وزیٹنگ کارڈ

وزیٹنگ کارڈ

آج جمعہ کے بعد کا وقت ہم نے اپنے آفس (یار سینئر کا آفس بھی تو اپنا ہی ہوا ناں) میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر اپنے وزیٹنگ کارڈ کا ڈیزائن بنانے میں صرف کیا۔۔۔۔ اب چھپوا لو ہر کوئی یہ ہی مشورہ دیتا تھا!!! لہذا یہ اوپر موجود ڈیزائن بنایا اسے تخلیق نہیں کہہ سکتے کہ کوئی انوکھا پن نہیں ہے اس میں!! کسی حد تک ایسے بزنس کارڈ کے ڈیزاین لوگوں نے بنا رکھے ہیں، مگر پھر بھی یہ تو ہے کہ میں نے اسے اپنی سمجھ بوجھ جو تھوڑی بہت (بہت کے لفظ پر اعتراض ہو سکتا ہے) ہے کی مدد سے اس شکل میں ڈھالا ہے۔۔۔۔ آپ کی رائے میں مزید کہاں بہتری ہو سکتی ہے؟؟؟؟؟ اور کیسے؟ میری طرف سے تو یہ ہی فائنل ہے اب تک!!۔ اب تک اس لے سلسلے میں ملنے والے چند مشورے!!!! اول؛ ویب سائیٹ کی جگہ ویب بلاگ لکھا جائے بلکہ ویب بلاگ کا ایڈریس لکھا ہی نہ جائے!!! دوئم؛ نام کے نیچے تعلیمی قابلیت لکھی جائے مجھے اس سے اتفاق نہیں کی بلکہ یہ تو میں نے مکمل مسترد کر دیا اول اس وجہ سے ابھی میں ماسٹر نہیں کیا جھوٹ لکھنے کا فائدہ نہیں دوسرا وکیل ویسے ہی لازم بی اے پاس (یا اس سے برابر ) ہو تو ایل اایل بی کرتا ہے اور وکیل لازمی طور ہر ایل ایل بی پاس ہوتا ہے !!!!! سوئم؛ شائد یہ آپ کے لئے خالی ہے۔۔۔ آپ کی رائے!!!!!!؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

ریڈیو بند ہوا

ایف ایم ریڈیو سننے کا اب رواج عام ہوتا جا رہا ہے!!!! اب موبائل فون میں بھی ایم ایف ریڈیو موجود ہوتا ہے۔مگر یہ قصہ بھی سن لیں۔ فروری میں بی بی سی اردو پر انڈیا کے ایک پرائیویٹ ریڈیو چینل کے بارے میں پڑھا تھا جو ایک شخص نے بہار کے ضلع ویشالی میں ایک اپنی دوکان پر شروع کیا تھا! بغیر لائسنس کے!!! یہ ریڈیو اس علاقے میں مشہور ہے!!! بی بی سی پر اس کی خبر آئی اور احکام بالا کو خبر ہو گئی لہذا اب ایک ہفتہ ہوا ریڈیو بند ہے!!!! ایسی مشہوری راگھا و کے شوق کے راستے میں دیوار بن گئی!!! بی بی سی کی خبر کی وجہ سے پچھلے تین سال سے چلنے والا ریڈیو اب بند ہو گیا!!!! اور ایف آئی آر بھی کاٹی گئی ہے راگھاو کے خلاف!!!! ہون فیر؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

