سچ کو اپنی سچائی کے لئے کیا کسی کی گواہی کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو یہ سچائی کے ساتھ ذیادتی ہی نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔
کراچی میں ہونے والی رینجر کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گردی پر میرا وہ ہی ردعمل ہے جو سیالکوٹ والی سفاکی پر تھا!۔
دونوں واقعات کی بربریت کے گواہ اور شاہد کیمرہ مین میری نظر میں اس سفاکی و بربریت کء معاونین میں سے ایک ہیں۔
جہالت بمقابلہ دہشت گردی کی جنگ
جگر کیسا ہے؟
“زخمی"
کیوں کیا ہوا؟
“ابے تو نے بجٹ نہیں دیکھا جو پیش ہوا ہے"
ہاں دیکھا تھا! یار کمال کر دیا اپوزیشن نے وزیر خزانہ کو چوڑیاں تک پیش کر دین تھی مزا آ گیا!!۔
“ابے یہ حال ہے اس قوم کا جہالت پر قائم رہنا!! یہ کون سا اپوزیشن نے جمہوری عمل کیا شور کر کے؟"
تو کیا کرتے؟
“اگر اصل میں جمہوریت پر یقین ہے تو اب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کر کے اُسے عوامی بنائیں"
مثلا جناب کیا کرے؟
“اب تم یہ دیکھو کیا بجٹ آیا ہے صحت کی مد میں 16 ارب 90 کروڑ روپے یعنی فی پاکستانی صرف 85 روپے!!! مذاق ہے کہ نہیں"
ہاں!! کم ہیں۔
“اور تعلیم کی مد میں صرف 16 ارب روپے یہ بھی کوئی رقم ہے؟ "
ابے نہیں ہیں ناں پیسے اپنا ملک غریب ہے ناں!!کیا ہوا؟؟ اور ویسے بھی وفاق ہی کی ذمہ داری تو نہیں یہ اب صوبے کی ذمہ داری ہے
“واہ واہ!! دہشت گردی کی جنگ کے لئے قریب 495 ارب رکھے ہیں!! غریب ملک نے یعنی تعلیم کے مد میں پورے سال کا بجٹ دہشت گردی کی جنگ کے ایک دن کے بجٹ کے برابر!!!”
تو کیا ہو!! ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے!!!۔
“تو تمہارا خیال ہے جہالت کے اندھیروں سے پھوٹنے والی جنگ پر اربوں خرچ کرنا بہتر ہے مگر جہالت کو ختم کرنے کے لئے کرچ کرنا اہم نہیں؟؟"
یار پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو!!! خدا حافظ
الم پلم
جی جناب مہنگائی کے اعلان کا مہینہ آن پہنچا! میں بجٹ کو مہنگائی ہی سمجھتا ہوں!! لہذا جون مہنگائی کا مہینہ ہوا!
آج کل لکھنے کو دل ہی نہیں کر رہا، کیوں؟؟؟ یہ بھی معلوم نہیں! ایک مسئلہ تو میرے ساتھ شروع سے ہے میں اپنے اندر کی تحریک سے کچھ لکھو تو لکھو ورنہ نہین لکھا جاتا یہ بھی کئی بار ہو چکا ایک عنوان/مضمون پر کچھ لکھا بس اختتامی جملے باقی ہیں مگر پھر بلاگ پر پوسٹ نہ کیا! ہر بار ایسا کرنے کی وجہ مختلف ہوتی تھی!
کئی دوستوں اور احباب نے بذریعہ ای میل و ایس ایم ایس بھی تجویر دی کہ اس ٹاپک پر اپنے بلاگ پر کچھ پوسٹ کرو مگر دل ہے کہ مانتا ہی نہیں!! وجہ یہ کہ جب تک مجھے اندر سے تحریک نہ ہو نہیں لکھتا!!
کیا اس کا کوئی حل ہے؟؟؟
سچ اور بوری
بیٹا ہمیشہ سچ بولا کرو، کیونکہ جو جھوٹ بولتا ہے اُس کی زبان کالی ہو جاتی ہے۔
"بس رہنے دیں!!! امی جو سچ بولتا ہے اُس کی بوری بند لاش ملتی ہے"
دھرنا!!! آپ کی رائے؟
ہارن آہستہ بجائیں!!
ملیر بار کے سیکٹری جنرل جو کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھتے ہیں کل ہے اپنے شہر گئے! آج اُن کا ایک ایس ایم ایس ہمین موصول ہوا! ایس ایم ایس کیا تھا ایبٹ آباد میں موجود عوامی رائے کا اظہار تھا اُن کے بقول انہوں نے پی ایم اے ایبٹ آباد کے قریب دیوار پر لکھا ہے!
