تذکیر وتانیث

تذکیر وتانیث


امیر حیدر خان ہوتی

خان صاحب کیسے ہو!
“بس صاحب اللہ کی کرم ہے“
خان صاحب اللہ کا کرم ہوتا ہے اللہ کی کرم نہیں
“بس بس یہ ہمارا مجبوری ہے!“
خان صاحب کیسی مجبوری؟
“دیکھو تمھارا وزیراعٰلی ہوتا ہے ناں!“
ہاں
ہمارا تو مرد وزیراعٰلی بھی ہوتی ہے

مکمل تحریر پڑھیں ←
گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!

گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!

<(ڈفر نے ہمیں ٹیگ کیا تھا کہ اپنے (مطلوبہ) آٹھ گھروں کے بارے میں بتائے اُس ہی سلسلے میں یہ تحریر ہے)
ہماری پیدائش لیاری کی ہے! ‘اڑے تم مانو! نہیں تو دے گا ایک ہاتھ‘، نیوی کے سرکاری فلیٹ کی! والد صاحب بے شک پی آئی اے میں تھے مگر وہ رہتے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تھے جو نیوی میں تھے! وہاں سے گرین ٹاؤن میں ایک کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئے، یہاں سے انہیں ڈیوٹی آنے جانے میں آسانی رہتی تھی! بچپن میں اپنے گھر کی اُنسیت سے ہم ناواقف تھے!
جب ہم آٹھ برس کے ہوئے تو والد صاحب نے ماڈل کالونی میں ایک سو بیس گز کا ایک پلاٹ خریدا، چاردیواری کی پھر دو کمروں اور ایک کچن اور باتھ روم کا اسٹکچر کھڑا کیا، اُن پر سیمنٹ کی چادریں ڈال کر وہاں شفٹ ہو گئے! یہاں سب سے پہلے تو صحن میں وہ ٹینک بہت عجیب لگا جس پر کوئی چھت نہیں تھی، ہمارے ذہین میں جو پہلی چیز اُسے دیکھ کر سمجھ میں آئی وہ یہ کہ یہ نہانے کے لئے ہے مگر ایسا نہیں تھا! کیونکہ وہاں شفٹ ہونے کے کوئی ہفتہ بھر کے اندر ابو نے اُس پر چھت ڈلوا دی تھی، اہم وجہ خود ہماری ذات تھی کہ ہم و ہماری بہنیں اُس میں گر ہی ناں جائے! پہلی رات اُس گھر میں ہم کافی دیر تک جاگتے رہے، وجہ اُس کا نیا ہونا نہیں بلکہ، وہ آسمان کے تارے تھے جن سے ہماری واقفیت اُس ہی رات ہوئی تھی، مجھے وہ بہت بھلے لگے! اس سے قبل فلیٹ و کرائے کے مکان میں یوں کھلے آسمان کو دیکھنے سے ہم محروم رہے تھے، ہمارے اُس اشتیاق و خوشی کا ذکر اب بھی والد صاحب کبھی کبھی کرتے ہیں۔ ایک اور چیر ہم نے اس گھر میں قریب دو ماہ بغیر بجلی کے گزارے تھے اور چھ ماہ بجلی کے کنکشن کے بغیر!
ایک سو بیس گز کوئی بڑی جگہ نہیں مگر اُس وقت ہمیں بہت بڑی معلوم ہوتی تھی! ہم یہاں کرکٹ بھی کھیل لیتے، لوکن میٹی بھی کھیلی اور باغ بانی بھی کی! کوئی چالیس گز کی کچی جگہ پر ہم نے بنڈیاں، لوکی، آلو، مرچیں، توری، ٹماٹر اور کریلے جیسی سبزیاں وغیرہ، چیکو، آم، امرود، پپیتا اور انار جیسے پھل، گنا بھی نیز گلاب، موتیا، رات کی رانی و دن کا راجہ اور نہ معلوم کون کونسے دیگر پھول وغیرہ کی کامیاب کاشت کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکان کے نقشہ و حالت میں اُس وقت موجود بجٹ و سوچ و خواہش کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی رہیں! کبھی پلستر کروا لیا، کبھی لینٹر ڈلوا لیا، کبھی کچھ اور کبھی کچھ، ہر بار کسی بڑی تبدیلی کے بعد گھر کے بجٹ میں روزمرہ کے آمور کی تبدیلی سے اس کے پہلے جیسے نہ رہنے کا پتا چلتا! جیسے جب لینٹر ڈلوایا یا یوں کہہ لیں جب چھت پکی ہوئی تو امی اگلے تین سال پنجاب میں اپنے میکے نہیں گئی! کیونکہ ایسے ایک چکر کے لئے بھی تو اچھے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔`
گھر میں اب بھی کئی تبدیلیاں متوقعے ہیں! اب یہ دوسوپچاس گز کا ہے، اس میں اب بھی ایک باغیچاں ہے، اس کی موجودہ حالت کی چند تصاویر درجہ ذیل ہیں!






