حکومت و ریاست! سیاست کا طالب علم ان دونوں کے فرق کو بہت بہتر طور پر بیان کر سکتا ہے! بڑے بڑے مفکر کی باتوں کی روشنی سے ان کے بارے میں آگاہ کر سکتا ہے! جس کے بارے میں ہم یہ ہی جانتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے مختلف ہیں اور ریاست کو حکومت پر فوقیت حاصل ہے، یہ ہم جانتے ہیں مگر حکومت میں شامل ہمارے حاکم نہ معلوم کیا سمجھتے ہیں؟ ویسے وہ جو سمجھتے ہیں عوام کو معلوم ہے مگر عوام سمجھ سمجھ کے نہ سمجھنے کی عادی ہے۔
ہم جمہوریت کے دلدادہ ہیں زبانی کلامی ہی سہی، حکومت بنانے والے عوام کے ووٹوں سے آتے ہیں اس بات سے قطع نظر نہ تو ووٹ ڈالنے والوں کو اس بات کا یقین ہوتا ہے ہمارا ووٹ کوئی تبدیلی لائے گا اور نہ خود آنے والے اپنی کامیابی کو عوامی ووٹ کے مرہون منت جانتے ہیں۔ بہرحال حکومت میں آنے والے خود کو ریاست کا خادم نہیں مالک سمجھتے ہیں اور انتخاب کے نتیجہ میں حکومت جیتی ہوئی پارٹی بناتی ہے، جیتے ہوئے افراد نہیں! پارٹی جیتی ہے، حکومت بناتی ہے حکومت کرتی ہے! پارٹیوں کو شخضیات چلاتی ہیں، جودعوٰی نظریات کا کرتی ہیں!
پارٹی کی حکومت میں نوازہ پارٹی والوں کو جاتا ہے، عوامی حکومت ہو تو عوام کو نوازے! روشنیوں کے شہر کراچی میں ہم نے دیکھا کہ آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو اپنی درخواست جو آپ جسے بھی لکھے! جس میں بیان کردہ مسئلہ چاہئے میاں بیوی کی لڑائی ہو! علاقے میں پانی کی قلت ہو یا کوئی اور معاملہ ضروری یہ ہے کہ آپ کی درخواست کے اوپری دونوں کونوں میں ایک طرف “جئے متحدہ“ اور دوسری طرف “جئے الطاف“ لکھا ہو۔ ورنہ درخواست سیکروٹنی کے وقت ہی درخواست کھڈے لائن لگ جاتی ہے۔ ہمیں خود درخواست وصول کنندہ نے یہ الفاظ “جلی“ حروف میں لکھنے کو کہا تھا!
پچھلے دنوں ایک نوکری کی درخواست ہماری نظروں سے گزری! درخواست گزار نے پوسٹ کے لئے ایک صوبائی وزیر کو مخاطب کیا تھا! کہ اُس نے فلاح فلاح نوکری کے لئے اپلائی کیا ہے اُسے وہ نوکری دلا دی جائے وجہ یہ کہ وہ پارٹی کی بہت مخلص کارکن ہے فلاں فلاں موقعے پر بہت قربانیاں دیں ہیں! لہذا اُس سے ذیادہ کوئی اُس نوکری کا حق دار ہی نہیں ہے! اسی طرح ایک منتخب ایم این اے کی جانب سے ایک سفارش نامہ اُن کی پارٹی عہدے والے لیٹرپیڈ پر دیکھا جس ایم این اے صاحب نے فریادی کو نوکری کا اچھا انتخاب اُس کی پارٹی سے وفاداری گردانا تھا! جناب کی سب سے اہم قابلیت یہ بتلائی کہ بی بی شہادت نے ان میں ایک ایسا جذبہ بھر دیا تھا کہ جناب نے میری نہایت عمدہ انتخابی مہم چلائی جس سے میرے حلقے کی سیٹ پارٹی کو حاصل ہوئی!! وزیراعظم صاحب کی ہمشیرہ کا ایک سفارشی لیٹر پیڈ تو ویسے بھی منظر عام پر آیا تھا پچھلے دونوں! چند ایک دفاتر میں بھی بہت عجیب صورت حال ہے افسران کے کمرے میں قائداعظم کی تصویر ہو یا نہ ہو بھٹو و بی بی کی تصویر ضرور ہو گی! سرکاری دفاتر میں ایسا نہیں ہونا چاہئے مگر ہو رہا ہے! سرکاری ملازمین کا کسی بھی پارٹی سے تعلق ہو مگر دوران نوکری اُن کے موبائل پر کال آنے پر یا تو بی بی کی آواز میں “بھٹوزندہ ہے“ کے نعروں والی بیل بجتی ہے یا کسی پارٹی سونگ کی! ریاست پر حکومت پارٹی کرے تو ایسا ہی ہوتا ہے شاید!
