غزل
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو جو ملے خواب میں وہ دولت ہو میں تمھارے ہی دَم سے زندہ ہو مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنی ہی بے مروٌت ہو تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی کیسے انگڑائی سے شکایت ہو کس طرح چھوڑ دوں تمھیں جاناں تم میری زندگی کی عا…