تعلیمی کھیل

تعلیم بہت اہم ہے!!!! انکار نہ ممکن!!!! زندگی میں یہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ یہ تو آپ کو کردار عطا کرتی ہے۔ تعلیم کا تربیت کے ساتھ موازنہ بعد کی بات ہے پہلے تعلیم تو ملے !!! کہ تربیت کیسے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ڈگری انسان نہیں بناتی مگر استاد انسانیت کو وجود میں لاتا ہے تب ہی روحانی باپ کہلاتا ہے!!! اور وہ کہاں ملتا ہے؟؟؟؟ جنگ اخبار کے کالم نویس “جاوید چوہدری“ نے ایک بار لکھا تھا میرے اور میرے آباؤاجداد میں ایک اہم فرق تعلیم ہے ورنہ آج میں بھی جاہل ہوتا اور اس جگہ ومقام پر نہ ہوتا جہاں آج ہوں۔ اس کے متعلق لکھنا مشکل نہیں کہ تعلیم کس قدر اہم ہے!!! مگر اس کے ساتھ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ کیا ہے!!! میں اکثر بڑے بزرگوں کو اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا ہوں!!!! خاندان میں!!! محلے میں!!! کورٹ میں اپنے سینیئرز کو!!!! سب ان (بچوں) کے مستقبل کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اسکول کے انتخاب اور پھر اس میں بچے کے داخلے کے مراحل!!!!! مگر یہ اسکول والے کیا کرتے ہیں!!!! آج معلوم ہوا کہ رائل اکیڈمی نامی اسکول (فیڈرل بی ایریا کا ہے) نے آرٹس کونسل میں تین مختلف دن تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد کی !!! اسکول کے بچوں کو کلاس کے اعتبار سے تین مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا! جی !!!! جی نہیں بچوں کی کلاس کے اعتبار سے نہیں بلکہ والدین کی کلاس کے اعتبار سے!!!! کلاس یعنی طبقے کا انتخاب یوں کیا گیا تھا کہ پورش علاقے والے ایک دن ان سے نیچے دوسرے دن اور پھر تیسرا طبقہ آخری دن!!!! یہ کیوں؟؟؟؟ ہم تو آج تک جماعت میں بچے کی پوزیشن ہی کو اہم سمجھتے آ رہے تھے مگر یہ تقسیم تو ۔۔۔۔۔ کمال ہے!!!!!! ایک تماشہ حکومت نے بھی لگا رکھا ہے!!!! حمیدہ صاحبہ (وزیر تعلیم) ہنوز یہ فیصلہ نہیں کر سکیں کہ سندھ میں نویں اور دسویں کے امتحان مشترکہ ہونگے کہ جدا جدا!!!! پچھلے تین ماہ میں چار پانچ بار ان امتحانات کے مشترکہ ہونے کا اعلان ہوا اور پھر تردید!!! اب نویں جماعت کے بچے، ان کے والدین، ان کے ٹیچر اس سلسلے میں الجھن کا شکار رہے ہیں کہ کیا کیا جائے؟ کیا ہو گا؟ آیا امتحان اس سال ہو گا کہ اگلے سال نویں اور دسویں کا ایک ساتھ ہوگا کہ نہیں نیز اگر ایک ساتھ ہو گا تو کیسے؟ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے تعلیم کے اور اس کے طالب کے ساتھ!!!!! کیسی تعلیم مل رہی ہے اسے!!!! یہ کھیل کیا صرف تعلیم کے ساتھ ہے یا مستقبل کے ساتھ اور وہ بھی اپنا!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

خواب

خواب بھی اک مسافر کی طرح ہوتے ہیں رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا ان کی عادت ہی نہیں ایک جگہ پر رکنا ان کی قسمت ہی نہیں ایک نگر میں رہنا ہم بھی ایک خواب ہیں اے جان! تیری آنکھوں میں سایہ ابر نوحہ کے گمان میں میں رہنا ان کے طاق سے ہم کو نہ ہٹانا جب تک رات کے بام پر تاروں کے دیئے جلتے رہیں دیکھنا ہم کو ہمیں دیکھتے جانا جب تک ہم تیری آنکھ کی وادی میں سفر کرتے رہیں خواب کا شوق یہ ہی خواب کی قسمت بھی یہ ہی حلقہ رنگ رواں گرد سفر میں رہنا رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا ہم مگر خواب ہیں کچھ اور طرح کے ہم کو نہ کوئی شوق سفر ہے نہ تلاش خوشبو تیری آنکھ میں جلیں اور اور ان ہی میں بجھ جائیں چشم در چشم نہیں ہم کو سفر میں رہنا ہم کو ہے تیری نظر میں رہنا
مکمل تحریر پڑھیں ←
بھرم رہ گیا

بھرم رہ گیا

یہ تصویر بار میں رکنیت حاصل کرنے کے لئے بنوائی ہے!!!! رکنیت کارڈ پر آئے گی!!!! سب کہہ رہے ہیں اچھی آئی ہے!!!! شکر ہے اندر کی اصلیت تصویر میں نہیں اُبھری!!!! اور یوں بھرم رہ گیا!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
کیسا عہد کیسی تجدید

کیسا عہد کیسی تجدید

آج ٢٣ مارچ ہے!!! آج چھٹی ہے!!! سب گھر میں بیٹھے ہیں!! چند ایک نے اس مناسبت سے کوئی نا کوئی پروگرام بنا رکھا ہے کہ چھٹی ہے!! احباب کو یہ دن اس لئے اہم نظر اتا ہے کہ اس دن چھٹی ہو گی اس بناء پر نہیں کہ اس کا پس منظر کیا ہے!!! ابھی ایف ایم سن رہا تھا اس میں ڈی (ڈی سے ڈنگر مراد نہیں) جے صاحب فرما رہے تھے کہ کیسا لگتا ہے آپ کو holiday سے پہلے holiday کا آنا کیسا لگتا ہے؟؟؟ اگر یہ holiday کے بجائے holyday ہوتا تو شائد مجھے اعتراض نہ ہوتا!!!! مذہبی اعتبار سے تو نہیں مگر قومی اعتبار سے ہمارے لئے تو یہ دن مقدس ہے کہ !!!!نہیں؟؟؟؟؟ آج مسلم لیگ (ق) والے مسلم لیگ کی صد سالہ تقریب منا رہے ہیں!!! سو سالہ مکمل ہوئے ہیں تو مسلم لیگ کا یہ حال ہے کہ وہ ایک فوجی کی دُم چھلا بنی ہوئی ہے!!! آج کی مسلم لیگ میں اور اس دور کی مسلم لیگ میں کیا فرق ہے اس سے ہی معلوم ہو جاتا ہے!!! پہلے مسلم کا مفاد عزیز تھا!! اب لیگ (جسے اکثر کالم نگار اصحاب “ق“ کہتے ہیں) کا!!!!! ان حالات کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ اب ایسے دن ہمارے لئے تجدید عہد کے ہو!!!! عہد یاد ہی نہیں تو تجدید کیسی!!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

