یہ لیں ایک اور اُلو کے پٹھے اور "سنسر" کہنے والے۔۔
دوسری لسانی جماعت اور ایک سی حرکت
ایک بار پھر کراچی اردو بلاگر میٹ اپ
کراچی کےاردو بلاگرز کی خواہش اور پُرزور مانگ کی بناء پر کراچی میں ایک بار پھر اردو بلاگرز کی ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لہذا کراچی کی کے اردو بلاگر سے درخواست ہے کہ وہ اس میں شرکت کر کے ثواب کمائے۔ ممکنہ تاریخ 17 جنوری آنے والی اتوار اور جگہ ملیر میرا آفس ہے (جہاں پہلے ہوئی تھی)، دور رہنے والے افراد ٹیکسی والوں سے پہلے ہی بات کر لے تا کہ آخری وقت میں انکار و بہانہ نہ کرنا پڑے! دیگر خواہش مند احباب اپنے گھر سے مقام ملاقات تک آنی والی ممکنہ عوامی بس سروس کا نام دریافت کر لیں،۔ اردو محفل و انٹرنیٹ پر اردو کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے دوست بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ ذیل میں تبصرہ میں "لبیک" لکھ دے ، عین نوازش ہو گی۔
اگر دوستوں کو دشواری ہو تو دن، جگہ و وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
میزبان : منظرنامہ و چوراہا (عمار ٹھیک ہے)
ملاقات کا ایجنڈا کیا ہونا چاہئے اس پر بھی بات تبصروں میں کر لی جائے، کوشش ہو گی دوسرے شہروں میں موجود دوستوں سے بھی دوروان ملاقات بذریعہ فیس بک و ٹویٹر رابطہ ہو سکے (ابو شامل متوجہ ہوں)۔
اگر دوستوں کو دشواری ہو تو دن، جگہ و وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
میزبان : منظرنامہ و چوراہا (عمار ٹھیک ہے)
ملاقات کا ایجنڈا کیا ہونا چاہئے اس پر بھی بات تبصروں میں کر لی جائے، کوشش ہو گی دوسرے شہروں میں موجود دوستوں سے بھی دوروان ملاقات بذریعہ فیس بک و ٹویٹر رابطہ ہو سکے (ابو شامل متوجہ ہوں)۔
گوگل تلاش۔۔۔۔۔
اردو محفل پر فخر نوید کی یہ پوسٹ اور نیٹ پر islam is پر گوگل کے ممکنہ تلاش کے الفاظ پر خاموشی پر چند مغربی بلاگرز کا رونا پڑھ کر خیال آیا کہ دیکھا جائے چند دیگر الفاظ پر گوگل کا ردعمل کیا آتا ہے۔ رزلٹ ذیل میں ہے!
مکمل تحریر پڑھیں ←
یادش بخیر
یوں تو موڈ تھا آج پھر کچھ سانحہ کراچی پر لکھا جائے، اُن باتوں ، خیالات و تبصروں کو آپ سے شیئر کیا جائے جو اہل سانحہ کے ہیں! (وہ احباب کان کھڑے کر لیں جنھوں نے پہلی والی پوسٹ کے بعد ای میل کی تھیں) مگر گھر واپسی پر اپنے میٹرک کے دوستوں سے ملاقات نے موڈ تبدیل کر دیا!
ماضی کی یاد نے آ پکڑا ہے، ماضی اتنا خوبصورت کی لگتا ہے، تب کی تلخ یادیں بھی میٹھے درد کی طرح ہوتی ہے، جن سے لذت کی ٹیسیں اُٹھتی ہیں۔ وہ اسکول کے دن! زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔ چند لمحوں میں ماضی کی مکمل ڈی وی ڈی (کیسٹ کا زمانہ تو گیا ناں) آنکھوں کے سامنے چل جاتی ہے، سالوں کے واقعات سیکنڈوں میں مکمل جزیات کے ساتھ پردہ اسکرین پر نمودار ہو جاتے ہیں! کیا بات ہے۔
چلیں میں آپ سے دو مختلف اپنے واقعات شیئر کرتے ہیں، جن کا بہت خاص تعلق ہمارے آج سے ہے! اول چوری و پہلی گالی کا!
