میرے وطن کے اُداس لوگو!
میرے وطن کے اُداس لوگو، نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو کہ کوئی تم سے حساب مانگے، خواہشوں کی کتاب مانگے نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو، کہ کوئی اُٹھ کے کہے یہ تم سے وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو، وطن کو اپنے ہمیں تھما دو اُٹھو اور اُٹھ کر بتا دو اُن کو، کہ ہم ہیں اہل ایماں سے نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے، ہمارے دل میں تو اک ِخدا ہے جھک…