن جنگ میں BLAکی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں تھی لیکن اب یہ قیادت سر داروں کے ہاتھ میں ہے۔ موجود ہ قیادت میڈیا کو استعمال کر نا چاہتی ہے اس لئے انہوں نے سوئی گینگ ریپ کیس کی با ت شروع کی حکومت پاکستان کو چاہئے تھا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو لٹکا دیتی تو BLAکی مہم بیٹھ جا تی ۔ موجود حالات میں حکومت پاکستان کیلئے بہترین حکمت عملی یہ ہو گی کہ سر داری نظام کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور پرائیویٹ ARMIESتوڑ دی جائیں۔ عام بلو چیوں سے رابطے قائم کئے جائیں جن میں مری اور مینگل کے قبائل بھی شامل ہوں علاقہ بدر کئے ہوئے بگٹی قبیلے کے لوگوں کو بھی واپس بلایا جائے ‘ تر قیاتی منصوبوں پر کام تیز کر کے روز گار کے ذرائع بڑھائے جائیں اور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس سے تخریب کاروں کو پیسہ اور اسلحہ نہ پہنچ سکے ۔ اس سے حالات پر قابو پا یا جا سکتا ہے ۔ ۔۔ ”
قارئین پاکستان کے مفادات کیخلاف کام کر نے والوں کی طرف سے بلوچ قوم اور عام بلوچیوں کی حب الوطنی کو سلام پیش کر نا کوئی چھوٹی بات نہیں۔KGBکے جاسوسوں کی طرف سے یہ کہنا کہ:

“Ordinary Baloch are stupidly patriotic. They are hard to buy and harder to manipulate”

۔بلوچ قوم کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے جو پوری پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر ہے۔

تحریر ؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

اپڈیٹ: جس رپورٹ کا زکر ہے اُسے اپ یہاں پڑھ سکتے ہیں!

مکمل تحریر پڑھیں ←

دل دریا

لوگوں نے کہا
اس در سے کبھی
کوئی نا اُمید نہیں لوٹا
کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا
میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا
چہرے پر گرد مِلال لیے
اک پر امید خیال لیے
جب  قافلہ اس در پر پہنچا
میں اس گھر کو پہچان گیا
پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا
اس در  سے مجھے کیا ملناتھا
وہ گھر تو میرا اپنا تھا

شاعر: سرشار صدیقی

مکمل تحریر پڑھیں ←
سوات معاہدہ اور نظام عدل!

سوات معاہدہ اور نظام عدل!

جب سے حکومت و صوفی محمد میں معاہدہ ہوا ہے یار لوگوں نے خیالات کے گھوڑے ڈوڑانا شروع کر دیئے ہیں کسی نے حمایت کی اور کوئی مخالف ہے۔  معاملات کو اُس وقت تک سمجھنا ناممکن ہو گا جب تک فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدہ و اُس کے نتیجے میں جاری ہونے والے نظام عدل کا نہ دیکھ لیا جائے!!
معاہدہ کے اعلان پر کُل نو افراد کے دستخط ہیں، جن میں چھ (صوبائی) حکومت کے نمائندے اور تین تحریک تنظیم نفاذ شریعت کے ممبران کے! دلچسپ یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ ہے کہ حکومت وقت نے ایک ایسی تنظیم سے معاہدہ کیا جسے وہ کالعدم قرار دیتی ہے۔
اگر اعلان کے متن کو دیکھے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ نیا عدالتی نظام رائج کیا جائے گا!
“ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے غیر شرعی قوانین یعنی قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں وہ موقوف اور کالعدم تصور ہونگے یعنی ختم ہونگے۔ اسی نظام عدالت میں شریعت محمدی جس کی تفصیل اسلامی فقہ کی کتابوں میں موجود ہے اور اس کے ماخذ چار دلائل ہیں، کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع، قیاس و جو اب بافذالعمل ہونگے اس کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہو گا۔ اس کی نظرثانی یعنی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر درالقضاء یعنی شرعی عدالت بینچ قائم کر دیا جائے گا جس کا فیسلہ حتمی ہو گا۔“
یعنی دونوں فریقین ضلعی سطح پر نظرثانی کے لئے حتمی عدالت کے قیام پر متعفق ہیں جسے وہ دارلقضاء کا نام دیا گیا!۔ نیا نظام عدل حکومت تنہا لاگو نہیں کرے گی درج ہے کہ
“حضرت صوفی بن حضرت حسن کے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کے ہر نقطے پر تفصیلی غور کرنے کے بعد اس کا مکمل اطلاق ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعد باہمی مشورے سے کیا جائے گا۔“
مطلب یہ کہ جو بھی عدالتی نظام نافذ ہو گا وہ جناب کے مشورے سے ہو گا! اور شرط امن ہے شاید تب ہی امن ہو گیا! اس اعلان کے علاوہ کسی اور دستاویز پر میرے علم کے مطابق دونوں فریقین میں سے کسی نے کوئی دستخط نہیں کئے!! لہذا غیر مسلح ہونے والی بات نامعلوم کیوں کی جاتی ہے؟ کہیں اور باتیں بھی منسوب کی جاتی ہیں اگر کوئی ہے تو منظرعام پر کیوں نہیں لایا جاتا؟
اب اگر اس اعلان (معاہدہ) کے نتیجے میں نافذ ہونے والے “نظام عدل ریگولیشن“ پر ایک نظر ڈالے تو بھی کافی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں! مثلا دفعہ 2 (b)  کے تحت “دارلدارلقضاء“ سپریم کورٹ کے بنچ کو کہا گیا!  دفعہ 2 (c) کے تحت “دارلقضاء“ دراصل ہائی کورٹ کا بنچ ہو گا!  دفعات ذیل میں ہیں!