ہم نے پہلی چوری اپنے گھر میں کی تھی! جو آخری ثابت ہوئی۔ معاملہ یہ تھا ہمیں جیب خرچ میں آٹھ آنے ملتے تھے روزانہ یہ تب کی بات ہے جب ہم پانچویں یا چھٹی میں تھے۔ اسکول میں وہ میٹھے بال وہ جو رنگ برنگ ہوتا ہے نہ معلوم کیا نام ہے اُس کا؟ (کیا کوئی بتائے گا) ہم اُسے بابے بڈھے کا بال کہا کرتے تھے! وہ ایک روپے کا ملتا تھا۔ ہم کچھ دن سوچتے کہ رہے کہ کل لے کر کھاؤ گا پھر ایک دن ہم نے اپنی آٹھنی بچائی اگلے دن ملنے والی اٹھنی ملی اور ایک روپیہ ہو گئے صبح یہ سوچ کر خوش ہوئے کہ آج بابے بڈھے کے بال لے کر کھاؤ گا اور آدھی چھٹی میں ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا! وہ بندہ ہی نہیں آیا!!!! اور ساری خوشی غارت ہو گئی۔ اور شام تک ایک روپیہ بھی خرچ ہو گیا! اگلے دن وہ بندہ پھر آیا ہم نے اپس سے تصدیق کی کہ بھائی کل آؤ گے تو اُس نے ہاں کی!! شام کو خیال غلط آیا کہ کیوں ناں رات کو برتنوں میں پڑے اُس گلاس سے آٹھنے نکال لئے جائے جن میں پیسے پڑے ہوتے ہیں! رات وہاں سے پیسے نکال کر اپنے اسکول کے کپڑوں کی جیب میں رکھ کر سو نے کے لئے لیٹے تو چوری پکڑی جا چکی تھی! دو تھپڑ پڑے اور ایک ہفتہ کے لئے جیب خرچ بند ہو گیا! وہ الگ بات ہے کہ تمام ہفتہ کے جیب خرچ کی رقم تین روپے ہفتے کے آخر میں اس وعدہ کے ساتھ دے دی گئی کہ آئندہ چوری نہیں کروں گا!! اور مار پڑنے اور جیب خرچ بندہونے کی وجہ سے وہ بابے بڈھے کے بال و چوری دونوں سے نفرت ہو گئی!!!
اس ہی طرح اُن ہی دنوں ایک مرتبہ ہمارے گھر میں محلے کے ایک گھر کے چند افراد آئے تھے اُن کے ساتھ ہماری عمر کا بچہ بھی تھا! ہم اُس کے ساتھ کھیل رہےتھے کسی بات پر ہمارا اُس سے کھیل کے دوران جھگڑا ہو گیا ! ہم نے غصے میں اُسے "خنزیر، اُلو کا پٹھا" کہہ دیا اس سے قبل کے جملہ مزید آگے بڑھتا ایک زنائے دار تھپڑ ہمارے گال پر پڑ گیا! اس سوال کے ساتھ ہم نے یہ الفاظ کہاں سے سیکھے؟ اُس دن کے بعد ہمارے منہ سے کوئی گالی نہیں نکلی! ہاں اب وکالت کی فیلڈ میں انے کے بعد زبان کچھ خراب ہو گئی ہے مگر مجال ہے گھر میں کبھی غلطی سے بھی الفاظ کا چناؤ خراب ہوا ہو!
ہمیں یہ دو نوں قصے ہر بار بچپن کی یادوں کے ساتھ یاد آتے ہیں اول اس لئے کہ یہ ہمارے اول جرم ٹہرے تھے دوئم ان پر تھپڑ پڑے تھے۔
کیا آپ کی کوئی ایسا قصہ ہے؟؟ کیا آپ لکی رہے!
ماضی کی یاد نے آ پکڑا ہے، ماضی اتنا خوبصورت کی لگتا ہے، تب کی تلخ یادیں بھی میٹھے درد کی طرح ہوتی ہے، جن سے لذت کی ٹیسیں اُٹھتی ہیں۔ وہ اسکول کے دن! زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔ چند لمحوں میں ماضی کی مکمل ڈی وی ڈی (کیسٹ کا زمانہ تو گیا ناں) آنکھوں کے سامنے چل جاتی ہے، سالوں کے واقعات سیکنڈوں میں مکمل جزیات کے ساتھ پردہ اسکرین پر نمودار ہو جاتے ہیں! کیا بات ہے۔
چلیں میں آپ سے دو مختلف اپنے واقعات شیئر کرتے ہیں، جن کا بہت خاص تعلق ہمارے آج سے ہے! اول چوری و پہلی گالی کا!
