نذیر نا (نہ) جی؟؟ کون سے ہیں حاجی

کر لو گل! آج پی کے پولیٹکسنے احمد نورانی جو دی نیوز سے منسلک ہے کے حوالے قریب کُل بائیس منٹ پر مشتمل تین مختلف ٹیلی فون کال اپنے بلاگ پر پوسٹ کی ہے، جس کے ساتھ احمد نورانی کی ای میل بھی ہے جس میں یہ دعوٰی ہے کہ جناب نے نذیر ناجی کو اسلام آباد میں غیرقانونی پلاٹ کی منتقلی سے متعلق پوچھنے کے لئے فون کیا! اور پہلی کال کے جو کہ جمعہ سترہ اپریل کو کی گئی تھی کے جواب میں نذیز صاحب نے دو مختلف  کال کر کے احمد نورانی صاحب کو وہ وہ سنائی ہیں جو نہ تو (یہاں) بیان کی جا سکتی ہیں نہ ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اسے سنے!! دھمکی بھی دی!
احمد نورانی کی اسلام اباد میں پلاٹ الاٹمنٹ پر ایک رپورٹ “دی نیوز“ میں اُس ہی تاریخ (یعنی سترہ اپریل ہی)  کو شائع ہوئی تھی۔
اچھا اگر آپ ٹیپ کی ریکارڈنگ سنے تو آ پ نذیر ناجی انصار عباسی کو بھی گالیاں دیتے سنائی دے گے ایسے میں انصار عباسی کے پلاٹ واپس کرنے کے معاملے اور آج کے کالم کی وجہ بھی سمجھی جا سکتی ہے!!!
نذیر ناجی کوئی حاجی نہیں! اُنہیں پہلے ہی کئی لوگ صحافت کا میر جعفر کہتے ہیں اوراس ریکارڈنگ کے اصلی ہونے کی کوئی گارنٹی بھی نہیں مگر اگر یہ اصلی ہے تو یہ ایک ثبوت ہے کہ صحافت کے مائی باپ کہلانے والے بھی دراصل زیر اثر ہیں لفافہ کلچر کے اور ہونے والی گفتگو بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے! میں یہاں ٹیپ پوسٹ کر رہا ہوں!

پہلی کال!

دوسری کال

تیسری کال

مکمل تحریر پڑھیں ←

کیا یہ قومی بلاگرز کانفرنس تھی؟؟؟

جناب کل کراچی میں  بلاگرز کانفرنس ہوئی تھی! جو کے صوبائی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت منعقد ہوئی! فاروق ستار اور کاؤس جی اُُُس کے مہمان خصوصی تھی۔ اسے قومی بلاگرز کانفرنس بتایا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی شک شبہ نہیں یہ ایک بہترین کانفرنس تھی جس میں سب سے آخری پریزنٹیشن اردو بلاگنگ کے حوالے سے دی گئی (نامکمل) اس سلسلے میں سب سے پہلےمیں ذاتی طور پر علی چشتی کا مشکور ہوں جنہوں نے اردو بلاگنگ پر پریزنٹیشن  کے لئے وقت رکھنے کی میری درخواست قبول۔ پھر نعمان یعقوب  کا کہ انہوں نے بنیادی خاکے سے لے کر  آخری شکل دینے تک  بہت محنت سے تمام مواد لکھا یا بنایا اس سلسلے میں فہد (ابو شامل) نے بھی اُن کا ساتھ دیا!  اس پریزنٹیشن کے لئے پاور پوانٹ پر سلاٗئیڈ فہد نے تیار کیں تھیں۔ اور  جمعہ (یعنی ایک دن پہلے) ان دونوں نے نعمان کے فلیٹ پر عمار کی تیاری کروائی۔ کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی خود تیار ناں تھا مگر انہوں نے اپنا اپنا کام بہتر طریقے سےکیا تھا! نعمان اپنے بلاگ پر اَسے شیئر کریں گے۔

