تحفظ و برہنگی

تحفظ و برہنگی

ہمیں نہیں معلوم کبھی برہنگی کو قبول کیا گیا ہو! یہ ہی نہیں بلکہ یہاں تک کہ ننگاپن ہمیشہ گالی ہی رہی ہے، خواہ کوئی معاشرہ ہو یا تہذہب! قریب ہر زبان میں کسی کی بےعزتی کے لئے عام طور پر جو جملے بھی کےجائے اُن میں ایک آدھ ایسا ہوتا ہے جو برہنگی کو ظاہر کرے جیسے ہماری زبان میں "تمہاری اس حرکت میں تمہیں سب کے سامنے ننگا کر دیا"۔ یا خود اس انگریزی زبان کے اس محاورے سے اندازہ لگائے "need makes naked man run" یعنی برہنہ ہونا لامحالہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔
لباس کا اصل مقصد جسم کو ڈھاپنا ہی رہا ہے باقی تمام فیکٹر ثانوی ہیں۔ جسم کی بےپردگی کسی طور پر تنہائی میں بھی جائز نہیں یعنی خود سے پردہ بھی ضروری ٹہرا اس کے کئی اخلاقی و نفسیاتی پہلو ہیں۔ ہمارے دین میں تو علاج کے لئے بھی ضرورت سے ذیادہ برہنہ ہونا درست نہیں! حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ ایسے میں کسی اور شکل میں ایسا کرنا کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟
دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں! دہشت گردی کی جنگ میں ہم جن کے اتحادی ہیں انہوں نے خاص کر پاکستانیوں کو ننگا کرنے کا انتظام اپنے ایئرپورٹ پر کر رکھاہے۔ کئی یار دوست اس اسکینر سے گزرنے سے انکار کر چکے ہیں جن میں چند ہمارے سینیٹر تو امریکہ میں داخل ہوئے بغیر ہی انکار پر واپس آ گئے! ایک ہندوستانی اداکار شاہ رخ اپنے ان اسکینرز سے گزرنے کی داستان سنا چکا ہے۔
اس اسکینر سے انسانی جسم کے خدوخال اور اُس پر سادہ سا Nagatrive ٹول کے استعمال سے اس شکل یوں ہو جاتی ہے۔ کیا اس کو ایک سالم رنگین تصویر میں بدلنا مشکل ہو گا؟

یوں تو اسکینر اسکرین پر جسمانی خدوخال دیکھتے ہوئے اگر کوئی سیکورٹی آفسر غیر مہذب حرکت میں پایا گیا تو اُسے سزا دی جئے گی جو 90 ڈالر تک جرمانے کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، دوسری جانب اسکین سے انکار کرنے والے مسافر کو اپنی سفری اخراجات کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
کیا آپ اس اسکینر سے گزرنے میں اجتناب کرے گے؟ یا نہیں؟ خاص کر اُس وقت آپ کا رد عمل کیا ہو گا جب مخالف جنس اسکینر کی اسکرین پر نظر رکھے ہوئے ہو اور ایسا ہی اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ ہونا منظور کریں گے؟
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ لو کر لو گل اب امریکہ ملک داخل کرتے ہوئے بھی اور نکالتے وقت بھی ننگا کرے گا!۔ ویسے اپنے تحفظ کے نام پر ہمارے تحفظ پر وار نہیں کیا گیا کیا؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

چھترول

آج کل میڈیا میں چھترول کافی ان ہے اور ایک چھترول وہ ہے جو سرکاری پولیس عوام کی کرتی ہے دوسری وہ جو عالمی سطح پر ہم خود کروا رہے ہیں! اس پر ہی اشرف مخلص کی یہ نظم شیئر کر رہا ہوں۔


کیوں نہ ہووے انج چھترول
کریئے سبھناں نال دھرول

نفسا  نفسی  د ا  اوہ  عالم
ہر ایک بندہ رج  کے  ظالم
رہندی کسراں کوئی شے سالم
بے  مہار  غولاں  دے  غول

چمبڑی ساہنوں عجب بماری
پیسے دے اسیں رج پجاری
چوراں  ڈاکوواں  دے  حواری
ماڑا  تک  وکھایئے  ڈول

