بلاگ

گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!

<( ڈفر نے ہمیں ٹیگ کیا تھا کہ اپنے (مطلوبہ) آٹھ گھروں کے بارے میں بتائے اُس ہی سلسلے میں یہ تحریر ہے) ہماری پیدائش لیاری کی ہے! ‘اڑے تم مانو! نہیں تو دے گا ایک ہاتھ‘، نیوی کے سرکاری فلیٹ کی! والد صاحب بے شک پی آئی اے میں تھے مگر وہ رہتے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تھے جو نیوی میں تھے! وہاں سے گرین ٹاؤن میں ایک کرائے کے مکا…

گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!
اسرائیل

ڈیجیٹل احتجاج

احتجاج کی کئی شکلیں ہیں، وقت کے ساتھ مزید صورتیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں! ان میں ایک شکل انٹرنیٹ پر ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار ہے! لہذا یہاں آپ اپنی رائے دیں کر احتجاج ریکارڈ کروالیں! آیا فلسطین یا ۔۔۔۔۔۔! نیزاپنے برطانوی دوستوں کو یہ پٹیشن سائن کرنے کی طرف راغب کریں!!

امجد اسلام امجد

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر بھول بد گمانی کے اس طرح سے کھلتے ہیں زندگی سے پیارے لوگ اجنبی سے لگتے ہیں غیر بن کے ملتے ہیں عمر بھر کی چاہت کو آسرا نہیں ملتا دشتِ بے یقینی میں راستہ نہیں ملتا خاموشی کے وق…

انتخاب

غلاموں کے لئے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر حُرف اُس قوم کا بے سود، عمل زار و زبوں ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر! شاعر؛ علامہ اقبال

انتخاب

یقین محکم

مکہ میں قیام کے دوران میرے قریب بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ ان کی جوان بہو کا قیام تھا۔ ساس اور بہو کے درمیان طویل لڑائی ہوتی تھی۔ شکست اکثر بہو کی ہوتی تھی۔ ہارنے کے بعد وہ روتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوتی اور ساس سے کہتی۔ “اچھا تو تم نے جتنا ظلم کرنا ہے کر لو‘ میں ابھی طواف کرتی ہوں اور اللہ کے پاس اپنی فریاد پہنچاتی ہوں“۔ یہ …

انتخاب

فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے جادو ٹپک پڑ…

انتخاب

کمرہ عدالت

جج ساحب نے وکیل سے کہا “ وکیل صاحب آپ اپنی  Limit Cross کر رہے ہیں“ وکیل نے جج کی بات سن کر کرخت لہجے میں جوابن کہا “ کون سالا یہ کہتا ہے؟“ جج نے وکیل کا جواب سنتے ہی اپنی سیٹ پر اپنی پوزیشن تبدیل کی اور وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں کہا “تو آپ مجھے سالا کہہ رہے پے“ حلات کی سنگینی کا اندازہ لگا کر وکیل نے …

انتخاب

امبی دے بُوٹے تھلے

اِک بُوٹا امبی دا، گھر ساڈے لگا نی جِس تھلے بہنا نی، سُرگاں وِچ رہنا نی کیہ اوس دا کہنا نی، ویڑھے دا گہنا نی پر ماہی باجھوں نی، پردیسی باجھوں نی ایہہ مینوں وڈھدا اے، تے کھٹا لگدا اے ایس بُوٹے تھلے جے، میں چرخی ڈاہنی آں کوئل دِیاں کُوکاں نی، مارن بندوقاں نی پِیڑھے نُوں بھناں میں، چرخی نُون پُ…

انتخاب

سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

سنو تم لوٹ آؤ ناں میری منتظر آنکھیں دعا مانگتی آنکھیں تمہیں ہی سوچتی آنکھیں تمہیں ہی ڈھونڈتی آنکھیں تمہیں واپس بلاتی ہیں یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے تمہارا نام لیتا ہیں یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں تمہارے دکھ میں بہتے ہیں کہ بارش جب بھی ہوتی ہے تمہیں ہی یاد کرتی ہیں خوشی کوئی جو آئے بھی تمہ…