برلن کا سرد خانہ

برلن کا سرد خانہ

“تم جیو ہزاروں سال ہر سال کے دن ہوں دس ہزار“
ممکن ہے اُس کی عمر کے گزرے ٢٨ سالوں میں کسی نے کبھی تحریری یا زبانی دل سے اسے یہ دعا دی ہو!!!! اس نیک تمنا کا اظہار کیا ہو!!! اور وہ لمحہ قبولیت کا بن گیا!!! ہزاروں برس کی عمر اسے ہی تو کہتے ہیں!!!! یوں ہی تو ملتی ہے شائد!!! جو شہید ہو وہ مرتا نہیں، وہ شہید ہی ہے۔۔۔۔۔۔ ٤ دسمبر ١٩٧٧ کو عامر عبدلرحمان چیمہ حافظ آباد میں پیدا ہوا تھا! تین بہنوں کا ایک بھائی!!! دو بہنیں اس سے بڑی تھی اور ایک چھوٹی!! کافی ذہین تھا!!! نیشنل کالج آف ٹیکسٹال فیصل آباد سی بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعٰلی تعلیم کے لئے ٢٠٠٤ میں جرمنی چلا گیا!!! جرمن یونیورسٹی آف ایپلائیڈ سائنسز میں داخلا لیا! شعبہ ٹیسکسٹائل اینڈ کلودنگ منیجمنٹ میں تیسرے سیمسٹر مکمل ہوئے! چوتھے سیمسٹر کے آغاز میں ابھی ایک ماہ باقی تھا! لہذا ان چھٹیوں کو منانے کرنے کے لئے اپنی ماموں زاد بہن (جو برلن میں اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہے) کے پاس چلا گیا!!! ٢٠ مارچ کو عامر کو جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا!!! الزام یہ تھا کہ وہ جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے!!!! حملہ کی وجہ یہ تھی کہ اس اخبار نے “توہین رسالت“ پر مبنی خاکوں کو شائع کیا اور “ناموس رسالت“ پر حملہ کے مرتکب ہوا!!! ٢٠ مارچ کو یہ جانثارِ رسول جرمن پولیس کی حراست میں گیا!! اور ٣ مئی کو صبح ٨ بجے جرمن پولیس کے تشدد کی بناء پر ہلاک ہوا!!!! جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ نے خود کشی کی ہے! کیا یہ ممکن ہے ایک عاشق رسول ایک ایسی موت (خود کشی) مرے جسے خود رسول اللہ نے منع فرمایا ہو!!! لازم نہیں!!! یہ جرمن پولیس کا بہانہ ہے!!! ٤٤ دن تک اپنی حراست میں رکھنے کے باوجود جو پولیس اس نوجوان کے خلاف کوئی کیس تیار نہ کرسکی !!! وہ اب ایسے ہی بہانے تراشے گی!!!! جومن پولیس نے ٢٣ مارچ کو عدالت سے اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کی اجازت مانگی !!! پھر کچھ خاص پیش رفت نہ ہو سکی!!!! اتنی بھی نہیں کہ اس کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جاسکے!!! برلن کے سرد خانے میں اس کا جسم وطن واپسی کا منتظر ہے!!!! یہ واپسی آٹھ یا نو مئی کو ہو گی شائد!!!!
Tags:
مکمل تحریر پڑھیں ←

سنگھ شکتی

“متحدہ قوت“ یہ ان جنگی مشقوں کا نام ہے !!!! جو اپنا پڑوسی! ہمسایہ! یار! نیز نا معلوم اور کیا کیا !!! ہماری سرحدوں کے پاس کر رہا ہے! جنگی قوت کا مظاہرہ کرنا یا اس میں بہتری لانا ایک بات مگر جو مقصد ان جنگی مشقوں کا بیان کیا جارہا ہے وہ قابل برداشت نہیں!!!! کم از کم کسی محب وطن پاکستانی کے لئے تو نہیں! مقصد کیا ہے؟ خود بقول بھارتی کمانڈر یہ تیاری یا پریکٹس ہے کہ کس طرح پاکستان کو تقسیم کیا جائے! جی پاکستان کے ٹکڑے!!! لازمی سی بات ہے ایسا کرنے یا سوچنے والا پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا!!! ادھر ہمارے حکمران ان سے یارانہ لگانے کے کھپت میں مبتلا نظر آتے ہیں! اور وہ (ہمسایہ) ہمیں دیوار سے لگانے کا شوقین نظر آ رہا ہے، اس وقت جب دونوں ممالک کے وفود مختلف امور پر بات چیت (یا شائد چِیٹ) کر رہے ہیں ، بس سروس سے کہانی ٹرک سروس پر پہنچ گئی ہے، ثقافتی طائفوں اور طوائفوں کا تبادلہ ہو رہا ہے، وہاں کی فلمیں یہاں سینما میں لگانے کی اجازت دی جارہی ہے، ایسے میں یہ“سنگھ شکتی““ (متحدہ قوت) نامی جنگی مشقیں ؟؟؟؟؟ کہیں!!! وہ کیا کہتے ہیں “بغل میں چھری اور منہ میں رام رام“ والی بات تو نہیں!!!! اب تک بھارتی سیاست دانوں کے پاکستان مخالف بیان کو ہم مقامی سیاست اور اخبارات میں جگہ بنانے کی کوشش!!! “تاج محل“ کے لاہور میں پرئیمیر پر شراب کے نشہ میں مدہوش بھارتی فنکار کی پاکستان کے خلاف زہرفشانی کو ایک کنجر کا کنجرپن سمجھا مگر اب اسے کس کھاتے میں ڈالیں!!!! پاکستان نے اس پر ایک مذمتی بیان جاری کیا اور بس!!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

