دل دریا
لوگوں نے کہا اس در سے کبھی کوئی نا اُمید نہیں لوٹا کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا چہرے پر گرد مِلال لیے اک پر امید خیال لیے جب قافلہ اس در پر پہنچا میں اس گھر کو پہچان گیا پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا اس در سے مجھے کیا ملناتھا وہ گھر تو میرا اپنا تھا شاعر: سرشار صدیقی