ملا ں  توں  منصفاں  تیک
پیسہ  ہر  بندے  دی  چیک
پیسے  جتھوں  آون  ٹھیک
اک  گنو  سو  مارو  پول

مولاپاک رکھے وچہ میچے
کریئے پٹھے کم اچییچے
بے غیرت ماں بھین تو ویچے
بوہجے  پ ا لئے   ر قم  اڈول

امریکہ  بم  ماری  جا و ے
رہبر  بس  پچکاری  جا و ے
خالی بتے  ساری  جا  و ے
جھوٹھ دے نرے وجاوے ڈھول

بھلے  رب  دے  سب  فرمان
دنیا  وچہ  نہ  عزت  آن
کھایئے جھوٹھے قسم قرآن
مکریئے کر کے ہر ایک قول

کیوں نہ ہووے انج چھترول
کریئے سبھناں نال دھرول
مکمل تحریر پڑھیں ←

انٹرنیٹ کی نسل اور گمراہ قدم

ہم اب ایک جدید دور کا حصہ ہیں، یہ ایسا دور ہے جہاں اہل عقل کو بات سمجھنے میں کم ہی دشواری ہوتی ہے۔ اس جدید دور کا کمال ہے نئی ٹیکنالوجی، جس میں دن بدن تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
ہمیں یاد ہے ہمارا پہلا تعارف جس شخص یعنی دوست نے انٹرنیٹ سے کروایا تھا ہم نے اُس کا مذاق اس بات پر اُڑایا کہ وہ ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے گھر میں کمپیوٹر آن کریں اور دوسرا بندہ اپنے گھر میں! تب وہ ایک ٹیلی فون کی تار کی وجہ سے جان جائے کہ میں نے کمپیوٹر آن کیا ہے اور یہ ہی نہیں وہ مجھ سے تحریری گفتگو کر سکتا ہے۔ مگر پھر اپنے علاقے میں موجود واحد و قریب تب ہفتہ قبل ہی افتتاح ہونے والے کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ کے اُستاد سے اجازت لے کر وہاں انٹرنیٹ چلاکر تصدیق کی تو یقین آیا۔
بعد میں ہم نے اس ایجاد کی جو تباہ کاریاں دیکھیں خدا کی پناہ، سچ تو یہ ہے ہم خود بھی اس کا شکار رہے تھے۔ نیٹ کیفے پر ای میل تو کیا یار لوگ چیک کرتے اصل میں تو اُس دور میں کئی بابا، بابو نام کےدیسی ویب ایڈریس ہمارے ہم عمروں میں مشہور تھے جو فحاشی کا مکمل سامان لئے ہوئے تھیں جن پر وقت برباد کیا جاتا اور دماغ خراب۔ درمیان میں ہم بقول شخصے مذہبی "انتہا پرستوں"کے قریب نہ جاتے تو شاید اس تباہ کاری سے کافی متاثر ہو چکے ہوتے مگر کہتے ہیں ناں جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک شبہ نہیں انٹرنیٹ و جدید ٹیکنالوجی اپنے مثبت استعمال میں اپنے منفی استعمال کے مقابلے میں کئی گنا ذیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ کیا چھڑی کے استعمال کی مثال بزرگ اس موقعے پر دیتے ہیں مگر اس سےبھی انکار ممکن نہیں ایسا اُس وقت ہی ممکن ہے کہ کوئی اُس ناسمجھ ذہن کو اس کے منفی استعمال کے خطرات سے آگاہ کر دے یا وہ ماحول مہیا کرے کہ عمومی رجحان مثبت سرگرمی کی طرف رہے! اخلاقی تربیت اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔
انٹرنیٹ سے ہر شے اچھی و بُری اب آپ کی پہنچ میں ہے، ان میں ایک شے جو ہماری تہذیب میں داخل ہو رہی ہے وہ ایک عجیب قسم عریانی ہے جو زندگیاں اور سماج دونوں کو تباہ کر رہی ہے۔ مجھے یاد ہے راولپنڈی والے کیفے اسکینڈل کے بعد جب چند لڑکیوں اور اُن کے خاندان کی زندگیاں تباہ ہوئی تھی تو کہیں جا کر نیٹ کیفے میں مخصوص ملاقاتوں کا رجحان کم ہوا تھا اُس وقت تنہائی کی ملاقاتوں کو کیفے مالک میں خفیہ طور پر ریکارڈ کیا تھا مگر اب عجیب صورت حال ہے دونوں خود مرضی سے موبائل کیمرے میں اپنی ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں کو محفوظ کرتے ہیں اس میں عموما لڑکیوں کی معصومیت اور لڑکوں کی شیطانیت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر کچھ لڑکے و لڑکیاں ایسا شوق میں بھی کرتے ہیں شیئر کرنے کی نیت سے،ہمیں یاد ہے ایسے ہی چند کیس جب خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ آئے تھے ریمبو سینٹر کے تو کافی تھر تھلی مچی تھی مگر ایجنسیوں نے حکمت عملی سے یہ معاملہ میڈیا سے دور رکھ کر ختم کیا! جو احسن قدم تھا دیکھنایہ ہےیہ اخلاقی گڑواہٹ ہم میں آئی کیوں؟
انٹرنیٹ پر یہ اخلاقی گڑواہٹ ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے، انڈیا اور پاکستان کے چند گروپ مل کر یہ کاروبار چلا رہے ہیں! کئی بلاگ، فورم اور ویب سائیٹ موجود ہیں دس میں سے چار موبائلوں میں ایسا کوئی ناں کوئی فحش مواد پایا جاتا ہے جو انٹرنیٹ سے ڈالا ہوتا ہے۔ ایسی ہی اخلاقی پستی کی شکار ایک لڑکی کا قصہ ذیل میں ہے۔