دفعہ 2 (b)

Dar-ul-Dar-ul-Qaza” means the final appellate or revisional court, in the said area, designated as such, under this Regulation in pursuance of clause 2 of Article 183 of the Constitution of the Islamic republic of Pakistan

دفعہ 2 (c)

“Dar-ul-Qaza” means appellate or revisional Court constituted by Governor of North West Frontier Province in the said area, under clause 4  of the Article 198 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan

دفعہ 2 (g) کے تحت جج کو قاضی کہا گیا ہے، اس دفعہ کی روشنی میں District and Sessions Judge  کو ضلع قاضی، Additional District and. Sessions Judge  کو اضافی ضلع قاضی، Senior Civil Judge/Judicial  کو اعلیٰ علاقہ قاضی اور Civil Judge/Judicial Magistrate  کو علاقہ قاضی کہا جائے گا! یوں درحقیقت ایک طرح سے لگتا ہے کہ یہ انگریزی اصلاحات کو اردو ترجمہ کیا گیا! مگر اصل اضافی خاصیت (لازمی نہیں) جو اس رکھی ہے جج (قاضی) کے لئے وہ یہ کہ اُس نے شریعہ کا کورس کیا ہو دفعہ 6 (1) میں درج ہے

Any person to be appointed as Illaqa Qazi in the said area shall be a person who is a duly appointed judicial officer in the North-west Frontier Province and preference shall be given to those judicial officers who have completed Shariah course from a recognised institution


اور دفعہ 2 (h) میں یہ بیان کر دیا گیا ہے تسلیم شدہ ادارے سے مراد وہ ادارہ جو بین الاقوامی اسلامک یونی ورسٹی آردینس 1985 کے تحت بنے یا کوئی بھی دوسرا ادارہ جسے حکومت تسلیم کرتی ہو! اورقاضی اپنے فیصلوں کے سلسلے میں نہ صرف دیگر قوانین (جن کی فہرست نظام عدل ریگولیشن کے شیڈول اول کے کالم دو میں دی گئی ہے)  کا پابند ہو گا بلکہ دفعہ 9 (1)  کے تحت وہ پابند ہو گا کہ وہ کیس کا فیصلہ قرآن کریم، سنت رسول، اجماع اور قیاس کی روشنی میں کرے دفعہ میں درج ہے!

