پی سی بی، آفریدی، پیپسی اور پیسہ

لو جی آفریدی پی سی بی سے پھڈے کے بعد پی سی بی کے لئے نئے خون کی تلاش میں نکل پڑے مگر پیپسی کے تعاون سے! یہ پیپسی کا کمال ہے یا پھر کیا کہ پھڈے کے بعد یوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرکٹ اسٹار پروگرام کی تشہری پروگرام کا حصہ بنے اس پراگرام کے تحت دراصل سولہ سال کی بالی عمر کے نوجوان کرکٹرز کی تربیت و اُن میں عمدہ کھلاڑیوں کی تلاش کے لئے شہر شہر کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ اس کی تشہیری پروگرام کے لئے آفریدی کے انتخاب کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس کچی عمر میں ہی ممکنہ مستقبل کے کھلاڑیون کو یہ باور کروانا ہو کہ تم یہ جان لو کہ ہم اسٹار کو کیسے کھڈے لائین لگا دیتے ہیں! چھڈو جی اشتہار دیکھو!! اور بتاؤ کس کی طرح کیچ نہین چھوڑنا اور کسی کو دوسرا چانس مل سکتا ہے؟


مکمل تحریر پڑھیں ←

ہم کہیں گے تو شکایت ہو گی

امریکی اسٹیٹ ڈپاٹمنٹ کی ویب سائیڈ پر اگر "سفارت کار ہو حاصل استہقاق" والی دستاویز کے صفحہ 164 پر درج ہے

In order to understand  that some control must be retained, one need only  recall the sense of outrage expressed by U.S. Citizens  whenever diplomatic immunity thwarts prosecution of  a serious crime by a diplomat assigned to the United  States. For this reason, the principle developed that  all persons enjoying privileges and immunities also  have the obligation and duty to respect the laws and  regulations of the receiving state. This principle is  expressly stated in both the VCDR and the VCCR

یعنی کہ امریکی حکومت کے بیان کردہ اصولوں میں یہ بات تو تسلیم کی گئی ہے کہ 'استہقاق کے حامل افراد کی یہ ذمہ داری و فرض ہے کہ وہ متعلقہ ریاست کے اصول و ضوابط اور قوانین کا احترام کریں'

اردو محفل کی اس پوسٹ سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے میں پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب منعقد کی، پاکستان میں امریکی تعاون سے منعقد ہونے والی یہ پہلی ہم جنس پرستوں کی محفل تھی۔ یہ تقریب گزشتہ ماہ 26 جون کو منعقد کی گئی۔
یعنی گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں کم و بیش اس طرح کی دو تقریبات ہوئی اور ایک کو مقامی اخبارات میں من چاہی کوریج ملی! انگریزی و اردو دونوں اخبارات میں۔ پہلی تقریب جو نتھیا گلی مین ہوئی اُس کو بی بی سی نے کوریج دی۔
ہم جنس پرستی اور جنسی بے راروی ہمارے معاشرے میں درست طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں اور ہمارا مذہب ان واہیاتیوں کی اجازت بھی نہیں دیتا اور اس ہی لئے ہمارے ملک میں موجود قوانین کے تحت یہ قابل گرفت عمل ہے۔ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر پاکستان نے ایسے کسی بھی عمل و قانون کی حمایت سے انکار کیا جس سے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنا مقصود ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے فورم پر امریکہ کی جانب سے ہم جنس پرستی کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد کے موقع پر پاکستان کے نمائندہ ضمیر اکرام نے صاف طور پر کہا تھا یہ "ہم جنس پرستی کسی طور پر بنیادی انسانی حق نہیں ہے" اس کے باوجود امریکی سفارت خانے کا یہ عمل کہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تقریب منعقد کرنا اور  امریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ کی طرف مکمل حمایت کا یقین دلانہ ایک غیر مہذب عمل اور اپنے کی بیان کردی سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ پریس ریلیز کا متعلقہ حصہ

Addressing the Pakistani LGBT activists, the Chargé, while acknowledging that the struggle for GLBT rights in Pakistan is still beginning, said “I want to be clear: the U.S. Embassy is here to support you and stand by your side every step of the way.