اس کانفرنس میں  کراچی میں  موجود اردو بلاگرز کی اکثیریت نے شرکت کی! میرا خیال ہے صرف مکی اور علمدار شریک نہیں ہوئے۔ شکاری (عدنان زاہد) بھی کراچی کے ہیں مجھے وہاں جا کر معلوم ہوا۔  کل 350-400 میں سے صرف 7 اردو بلاگرز تھے! تصاویر اپ لوڈ کر دیں ہیں! عمار کی پریزنٹیشن کی ویڈیو م م مغل کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ  اُن کے پاس تصاویر اور ابو شامل کے صحافی دوست کے کیمرے میں بھی چند تصاویر ہیں۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ میں یہ پہلی بلاگرز کانفرنس ہے جو سرکاری جھنڈے کے نیچے منعقل ہوئی۔  جس میں Professional Research and Advisory Council of MQM نے انہیں مدد فراہم کی یا یہ کہ لیں انہیں نے اس سلسلے میں حکومت سندھ سے مدد لی اور یہ اُن کی کاوش تھی تو درست ہو گا!

بہر حال یہ حقیقت ہے کہ اس بلاگرز کانفرنس میں کراچی سے باہر کا کوئی بلاگر میرے علم کے مطابق شریک نہیں ہوا! تو ایسے میںا کیا یہ قومی بلاگرز کانفرنس ہو گی؟ یا بوجہ خاص کراچی والوں کو ہی قوم سمجھا جاتا ہے؟(یہ جملہ تعصب میں نہیں کہا گیا)