تبدلی کی امید کیسے کی جائے جب گورنر جیسا غیر جانبدار عہدے پر فائز صوبے میں اپنی پارٹی کے جھنڈے گاڑنے کی بات گے اور جب خاص طور ہر صدر کی سیٹ پر فائز شخص جو ریاست کا سربراہ ہو آئینی طور پر (جس کے لئے لازم ہو کہ وہ غیر جانبدار ہو) وہ حکمران پارٹی کا شریک چیئرمین ہو! اور پارلیمنٹ سے خطاب میں ایسی تقریر کریں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو وہ خود کو پارٹی کا سربراہ پہلے اور ملک کا صدر بعد میں مانتا ہے تو کیسے ممکن ہے تبدیلی آئے گی!
رحمان ملک نے کہا! مگر کہا نہیں!!
آپس کی بات ہے یار لوگ بھی کامل کرتے ہیں! اب ان سے اللہ بچائے! اب رحمان ملک نے بات کسی اور سیاق وسباق میں کی تھی، مگر یار لوگوں نے اس ایک حصہ کی اس طرح سے تبدیلی کہ کہ یو لگتا ہے جناب باقاعدہ نعرہ لگا رہے ہوں! زر-داری کے خلاف!
ایک حقیقت!
آپ دنیا کی اچھی سے اچھی، درست و سچی بات کر لیں مگر آپ کو اس بات کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ایسے کئی افراد ہوں گے جو آپ کو غلط کہے گے! دوسری طرف اگر آپ دنیا کی نہایت بیہودہ و غلط و جھوٹی بات سُنے تو اُس لمحے ہر گز حیراں نہ ہو جب اُس کے حق میں کوئی بات کرے! کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ یہاں اچھی بات کے مخالف و غلیظ خیال کے ہامی بھی ہیں!
اشتہار کے اشتہاری!
آپ نے گوگل اور گوگل ایڈسینس کا نام سنا ہو گا عنوان میں اشتہار سے مراد گوگل ایڈسینس ہی ہے! اور اشتہاری قانون کی لغت سے مستعار لیا ہے! یعنی مجرم! بہر حال اپنے بلاگ پر ہم نے سب کو (خود ہم بھی ناکام کوشش کر چکے ہیں) گوگل کے اشتہار لگانے کا شوق پورا کرتے دیکھا ہے! مگر آج پروپاکستانی کے عامر عطا نے دو فراڈی گروپوں کو اجاگر کیا ہے جو گوگل ایڈسیسنس کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے رقم کما رہے ہے! پوسٹ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے!
گرتا بش!
ای میل میں اس فائیل کا ربط ٓآیا! اچھی ہے ! آپ گرتے ہوئے بش کو ماؤس کی مدد سے سہارا بھی دے سکتے ہیں اور کہیں یہ عمل رُک جائے تو ماؤس کی مدد سے یہ سلسلہ دوبارہ بھی شروع کر سکتے ہیں!
اب کا 23 مارچ!!!
لیں جی آج یوم پاکستان ہے! اور میں پاکستانی! آپ بھی چونکہ پاکستانی ہی ہوں گے لہذا میری طرف سےآپ کو بھی یوم پاکستان مبارک ہو! گزرے تمام یوم پاکستان کے مقابلے میں مجھے آج کا یہ قومی دن بہت اچھا لگ رہا ہے! وجہ بہت سادہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج کا پاکستان گزشتہ پاکستان سے بہتر ہے! آج کے پاکستان نے ملک میں آزاد عدلیہ کی کامیاب جدوجہد کی ہے! آج کا پاکستان اپنے مفاد کی پہلی جنگ لڑ کر جیت چکا ہے! آج کا پاکستان اپنی خواہش کو تکمیل کروانا سیکھ رہا ہے! مجھے پہلے سے ذیادہ فخر ہے کہ میں اُس پاکستان کا حصہ ہوں! میں پُر امید ہوں! میں خوش نصیب ہوں کہ میں اُس نسل کا حصہ ہوں جس نے اپنے آباؤاجدا کی اُس روایت کو دوبارہ زندہ کیا کہ اپنی جائز مطالبے کے لئے جمہوری راستہ اپناؤ اور کامیابی حاصل کرو!
ہیر آکھیدی اے
ابھی عمار (ابن ضیاء ) نے م م مغل کی جانب سے اردو بلاگر میٹ اپ کی ویڈیو کا لنک دیا (لوگ دوسروں کے کان پکڑواتے ہیں ویڈیومیں ہمیں ناک پکڑوا دی گئی ہے ) تو وہاں ہی م م مغل کے یوٹیوب چینل میں وارث شاہ کے مزار پر ایک سائیں کی ہیر وارث شاہ پڑھنے کی دیڈیو دیکھنے کو ملی کمال کی ہے! بہت بہت اچھی لگی اس لئے یہاں شیئر کر رہا ہوں م م مغل کی اجازت کے بغیر! شریف بندہ ہے اُس نے مجھے کیا کہنا ہے!
ایک اور کی لیاقت! شاید جعلی ہو!
سب سے پہلے ہمیں “عامر لیاقت“ کی کی قابلیت کی خبر ملی بذریعہ “اُمت“ اخبار کہ جناب اصلی علامہ نہیں ہیں! بڑا شور مچا! مگر اُمت پر کیس فائل ہو کر بھی نہ ہوا! پھر “اہل نظر“ کی نظر میں جانبدار ٹھہرنے والے صحافی کی زبانی معلوم ہوا “محترم“ بابر اعوان بھی اصلی ڈاکٹر نہیں ہیں! پھر بلوچستان (گوادر ) سے منتخب ہونے والے ایم این اے “محترم“ یعقوب بزنجو کی بھی گریجوایشن کی سند جعلی نکلی وہ بلوچستان نیشنل پارٹی سے تھے یوں بی این پی، پی پی پی اور قائد تحریک کی پارٹیوں کا اسکور ایک ایک سے برابر جا رہا تھا کہ کراچی کو پیپلز پارٹی کے جھنڈوں سے سجانے والےکراچی پیپلز پارٹی کے صدر اور حال ہی میں سینیٹر منتخب ہونے والے “محترم“ جناب فیصل رضا عابدی نقلی گریجوایشن کی مارک شیٹ کے حامل نکلے! یہ خبر “امت نے لگائی ہے! یوں “امت“ نے جہاں “دی نیوز“ پر دو ایک سے سبقت حاصل کی وہاں ہی اب پیپلز پارٹی کو بھی ایم کیو ایم اور بی این پی پر ایک جعلی ڈگری کی سبقت حاصل ہو گئی ہے! معلوم ہوتا ہے “فوری تعلیم اور تیز خواندگی“ کا فارمولا کافی کامیاب رہے گا ملک میں! خبرذیل میں دیکھ سکتے ہیں!
بلاگر کے لئے نوکری!