ایسے موضوعات پر لکھنے سے ڈر لگتا ہے، یہ کئی اعتبار سے!
مکمل تحریر پڑھیں ←
آئی پیڈ کے بعد!

آئی پیڈ کے بعد!

ہم نے اب تک ایپل والوں کی کوئی بھی پراڈکٹ استعمال نہیں کی! وہ بس ایک گوری آئی تھی پاکستان اُس کے پاس ایپل والوں کا لیپ ٹاپ تھا اُس پر کچھ انگلیاں مار لی تھی ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں جو اُس کے ساتھ مل کر بنایا! مگر سنا ہے اب آئی پیڈ آیا ہے دیکھنے میں کمال کی شے معلوم ہوتا ہے ہو گا سانو کی؟ مجھے تو یہ ذیل میں تصویری جوک اچھا لگا سوچا شیئر کر لو۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
اہم یا احمق؟

اہم یا احمق؟

عام طور پر یہ کہا اور بتایا جاتا ہے کہ جو ووٹ لے کر (یا ڈالوا کر) سربراہ بنتے ہیں وہ خادم ہیں حاکم نہیں؟ مگر یہ باتیں زبانی زبانی سچی ہوں تو ہوں ورنہ میں VIP یا VVIP Movement کے نام پر عوام کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے اس VIP میں I کا مطلب کیا ہے شایدایک کے لئے important اور دوسرے کے لئے idiotاب اہم کون اور احمق کون آج کے اخبار کی ان خبروں کے تراشے کی روشنی میں بتائیں۔





شاید جب حکمران اہم ہو جائیں تو عوام احمق ہی ہوتے ہیں تب ان کا سڑکوں پر مرنا اور پیدا ہونا ہی مقدر ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اتنی چھٹی کا مطلب؟

یہ ایک سوالیہ پوسٹ ہے۔ سوال یہ کہ حکومت سندھ نے کل جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان قربان، میری اس بات کو کوئی غلط رنگ نہ دیا جائے جو میں پوچھنے جا رہا ہوں۔ کیا جبکہ ہفتہ 12 ربیع الاول کو وفاقی حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہوا تھا تو صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ کیسا ہے 11 ربیع الاول کو بھی چھٹی کا؟ ذاتی طور پر مجھے تو یہ بہتر معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اتنی چھٹیوں کے متہمل نہیں ہو سکتے ہم نے کچھ بلا ضرورت چھٹیاں اپنے سالانہ کیلنڈر میں بلاوجہ شامل کر لی ہیں آپ کچھ کہیں گے یا خاموش رہیں گے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←