مکمل تحریر پڑھیں ←
لفظ، معنٰی اور زبان

لفظ، معنٰی اور زبان

اردو بلاگرز کی ایک ملاقات (اس کے بعد بھی دو ہو چکی ہیں) سے دو گھنٹے قبل فہیم آن لائن ملا پوچھے لگا “تو آپ پدھار رہے ہیں“ میرا جواب تھا نہیں میں آرہا ہو! اس میں آپ کو یقین کوئی حیرت انگیر یا ہٹ کر بات نظر نہیں آئے گی! اور یقین آپ درست ہیں کہ اُس نے وہ ہی پوچھا تھا جس کا میں نے جملے کا منفی آغاز کر کے مثبت جواب دیا مگر کئی مرتبہ اصل زندگی میں اس سے ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے!
اس سلسلے میں چند اپنے وکالت کے قصے شیئر کرنے سے قبل ایک لطیفہ آپ کے گوش گزار کرتے ہیں!
ایک شخض اپنے بیٹے کو کان سے پکڑ کر اُس کے انگریزی کے اُستاد کے پاس لائے اور word گویا ہوئے “میں نے اپنے بیٹے کو آپ کے پاس اس لئے ٹیوشن پر رکھا تھا کہ میں نے آپ کی تعریف سُنی تھی اور سوچا آپ کے پاس یہ آئے گا تو کچھ انگریزی سیکھ لیں گا آج چار ماہ بعد میں نے اس کا پہلی مرتبہ ٹیسٹ لیا اور یہ نالائق انگریزی جملے کا ترجمہ بتانے سے قاصر ہیں“ استاد محترم کافی پریشان ہوئے کہنے لگے “اچھا! چلیں آپ میرے سامنے پوچھے“ بندہ اپنے بیٹے سے مخاطب ہوا! “چلو بتاؤ I don't know کا مطلب کیا ہے؟“ لڑکے نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا “میں نہیں جانتا“ وہ بندہ اُستاد سے مخاطب ہوا “دیکھا آپ نے اِسے نہیں آتا“ اب اُستاد کا جواب کیا تھا یہ آپ خود ہی سوچ لیں!
بہر حال ایسے ہی چند قصے ہماری اس چھوٹی سی وکالت کی پیشہ ورانہ زندگی کے بھی ہیں!
ایک فیملی کیس پری ٹرائل پر تھا پری ٹرائل  کیس (جس میں خاتون خلع کے لئے عدالت سے رجوع کرتی ہے) میں وہ اسٹیج ہوتی ہے جس میں جج دونوں فریقین کو اپنے چیمبر میں آمنے سامنے بیٹھا کر اُن میں صلح کی ایک کوشش کرتا ہے کہ گھر بچا رہے! اور ناکامی کی صورت میں نکاح ختم قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک ہی صورت ہے جو معاملہ کو لٹکاسکتی ہے وہ یہ کہ مرد کہہ دے کہ میں نے خاتون (بیوی) کو حق مہر ادا کر دیا ہے پھر عدالت عورت کو پابند کرتی ہے کہ وہ حق مہر واپس کرے گی تو نکاح ختم کردیا جاتا ہے! ورنہ اس معاملہ پر کیس چلتا ہے کہ مرد وعورت میں کون سچ کہہ رہا ہے۔ ایسے ہی ایک پری ٹرائل میں سینئر نے مرد (وہ گھر بچانے کا آرزو مند تھا) کو کہا اگر بیوی صلح نہ کرے تو جج کے پوچھنے پر کہہ دینا کہ میں آدھا حق مہر ادا کرچکا ہوں! پری ٹرائل کے بعد جب دونوں باہر آئے تو معلوم ہوا کہ جج نے خلع گرانٹ کر دی ہے پوچھا میاں اندر جج سے یہ نہیں کہا تھا کیا کہ آدھا حق مہر ادا کر چکا ہوں! کہنے لگے“ اُس نے پوچھا ہی نہیں! بس اتنا کہا تھا کہ آپ نے دادی ماؤنٹ دی ہے“ میں نے کہہ دیا کہ نہیں! میری شادی سے پہلے ہی ا کی دادی مر گئی تھی میں کیوں مارو گا؟“ اب وہ بندہ dowery amount کو کیا بنا گیا!دیکھ لیں!ArnoldSpanish619
ایسے ہی ایکسیڈنٹ کے کیس جن میں عدالت یہ اختیار مقدمہ کے فریقین پر چھوڑتی ہے کہ آیا وہ آپس میں صلح کرنا چاہے تو کر لیں! ایسے ہی ایک موقع پر جب ہم دونوں پارٹیوں سمیت جج کے سامنے کھڑے تھے! تو جج نے مدعی سے پو چھا “تو آپ دونوں کے درمیان Compromise ہو گیا ہے؟“ مدعی نے جواب دیا “نہیں سر“۔ جج فورا ہماری جانب متوجہ ہو “وکیل صاحب کیا کرنے جا رہے ہیں“ پہلے تو ہم حیران ہوئے یہ ہوا کیا! پھر فورا کہا “سر! دونوں پارٹیاں انگریری نہیں جانتی! آپ اردو میں پوچھے!“ اس سے پہلے ہم یہ ہی سوال اُن سے دوبارہ کرتے سرکاری وکیل صاحب نے پھر پوچھ لیا “آپ دونوں کے درمیان Compromise ہو یا نہیں“ مدعی فورا بولا “ نہیں نہیں! ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اللہ واسطے معاف کیا ہے! اب ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں“۔ تب جا کر جج صاحب کو سکون آیا!
ایک ہی ایک قصہ ہمارے ایک دوست نے سنایا کہ فلاح جج کے سامنے پولیس جب ملزم کو ریمانڈ کے لئے لے کر آئی تو اُس کے ہاتھ پر پلستر چڑھا ہوا تھا! جج صاحب نے پوچھا کہ تم پر پولیس والوں نے تشدد تو نہیں کیا؟ ملزم کا جواب تھا کہ نہیں بس ہاتھ توڑا ہے!
زبان سے ناواقفیت بھی کیا کیا گُل کھلاتی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

انکشاف

‘اچھا یہ بتاؤ اگر تم سے کہا جائے کہ کوئی ایک خواہش بتاأؤ جو تمہاری فورا پوری ہو جائے گی جو مانگو کے ملے گا تو وہ کیا ہو گی!’

“ابے جا یار کہا ہوگی مشکل ہے!

‘پھر بھی!’

اچھا پھر تو میں بس ایک ہے خواہش کا اظہار کرو گا!

‘ہممم کون سی ؟’

یہ ہی کہ مجھے جنت مل جائے

‘واہ واہ کیا نیک خواہش کا اظہار کیا ہے’

مگر یہ ہے مشکل!

‘ارے مشکل کیوں ہے اللہ نیک مرادیں و خواہشات پوری کرتا ہے’

یار مشکل اس لئے ہے کہ سنا ہے اُس کی شادی ہو گئی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

فرمان قائد

ہر شخص کو اپنے گاؤں ، قصبے اور شہر سے محبت ہونی چاہئے اور اس کی بہبود  اور ترقی کے لئے محنت کرنی چاہئے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے ملک سے اپنے قصبے یا شہر کی نسبت ذہادہ محبت ہونی چاہئے اور ملک کی خاطر نسبتا زیادہ شدت سے محنت کرنی چاہئے۔


(کوئٹہ میونسپلٹی استقبالیہ میں خطاب 15 جون 1948ء)

مکمل تحریر پڑھیں ←

غلط پردہ!