ہم نے پہلی چوری اپنے گھر میں کی تھی! جو آخری ثابت ہوئی۔ معاملہ یہ تھا ہمیں جیب خرچ میں آٹھ آنے ملتے تھے روزانہ یہ تب کی بات ہے جب ہم پانچویں یا چھٹی میں تھے۔ اسکول میں وہ میٹھے بال وہ جو رنگ برنگ ہوتا ہے نہ معلوم کیا نام ہے اُس کا؟ (کیا کوئی بتائے گا) ہم اُسے بابے بڈھے کا بال کہا کرتے تھے! وہ ایک روپے کا ملتا تھا۔ ہم کچھ دن سوچتے کہ رہے کہ کل لے کر کھاؤ گا پھر ایک دن ہم نے اپنی آٹھنی بچائی اگلے دن ملنے والی اٹھنی ملی اور ایک روپیہ ہو گئے صبح یہ سوچ کر خوش ہوئے کہ آج بابے بڈھے کے بال لے کر کھاؤ گا اور آدھی چھٹی میں ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا! وہ بندہ ہی نہیں آیا!!!! اور ساری خوشی غارت ہو گئی۔ اور شام تک ایک روپیہ بھی خرچ ہو گیا! اگلے دن وہ بندہ پھر آیا ہم نے اپس سے تصدیق کی کہ بھائی کل آؤ گے تو اُس نے ہاں کی!! شام کو خیال غلط آیا کہ کیوں ناں رات کو برتنوں میں پڑے اُس گلاس سے آٹھنے نکال لئے جائے جن میں پیسے پڑے ہوتے ہیں! رات وہاں سے پیسے نکال کر اپنے اسکول کے کپڑوں کی جیب میں رکھ کر سو نے کے لئے لیٹے تو چوری پکڑی جا چکی تھی! دو تھپڑ پڑے اور ایک ہفتہ کے لئے جیب خرچ بند ہو گیا! وہ الگ بات ہے کہ تمام ہفتہ کے جیب خرچ کی رقم تین روپے ہفتے کے آخر میں اس وعدہ کے ساتھ دے دی گئی کہ آئندہ چوری نہیں کروں گا!! اور مار پڑنے اور جیب خرچ بندہونے کی وجہ سے وہ بابے بڈھے کے بال و چوری دونوں سے نفرت ہو گئی!!!
اس ہی طرح اُن ہی دنوں ایک مرتبہ ہمارے گھر میں محلے کے ایک گھر کے چند افراد آئے تھے اُن کے ساتھ ہماری عمر کا بچہ بھی تھا! ہم اُس کے ساتھ کھیل رہےتھے کسی بات پر ہمارا اُس سے کھیل کے دوران جھگڑا ہو گیا ! ہم نے غصے میں اُسے "خنزیر، اُلو کا پٹھا" کہہ دیا اس سے قبل کے جملہ مزید آگے بڑھتا ایک زنائے دار تھپڑ ہمارے گال پر پڑ گیا! اس سوال کے ساتھ ہم نے یہ الفاظ کہاں سے سیکھے؟ اُس دن کے بعد ہمارے منہ سے کوئی گالی نہیں نکلی! ہاں اب وکالت کی فیلڈ میں انے کے بعد زبان کچھ خراب ہو گئی ہے مگر مجال ہے گھر میں کبھی غلطی سے بھی الفاظ کا چناؤ خراب ہوا ہو!
ہمیں یہ دو نوں قصے ہر بار بچپن کی یادوں کے ساتھ یاد آتے ہیں اول اس لئے کہ یہ ہمارے اول جرم ٹہرے تھے دوئم ان پر تھپڑ پڑے تھے۔
کیا آپ کی کوئی ایسا قصہ ہے؟؟ کیا آپ لکی رہے!