چند مزید تصاویر یہاں ہیں! اس کی سٹیلائیٹ تصویر یہاں دیکھ لیں!
جب ہم اپنے اس علاقے میں آئے تھے تو یہ علاقہ نہایت غیر آباد تھا! رات آٹھ بجے کے بعد سواری نہیں ملتی تھی، مگر اب یہ ایک اچھے علاقوں میں شمار ہوتا ہے! ہر سہولت یہاں موجود ہے! لہذا آٹھ گھروں کی گنتی میں اسے پہلے نمبر پر رکھے کیونکہ اس گھر کی تعمیر میں وقت و پیسے کے ساتھ ساتھ میری فیملی کی محبت و الفت بھی شامل ہے۔
دوسرا گھر میرا میرے اپنے آبائی گاؤں میں ہے، یہ میرے پیدائش سے پہلے سے وہاں موجود ہے مگر اب اُس کی شکل بھی پہلی سی نہیں رہی، میرے تایا زاد کزن کی شادی کے موقع پر اُس کی ایک بار پھر نئے سرے سے تعمیر کی گئی ہے! مکمل جدید طرز کی، پہلے اُسے حویلی کہا جاتا تھا، اب مکان کہہ لیں! یہ ہمارے دونوں تایا و ابو کا مشترکہ مکان ہے جو ہزار گز (ایک کنال) سے کچھ اوپر جگہ پر ہے۔ گاؤں میں ہماری جتنی زمین ہے مجھے اس کا اندازہ نہیں! البتہ اُس کے ٹھیکہ کی مد میں اتنے چاول آ جاتے ہیں کہ ہمیں بازار سے خریدنے نہیں پڑتے پورے سال! اور ساتھ میں آنے والی رقم پورے سال کے ٹھیکے کی مد میں البتہ ابو کی ایک ماہ تنخواہ سے آدھی یا ہماری ایک ماہ کی کمائی سے کچھ اُوپر ہوتی ہے!
کوئی اور گھر نہیں ہے! البتہ اسلام اباد میں گلشن کشمیر نامی اسکیم میں ایک کنال کا پلاٹ ہے خواہش ہے کہ خدا پیسے دے تو وہاں بھی ایک اچھا سا مکان تعمیر کر لو!!!
یہ تو ہو گئے وہ مکان جو درحقیقت ہیں، آٹھ میں سے تین آپ ان ہی کو گن لیں، اب خواہش یا خوابوں کی بات ہو تو باقی کی پانچ بھی کہیں ناں کہیں بنا لیتے ہیں! شرط پاکستان (جس ملک میں رہائش والی شرط کی روشنی میں) کی حدود کے اندر کی خوامخواہ میں لگا دی ہے! ہم تو ویسے بھی یہاں سے باہر کا سوچتے ہی نہیں ہیں!
چوتھا مکان! سیف الملوک جھیل کے کنارے پر ہونا چاہئے! اایسی خوبصورت جگہ پر مکان کے جگہ اور کئی فائدے ہیں وہاں یہ امکان بھی ہے کہ شائد پریوں سے ملاقات وغیرہ ہو جائے! کوئی پری ہماری محبت میں گرفتار ہو جائے اور یوں ہماری کہانی بھی بچے اپنی اپنی دادی کی زبانی سنا کریں گے!! ٹھیک ہے ناں!
پانچواں مکان مالم جبہ کے آس پاس ہونا چاہئے! تاکہ کبھی سیف الملوک پر نہانے کے لئے آنے والی پریوں سے دور جانے یعنی اُن کی نظروں سے چھپنا ہو تو بندہ مالم جبہ پر چھٹیاں گزارنے چلا جایا کرے! شہر کے ہنگاموں اور پریوں کی صحبت ے دور!
چھٹاں مکان جا کر مری میں بنایا جائے تاکہ کبھی اسلام آباد سے نکل کر قریب قریب تفریح کا ارادہ ہو تو اِدھر کا رُخ کیا جائے! کچھ ہمارے دوسرے (سمجھا کریں ناں) جاننے والوں کو بھی فائدہ ہو!
ساتواں مکان ہونا چاہئے کشمیر میں! خواہش تو سری نگر کی ہے مگر ابھی مظفرآباد پر ہی گزارا کرتے ہیں!!!
اور آٹھوں مکان _______ میں ہونا چاہئے! بھائی یہ بھی بتا دیا تو ہم چھپے گے کہاں؟؟؟ یہ نہیں بتانا! کوئی ایسی بھی تو جگہ ہونی ہو ناں جہاں _____________!!! سمجھا کریں ناں!
اچھا اب آٹھ بلاگرز کو ٹیگ بھی کرنا ہے تو جناب بدتمیز، جہانزیب، عمار، ابوشامل، شاکر، مارواء، ساجد اقبال اورشاہ فیصل کو ٹیگ کرتا ہو!!!! ہون تسی لکھو!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ڈیجیٹل احتجاج

