غزل
قدم انسان کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے چکے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھی ہجوم کش مکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصح وہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے ہوائیں زور کتنا ہی لگا یا آندھیاں بن کر مگر جو گِھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی…