اب کا 23 مارچ!!!

لیں جی آج یوم پاکستان ہے! اور میں پاکستانی! آپ بھی چونکہ پاکستانی ہی ہوں گے لہذا میری طرف سےآپ کو بھی یوم پاکستان مبارک ہو! گزرے تمام یوم پاکستان کے مقابلے میں مجھے آج کا یہ قومی دن بہت اچھا لگ رہا ہے! وجہ بہت سادہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ آج کا پاکستان گزشتہ پاکستان سے بہتر ہے! آج کے پاکستان نے ملک میں آزاد عدلیہ کی کامیاب جدوجہد کی ہے! آج کا پاکستان اپنے مفاد کی پہلی جنگ لڑ کر جیت چکا ہے! آج کا پاکستان اپنی خواہش کو تکمیل کروانا سیکھ رہا ہے! مجھے پہلے سے ذیادہ فخر ہے کہ میں اُس پاکستان کا حصہ ہوں! میں پُر امید ہوں! میں خوش نصیب ہوں کہ میں اُس نسل کا حصہ ہوں جس نے اپنے آباؤاجدا کی اُس روایت کو دوبارہ زندہ کیا کہ اپنی جائز مطالبے کے لئے جمہوری راستہ اپناؤ اور کامیابی حاصل کرو!

مکمل تحریر پڑھیں ←
ہیر آکھیدی اے

ہیر آکھیدی اے

ابھی عمار (ابن ضیاء )  نے م م مغل کی جانب سے اردو بلاگر میٹ اپ کی ویڈیو کا لنک دیا (لوگ دوسروں کے کان پکڑواتے ہیں ویڈیومیں ہمیں ناک پکڑوا دی گئی ہے ) تو وہاں ہی م م مغل کے یوٹیوب چینل میں وارث شاہ کے مزار پر ایک سائیں کی ہیر وارث شاہ پڑھنے کی دیڈیو دیکھنے کو ملی کمال کی ہے! بہت بہت اچھی لگی اس لئے یہاں شیئر کر رہا ہوں  م م مغل کی اجازت کے بغیر! شریف بندہ ہے اُس نے مجھے کیا کہنا ہے! 

مکمل تحریر پڑھیں ←
ایک اور کی لیاقت! شاید جعلی ہو!

ایک اور کی لیاقت! شاید جعلی ہو!

سب سے پہلے ہمیں “عامر لیاقت“ کی کی قابلیت کی خبر ملی بذریعہ “اُمت“ اخبار کہ جناب اصلی علامہ نہیں ہیں! بڑا شور مچا! مگر اُمت پر کیس فائل ہو کر بھی نہ ہوا! پھر “اہل نظر“ کی نظر میں جانبدار ٹھہرنے والے صحافی کی زبانی معلوم ہوا “محترم“ بابر اعوان بھی اصلی ڈاکٹر نہیں ہیں! پھر بلوچستان (گوادر ) سے منتخب ہونے والے  ایم این اے “محترم“ یعقوب بزنجو کی بھی گریجوایشن کی سند جعلی نکلی وہ بلوچستان نیشنل پارٹی سے تھے یوں بی این پی،  پی پی پی اور قائد تحریک کی پارٹیوں کا اسکور ایک ایک سے برابر جا رہا تھا کہ کراچی کو پیپلز پارٹی کے جھنڈوں سے سجانے والےکراچی پیپلز پارٹی کے صدر اور حال ہی میں سینیٹر منتخب ہونے والے “محترم“ جناب فیصل رضا عابدی نقلی گریجوایشن  کی مارک شیٹ کے حامل نکلے! یہ خبر “امت نے لگائی ہے! یوں “امت“ نے جہاں “دی نیوز“ پر دو ایک سے سبقت حاصل کی وہاں ہی اب پیپلز پارٹی کو بھی ایم کیو ایم اور بی این پی پر ایک جعلی ڈگری کی سبقت حاصل ہو گئی ہے! معلوم ہوتا ہے “فوری تعلیم اور تیز خواندگی“ کا فارمولا کافی کامیاب رہے گا ملک میں! خبرذیل میں دیکھ سکتے ہیں!

1

2

3

4

مکمل تحریر پڑھیں ←

بلاگر کے لئے نوکری!

لیں جی باہر تو سنا تھا مگر اب پاکستان میں بھی بلاگر کے لئے نوکری مارکیٹ میں آ گئی ہے! ہے ناں کمال! میری معلومات جو تھوڑی بہت ہیں کے مطابق یہ پاکستان کی بلاگرز کی تاریخ میں پہلی نوکری ہے! اب تک جو میں نے پڑھا ہے اُس سے تو یہ نوکری ہی لگتی ہے رضاکار کی تلاش نہیں! اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کون ہے جو ملازم بلاگر کی تلاش میں ہے تو یہ مشہور زمانہ “چورنگی“ والے ہیں!
اُن کے بقول انہیں حالاتِ حاضرہ، سیاست اور طرز زندگی کے موضوعات پر بلاگ لکھنے والا درکار ہے! مگر شاید یہ اردو بلاگرز کے لئے نہ ہو! بہرحال اپلائی کرنے میں کیا حرج ہے! کر لیں مجھے تو فرصت نہیں ہے! ارے لنک تو میں نے آپ کو دیا نہیں! یہاں ہے بھائی!