چور تے کُتے
Shoiab Safdar Ghumman
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
کر لو بندوبست ہن اپنا
نئیں تے سدا لئی جے کھپنا
ٹٹجاوء گا ہر اک سپنا
وکھرا لُچ کوئی تلدے پئے جے
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
خورے کاہدا شوق نے ایڈھا
ملے ایہناں نوں ملک جو میڈھا
ایہہ قصائی میں اک بھیڈا
چھریاں سل تے ملدے پئے جے
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
اگے ایہناں گھٹ نئیں کیتی
قوم دی رتّ انھّے واہ پیتی
وڑ جان بھاویں وچ مسیتی
جھوٹھ دے دیوے بلدے پئے جے
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
لوکو اپنا دیس بچاؤ
کتیاں کولوں جان چھڈاؤ
ایہناں چوراں نوں مگروں لاؤ
قوم دی رتےّ پلدے پئے جی
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
شاعر= نامعلوم
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
کر لو بندوبست ہن اپنا
نئیں تے سدا لئی جے کھپنا
ٹٹجاوء گا ہر اک سپنا
وکھرا لُچ کوئی تلدے پئے جے
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
خورے کاہدا شوق نے ایڈھا
ملے ایہناں نوں ملک جو میڈھا
ایہہ قصائی میں اک بھیڈا
چھریاں سل تے ملدے پئے جے
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
اگے ایہناں گھٹ نئیں کیتی
قوم دی رتّ انھّے واہ پیتی
وڑ جان بھاویں وچ مسیتی
جھوٹھ دے دیوے بلدے پئے جے
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
لوکو اپنا دیس بچاؤ
کتیاں کولوں جان چھڈاؤ
ایہناں چوراں نوں مگروں لاؤ
قوم دی رتےّ پلدے پئے جی
چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے
شاعر= نامعلوم
قانونی امداد کیمپ برائے متاثرین سانحہ کراچی
سنی رہبر کونسل نے سانحہ کراچی کے متاثرین کے لئے ایک بولٹن مارکیٹ میں دیگر امدادی کیمپوں کے درمیان اپنا کیمپ لگایا ہے جس میں متاثرین سانحہ کے لئے مفت قانونی مشاورت کا انتظام موجود ہے! وکلاء کے پینل میں ندیم قریشی (ایڈوکیٹ سپریم کورٹ) ، صفی الدین (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) اور شعیب صفدر گھمن (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) کے نام شامل ہے۔
جسے قانونی مشورہ چاہئے ہو بلا جھجک کیمپ تشریف لے آئے۔
میں دوپہر ایک سے شام پانچ/چھ بجے تک کیمپ میں ہو گا صبح میں عدالتی مصروفیت کی بناء پر وقت دینا ممکن نہیں ہے۔

کراچی والے بمقابلہ اُلو کے پھٹے!
Shoiab Safdar Ghumman
الطاف بھائی
ایم کیو ایم
پاکستان
حکمران
خبر پر تبصرہ
خیال
ذاتی باتیں
کراچی
وکیل
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں تازہ تازہ وکیل بنا تھا ہمارے سینئر ہم سے وکالت کا کام کم لیتے اور متفرق کام ذیادہ!
یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے بیٹھنے کو کہا، ہم اُن کے ساتھ بیٹھ گئے، اُنہوں نے اپنے پنجاب سے آئے ہوئے ایک دوست سے ملاقات کروائی کہنے لگے یہ ہمارے ساتھی بھائی ہیں فیصل آباد سے آئے ہیں وہاں قائد کے پیغام و ایم کیو ایم کی ترویج کے لئے کافی کام کر رہے ہیں ہم نے قابل ستائش نظروں سے دیکھا! یہاں یہ بتا دوں نائب ناظم صاحب نے ہم سے پوچھا آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں! پھر ہم نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہے؟ جواب آیا بھائی ہم تو قائد کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، جواب متاثر کن تھا لہذا ہم نے سراہا! فنڈ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اُس کے ملنے و بہتر انداز میں خرچ کرنے کا کہا۔ جواب میں ہم نے مزید کریدہ تو اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے "ہم تو قائد کے حکم کے مطابق بلا امتیاز فنڈ خرچ کرتے ہیں صرف اپنے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اقلیت کا بھی بہت خیال کرتے ہیں" ہم نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے علاقے میں ہندو یا عیسائی آبادی ہے؟ تو جواب تھا نہیں۔ اقلیت کا مطلب پوچھنے پر اُن کے الفاظ تھے " یار جو ہمارے شہر میں غیر مہاجر رہتے ہیں"۔ ہم نے اُن سے اقلیت کے ان معنوں سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا! ورنہ ہم تو پاکستان میں صرف غیر مسلم کو ہی اقلیت سمجھ رہے تھے، یہ تقسیم و تعریف تو ذہن میں تھی ہی نہیں۔
اُس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ" کراچی والا " کی تعریف پر پورا اترنے کے معیار بہت مختلف ہیں! بعد میں بھی مختلف واقعات اور ان "کراچی والوں" سے مختلف روابط میں یہ معلوم ہوا کہ بے شک آپ کی پیدائش کراچی کی ہو، آپ کی تعلیم کراچی کی ہو، آپ کے پاس کراچی کا Domicile ہو، کراچی کا پتہ آپ کے شناختی کارڈ پردرج ہو، آپ کا گھر کراچی ہو! آپ کا جینا مرنا اگرچہاس شہر میں ہو مگر آپ کراچی والے نہیں ہو سکتے!! آپ کیا ہو سکتے ہیں یہ جواب طلب سوال تھا! اب جواب مل گیا ہے،اور تازہ انکشاف سے معلوم ہوا کہ ہم "اُلو کے پٹھے" ہیں! ثبوت ذیل میں ہے۔

یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے بیٹھنے کو کہا، ہم اُن کے ساتھ بیٹھ گئے، اُنہوں نے اپنے پنجاب سے آئے ہوئے ایک دوست سے ملاقات کروائی کہنے لگے یہ ہمارے ساتھی بھائی ہیں فیصل آباد سے آئے ہیں وہاں قائد کے پیغام و ایم کیو ایم کی ترویج کے لئے کافی کام کر رہے ہیں ہم نے قابل ستائش نظروں سے دیکھا! یہاں یہ بتا دوں نائب ناظم صاحب نے ہم سے پوچھا آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں! پھر ہم نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہے؟ جواب آیا بھائی ہم تو قائد کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، جواب متاثر کن تھا لہذا ہم نے سراہا! فنڈ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اُس کے ملنے و بہتر انداز میں خرچ کرنے کا کہا۔ جواب میں ہم نے مزید کریدہ تو اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے "ہم تو قائد کے حکم کے مطابق بلا امتیاز فنڈ خرچ کرتے ہیں صرف اپنے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اقلیت کا بھی بہت خیال کرتے ہیں" ہم نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے علاقے میں ہندو یا عیسائی آبادی ہے؟ تو جواب تھا نہیں۔ اقلیت کا مطلب پوچھنے پر اُن کے الفاظ تھے " یار جو ہمارے شہر میں غیر مہاجر رہتے ہیں"۔ ہم نے اُن سے اقلیت کے ان معنوں سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا! ورنہ ہم تو پاکستان میں صرف غیر مسلم کو ہی اقلیت سمجھ رہے تھے، یہ تقسیم و تعریف تو ذہن میں تھی ہی نہیں۔
اُس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ" کراچی والا " کی تعریف پر پورا اترنے کے معیار بہت مختلف ہیں! بعد میں بھی مختلف واقعات اور ان "کراچی والوں" سے مختلف روابط میں یہ معلوم ہوا کہ بے شک آپ کی پیدائش کراچی کی ہو، آپ کی تعلیم کراچی کی ہو، آپ کے پاس کراچی کا Domicile ہو، کراچی کا پتہ آپ کے شناختی کارڈ پردرج ہو، آپ کا گھر کراچی ہو! آپ کا جینا مرنا اگرچہاس شہر میں ہو مگر آپ کراچی والے نہیں ہو سکتے!! آپ کیا ہو سکتے ہیں یہ جواب طلب سوال تھا! اب جواب مل گیا ہے،اور تازہ انکشاف سے معلوم ہوا کہ ہم "اُلو کے پٹھے" ہیں! ثبوت ذیل میں ہے۔
بلاگر ایوارڈ
