اسلام

منصف امریکن اور انصاف

سنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنا دی گئی ہے ہے اُسے امریکی میرین پر قاقلانہ حملہ کرنے کے جرم میں‌سزا سنائی گئی اس کے علاوہ دیگر چھ جرائم میں‌ بھی مجرم تھرایا گیا ہے۔ ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میں‌ہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میں ‌نومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میں‌انہوں‌نے …

اردو

بلاگنگ کی بناء پر۔۔۔۔۔

نوٹ ؛ یہ پوسٹ بقول م م مغل صاحب کے انجمن باہمی خود ستائشی کے تحت لکھی گئی ہے۔۔۔ وہ میرا محلے دار و دوست ہے اور ایک اتوارکو وہ میرے گھر کے دروازے پر موجود تھا، پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک ویب ڈیزائنر ہے اور xpiderz کے نام سے اُس نے اپنا کام شروع کررکھا ہے، جس وقت وہ میرے گھر آیا وہ ایک بہترین وقت تھا مجھے اپنے گھر میں پکڑ…

آصف زرداری

جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟

ہماری والدہ پیپلزپارٹی کی ہامی رہی ہیں نہ صرف یہ کہ ہامی رہی ہیں بلکہ محلہ کی سطح پر کافی ایکٹو کارکن بھی اُن کی ان سیاسی ہمدردیاں شادی کی بعد کراچی بلکہ سچ تو یہ ہے ماڈل کالونی آنے کے بعد کی ہیں دوسری جانب ہمارے والد مسلم لیگ کے حمایت کرتے تھے اور علاقے کی سطح پر مسلم لیگ کی کارنر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ وہ الگ بات …

اردو

میڈیا، بلاگرز اور اردو

پاکستان میں خواہ پریس میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا اس پر اردو کی اجارہ داری ہے، ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو الیکٹرونک میڈیا پر انگریزی کے شوقین ایسے اینکر ضرور ہونگے جو ولایتی اردو اور دیسی انگریزی بولتے ہیں۔ حد تو یہ کہ جسے ہم نمبر ایک انگریزی چینل مانتے تھے معلوم ہوا ہے اب اُس پر بھی چھ گھنٹے اردو کی حکومت ہوگی ، چی…

اسلام

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟" "کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے" "ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے" "یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں" "بلکل" " میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں ا…

انتخاب

کمال ہو گیا

"تم کہاں ہوتے اگر تمہاری ماؤں کو پیدا ہونے نہ دیا جاتا" یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو ، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطو…

کمال ہو گیا
خیال

ایک منٹ کے عالم

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی ایک ہی اولاد تھی، بادشاہ اُسے زندگی کے دیگر میدانوں میں کامیاب دیکھنا تو چاہتا تو تھا ہی مگر ساتھ ہی اُس کی دلی خواہش تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ ایک بڑا عالم بن جائے لہذا اپس نے اپنے وزیر خاص کو سلطنت کے بڑے بڑے عالم بلانے کے لئے کہا۔ ایک مخصوص دن جب تمام عالم ایک جگہ جمع تھے تو اپنے لاڈلے…

خیال

بوٹیاں نوچنے والے!

بعض معاملات پر جان بوجھ کر چُپ رہا جاتا ہے مگر ایک کنکر بولنے پر مجبور کر دیتا ہے، جن معاملات میں بولنا چاہئے ہم اکثر اس خوف سے کہ سامنے والے کا اختلاف مجھ سے نفرت میں نہ بدل جائے خاموشی اختیار کر لیتا ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ایسی بعض صورتوں میں خاموشی منافقت کے ذمرے میں آتی ہے، لیکن یہ عمل کئی اعتبار سے بہتر ہے۔ اگر ک…