قاضي کا حال!!!

نا سمجھ؟ یا نہایت ذہین؟؟؟؟؟ کیا کہوں؟ ایک جماعت کے سربراہ ہیں۔۔۔۔۔ کیمرے کے سامنے! میڈیا کے روبرو! کب کس وقت کیا کہنا ہے؟ کیا اس سے نا واقف ہیں؟یہ واقعی سیاہ ست (جیسے ڈاکٹر افتخار صاحب سیاست کو کہتے ہیں) ہے! کہتے ہیں میں اسامہ سے مل چکا ہوں! وہ میری جماعت سے تعاون کرنا چاہتے تھے! میں نے نہ کر دی! نواز شریف کے حامی تھے اور بے نظیر کے مخالف؟ وہ پاکستانی سیاست میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے؟ حد ہو گئی!!!!!! یہ بیان کیا اثر لائے گا؟؟؟؟ مجھے یاد ہے توہین رسالت کے سلسے میں جس دن لاہور میں ہونے والا احتجاج ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گیا تھا اس سے اگلے دن پشاور میں بھی توڑ پھوڑ ہوئی تھی! تو سی این این میں ایشیا نیوز میں ایک تبصرہ نگار/تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ یہ جو ہنگامہ کر رہے ہیں ناں یہ اپنے رسول (صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم) کی توہین کا غصہ نہیں اتار رہے بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں جو طالبان اور القاعدہ کے حامی اور ایجنٹ ہیں!!! اس بہانے سے اپنا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں!!! کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود اپنی کمزوریاں دوسروں کو کیوں بتاتے ہیں!! مغرب کو کیوں بہانہ دیتے! اب یہ بیان “کوڈ“ کیا جائے گا کہ دیکھیں یہ جو بات کہی گئی تو اس کے علاوہ بھی نہ معلوم کیا کیا باتیں ہیں جو اب تک سامنے نہیں آئیں! اہل مغرب ہر بات کو اس وقت افشاں کرتے ہیں جب اس سے انہیں کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا اور ہم ہر کام ایسا کرتے ہیں کہ آ بیل مجھے مار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قاضی صاحب آپ کے ماضی کا تو مجھے نہیں معلوم مگر حال میں آپ کا یہ حال کچھ اچھا نہیں ہے!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

آپ قانون شکن ہیں تو آپ کو قانون شکنی کی سزا ملنی چاہئے، ایسے میں ماتھے پر شکن لانا درست نہیں ،اس میں کوئی شک شبہ نہیں!۔ قانون شکنی کا کوئی جواز نہیں ہوتا! سچ ہے۔ مگر!!! قانون بنانے اور اس کے نفاذ کے چند طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ نہیں؟؟؟ بہار آئی! لاہوری بسنت منانا چاہتے تھے! حکومت (پنجاب) مان گئی! سپریم کورٹ کو منانے جاپہنچی! جو رام ہو گئی لہذا جس پتنگ باری کو حرام قرار دے چکی تھی کہ اس کی وجہ (وہ کوئی بھی ہو) سے کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے، اسے چند دن کے لئے حلال قرار دیا، لو اتنا آسان ہے حلال کرنا حرام کو؟؟؟۔ چند شرائط کا پابند بھی کیا۔ یار لوگوں نے پابندی اٹھنے کا کیا خیر مقدم! حکومت مخالف اسلامی جماعتوں نے کہاغلط قدم! قدم غلط تھا کہ نہیں مگر یار لوگوں نے اسے ڈگمگا دیا! ڈگمگاتا قدم کب تک ٹھیک جگہ پر پڑ سکتا ہے۔۔۔ پڑ گیا غلط جگہ پر! پندرہ دنوں کے لئے ملنے والی پتنگ بازی کی شہ پر بارہ افراد کی شہ رگ کٹی اور وہ جان ہار گئے! ان میں ایک چار سالہ بچہ اور تین سال کی بچی بھی شامل ہے، زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے!!! غلطی کس کی؟ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی واپس لگا دی! دو دن باقی تھے بسنت (بس انت بھی کہہ لیں) میں! اس سے پہلے ہی اتنی انت مچ چکی تھی کہ بس میں نہیں رہی تھی! اب دیکھے کون اس کا پابند ہوتا ہے؟ اور آیا پابند نہ ہونے والا بند ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یہ تو اب کوئی لاہوری ہی بتا سکتا ہے کہ پابندی کی کس قدر پابندی کی گئی؟؟؟؟ لاہور والے زندہ دل کہتے ہیں خود کو۔۔۔۔ زندہ دلی کا تعلق قانون سے کتنا ہے یہ تو مجھے معلوم نہیں! نہ یہ کہ دلی یا دل سے کتنا! مگر زندہ سے بہت ہے! اب دیکھو! بسنت بناء پتنگ ہوتی ہے یا بس انت ہو جاتی ہے ، میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اول پابندی ہٹنی نہیں چاہئے تھی اگر ہٹ ہی گئی تھی تو لوگوں کو کیمیکل ڈور کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا! یہ کہ اب کئی لاہوریوں نے پتنگ بازی کا سامان خرید و تیار کیا ہے اور اس پر یہ پابندی! وہ کہاں جائیں!!! دوسری طرف جان لیوا حادثات کے بعد پنجاب حکومت کے فیصلے کو غلط کہنا بھی مشکل ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