جہان ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت اور اُس کا سفارت خانہ اپنی اعمال پر خود توجہ دے اور پاکستانی عوام کے جذبات اور قوانین کا احترام کرے وہاں حکومت وقت سے بھی یہ امید رکھتے ہیں تعاون و تعلقات کو غلامی کی حدود سے باہر رکھے اور ایسے معاملات میں سخت موقف اختیار کرے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ دونوں کام نہیں ہونے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

حلالہ

"ابے  کچھ جانا تم نے کیا ہو رہا ہے اب"
کیا ہوا بے؟
"ابے اب کے لندن والی سرکار نے  حکومت سے علیحدگی کے بعد واپسی کے تمام امکانات کو رد کر دیا ہے"
تو یہ تو پرانی بات ہو گئی کوئی نئی بات بتاو
"نئی بات یہ کہ  اب لندنی گدھی نشین اگلے الیکشن کے بعد ہی مسند اقتدار میں آنا ہے"
مشکل ہے یہ
"کیا مشکل ہے؟"
اتنا لمبا وقفہ۔
"تو پھر کیا ہو گا"
حلالہ
"مطلب؟"
جناب  چھ بار کی علیحدگی کے بعد تو اب تجدید نکاح پر واپسی نہیں ہو سکتی اب کے تو حلالہ ہی کرنا پڑے گا وہ بھی ابے خصم کے دشمن یعنی مسلم لیگ نون سے
"ابے ابے مسلم لیگ نون سے کیوں؟؟ اپنے مولانا ڈیزل سے کیوں نہیں اگر حلالہ کرنا ہی ہے تو؟"
تو بھی بچہ ہے مولوی  نکاح کروانے کے لئے ہی ٹھیک رہتا ہے اُس سے نکاح کرلو تو چھوڑتا نہیں اگر چھوڑ دے تو کہیں کا نہیں چھوڑتا اب دیکھ لو مولانا نے قاضی کو کہیں کا چھوڑا جبکہ وہ قاضی تھا
"کیا بات ہے بھائی تو اب حلالہ کا انتظام ہو رہا ہے کہ انتظار ممکن نہیں۔۔ہمم"


مکمل تحریر پڑھیں ←

چل چھٹی پر نکل!


گزشتہ دنوں اردو بلاگنگ کی دنیا میں ہی ویڈیو مین نظر آنے والے قصے سے متعلق پڑھ کر ہی خود پر ترس آیا تھا! کیونکہ کہ ہم ایسے واقعات کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ بچہ یا تو سڑک پر پیدا ہو جاتا ہے یا ہسپتال میں سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے موت کی آغوش مین چلا جاتا ہے! ایسے میں برطانوی ڈاکٹر کا اپنے ملک کے وزیراعظم سے یہ سلوک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہاں اخلاقیات زندہ ہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں اس میدان میں کچھ کچھ خرابی کی ابتداء ہو ہی گئی ہے لگتا ہے کیونکہ سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو جبری چھٹیوں پر روانہ کر دیا گیا ہے!!!خبر کا آغاز نہایت دلچسپ ہے "احساس کمتری کے مارے ہوئے معاشرے ہمیشہ سے برطانوی جمہوریت کے راگ الاپتے رہے ہیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ " ہون فیر!!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

روشن خیالوں جرنیلوں کا مولوی پن

جی ہم کہہ سکتے ہیں "مولوی" ایک پیشہ نہیں کیفیت ہے یہ کسی وقت کسی میں بھی بیدار ہو سکتی ہے یا پروان پا سکتا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ روشن خیالوں کے الزام کے مطابق "مولوی" ایک ایسا کردار ہے جو اپنے نظریے و سوچ و مقاصد کے راستے میں آنے والی ہر بات و عمل کو اسلام مخالف قرار یا خلاف شریعت قرار دے کر اُس کو کچلنے یا راستے سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہے۔
عوام کا عام سا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت و انتظامی ادارے اپنے تمام اقدامات ملکی مفاد میں اُٹھائے مگر ذاتی مفاد کی رسی سے بندھے صاحب اقتدار و اختیار کے حامل طبقہ کے افراد اپنے ہر قدم کو ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بتا کر اندھیرے غار کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔
امریکی جی حضوری میں اول اول چند ٹکوں کی خاطر ملک کی نوجوانوں و عزتوں کو فروخت کیا۔ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جب امریکا کی جنگ پر سوال کیا جانے لگا تو خاموش کروانے کے لئے "مولوی" نامی کردار کی روش پر چلتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے والے کو "شدت پسند" یا "انتہا پسندوں" کا ساتھی قرار دے دیا!!
مگر یقین جانے اب بھی روشن خیال کود آئیں گے میدان میں اور "روشن خیالوں کے مولوی پن" سے آپ کو مزید واقفیت دیں گے۔