احتجاج کی کئی شکلیں ہیں، وقت کے ساتھ مزید صورتیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں! ان میں ایک شکل انٹرنیٹ پر ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار ہے! لہذا یہاں آپ اپنی رائے دیں کر احتجاج ریکارڈ کروالیں! آیا فلسطین یا ۔۔۔۔۔۔! نیزاپنے برطانوی دوستوں کو یہ پٹیشن سائن کرنے کی طرف راغب کریں!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں
دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں
اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر
بھول بد گمانی کے
اس طرح سے کھلتے ہیں
زندگی سے پیارے لوگ اجنبی
سے لگتے ہیں
غیر بن کے ملتے ہیں
عمر بھر کی چاہت کو
آسرا نہیں ملتا
دشتِ بے یقینی میں
راستہ نہیں ملتا
خاموشی کے وقفوں میں
بات ٹوٹ جاتی ہے اور آسرا نہیں ملتا
معذرت کے لفظوں میں
روشنی نہیں ملتی
لذت پذیرائی پھر کبھی نہیں ملتی
پھول رنگ وعدوں کی منزلیں سکڑتی ہیں
راہ مڑنے لگتی ہیں
بے رخی کے گارے سے بے دلی
کی مٹی سے
فاصلوں کی اینٹوں سے
اینٹ جڑنے لگتی ہے
خاک اُڑنے لگتی ہے
واہموں کے سائے سے
عمر بھرکی محنت کو
پل میں توڑجاتے ہیں
اِک ذرا سی رنجش سے ساتھ
چھوٹ جاتے ہیں
خواب ٹوٹ جاتے ہیں

شاعر؛ امجد اسلام امجد

مکمل تحریر پڑھیں ←

غلاموں کے لئے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر
حُرف اُس قوم کا بے سود، عمل زار و زبوں
ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!