خبر گرم ہے

جماعت الدعوتہ اور خدمت خلق دہشت گرد تنظیمیں ہیں، آج آپ اسے خارج از امکان قرار دیں لیکن بہت ممکن ہے حکومت پاکستان بھی جلد اس بات کا اعلان کر دے!! ہمارا تو ویسے بھی کام سر تسلیم خم کرنا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں انہیں دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا! تو بھائی درست ہی قرار دیا گیا ہو گا! اب آپ خود دیکھ لو کیسی خطرناک تنظیمیں ہیں کشمیر کے زلزلے کے بعد یہ ہی سب سے پہلے متاثرین کی امداد کو پہنچی تھیں، اللہ معاف کرے ایسی مدد کی کہ مجبورا تعریف کرنی پڑی! ورنہ ایسی تنظیم جس کو چلانے والے اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں! مانتے ہیں! ایسے لوگوں سے خوامخواہ ہی دہشت محسوس ہوتی ہے! اوپرسے یہ آوارہ لوگ (گھومنے پھرنے والے) ہیں اب کون کہے گا کہ یہ دہشت گرد نہیں؟؟ بھائی یقین مانو یہ تباہ حال لوگوں کی مدد کرنے والے بہت تباہ کن ہوتے ہیں اگر ایمان والے ہوں!!! ایمان سے!!! جناب رپورٹ میں باتیں اور بھی بہت سی تھیں! مگر جو باتیں اپنے صدر صاحب نے “گارڈین“ سے کی ہیں وہ بھی توجہ طلب ہیں! فرماتے ہیں کہ میں کسی کا “پوڈل“ نہیں ہو! ہم خوشی سے مر نہ جاتے جو اعتبار ہوتا، حرکتیں تو صاحب کی کچھ اور ہی بتاتی ہیں پاکستان کا مفاد تو نظر ہی نہیں آتا البتہ انکل سام کی خوشی ہر ہماری ادا کا مقصد معلوم ہوتا ہے! جناب صدر نے ساتھ ہی دعوٰی کیا کہ میرے پاس کاٹنے والے دانت ہیں!! لو ہمیں پہلے ہی شبہ تھا جو اب یقین میں بدل گیا! تب ہی تو سرکار نے طلباء کنونشن سے خطاب (یہ کام آپ کو بہت پسند ہے بس خطاب کرے جاؤ) کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دشمن چا گنا بڑا ہو تو پیچھے ہٹنا عقل مندی ہے! اب کاٹنے والے دانت کس کے پاس ہوتے ہیں اور کون اس سے کترنے کا کام لیتا ہے؟؟؟؟ یہ کسے نہیں معلوم!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
پاکستاني طالب علم کا رياضي کا فارمولا ايجاد کرنا

پاکستاني طالب علم کا رياضي کا فارمولا ايجاد کرنا

یوں تو ایسی خبریں پاک پوزیٹو پر آتی ہیں مگر یہ خبر اب تک نہیں آئی خبر یوں ہے کہ “چیچہ وطنی (آن لائن) ایجوکیٹر کالج چیچہ وطنی میں زیر تعلیم فرسٹ ایئر کے طالبعلم ذیشان اشتیاق نے میتھیمیٹکس (ریاضی) کا ایک ایسا نیا فارمولا ایجاد کیا ہے جس کے ذریعے اگر چار نمبريا (رقوم) ارتھمیٹک پروگریشن میں ہوں تو انکا مقطح
<
کے برابر وہو گا جبکہ d، ان رقوم کا باہمی فرق ہے، میٹرک سے لیکر ایم اے تک تمام کلاسز کے طلباء اس فارمولے سے مستعفید ہوسکتے ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ میتیھمیٹکس نے بھی نئے ایجاد کردہ فارمولے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے استعمال میں لانے کو مفید قرار دیا ہے اس حوالے سے کالج میں ہفتہ کی دوپہر پریس کانفرنس منعقد ہوئی اس موقع پر پرنسپل محمود احمد محمود کے علاوہ ماہرین تعلیم رانا طارق جاوید، حاجی محمد ظہور، شیخ عبدالغنی بھی موجود تھے، مقررین نے طالب علم مذکور کی تخلیقی صلاحیت کو خراج تحسین کرتے ہوئے اسے چیچہ وطنی کا اثاثہ قرار دیا، طالب علم کے معلم محمد رمضان نے شاگرد کے ایجاد کردہ فارمولے کے حوالے سے شرکا کو بریفنگ دی“
مکمل تحریر پڑھیں ←