A Qazi or Executive Magistrate shall seek guidance from Quran Majeed, Sunna-e-Nabvi (PBUH), Ijma and Qiyas for the purposes of procedure and proceedings for conduct and resolution of cases and shall decide the same in accordance with Shariah. While expounding and interpreting the Quran Majeed and Sunna-e-Nabvi (PBUH) the Qazi and Executive Magistrate shall follow the established principles of exposition and inter2001pretation of Quran Majeed and Sunna-e-Nabvi (PBUH) and, for this purpose, shall also consider the expositions and opinions of recognised Fuqaha of Islam


اور (قاضی) عدالتی کاروائی کی جانچ پرتال دفعہ 6 (3) کے تحت دارلقضاء (ہائی کورٹ) اور ضلع قاضی ماتحت عدالتوں کرے گے! یاد رہے قاضی عدالتوں کا قیام دفعہ 5 کے تحت عمل میں آئے گا اور دفعہ 11 کے تحت نظام عدل کے نفاذ کے بعد جتنی جلد ممکن ہو حکومت عدالتیں قائم کرے گی (جو قائم ہو چکی ہیں بس دارلقضاء کا قیام باقی ہے جس کی پہلے آخری تاریخ 23 اپریل تھی اب مزید وقت بڑھا دیا گیا ہے)۔ اور دفعہ 12 کے تحت دارلقضاء کے فیصلوں کے خلاف اپیل دارلدارلقضاء (سپریم کورٹ) کے پاس ہو گی دفعہ میں درج ہے

Subject to the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, appeal or revision against the orders, judgment or decrees of the Dar-ul Qaza shall lie to the Dar-ul-Dar-ul-Qaza established for the purposes of this Regulation.


اس قانون کی دفعہ 19 کے تحت نظام عدل کے نفاذ کےساتھ ہی ضابطہ فوجداری آرڈینس 2001 ختم ہو جائے گا اور مزید جو میرے لئے دلچسپ تھا کہ سابقہ شرعی نظام عدل ریگولیشن 1999 بھی ختم یعنی کہ پہلے بھی جو قانون نافذ تھا اُس کا نام شرعی نظام عدل ہے!
“نظام عدل ریگولیشن“ کا اطلاق آئین پاکستان کے آرٹیکل 247 کے تحت عمل میں آیا ہے! یاد رہے آئین کے آرٹیکل 246 کے تحت سوات کا شمار “قبائیلی علاقے“ میں کیا جاتا ہے۔ اور آرٹیکل 247 قبائیلی علاقوں میں انتظامی امور سےمتعلق ہے۔ آرٹیکل 247 (3) میں صاف درج ہے کہ مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) و صوبائی اسمبلی کے دار اختیار سے وفاقی و صوبائی قبائیلی علاقے باہر ہیں اور صوبے کا گورنر صدر کی ہدایت یا اجازت سے کوئی قانون یا حکم کسی قبائلی علاقے پر نافذ کرے گا!

No Act of Majlis-e-Shoora (Parliament)] shall apply to any Federally Administered Tribal Area or to any part thereof, unless the President so directs, and no Act of Majlis-e-Shoora (Parliament)] or a Provincial Assembly shall apply to a Provincially Administered Tribal Area, or to any part thereof, unless the Governor of the Province in which the Tribal Area is situate, with the approval of the President, so directs; and in giving such a direction with respect to any law, the President or, as the case may be, the Governor, may direct that the law shall, in its application to a Tribal Area, or to a specified part thereof, have effect subject to such exceptions and modifications as may be specified in the direction


مزید آرٹیکل 247 (4)  کے تحت صدر کسی ایسے معاملے سے جس کے متعلق پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہو اور گورنر صدر کی اجازت سے کسی اسے معاملے سے جس کے متعلق صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار  ہو ایک ریگولیشن بنا کرصوبائی  قبائلی علاقے میں لاگو کر سکتا ہے! (اس سلسلے میں پارلیمنٹ یا صبوبائی اسمبلی کی اجازت کی ضرورت نہیں)۔

Notwithstanding anything contained in the Constitution, the President may, with respect to any matter within the legislative competence of Majlis-e-Shoora (Parliament)], and the Governor of a Province, with the prior approval of the President, may, with respect to any matter within the legislative competence of the Provincial Assembly make regulations for the peace and good government of a Provincially Administered Tribal Area or any part thereof, situated in the Province