شاعر؛ علامہ اقبال

مکمل تحریر پڑھیں ←

یقین محکم

مکہ میں قیام کے دوران میرے قریب بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ ان کی جوان بہو کا قیام تھا۔ ساس اور بہو کے درمیان طویل لڑائی ہوتی تھی۔ شکست اکثر بہو کی ہوتی تھی۔ ہارنے کے بعد وہ روتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوتی اور ساس سے کہتی۔
“اچھا تو تم نے جتنا ظلم کرنا ہے کر لو‘ میں ابھی طواف کرتی ہوں اور اللہ کے پاس اپنی فریاد پہنچاتی ہوں“۔ یہ دھمکی سن کر ساس پسیج جاتی، معافی مانگتی اور کہتی کہ طوف کے وقت جو منہ سے نکل جائے پورا ہو جاتا ہے۔
ایک روز شدید آندھی آئی اور تیز بارش ہونے لگی۔ نالے کے کنارے مقیم حاجیوں کا سامان کیچڑ میں لت پت ہو گیا۔ ساس نے بہو کی چوٹی پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولنے لگی۔
“یہ حرام زادی کہہ رہی تھی، اللہ بڑی گرمی ہے۔ اللہ بارش، اللہ بارش، تمہیں پتا نہیں یہاں ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔“
ذرا ہٹ کر ایک جوان بے اولاد جوڑے کا بسیرا تھا۔ پہلے طواف کے بعد بیوی نے بڑے وثوق سے کہا کہ اِس نے اپنے خداوند تعالٰی سے بچہ مانگا ہے اور اس کی یہ مراد ضرور پوری ہو گی۔
“لڑکا مانگا تھا یا صرف بچہ“ خاوند نے وکیلوں کی طرح جراح کی۔
“لڑکے کی بات تو میں نے نہیں کی ، فقط بچہ مانگنے کی دعا کی۔“ بیوی نے جواب دیا۔
“رہی نا اونٹ کی اونٹ!“ خاوند بگڑ کر بولا۔
اب اللہ کی مرضی ہے چاہے لڑکی دے یا چاہے لڑکا دے۔ اب وہ تجھ سے پوچھنے تھوڑی آئے گا۔اس وقت اگر لڑکے کی شرط لگا دیتی تو لڑکا ملتا۔ یہاں مانگی ہوئی دعا کبھی نا منظور نہیں ہوتی۔“ یہ سن کر بیوی کف افسوس ملنے لگی۔
پھر چہک کر بولی۔ “تم فکر نہ کرو، ابھی بہت طواف باقی ہیں ۔ اگلی بار اپنے خداوند کو لڑکے کے لئے راضی کر لوں گی۔“
ان سیدھے سادے مسلمانوں کا ایمان اس قدر راسخ تھا کہ خانہ کعبہکے گردطواف کرتے ہوئے وہ کوہ طور کی چوٹی پر پہنچ جاتے اور اپنے حقیقی معبود سے رازونیاز کر کے نفس مطمئنہ کا انعام پاتے اور بڑی بے تکلفی سے اپنی اپنی فرمائش رب کعبہ کے حضور پیش کرکے کھٹا کھٹ مہر لگوا لیتے تھے۔ ان کے مقابلے میں مجھے اپنی عمر بھر کی نمازیں، اپنے طواف اور دعائیں بے حد کھوکھلی ، سطحی، بے جان، نقلی، اور فرضی نظر آنے لگیں۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس لڑاکا ساس اور بہو اور اس نوجوان کی بے اولاد بیوی کے پاؤں کی خاک تبرک کے طور پر اپنے سر پر دال لو تا کہ کسی طرح مجھے بھی ان کے یقین محکم کا یاک ذرہ نصیب ہو جائے۔

( خود نوشت = قدرت اللہ شہاب کی کتاب= شہاب نامہ)

مکمل تحریر پڑھیں ←

فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ
زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ
براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا
ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے
جادو ٹپک پڑا نِگہ دلنواز سے۔۔۔۔. دل ہل گئے جمال کی شان نیاز سے
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
زاہد حدودِ عشق خِدا سے نکل گئے۔۔۔۔ انسان کا جمال جو دیکھا پھسل گئے
ٹھنڈے تھے لاکھ حُسن کی گرمی سے جل گئے۔۔۔ گرنیں پڑیں تو برف کے تودے پکھل گئے
القصہ دین، کفر کا دیوانہ ہو گیا!
کعبہ ذرا سی دیر میں بُت خانہ ہو گیا!


(جوش ملیح آبادی)

مکمل تحریر پڑھیں ←

کمرہ عدالت

جج ساحب نے وکیل سے کہا “ وکیل صاحب آپ اپنی  Limit Cross کر رہے ہیں“

وکیل نے جج کی بات سن کر کرخت لہجے میں جوابن کہا “ کون سالا یہ کہتا ہے؟“

جج نے وکیل کا جواب سنتے ہی اپنی سیٹ پر اپنی پوزیشن تبدیل کی اور وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں کہا “تو آپ مجھے سالا کہہ رہے پے“

حلات کی سنگینی کا اندازہ لگا کر وکیل نے پینرہ بدلا اور کہا“ مائی لارڈ میں تو کہہ رہا تھا کون سا لاء (Law) کہتا ہے“