لیں جی باہر تو سنا تھا مگر اب پاکستان میں بھی بلاگر کے لئے نوکری مارکیٹ میں آ گئی ہے! ہے ناں کمال! میری معلومات جو تھوڑی بہت ہیں کے مطابق یہ پاکستان کی بلاگرز کی تاریخ میں پہلی نوکری ہے! اب تک جو میں نے پڑھا ہے اُس سے تو یہ نوکری ہی لگتی ہے رضاکار کی تلاش نہیں! اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کون ہے جو ملازم بلاگر کی تلاش میں ہے تو یہ مشہور زمانہ “چورنگی“ والے ہیں!
اُن کے بقول انہیں حالاتِ حاضرہ، سیاست اور طرز زندگی کے موضوعات پر بلاگ لکھنے والا درکار ہے! مگر شاید یہ اردو بلاگرز کے لئے نہ ہو! بہرحال اپلائی کرنے میں کیا حرج ہے! کر لیں مجھے تو فرصت نہیں ہے! ارے لنک تو میں نے آپ کو دیا نہیں! یہاں ہے بھائی!
کہیں احساس نہ ہو جائے
آج کل مجھے کچھ اس قسم کے مکالموں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے!
“وکیل صاحب مبارک ہو آپ کا چیف جسٹس بحال ہو گیا ہے“
میں؛ “ خیر مبارک میرا نہیں جناب پورے پاکستان کا چیف جسٹس بحال ہوا ہے“
“جی جی، بڑی ہمت کی آپ وکیلوں نے دو سال تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھا“
میں؛ “جناب یہ میرے جیسوں کی تو خیر کیا ہمت ہو گی مجھ پر تو کوئی زمہ داری ابھی نہیں البتہ وہ احباب جن پر گھریلوں ذمہ داریاں ہیں مگر انہوں نے اس تحریک کے لئے خود کو وقف کردیا قابل ستائش ہیں“
“مگر ایک بات ہے کہ اگر امریکہ و کیانی اسٹینڈ نہ لیتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ “چوہدری افتخار“ بحال ہو جاتا! بھائی یہ زرداری تو اب بھی چیف کی بحالی کے حق میں نہیں ہے!“
یہ اخری جملہ گفتگو میں کہیں نا کہیں کسی ناں کسی شکل میں آ جاتا ہے! جس میں کہنے والا یہ باور کرتا و کراتا ہے کہ عدلیہ کا “افتحار“ دراصل بیرونی قوتوں خاص کر امریکہ و فوج کی مہربانی سے ہوا ہے۔
گزشتہ دو سال سے امریکہ نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں کسی بھی موقع پر کوئی کردار ادا نہیں کیا! البتہ ایک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ خود امریکی مفادات کے خلاف ہے! لاپتہ افراد والے کیس سے نام نہاد دہشت گردی کی جنگ تک درست معنوں میں ایک آزاد عدلیہ امریکی خواہشات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی!
خود پاکستانی ایجنسیاں بھی آزاد عدلیہ سے خوف زدہ ہیں! ٩ مارچ کے اقدامات پر اُس وقت کی ایجنسیوں نے سُکھ کا سانس لیا تھا!
سنا ہے کامران خان نے جیو پر سب سے پہلے یہ کہنا شروع یہ کہ عدلیہ کی بحالی میں فوج و امریکہ نے اپنا کردار ادا کیا ہے! میری رائے میں ایسی تشہیر اس بناء پر کی جارہی کہ کہیں عوام کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ ان ججوں کی تعیناتی خود “عوام“ نے کی ہی وجہ صاف ہے اگر انہیں اپنی طاقت یہ احساس ہو گیا تو یہ اپنی ہر بات منوانے لگ جائے گے! جب ایک چیف جسٹس کو اپنی اصل طاقت کا احساس ہوا تو وہ گلےمیں آ گیا اب اگر عوام کو سمجھ لگ گئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