اور ایسا ہی اختیار وفاقی قبائلی علاقوں سے متعلق صدر کو  آرٹیکل 247 (5) کے تحت حاصل ہے۔ یاد رہے  آرٹیکل 247 (3) (4) کے تحت ہی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ عمل میں آیا ہے! اور  آرٹیکل 247 کے تحت بنائے جانے والے اور نافذ کئے جانے والے حکم سے متعلق پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی سے تو نہیں البتہ متعلقہ قبائلی علاقے کے رہائشیوں کی مرضی معلوم کرنا ضروری ہے  آرٹیکل 247 (6) میں درج ہے۔

Provided that before making any Order under this clause, the President shall ascertain, in such manner as he considers appropriate, the views of the people of the Tribal Area concerned, as represented in tribal jirga


لہذا صدر کا اس ریگولیشن کو اسمبلی میں پیش کرنے کا مقصد اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانا نہیں بلکہ بین الاقوامی دباؤ سےبچنے کا ایک راستہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ریگولیشن جاری کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے اجازت کی ضرورت نہیں مگر اب یہ کہ جا سکات ہے کیا کریں پارلیمنٹ نے اسے منظور کیا ہے! ورنہ یہ مکمل صدر کا صوابدیدی اختیار تھا۔
اچھا ایک اور دلچسپ بحث ملک میں متوازی عدالتوں کے قیام سے متعلق سننے کو ملتی ہے کہ حکومت کی رٹ قائم نہیں رہتی اور الگ عدالتی نظام رائج ہو رہا ہے! اس سلسلے میں آئین کا آرٹیکل  247 (7) دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اُس میں درج ہے

Neither the Supreme Court nor a High Court shall exercise any jurisdiction under the Constitution in relation to a Tribal Area, unless Majlis-e-Shoora (Parliament)] by law otherwise provides


یعنی آئین پاکستان پہلے ہی کہہ رہا ہے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ اپنے اختیارات قبائیلی علاقوں میں استعمال نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ پارلیمنٹ اس سے متعلق کوئی راہ نہ نکالے۔۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا رزلٹآتا ہے؟ حکومت نے نظام عدل کے ذریعے ہائی کورٹ (دارلقضاء) اور سپریم کورٹ (دارل دارلقضاء) کا اختیار سماعت ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ تک قائم کیا ہے مگر صوفی محمد سے ہونے والے معاہدہ (اعلان) کی روشنی میں دارلقضاء وہ شرعی عدالت ہوگی جو ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ کی سب سے بڑی عدالت ہو گی۔ فیصلہ وقت پر ہے ۔

نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۹

آئین پاکستان کی دفعات 246, 247۔

swat-agreement

مکمل تحریر پڑھیں ←

نذیر نا (نہ) جی؟؟ کون سے ہیں حاجی

کر لو گل! آج پی کے پولیٹکسنے احمد نورانی جو دی نیوز سے منسلک ہے کے حوالے قریب کُل بائیس منٹ پر مشتمل تین مختلف ٹیلی فون کال اپنے بلاگ پر پوسٹ کی ہے، جس کے ساتھ احمد نورانی کی ای میل بھی ہے جس میں یہ دعوٰی ہے کہ جناب نے نذیر ناجی کو اسلام آباد میں غیرقانونی پلاٹ کی منتقلی سے متعلق پوچھنے کے لئے فون کیا! اور پہلی کال کے جو کہ جمعہ سترہ اپریل کو کی گئی تھی کے جواب میں نذیز صاحب نے دو مختلف  کال کر کے احمد نورانی صاحب کو وہ وہ سنائی ہیں جو نہ تو (یہاں) بیان کی جا سکتی ہیں نہ ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اسے سنے!! دھمکی بھی دی!
احمد نورانی کی اسلام اباد میں پلاٹ الاٹمنٹ پر ایک رپورٹ “دی نیوز“ میں اُس ہی تاریخ (یعنی سترہ اپریل ہی)  کو شائع ہوئی تھی۔
اچھا اگر آپ ٹیپ کی ریکارڈنگ سنے تو آ پ نذیر ناجی انصار عباسی کو بھی گالیاں دیتے سنائی دے گے ایسے میں انصار عباسی کے پلاٹ واپس کرنے کے معاملے اور آج کے کالم کی وجہ بھی سمجھی جا سکتی ہے!!!
نذیر ناجی کوئی حاجی نہیں! اُنہیں پہلے ہی کئی لوگ صحافت کا میر جعفر کہتے ہیں اوراس ریکارڈنگ کے اصلی ہونے کی کوئی گارنٹی بھی نہیں مگر اگر یہ اصلی ہے تو یہ ایک ثبوت ہے کہ صحافت کے مائی باپ کہلانے والے بھی دراصل زیر اثر ہیں لفافہ کلچر کے اور ہونے والی گفتگو بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے! میں یہاں ٹیپ پوسٹ کر رہا ہوں!