مکمل تحریر پڑھیں ←

امبی دے بُوٹے تھلے

اِک بُوٹا امبی دا، گھر ساڈے لگا نی
جِس تھلے بہنا نی، سُرگاں وِچ رہنا نی
کیہ اوس دا کہنا نی، ویڑھے دا گہنا نی
پر ماہی باجھوں نی، پردیسی باجھوں نی
ایہہ مینوں وڈھدا اے، تے کھٹا لگدا اے
ایس بُوٹے تھلے جے، میں چرخی ڈاہنی آں
کوئل دِیاں کُوکاں نی، مارن بندوقاں نی
پِیڑھے نُوں بھناں میں، چرخی نُون پُھوکاں نی
پِھر ڈردی بھابو توں، لَے بہاں کسیدہ جے
یاداں وِچ ڈُبی دا، دِل کِدھرے جَڑ جاوے
تے سُوئی کسیدے دی، پوٹے وَچ پڑ جاوے
پِھر اُٹھ کے پیڑھے توں، بھنجے بہہ جاواں
چیچی دھر ٹھوڈی تے، وہناں وِچ ویہہ جاواں
سُکھاں دِیاں گلاں نی، میلاں دِیاں گھڑیاں نی
کھیراں تے پُوڑے نی، ساون دِیاں جھڑیاں نی
سوہنے دے ترلے نی، تے میریاں اڑِیاں نی
جان چیتے آ جاون، لوہڑی ہی پا جاون
اوہ کیہا دیہاڑا سی، اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جِس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میڑا لاڑا سی، میں نہاتی دھوتی نی
میں وال دودھائے نی، میں کجلا پایا نی
میں گہنے لائے نی، مَل مَل کے کھوڑی میں
ہیرے لشکائے نی، لا لا کے بِندیاں میں
کئی پھند بنائے نی، جاں ہار شنگاراں تو
میں ویہلی ہوئی نی، آ امبی تھلے میں
پھیر پُونی چھوہی نی، اوہ چند پیارا بھی
آ بیٹھا ساہویں نی، امبی دی چھاویں نی
اوہ میریاں پریتاں دا، سوہنا ونجارہ نی
قصے پردیساں دے، لاماں دِیاں چھلاں نی
گھمکار جہازاں دی، ساگر دی چھلاں نی
ویری دے ہلے نی، سوہنے دی دِیاں ٹھلاں نی
اوہ دسی جاوے تے، میں بھراں ہنگارا نی
ایس گلاں کردے نُوں، پتیاں دی کھڑ کھڑ نے
بدلاں دی شُوکر نے، ونگاں دی چھن چھن نے
چرخی دی گُھوکر نے، پٹیاں دی لوری نے
کوئل دی کُو کُو نے، منجے تے پا دِتا
تے گُھوک سُلا دِتا
تک سُتا ماہی نی، چرخی دی چرخ توں
میں کالکھ لاہی نی، جا سُتے سوہنے دے
متھے تے لائی نی، میں کُھل کے ہسی نی
میں تاڑی لائی نی، میں دوہری ہو گئی نی
میں چُوہری ہو گئی نی، اوہ اُٹھ کھلویا نی
گھبرایا ہویا نی، اوہ بِٹ بِٹ تکے نی
میں کِھڑ کِھڑ ہساں نی، اوہ مُڑ مُڑ پُچھے نی
میں گل نہ دساں نی
تک شیشہ چرخی دا، اوس گُھوری پائی نی
میں چُنگی لائی نی، اوہ پِچھے بھجا نی
میں دیاں نہ ڈاہی نی، اوس مان جوانی دا
میں ہٹھ زنانی دا، میں اگے اگے نی
اوہ پِچھے پِچھے نی، منجی دے گِردے نی
نسدے وی جائیے نی، ہسدے وی جائیے نی
اوہدی چادر کھڑکے نی، میری کوٹھی دھڑکے نی
اوہدی جُتی چیکے نی، میری جھانجر چھنکے نی
جاں ہف کے رہ گئی نی، چُپ کر کے بہہ گئی نی
اوہ کیہا دیہاڑا سی؟ اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میرا لاڑا سی
اج کھان ہواواں نی، اج ساڑن چھاواں نی
ترکھان سداواں نی، امبی کٹواوِان نی
توبہ میں بھلی نی، ہاڑا میں بھلی نی
جے امبی کٹاں گی، چڑھ کِس دے اُتے
راہ ڈھول دا تکاں گی

قریب 1941 میں یہ نظم موہن سنگھ نے لکھی جو بعد میں ان کی کتاب “ساوے پتر“ میں چھپی!!!! میرے کزن (بھائی) نے مجھے سنائی تھی!!!! اس نظم میں منظر کشی اچھی ہے!!! ایک عورت کی اپنی مرد کو یاد کرنا ایک شرارت اور گھر میں لگے درخت کو بہانہ بنا کر

مکمل تحریر پڑھیں ←