مکمل تحریر پڑھیں ←

کہیں احساس نہ ہو جائے

آج کل مجھے کچھ اس قسم کے مکالموں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے!
“وکیل صاحب مبارک ہو آپ کا چیف جسٹس بحال ہو گیا ہے“
میں؛ “ خیر مبارک میرا نہیں جناب پورے پاکستان کا چیف جسٹس بحال ہوا ہے“
“جی جی، بڑی ہمت کی آپ وکیلوں نے دو سال تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھا“
میں؛ “جناب یہ میرے جیسوں کی تو خیر کیا ہمت ہو گی مجھ پر تو کوئی زمہ داری ابھی نہیں البتہ وہ احباب جن پر گھریلوں ذمہ داریاں ہیں مگر انہوں نے اس تحریک کے لئے خود کو وقف کردیا قابل ستائش ہیں“
“مگر ایک بات ہے کہ اگر امریکہ و کیانی اسٹینڈ نہ لیتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ “چوہدری افتخار“ بحال ہو جاتا! بھائی یہ زرداری تو اب بھی چیف کی بحالی کے حق میں نہیں ہے!“
یہ اخری جملہ گفتگو میں کہیں نا کہیں کسی ناں کسی شکل میں آ جاتا ہے! جس میں کہنے والا یہ باور کرتا و کراتا ہے کہ عدلیہ کا “افتحار“ دراصل بیرونی قوتوں خاص کر امریکہ و فوج کی مہربانی سے ہوا ہے۔
گزشتہ دو سال سے امریکہ نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں کسی بھی موقع پر کوئی کردار ادا نہیں کیا! البتہ ایک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ خود امریکی مفادات کے خلاف ہے! لاپتہ افراد والے کیس سے نام نہاد دہشت گردی کی جنگ تک درست معنوں میں ایک آزاد عدلیہ امریکی خواہشات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی!
خود پاکستانی ایجنسیاں بھی آزاد عدلیہ سے خوف زدہ ہیں! ٩ مارچ کے اقدامات پر اُس وقت کی ایجنسیوں نے سُکھ کا سانس لیا تھا!
سنا ہے کامران خان نے جیو پر سب سے پہلے یہ کہنا شروع یہ کہ عدلیہ کی بحالی میں فوج و امریکہ نے اپنا کردار ادا کیا ہے! میری رائے میں ایسی تشہیر اس بناء پر کی جارہی کہ کہیں عوام کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ ان ججوں کی تعیناتی خود “عوام“ نے کی ہی وجہ صاف ہے اگر انہیں اپنی طاقت یہ احساس ہو گیا تو یہ اپنی ہر بات منوانے لگ جائے گے! جب ایک چیف جسٹس کو اپنی اصل طاقت کا احساس ہوا تو وہ گلےمیں آ گیا اب اگر عوام کو سمجھ لگ گئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

لانگ مارچ کے قیدی! ہوئے آزاد

لانگ مارچ کے آغاز پر کراچی بار کے وکلاء کو پولیس نے پکر لیا تھا! تھانے کی تصاویر میں نے پہلے شیئر کی تھیں۔ سینٹرل جیل سے اُن کی رہائی، قائداعظم کے مزار پر حاضری اور سٹی کورٹ میں استقبال کی تصاویر ذیل میں ہیں! ویڈیو بعد میں شیئر کرو گا!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ایم کیو ایم کی قلابازی! وفاق دشمنی یا ۔۔۔۔۔۔۔

بھائی اس میں کوئی شک نہیں یہ پارٹی بہت اورگنائز ہے! اتنی کہ اگر یہ چوبیس گھنٹے پہلے فیصلہ کرے کہ کل کراچی میں پاور شو کرنی ہے تو مقررہ وقت پر آرام سے پانچ سے سات ہزار کا مجمع  لگا لیتی ہے! اگر یہ فیصلہ کرے کہ کراچی میں کسی دوسرے کا شو نہیں ہونے دینا تو وہ نہیں ہوتا خواہ اس کے لئے چالیس پچاس بندوں کی کیوں نہ قربان کرنے پڑے! اور اگر قائد “تحریک“ کسی کے گھر جانے کی خواہش کریں تو تھندر اسکوارڈ اُس بندے کی “تعزیت“ کا بندوبست کر دیتے ہیں!
آج اس جماعت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے! اول تو انہوں نے حکومت سے علیحدگی کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہتے ہیں اگلے 48 گھنٹے میں الگ ہو جائے گے! دوئم انہوں نے کہا ہے سندھ کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں! آیا ایسا کہیں ہوا ہے؟ اگر ہاں تو میڈیا میں کس کس چینل نے اس کی فوٹیج دیکھائی ہے؟ میری اپنے اُن کراچی بار کےدوستوں سے جو لانگ مارچ کے قافلے میں شریک ہیں سے بات ہوئی ہے وہ ایسی کسی بھی بات سے انکاری ہے! اُن کا کہنا ہے کہ جو چند نعرے لاگئے جارہے ہے وہ پاکستان کے ہیں جیسے “پاکستان بنایا تھا! پاکستان بچائے گے!“ “ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو“ اور سب سے ذیادہ “جینا ہوگا مرنا ہو گا، دھرناہوگا دھرنا ہوگا“۔ اگر آپ کو کوئی درست اطلاع ہو تو بتائیں!!
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اے این پی کے چند سیاستدان اور مولانا ڈیزل کیوں اسے پنجاب کی تحریک کہہ رہے ہیں؟ ایم کیو ایم سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟

مکمل تحریر پڑھیں ←