حوالہ

مکمل تحریر پڑھیں ←
یہ کیا بات ہوئی؟

یہ کیا بات ہوئی؟

دنیا میں اب تک تمام کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی مشہوری کرتی ہی وہ بتاتی ہے کہ ہماری اس پروڈکٹ میں یہ خوبی ہے آپ اسے ضرور استعمال کریں اور اگر آپ اس کو وافر مقدار میں استعمال کریں گے تو آپ کو یہ یہ رعاتیں دی جائِں گی۔ صارف تک پہنچنے کے لئے وہ باقاعدہ تشہیر کے لئے الگ بجٹ مختص کتی ہیں مگر۔۔۔۔۔ اس کے بر عکس اپنے پیپکو والے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں کہتے ہیں کم سے کم استعمال کرو، لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ کم سے کم بجلی استعمال کرو اور وافر استعمال کرع گے تو اور مہنگی ملی گی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں اور اپنے اس پیغام کو بذریعہ تشہیر عوام تک پہنچانے کے لئے باقاعدہ رقم مختص کرتے ہیں مگر عوام ہے کہ مانتی ہی نہیں!! یہ کیا بات ہوئی؟ چلیں رہنے دیں اشتہار دیکھے!

;

اور یہ گانا بھی



++++++++++++

ماہرین نے بلاتحقیق یہ بات ثابت ہونا تسلیم کر لی ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام طلاقوں کی پہلی اہم وجہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود شادی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ تمام شادیوں کا انجام طلاق نہیں ہوتا مگر اس حقیقت سے انکار کیا جانا نہ ممکن ہے کہ بغیر شادی ہے طلاق دی جا سکے، اس ہی سلسلے میں پروفیسر نا معلوم نمبر 1 نے تحقیق کئے بغیر زبان کھولی کہ شادی طلاق کی واحد وجہ نہیں مگر اولین وجہ ضرور ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہم جو طلاق پر بلا تحقیق یہ بات کہہ رہے ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم خود شادی شدہ ہیں یا ہم میں سے اکثر کے نہایت قریبی رشتہ دار یا دوست وغیرہ، ماہر نامعلوم نمبر 2 کا کہنا تھا کہ طلاق کی تعداد میں ہم دوسری و تیسری وجہ یا دیگر وجوہات کو دور کر کے ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ طلاق پہلی وجہ یعنی شادی کے اختتام کا موجب بنتی ہے یوں پھر باقی وجوہات ثانوی ہو جاتی ہیں پروفیسر نامعلوم نمبر 3 نے پروفیسر نامعلوم نمبر 2 کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہان یہ بات درست ہے کہ اول وجہ شادی ہی ہے طلاق کی لہذا اگر اس سلسلے میں شادی کا نہ ہونا طلاق کے نہ ہونے کی اولین گارنٹی ہے!! جب اس رپورٹ پر ملک کے مشہور ماہر نامعلوم نمبر 4 سے پوچھا گیا تو انہون نے ماہرین کے ناموں کے بارے میں جاننا چاہا جب بتایا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کے خوف سے نام بتانے سے گریذہ ہیں تو پروفیسر نامعلوم نمبر 4 نے کہا یہ کیا بات ہوئی؟ بعدازہ انہوں نے ہمارے رپوٹر نامعلوم کو فون کر کے اپنا نام شائع نہ کرنے کو کہا کہ دراصل میری بیوی کہیں یہ رپورٹ نہ پڑھ لے ویسے بات ٹھیک ہی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