بری بات

منزل کی ہے تلاش راستوں کی بھیڑ میں وفا کی ہے امید بے وفا کی دید میں آنسوؤں کی ہے قطار دکھوں کہ جھیل میں خوشی کی ہے تلاش زخموں کی سیج میں ملتے نہیں ہمدرد ٹھوکروں کی چھاؤں میں پھر کیوں ہے تجھے اعتبار نظروں کے دیس میں قید حیات میں ، اندھیروں کی بستی میں روشنی کی تلاش ہے بند کھڑکیوں کی اوٹ میں سوچیں ہیں گرفتار آزمائشوں کے جال میں ہر آنکھ ہے اشک بار مقدر کے کھیل میں

کسی کی ڈائری پڑھنا بری بات ہے!!!! یہ بری بات آج میں نے کی آج!!!!اپنی ہمشیرہ کی ڈائری پڑھ لی!!! یہ غزل/نظم اس میں تھی، معلوم ہوا اس کی اپنی ہے!!!! اب یہ بغیر اجازت اپنے بلاگ میں شامل کر رہا ہوں!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
مرغیوں کی باتیں

مرغیوں کی باتیں

کیوں کیا ہوا؟ زکام کی بیماری کی وجہ سے پریشان ہو کیا؟؟؟ اب دیکھو ہماری بھی کیا زندگی ہے، تندرست ہو تو انسان کھا جاتا ہے اور اگر بيمار ہو تو مار دیتا ہے!!!! ایک طرف کنواں اور دوسری طرف ۔۔۔۔۔۔!!! ہائے رے یہ زندگی!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
اشک بار نگاہوں کا سوال!

اشک بار نگاہوں کا سوال!