اردو پر خُودکش حملہ
قیام پاکستان کے بعد بنگال میں اردو کے خلاف آواز اُٹھائی گئی جسکے نتیجہ میں قائداعظم مرحوم بنفس نفیس وہاں تشریف لے اور ڈھاکہ میں دو ٹوک الفاط میں اعلان کیا کہ اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اگرچہ جب سے اب تک یہ انگریز کے ذہنی غلاموں کے چرکے مسلسل سہتی رہی لیکنایوبی دور میں اس کے رسم الخط کو عربی کے بجائے سرے سے رعمن
خودکش حملہ آوروں کے متعلق اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق مسلمان نوجوان کو دنیا میں ہی جنت کی نعمتوں اور حوروں بہشت کے حسن دلفریب کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں اور اس بات پر آمادہ کر لیا جاتا ہے کہ "اپنی جان کو دھماکہ مین اڑا کر ابدی جنت حاصل کو لو۔ اس عارضی زندگی و ناپئدار دنیا کو خیر باد کہو، اپنے ہم وطنوں کو خاک و کون مین لوٹاؤ اور ابدی زندگی کی خوشحالیوں سے متمتع ہو جاؤ"۔ بد قسمتی سے کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب مین آئینی تحفظ رکھنے والی اور قائد اور علامہ کی محبوب زبان اردو کے حوالے سے پیش آ گئی ہے۔ حکومت پنجاب کو اسکے مشیر حضرات نے اردو ذریعہ تعلیم کو اسکولوں سے بے دخل کر کے "انگلش میڈیم" کے نفاذ کے تحت ترقی اور خوشحالی کی جنت کا یقین دلایا ہے، لہذا خادم اعلی پنجاب برصغیر میں مسلم رہنماؤں کی اردو کیلئے دو توک حمایت اور جدوجہد کو ایک طرف رکھ کر پنجاب کو "جنت ارضی" بنانے پر تلے ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے کیال مین متذکرہ قائدین اور پاکستان کے تمام آئین بنانے والے دور جدید کے تقاضوں اور انگریزی کی اہمیت سے قطعا نا بلد تھے جبکہ حکومت پنجاب جو جنت حاسل کرنا چاہتی ہے بلاشبہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے بجائے ناخواندگی اور جہالت کے فوارے تو ضرور ہی پھوٹ رہے ہو گے کیونکہ ایک محتاط اندزے کے مطابق 1943ء سے اس وقت تک چالیس لاکھ نوجوانوں کو صرف اس لئے جہالت کے غاروں میں دھکیل دیا گیا کہ وہ دسویں جماعت میں انگریزی (بطور مضمون) پاس نہیں کر سکے۔ اس طرح بی اے ، بی ایس سی کے حالیہ نتائج کے مطابق 78 فیصد ناکام ہوئے جن میں بہت بری اکثریت انگریزی میں فیل ہونے والوں کی ہے اور کم و بیش ہر سال ذہانت کا یوں قتل عام ہو رہا ہے۔ ایسا آخر کیوں نہ ہو؟ ہمارے ارباب اقتدار انگلش دیوی کے چرنوں میں اپنے نوجوانوں کی ذہانتوں کا خون یوں پیش نی کریں تو وفاداری کا اور کیا ثبوت پیش کریں؟ لیکن ہم تو ان سے مخلصانہ گذارش کرین گے کہ اردو پر رحم فرمائیں اور قومی تشخص کے اثاثے کو تباہ نہ ہونے دیں۔
تحریر: ڈاکٹر محمد شریف نظامی
32 سال کی محلت
بس یار نہ پوچھ! واقعی پریشان ہوں
“کیوں کیا ہوا"
یار وہ بھٹو کا کیس کھل گیا ہے اُس پر پریشان ہوں
“کیوں کیا تیرا نام بھی قاتلوں میں ہے کیا"
ابے نہیں یار مین تو تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا یہ 32 سال پرانا کیس ہے اور میں تو صرف 29 کا ہوں
“تو پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"
یار میں یہ سوچ کر پریشان ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے صاحب نے بی بی کے قاتلو.ں کو بھی 32 سال کا وقت دے دیا ہے۔
“کیا! کیا! کیسے"
یار دیکھ نان اگر ایک بھٹو کا کیس کو 32 سال بعد دوبارہ کھولا ہت تو دوسرء اور تیسرے بھٹو کے قاتلوں کو بھی تو 32، 32 سال ملیں گے
"اوئے اوئے! یہ دو بھٹو اور کہاں سے آ گئے؟"
بی بی اور اُس کا بھائی!!!
“اوہ"
دعا کی قبولیت کا خطرہ
“یہ کاپی ہے" میں نے جواب دیا
“یہ کیسی کاپی ہے؟" قدرت نے پوچھا
“اس میں دعائیں لکھی ہیں- میرے کئی ایک دوستوں نے کہا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا۔ میں نے وہ سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں"
“دھیان کرنا" وہ بولے "یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔"
“کیا مطلب؟" میری ہنسی نکل گئی۔ "کیا دعا قبول ہو جانے کا خطرہ ہے؟"
“ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے"
میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے "اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں۔عرصہ دراز ہوا انہیں روز بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا۔ کچھ افاقہ نہ ہوا، سوکھ کر کانٹا ہو گئے آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پع لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ انہیں بخار چڑھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیںآج تک بخار نہیں چڑھا۔۔۔۔۔اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن ادھر اُدھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اُسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہین بخار چڑھے۔ انہیں دھڑا دھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر انہیں بخار چڑھتا"
دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھآ۔
“میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے"
اقتباس" لبیک" ؛ مصنف"ممتاز مفتی"
بھتہ مافیا کے خلاف بھتہ خوروں کی جنگ
ایک وڈے وزیر داخلہ ہیں اور ایک نکے یا صوبائی! نکے لڑائی کرتے ہیں وڈے صلح کے لئے پہنچ جاتے ہیں! نکے کی لڑائی اب اتحادیوں کے حکم پر تاجروں کی ہڑتالوں تک جا پہنچی ہے تو وڈے ابھی بھی سیاسی بیان سے فضاء خوشگوار کرنے کی کاوش میں مصروف ہیں مگر اتحادی راضی نہیں کہتے ہیں اپنوں کو قابو کرو! دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔
کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!
مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!
اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!
آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!
اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!