اردو بلاگر نہایت معذرت کے ساتھ اپنی الگ دنیا بسا کے بیٹھے ہوئے ہیں ! جی ہاں الگ دنیا ! کم ہی دیکھنے میں آیا کہ انگریزی بلاگ (خاص کر پاکستانی) کی کسی تحریر کا حوالہ دیا گیا ہویا اس طرز کا کوئی اور کام! چند ایک ہی اردو بلاگر میرا خیال ہے انگریزی بلاگ دیکھتے یا پڑھتے ہیں! تبصرہ وہ بھی نہیں کرتے! انکل اجمل و نعمان کے علاوہ کون کون ہے جو انگریزی بلاگ اور اُس کیمونٹی پر نظر رکھتا ہے؟ ممکن کے عنیقہ ناز ہوں!!! اور کون ہے؟
اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف کے لوگ الگ الگ اپنی اپنی مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ہم اُن کو اور وہ ہمیں منہ نہیں لگاتے، یوں لگتا ہے دونوں ایک دوسرے کے وجود سے بے خبر بنے بیٹھے ہیں! یہ حقیقت ہے کہ ملک میں اردو ذیادہ بولی جاتی ہے مگر نیٹ پر پاکستانی بلاگر کمیونٹی میں انگریزی بلاگر کی تعداد بہت ذیادہ ہے۔ یوں نظر انداز کرنے کا میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اردو بلاگرز کو ذیادہ نقصان ہوتا ہے جیسے اگر میں غلط نہیں تو پہلا بلاگ سیارہ جو کسی پاکستانی نے بنایا وہ اردو سیارہ تھا؟؟ اگر ہاں تو یہ کیا وجہ ہے کہ بلاگرز پی کے پہلا کہلاتا ہے؟ یوں اور بھی کچھ باتیں!!! ممکن ہے میں غلط ہوں۔
ہمیں ایک اجتماعی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں نظر انداز نہ کر سکیں! دلچسپ بات یہ کہ کراچی میں انگریزی و اردو بلاگر الگ الگ بہت ایکٹو ہیں! مگر کوئی مشترکہ پروگرام دونوں جانب سے نہیں کیا گیا! بلاگر کانفرنس میں بھی ہم (اردو) بلاگر نے بمشکل ایک میز پر قبصہ کیا تھا! بعد میں جن انگریزی بلاگر زنے اُس کانفرنس پر اپنے بلاگ پر اظہار رائے کیا تھا تو اکثر اردو بلاگنگ کی پریزنٹیشن کو بھول گئے تھے تبصرہ کر کے انہیں یاد کروانا پڑا تھا تو معذرت کے ساتھ انہوں نے بہر حال جگہ دی! یو ہی میں اپنی ذاتی دفتری مصروفیات کی وجہ آخری بلاگرز کانفرنس کے لئے رابطے نہ کر سکا البتی اپنے بلاگ پر آگاہ کر دیا تھا مگر کسی اور اردو بلاگرز میں سے اللہ کے بندے نے بھی شرکت نہ کی!
منظر نامہ نے یوں تو اپنا ایک سلسلہ شروع کیا ہے انعامات دینے کا اردو بلاگرز کو! مگر اگر آپ متوجہ ہوں تو ایک پاکستانی بلاگرز کا ایوارڈ یہاں بھی ہو رہا ہے شرکت کر لیں! وضاحت کر دوں کہ ابتدا میں وہاں بھی اردو بلاگرز کو نطر انداز کر دیا گیا تھا! پھر ایک جذباتی قسم کی میل ماری تو اب انہوں نے Topic Area Categories میںbest urdu blogger شامل کر لیا ہے! وہاں توجہ دیں تاکہ اگلی مرتبہ اردو بلاگر کو نظر انداز کیا جانا ممکن نہ رہے!
باقی آپ حضرات کی مرضی!!

اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف کے لوگ الگ الگ اپنی اپنی مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ہم اُن کو اور وہ ہمیں منہ نہیں لگاتے، یوں لگتا ہے دونوں ایک دوسرے کے وجود سے بے خبر بنے بیٹھے ہیں! یہ حقیقت ہے کہ ملک میں اردو ذیادہ بولی جاتی ہے مگر نیٹ پر پاکستانی بلاگر کمیونٹی میں انگریزی بلاگر کی تعداد بہت ذیادہ ہے۔ یوں نظر انداز کرنے کا میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اردو بلاگرز کو ذیادہ نقصان ہوتا ہے جیسے اگر میں غلط نہیں تو پہلا بلاگ سیارہ جو کسی پاکستانی نے بنایا وہ اردو سیارہ تھا؟؟ اگر ہاں تو یہ کیا وجہ ہے کہ بلاگرز پی کے پہلا کہلاتا ہے؟ یوں اور بھی کچھ باتیں!!! ممکن ہے میں غلط ہوں۔
منظر نامہ نے یوں تو اپنا ایک سلسلہ شروع کیا ہے انعامات دینے کا اردو بلاگرز کو! مگر اگر آپ متوجہ ہوں تو ایک پاکستانی بلاگرز کا ایوارڈ یہاں بھی ہو رہا ہے شرکت کر لیں! وضاحت کر دوں کہ ابتدا میں وہاں بھی اردو بلاگرز کو نطر انداز کر دیا گیا تھا! پھر ایک جذباتی قسم کی میل ماری تو اب انہوں نے Topic Area Categories میںbest urdu blogger شامل کر لیا ہے! وہاں توجہ دیں تاکہ اگلی مرتبہ اردو بلاگر کو نظر انداز کیا جانا ممکن نہ رہے!