بش دي آنياں تے جانياں

چاچا جی دے لارے تے رنڈے رین کنوارے، مگر اپنے چچا جی (انکل سام) نے تو لارا بھی نہیں لگایا، ہم تو سمجھ رہے تھے شائد لارا ہی لگا دیں، وہ آئے اور چلے گئے، بش اور مش آپس میں ملے، کہتے ہیں دونوں کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔۔۔۔ اہم امور وہ جو بش کے نزدیک اہم تھے۔۔۔۔ اور جو مش کے تھے؟؟ وہ امور ہی کہاں تھے، لہذا ان پر کوئی خاص بات ہی نہیں ہوئی۔۔۔ کئی اہم امور میں “کئی“ سے مراد وہ معاملہ جو بش کے لئے کئی کے برابر ہے۔۔۔۔ وہ ہی جن کی “گرد“ سے بھی جناب کو “دہشت“ محسوس ہوتی ہے لہذا اس “دہشت“ بھری“گرد“ کو بٹھانے سے متعلق گفتگو کی گئی۔
ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، بغیر وردی والا صدر تو آگے پیچھے سے شکایات سن کر آیا تھا، کوئی لسٹ کی بات کر رہا تھا اور کسی نے “اتنک وادی“ کا ذکر کیا !!!! ، کان بھرے گئے تھے، غصہ سے بھرے ہوئے آئے، ون ٹو ون ملاقات میں پریس کیا اور باہر آ کر پریس کانفرنس، ہائے رے یہ صحافی!!! مش کے امور کے متعلق سوال کر بیٹھے! پھر جواب ایسے آئے کہ ان کی طرف سے جواب ہی سمجھے، مسئلہ کشمیر !!! ارے خود حل کرو !! اپنی مصیبت ہمارے گلے میں مت ڈالو!!! کرو مذاکرات !!! ہون آرام اے، ہم تو مذاکرات مرنے جاتے ہیں اور دوسرے مذاق کرتے ہیں اب اس کا کیا کریں؟ دفاعی تعاون کا ذکر کیا تو آگاہ کیا گیا کہ دفع ہی تعاون کر رہے ہیں آپ کو دفع کر رکھا اور دوسروں کو گلے لگا رکھا!!! ہو گیا ناں دفع ہی تعاون! اور تجارتی تعلقات!!! ان پر تو تالا ہی سمجھے!!!!
البتہ حکم صادر ہو گیا کہ جمہوریت بحال کی جائے!!! وردی والا صدر اپنا منہ لے کر رہ گیا! لو میرا یہ بھرم بھی نہیں رہنے دیا!! جمی ہوئی ریت بھی ہٹ گئی !!! بش کے آنے جانے پر تو بلے بلے نہ ہوئی البتہ انضمام صاحب گیند بلا سیکھانے جا پہنچے۔ ہم تو سنتے آئے تھے کہ بیس بال کرکٹ کا بگڑا ہو ا کھیل ہے۔۔۔۔۔ اب معلوم ہوا کرکٹ بیس بال سے ملتا جلتا کھیل ہے، بھائی یہ ہی تو اپنے کرکٹ کے کپتان نے بش کو بتایا ہے اب یہ الگ بحث کہ کیسے بتایا ہو گا؟۔اب خود سمجھ لیں ہم کیسے کوئی بات انہیں سمجھاتے ہیں!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←