“توبہ توبہ کتنا غلط پردہ کیا ہوا تھا“
شاباش! پہلے تاڑ رہا تھا اب توبہ کا ڈرامہ کرتا ہوا کہہ رہا ہے پردہ غلط تھا! اوئے ویسے اُس نے پردہ کیا ہی کب تھا؟
“اچھا! تو بھی اُسے دیکھ رہا تھا؟ بہت اچھے بھائی!“
ابے! پڑ گئی نظر تیری طرح نہیں کہ گلی کی نُکر تک چھوڑ کر آؤ نظروں نظروں میں!
“اچھا اچھا حاجی صاحب نصیحتیں مت کرنے لگ جانا اب“
ٹھیک ہے یہ بتا تو نے یہ غلط پردے والا فتوٰی کہاں سے جاری کی جب کہ بی بی نے نے تو۔۔۔۔
“تجھے بڑی فکر ہے! اچھا یہ بتا کہ پردے کا مقصد کیا ہے؟“
یہ ہی کہ خود کو ایسے چھپانا کہ کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے
“تو اُنہوں نے بھی تو خود کو چھپا رکھا تھا مگر میک اپ کے پیچھے ہو گیا ناں غلط پردہ!“
لعنت ہے بھائی تم پر!

مکمل تحریر پڑھیں ←
پاکستان کی پہلی بلاگرز کانفرنس!

پاکستان کی پہلی بلاگرز کانفرنس!

لیں جی اگر پاکستان کے بلاگرز کی ایک کانفرنس ہو جائے تو  کتنا اچھا ہو نا! اگر آپ کا جواب بلاگر ہونے کی بناء پر ہاں میں ہے تو سُن لیں ایسا ہونے جا رہا ہے! جی ہاں! پاکستان کی پہلی بلاگرز کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے! وہ بھی کراچی میں! معلوم ہے کس کے تعاون سے؟ اندازہ لگائے! ذرا سوچیں تو! کون کروا سکتا ہے؟ کوئی شخض یا ادارہ؟ ممکن ہے آپ کو یقین نہ آئے ہمیں بھی پہلے پہل نہیں آیا تھا! جی ایسا آئی ٹی ڈپاٹمنٹ آف سندھ (وزارت جس کے وزیر محمد رضا ہارون ہیں) کی جانب سے ہو رہا ہے!
کوشش ہو گی اردو بلاگنگ کے فروغ کے لئے اس ایونٹ کو بہتر طور پر استعمال کیا جائے! اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا تجاویز ہیں! اس سلسلے میں ایک پریزنٹیشن کی تیاری نعمان، عمار اور فہد کے ذمہ ہے جس سلسلے میں انہوں نے آپس میں ایک ربط بنا لیا ہے، ویسے نعمان نے ایک خاکہ تیار کیا ہے ابتدائی طور پر اس سلسلے میں! اگر وہ خود اُس کا لنک شیئر کرے تو اچھا ہے۔
یہ کانفرنس اب تک کی معلومات کے مطابق اٹھارہ اپریل شام چار سے سات بجے کے درمیان ریجنٹ پلازہ میں ہو گی! (پہلے پی سی بتایا گیا تھا) اس کا پوسٹر ذیل میں ہے!

BL

اپ ڈیٹ:  اب تک مجھ غریب سمیت، عمار، نعمان، فہد اور فہیم تو کنفرم ہیں!  محمد علی مکی اور  م م مغل صاحب سے ابھی رابطہ کرنا ہے وہ اس تحریر کو پڑھیں تو اسے دعوت ہی سمجھیں۱ اور کون سا بلاگر ہے کراچی سے جو شرکت کرنا چاہتا ہے؟  اور دیگر بلاگر جو شرکت کرنا چاہتے ہیں! ٹی اے ڈی اے اپنا ہو گا!!!

اپ ڈیٹ! اس بلاگ پر نظر رکھے نیز یہاں پر اپنی رجسٹریشن کروا لیں! اگر آپ شرکت کرنا چاہتے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←