پہلی کال!

دوسری کال

تیسری کال

مکمل تحریر پڑھیں ←

کیا یہ قومی بلاگرز کانفرنس تھی؟؟؟

جناب کل کراچی میں  بلاگرز کانفرنس ہوئی تھی! جو کے صوبائی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت منعقد ہوئی! فاروق ستار اور کاؤس جی اُُُس کے مہمان خصوصی تھی۔ اسے قومی بلاگرز کانفرنس بتایا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی شک شبہ نہیں یہ ایک بہترین کانفرنس تھی جس میں سب سے آخری پریزنٹیشن اردو بلاگنگ کے حوالے سے دی گئی (نامکمل) اس سلسلے میں سب سے پہلےمیں ذاتی طور پر علی چشتی کا مشکور ہوں جنہوں نے اردو بلاگنگ پر پریزنٹیشن  کے لئے وقت رکھنے کی میری درخواست قبول۔ پھر نعمان یعقوب  کا کہ انہوں نے بنیادی خاکے سے لے کر  آخری شکل دینے تک  بہت محنت سے تمام مواد لکھا یا بنایا اس سلسلے میں فہد (ابو شامل) نے بھی اُن کا ساتھ دیا!  اس پریزنٹیشن کے لئے پاور پوانٹ پر سلاٗئیڈ فہد نے تیار کیں تھیں۔ اور  جمعہ (یعنی ایک دن پہلے) ان دونوں نے نعمان کے فلیٹ پر عمار کی تیاری کروائی۔ کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی خود تیار ناں تھا مگر انہوں نے اپنا اپنا کام بہتر طریقے سےکیا تھا! نعمان اپنے بلاگ پر اَسے شیئر کریں گے۔

اس کانفرنس میں  کراچی میں  موجود اردو بلاگرز کی اکثیریت نے شرکت کی! میرا خیال ہے صرف مکی اور علمدار شریک نہیں ہوئے۔ شکاری (عدنان زاہد) بھی کراچی کے ہیں مجھے وہاں جا کر معلوم ہوا۔  کل 350-400 میں سے صرف 7 اردو بلاگرز تھے! تصاویر اپ لوڈ کر دیں ہیں! عمار کی پریزنٹیشن کی ویڈیو م م مغل کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ  اُن کے پاس تصاویر اور ابو شامل کے صحافی دوست کے کیمرے میں بھی چند تصاویر ہیں۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ میں یہ پہلی بلاگرز کانفرنس ہے جو سرکاری جھنڈے کے نیچے منعقل ہوئی۔  جس میں Professional Research and Advisory Council of MQM نے انہیں مدد فراہم کی یا یہ کہ لیں انہیں نے اس سلسلے میں حکومت سندھ سے مدد لی اور یہ اُن کی کاوش تھی تو درست ہو گا!

بہر حال یہ حقیقت ہے کہ اس بلاگرز کانفرنس میں کراچی سے باہر کا کوئی بلاگر میرے علم کے مطابق شریک نہیں ہوا! تو ایسے میںا کیا یہ قومی بلاگرز کانفرنس ہو گی؟ یا بوجہ خاص کراچی والوں کو ہی قوم سمجھا جاتا ہے؟(یہ جملہ تعصب میں نہیں کہا گیا)