باقی آپ حضرات کی مرضی!!
خود اپنے دشمن!
کراچی میں محرم کے مرکزی جلوس میں بم دھماکا ہو گیا! شہیدوں کی گنتی چار پانچ سے شروع ہو کر اب تک چالیس کے قریب تک پہنچ چکی ہے اور زخمی بھی ستر کے قریب ہیں!
اس عاشورہ کے جلوس میں شامل دوست کا فون آیا پہلے تو اُس نے مجھے گالیاں دی کہ خبیث میرا خیال تھا کہ تو میری خیریت کا پوچھے گا مگر تو بھی لعنتی ہے! پھر سے آگاہ کیا! اُس کا فون ختم ہونے کت بعد ہم نے دیگر دوستوں کو فون کر کے اُس کی خیریت دریافت کی سب اللہ کے کرم سے ٹھیک تھے، مگر چند ایک کے قریبی اس میں زخمی ہوئے تھے۔
ملک میں دہشت گردی کی ایک خاص لہر جاری ہے چند ایک مخصوص وجوہات کی بنا ء پر میں یہ سمجھتا تھا (اور اب بھی قائم ہوں) کراچی اس دہشت گردی کی لہر کا شکار نہیں ہو گا! مگر بہر حال کل کا المناک حملہ ہوا ہے، یہ کتنا خود کش تھا اور کتنا ہم نے خود بنا دیا ہمارے سامنے ہے! قوم متحد ہو تو کوئی لاکھ چاہئے اُسے مات نہیں دے سکتا مگر جب وہ ہجوم بن جائے تو کوئی بھی رہنما اس کی رہنمائی نہیں کرسکتا!
متحد قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود شرپسندوں کو خود قابو کر لیتی ہیں! مگر دوسری صورت میں شر پسند ہجوموں کو منتشر کر لیتے ہیں! اور تباہی کا سبب بنتے ہیں! بم حملے کے بعد کل بھی کچھ ایسا ہی ہوا!
واقف حال بتاتے ہیں کہ کل دوکانوں کو جلانے کا انداز بہت پیشہ ورانہ تھا اس میں اشتعال کا عنصر نظر نہیں آتا تھا دوکانوں کو جلانے کے لئے Potassium کا استعمال ہوا ہے نیز جلانے سے قبل اُس دوکانوں و دو بینکوں کو لوٹ لیا گیا تھا، مظلوم کربلا کے ماتم کرنے والوں نے ابتدا میں ان شرپسندوں کو روکا مگر بعد میں وہ پسپا ہوگئے۔
قریب ڈھائی ہزار دوکانیں جل کر خاکستر ہو گئی ایک مکمل معاشی بازار ختم ہوا! پہلے حملے میں اگر چالیس شہید ہوئے تھے تو رد عمل میں کتنے زندہ لاشیں بن چکے ہو گے؟ اگر اول دھماکے میں ستر زخمی ہوئے تھے تو ہجوم نے بعد میں کتنے خاندانوں کو معاشی طور پر لہو لہان کیا؟
اگر ایک دوکان ایک خاندان کی روزی کا سبب تھی تو بھی ڈھائی ہزار خاندان تو معاشی طور پر تباہ ہو گئے! صبح دوکاندار اپنی اپنی دوکانوں کے باہر اپنی تباہی پرآنسو بہا رہے رہے تھے!
ڈھائی ہزار دوکانیں اور پچس ارب کا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے!
کوئی ہمارا دشمن کیوں نہ ہو جب ہم خود اپنے دشمن ہیں؟
ہم سے بڑا دہشت گرد اور کون ہو گا؟

اس عاشورہ کے جلوس میں شامل دوست کا فون آیا پہلے تو اُس نے مجھے گالیاں دی کہ خبیث میرا خیال تھا کہ تو میری خیریت کا پوچھے گا مگر تو بھی لعنتی ہے! پھر سے آگاہ کیا! اُس کا فون ختم ہونے کت بعد ہم نے دیگر دوستوں کو فون کر کے اُس کی خیریت دریافت کی سب اللہ کے کرم سے ٹھیک تھے، مگر چند ایک کے قریبی اس میں زخمی ہوئے تھے۔
ملک میں دہشت گردی کی ایک خاص لہر جاری ہے چند ایک مخصوص وجوہات کی بنا ء پر میں یہ سمجھتا تھا (اور اب بھی قائم ہوں) کراچی اس دہشت گردی کی لہر کا شکار نہیں ہو گا! مگر بہر حال کل کا المناک حملہ ہوا ہے، یہ کتنا خود کش تھا اور کتنا ہم نے خود بنا دیا ہمارے سامنے ہے! قوم متحد ہو تو کوئی لاکھ چاہئے اُسے مات نہیں دے سکتا مگر جب وہ ہجوم بن جائے تو کوئی بھی رہنما اس کی رہنمائی نہیں کرسکتا!