جس دل میں محمد کی محبت نہیں ہوتی اس پر کبھی اللہ کی رحمت نہیں ہوتی میرا عقیدہ ہے کہ ذکر خدا میں اگر یہ نام نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتی
منگل گزرا!!! مگر کیسے !!!، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کو منانے کے لئے نشتر پارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے جمع تھے۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوا، علماء اکرام نے اسٹیج پر اور باقی حاضرین نے نیچے میدان میں صف بندی کی ، ابھی فرض نماز پڑھائی جارہی تھی آخری رکعت تھی، کہ اسٹیج پر دھماکہ ہو گیا!!!! میدان میں موجود لوگوں نے فرض نماز پڑھ کر جو منظر دیکھا وہ نا قابل یقین تھا!!! جو زخمی تھے انہیں ہسپتال پہنچانے کا انتظام ہونے لگا، افراتفری کا عالم تھا، موبائل پر رابطے شروع ہوئے، کہتے ہیں ایک سے دو منٹ کے لئے چند موبائل سروس نے کام کرنا چھوڑ دیاتھا!!!، ٥٧ افراد شہید ہوئے ان میں اہل سنت کی مرکزی قیادت بھی شامل ہے!!!! ۔ ١٢ ربیع الاول کے دن کی تقدس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا، اس دن اور ایسی محفل پر حملہ ، سوچ کر ہی حیرت ہوتی ہے!!!!! نشتر پارک میں پچھلے ٣٥ سال سے یہ دن مذہبی جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے!!! ٣٥ سال میں یہ پہلا اور پاکستان کی تاریخ کا اپنی توعیت کا بد ترین سانحہ ہے، جس میں یوں ایسے حرمت والے دن اتنی بڑی تعداد میں اہم مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟؟؟؟ کیا انتظامات ناقص تھے؟ کیا انتظامیہ غافل تھی؟؟؟ کیا ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اس کا اندیشہ نہ تھا؟ بناتے والے بتاتے ہیں کہ جب دھماکہ ہوا اس وقت میدان میں نہ ہی پارک کے اردگرد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سے کسی ادارے کا کوئی فرد یا عملہ حفاظت کے نقطہ نظر سے مامور تھا نہ موجود !!! جہاں دھماکہ کے تین سے چار منٹ بعد مختلف چینلز پر اس کے رونماہونے سے متعلق خبر نشر ہو گئی تھی وہیں قانون نافذ کرنے والوں کی پہلی گاڑی سانحہ کے آدھ گھنٹے بعد آئی!!!! رینجر کی اس گاڑی کے ساتھ وہاں موجود لوگوں نے جو اس وقت حالات کے دباؤ کی وجہ سے مشتعل ہو چکے تھے پتھروں اور جوتوں سے ان کی خدمت کی ،لہذا وہ گاڑی سے ٢٠ سے ٢٢ افراد کو زخمی کرتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئے ۔سی سی پی او صاحب حادثے کے ٤ گھنٹے بعد وہاں پہنچے!!!! اب ایسی انتظامیہ سے بندہ کیا امید رکھے؟؟؟ اہم موقعوں اور دنوں سے پہلے ہونے والی میٹینگوں میں کیا ہوتا ہے؟معلوم نہیں!! جس میں یہ لوگ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں، اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں! اسے فائنل شکل دیتے ہیں!!! اس موقعے سے ہفتہ پہلے بھی یہ سب کچھ کیا گیا تھا تو پھر ان انتظامات کا ذرا سا بھی عکس نظر کیوں نہیں آیا؟ وہ خفیہ کیمرے کہاں ہیں جن کا ذکر اخباری بیانات میں کیا جاتا تھا!؟ یا سب ڈھکوسلا تھا! صدر یا وزیراعظم یہاں کراچی آ جائیں تو وہ کراچی کے ایک حصے میں ہوتے ہیں تو ٹریفک دوسرے حصے کی جام کردی جاتی ہے کہ عزت مآب نے یہاں سے گزرنا ہے!!! سنا ہے صرف صدر کی ایسی وی آئی پی حفاظت کے نتیجے میں اب تک ٢٧٠ سے ٣١٥ تک لوگ ایمولینس میں ہسپتال پہنچنے کے بجائے اللہ کے پاس پہنچ جاتے ہیں ،تازہ ترین واقعہ کراچی کی ظل ہما کا ہے جسے کئی کالم نویسوں نے بیان کیا ہے!!! مگر یہ اللہ کے بندے جو اللہ کے بنی، رسول، محبوب، حبیب کی ولادت کا جشن منانے نشتر پارک میں جمع تھے ان کی حفاظت ان کی سیکیورٹی کوئی معنی نہیں رکھتی؟ چلو اچھا ہے ناں! چند انتہا پسندوں کا خاتمہ ہو١! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہنسنے کی بات نہیں رونے کا مقام ہے!!! اس کے بعد شہرو ملک کے حالات سوگوار ہو گئے نیز معاملات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے، درست راہ پر تفتیش کرنے کے بجائے میڈیا کے سامنے پریس کانفرس میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں!!!! کچھ مشتعل ہیں اور کچھ خوف زدہ ! کہ ہم پر الزام نہ آ جائے! چند (نام نہاد) مذہبی و سیاسی لیڈر میڈیا کے سامنے اپنے اپنے مخالفین پر دبے دبے الفاظ میں الزام لگا رہے ہیں !!! کوئی پوچھے یہ سیاست چمکانے کا کون سا موقع ہے؟ حکومت کا تین دن کے سوگ کا اعلان !!! باقی پارٹیوں کی ہڑتال!!! سنسان سڑکیں!!! خوف سے گھروں میں بیٹھے لوگ!! یہ کیا ہے؟ کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں!!! ہر کسی کے قدم اس طرف جا رہے ہیں جس میں تباہی ہے!!! کوئی ایسی باتیں کرتا ہے کہ لگتا ہے کہ فرقہ واریت کروا کر رہے گا!!! کوئی بیرونی ہاتھ کا نام لے کر ہاتھ کھڑے کر لیتا ہے کہ اب کیا ہوسکتا ہے! کسی کے پاس خودکش بمبار کا بہانہ ہے !!!! پھر مغربی میڈیا جس نے اس سانحہ کو صاف صاف فرقہ واریت کی روشنی میں دیکھا اور دیکھایا ہے !!! اس خبر کے ساتھ ہی ماضی کی چند تلخ یادوں کا تذکرہ کر کے اپنی مرضی کا رنگ دینا چاہا ہے!! بی بی سی نے تو اسے فورا ہی “پاکستان اور فرقہ بندي“ کے بینر تلے ڈال دیا!!!! کیا یہ ہمیں آپس میں لڑتے دیکھنا چاہتے ہیں؟ اشک بار آنکھیں یہ سوال کرتی ہیں کہ کیا میرے اس غم کا مداوا ہو گا کیا میرے ان سوالوں کا جواب ملے گا؟ اس سال جب ہم عید میلاالنبی توہین آمیز خاکوں کی بناء پر ذیادہ جوش و خروش سے منا رہے تھے کہ دشمنان اسلام کو معلوم ہو جائے ہم اپنے بنی سے کس قدر محبت کرتے ہیں تو یہ حملہ !!!!! یہ کیا ہے!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←