مکمل تحریر پڑھیں ←
لفظ، معنٰی اور زبان

لفظ، معنٰی اور زبان

اردو بلاگرز کی ایک ملاقات (اس کے بعد بھی دو ہو چکی ہیں) سے دو گھنٹے قبل فہیم آن لائن ملا پوچھے لگا “تو آپ پدھار رہے ہیں“ میرا جواب تھا نہیں میں آرہا ہو! اس میں آپ کو یقین کوئی حیرت انگیر یا ہٹ کر بات نظر نہیں آئے گی! اور یقین آپ درست ہیں کہ اُس نے وہ ہی پوچھا تھا جس کا میں نے جملے کا منفی آغاز کر کے مثبت جواب دیا مگر کئی مرتبہ اصل زندگی میں اس سے ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے!
اس سلسلے میں چند اپنے وکالت کے قصے شیئر کرنے سے قبل ایک لطیفہ آپ کے گوش گزار کرتے ہیں!
ایک شخض اپنے بیٹے کو کان سے پکڑ کر اُس کے انگریزی کے اُستاد کے پاس لائے اور word گویا ہوئے “میں نے اپنے بیٹے کو آپ کے پاس اس لئے ٹیوشن پر رکھا تھا کہ میں نے آپ کی تعریف سُنی تھی اور سوچا آپ کے پاس یہ آئے گا تو کچھ انگریزی سیکھ لیں گا آج چار ماہ بعد میں نے اس کا پہلی مرتبہ ٹیسٹ لیا اور یہ نالائق انگریزی جملے کا ترجمہ بتانے سے قاصر ہیں“ استاد محترم کافی پریشان ہوئے کہنے لگے “اچھا! چلیں آپ میرے سامنے پوچھے“ بندہ اپنے بیٹے سے مخاطب ہوا! “چلو بتاؤ I don't know کا مطلب کیا ہے؟“ لڑکے نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا “میں نہیں جانتا“ وہ بندہ اُستاد سے مخاطب ہوا “دیکھا آپ نے اِسے نہیں آتا“ اب اُستاد کا جواب کیا تھا یہ آپ خود ہی سوچ لیں!
بہر حال ایسے ہی چند قصے ہماری اس چھوٹی سی وکالت کی پیشہ ورانہ زندگی کے بھی ہیں!
ایک فیملی کیس پری ٹرائل پر تھا پری ٹرائل  کیس (جس میں خاتون خلع کے لئے عدالت سے رجوع کرتی ہے) میں وہ اسٹیج ہوتی ہے جس میں جج دونوں فریقین کو اپنے چیمبر میں آمنے سامنے بیٹھا کر اُن میں صلح کی ایک کوشش کرتا ہے کہ گھر بچا رہے! اور ناکامی کی صورت میں نکاح ختم قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک ہی صورت ہے جو معاملہ کو لٹکاسکتی ہے وہ یہ کہ مرد کہہ دے کہ میں نے خاتون (بیوی) کو حق مہر ادا کر دیا ہے پھر عدالت عورت کو پابند کرتی ہے کہ وہ حق مہر واپس کرے گی تو نکاح ختم کردیا جاتا ہے! ورنہ اس معاملہ پر کیس چلتا ہے کہ مرد وعورت میں کون سچ کہہ رہا ہے۔ ایسے ہی ایک پری ٹرائل میں سینئر نے مرد (وہ گھر بچانے کا آرزو مند تھا) کو کہا اگر بیوی صلح نہ کرے تو جج کے پوچھنے پر کہہ دینا کہ میں آدھا حق مہر ادا کرچکا ہوں! پری ٹرائل کے بعد جب دونوں باہر آئے تو معلوم ہوا کہ جج نے خلع گرانٹ کر دی ہے پوچھا میاں اندر جج سے یہ نہیں کہا تھا کیا کہ آدھا حق مہر ادا کر چکا ہوں! کہنے لگے“ اُس نے پوچھا ہی نہیں! بس اتنا کہا تھا کہ آپ نے دادی ماؤنٹ دی ہے“ میں نے کہہ دیا کہ نہیں! میری شادی سے پہلے ہی ا کی دادی مر گئی تھی میں کیوں مارو گا؟“ اب وہ بندہ dowery amount کو کیا بنا گیا!دیکھ لیں!ArnoldSpanish619
ایسے ہی ایکسیڈنٹ کے کیس جن میں عدالت یہ اختیار مقدمہ کے فریقین پر چھوڑتی ہے کہ آیا وہ آپس میں صلح کرنا چاہے تو کر لیں! ایسے ہی ایک موقع پر جب ہم دونوں پارٹیوں سمیت جج کے سامنے کھڑے تھے! تو جج نے مدعی سے پو چھا “تو آپ دونوں کے درمیان Compromise ہو گیا ہے؟“ مدعی نے جواب دیا “نہیں سر“۔ جج فورا ہماری جانب متوجہ ہو “وکیل صاحب کیا کرنے جا رہے ہیں“ پہلے تو ہم حیران ہوئے یہ ہوا کیا! پھر فورا کہا “سر! دونوں پارٹیاں انگریری نہیں جانتی! آپ اردو میں پوچھے!“ اس سے پہلے ہم یہ ہی سوال اُن سے دوبارہ کرتے سرکاری وکیل صاحب نے پھر پوچھ لیا “آپ دونوں کے درمیان Compromise ہو یا نہیں“ مدعی فورا بولا “ نہیں نہیں! ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اللہ واسطے معاف کیا ہے! اب ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں“۔ تب جا کر جج صاحب کو سکون آیا!
ایک ہی ایک قصہ ہمارے ایک دوست نے سنایا کہ فلاح جج کے سامنے پولیس جب ملزم کو ریمانڈ کے لئے لے کر آئی تو اُس کے ہاتھ پر پلستر چڑھا ہوا تھا! جج صاحب نے پوچھا کہ تم پر پولیس والوں نے تشدد تو نہیں کیا؟ ملزم کا جواب تھا کہ نہیں بس ہاتھ توڑا ہے!
زبان سے ناواقفیت بھی کیا کیا گُل کھلاتی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

انکشاف

‘اچھا یہ بتاؤ اگر تم سے کہا جائے کہ کوئی ایک خواہش بتاأؤ جو تمہاری فورا پوری ہو جائے گی جو مانگو کے ملے گا تو وہ کیا ہو گی!’

“ابے جا یار کہا ہوگی مشکل ہے!

‘پھر بھی!’

اچھا پھر تو میں بس ایک ہے خواہش کا اظہار کرو گا!

‘ہممم کون سی ؟’

یہ ہی کہ مجھے جنت مل جائے

‘واہ واہ کیا نیک خواہش کا اظہار کیا ہے’

مگر یہ ہے مشکل!

‘ارے مشکل کیوں ہے اللہ نیک مرادیں و خواہشات پوری کرتا ہے’

یار مشکل اس لئے ہے کہ سنا ہے اُس کی شادی ہو گئی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

فرمان قائد

ہر شخص کو اپنے گاؤں ، قصبے اور شہر سے محبت ہونی چاہئے اور اس کی بہبود  اور ترقی کے لئے محنت کرنی چاہئے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ملک سے اپنے قصبے یا شہر کی نسبت ذہادہ محبت ہونی چاہئے اور ملک کی خاطر نسبتا زیادہ شدت سے محنت کرنی چاہئے۔


(کوئٹہ میونسپلٹی استقبالیہ میں خطاب 15 جون 1948ء)

مکمل تحریر پڑھیں ←

غلط پردہ!

“توبہ توبہ کتنا غلط پردہ کیا ہوا تھا“
شاباش! پہلے تاڑ رہا تھا اب توبہ کا ڈرامہ کرتا ہوا کہہ رہا ہے پردہ غلط تھا! اوئے ویسے اُس نے پردہ کیا ہی کب تھا؟
“اچھا! تو بھی اُسے دیکھ رہا تھا؟ بہت اچھے بھائی!“
ابے! پڑ گئی نظر تیری طرح نہیں کہ گلی کی نُکر تک چھوڑ کر آؤ نظروں نظروں میں!
“اچھا اچھا حاجی صاحب نصیحتیں مت کرنے لگ جانا اب“
ٹھیک ہے یہ بتا تو نے یہ غلط پردے والا فتوٰی کہاں سے جاری کی جب کہ بی بی نے نے تو۔۔۔۔
“تجھے بڑی فکر ہے! اچھا یہ بتا کہ پردے کا مقصد کیا ہے؟“
یہ ہی کہ خود کو ایسے چھپانا کہ کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے
“تو اُنہوں نے بھی تو خود کو چھپا رکھا تھا مگر میک اپ کے پیچھے ہو گیا ناں غلط پردہ!“
لعنت ہے بھائی تم پر!

مکمل تحریر پڑھیں ←