متحد قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود شرپسندوں کو خود قابو کر لیتی ہیں! مگر دوسری صورت میں شر پسند ہجوموں کو منتشر کر لیتے ہیں! اور تباہی کا سبب بنتے ہیں! بم حملے کے بعد کل بھی کچھ ایسا ہی ہوا!
واقف حال بتاتے ہیں کہ کل دوکانوں کو جلانے کا انداز بہت پیشہ ورانہ تھا اس میں اشتعال کا عنصر نظر نہیں آتا تھا دوکانوں کو جلانے کے لئے Potassium کا استعمال ہوا ہے نیز جلانے سے قبل اُس دوکانوں و دو بینکوں کو لوٹ لیا گیا تھا، مظلوم کربلا کے ماتم کرنے والوں نے ابتدا میں ان شرپسندوں کو روکا مگر بعد میں وہ پسپا ہوگئے۔
قریب ڈھائی ہزار دوکانیں جل کر خاکستر ہو گئی ایک مکمل معاشی بازار ختم ہوا! پہلے حملے میں اگر چالیس شہید ہوئے تھے تو رد عمل میں کتنے زندہ لاشیں بن چکے ہو گے؟ اگر اول دھماکے میں ستر زخمی ہوئے تھے تو ہجوم نے بعد میں کتنے خاندانوں کو معاشی طور پر لہو لہان کیا؟
اگر ایک دوکان ایک خاندان کی روزی کا سبب تھی تو بھی ڈھائی ہزار خاندان تو معاشی طور پر تباہ ہو گئے! صبح دوکاندار اپنی اپنی دوکانوں کے باہر اپنی تباہی پرآنسو بہا رہے رہے تھے!
ڈھائی ہزار دوکانیں اور پچس ارب کا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے!
کوئی ہمارا دشمن کیوں نہ ہو جب ہم خود اپنے دشمن ہیں؟
ہم سے بڑا دہشت گرد اور کون ہو گا؟
درباری خوشامدی
بڑوں سے سنا ہے دربار میں ان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ان کے بغیر کام چل سکتا تھا بلکہ بہتر طور کر کام چلتا، مگر یہ ہوتے ضرور تھے۔ مختلف شکلوں و روپ میں! یہ شاعر بھی ہوتے تھے، نثر نگار بھی، تاریخ دان بھی ، فنکار بھی، تخلیق کار بھی اور دیگر کرداروں میں بھی ہوتے تھے۔ دراصل یہ لوگ اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے تھے کہ اگر سامنے والا یہ جان بھی لیں کہ ہمارا کہا سچ نہیں تو بھی فائدہ ہے کہ تعریف ایک ایسی برائی ہے کہ جس کی بھی کی جائے وہ اسے جھوٹا جان کر بھی پسند کرتا ہے۔ یہ حاکم کی تعریف کرنے کے لئے اپنا قد چھوٹا کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے، ان کا اولین مقصد بس خوشنودی حاصل کرنا ہوتا تھا!
بادشاہوں کا دور ختم ہوا اور جمہوریت نے قوموں میں اپنی جگہ بنائی مگر دربار اب بھی ہیں خوشامدیوں کی فراوانی ہے! یہ جگہ جگہ حاکم کا قد بڑھانے کے لئے اپنا قد مزید چھوٹا کرنے سے ہر گز نہیں کتراتے تازہ مثال ذیل میں ہے!


بادشاہوں کا دور ختم ہوا اور جمہوریت نے قوموں میں اپنی جگہ بنائی مگر دربار اب بھی ہیں خوشامدیوں کی فراوانی ہے! یہ جگہ جگہ حاکم کا قد بڑھانے کے لئے اپنا قد مزید چھوٹا کرنے سے ہر گز نہیں کتراتے تازہ مثال ذیل میں ہے!