دفعہ 144

“ابے سنا کچھ اپنے شہر قائد میں دفعہ 144 لگ گئی"
ابے کیا اب کے سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگی ہے؟
“اڑے نہیں بے! وہ شہر میں سیاسی بینر، جھنڈے ،پوسٹرلگانے اور دیوار پر سیاسی نعرہ وغیرہ پر پابندی لگ گئی ہے"
نہ کر یار! کس کس پر پابندی ہے؟
“ابے سب سیاسی جماعتوں پر"
چل اوئے! کیا چھوڑو بندہ ہے تو سب پر کیسے لگ سکتی ہے؟
“کیوں!!! کیوں نہیں لگ سکتی"
ابے آدھا شہر بی بی کی سالگرہ منانے کی دعوتوں پر مشتمل بینر، پوسٹروں اور پارٹی کے جھنڈوں سے بھر گیا ہے اور تو پابندی کی بات کر رہا ہے
“اچھا!!! ایسا ہے"
پھر ہو سکتا ہے کہ اپنے شہر کے رحمان بابا نے "مشروب حیات" کے سرُور میں سالگرہ منانے کی منادی کو 144 لگائی ہو؟
چل اوئے!!۔

خبر: حوالہ اول اور دوئم

مکمل تحریر پڑھیں ←
سماجی میڈیا کانفرنس

سماجی میڈیا کانفرنس

گزشتہ ہفتہ ہم نے آواری ٹاور میں پاکستان (منتظمین کے بقول) کی پہلی بین الاقوامی سماجی میڈیا کانفرنس میں شرکت کی!!۔ اس کو کو امریکی قونصلیٹ نے منعقد کیا تھا، ہاں جی خرچہ اُن ہی کا تھا، اور شرکاء کو دیئے جانے والے اکثر تحفے بھی۔ اس تقریب کو بظاہر پی سی ورلڈ نامی گروپ کی طرف سے منعقد کیا گیا! یعنی کہ International Data Group, Inc نے۔تقریب کا دعوتی و ادارے کے تعارف کا پیج اب اُن کی ویب سائیٹ سے نہ صرف غائب ہے بلکہ فرنٹ پیج بھی ہٹا لیا گیا ہےمزید یہ کہ  ان کے ٹویٹر آکاونٹ میں بھی آخری اپ ڈیٹ آٹھ جون یعنی کانفرنس سے دو دن قبل کی ہیں مزید جس سے کچھ اچھا تاثر نہیں اُبھرتا! اور یوں لگتا ہے کہ سب کچھ ایک "خاص پریکٹس" کے لئے کیا گیا۔

اس کانفرنس میں تین اردو بلاگر بھی شریک تھے ایک محمد اسد (جو اپنی نیوز ایجنسی کی طرف سے اس کی کوریج کرنے آئے تھے بطور بلاگر نہیں)، عمار اور میں (ہم اُن کی دعوتی لسٹ میں نہیں تھے اول اول مگر پھر دعوتی میل مل گیا!!)، اس کانفرنس کی روداد عمار نے تحریر کرنی (پہلا حصہ وہ تحریر کر چکے ہیں) ہے دیکھے باقی کا کب مکمل کرتے ہیں! اس کانفرنس کی دوران ایک ویڈیو بطور پرومو چلتی رہی جس میں بیان کی گئی معلومات نہایت عمدہ ہیں اور کام کی مگر اس میں ایک خامی تھی جو مجھے اچھی نہیں لگی!!! پاکستان کے نقشہ میں کشمیر نہیں تھا!! ویڈیو دیکھ لیں!

اس کانفرنس کو اٹینڈ کر کے میں نے محسوس کیا کہ اردو بلاگنگ سے متعلق ایک ورک شاپ نہ لے کر (اس سلسلے میں سستی کا مظاہرہ کر کے) ہم نے غلطی کی ورنہ ایسا کرنا مشکل نہ تھا۔

اپڈیٹ:- پی سی ورلڈ پاکستان کی ویب سائیٹ واپس آ گئی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←