نوجوان کے نام
ترے صوفے ہیں افرنگی ، تیرے قالین ہیں ایرانی لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی امارت کیا ،شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل نہ زورِ حیدری تجھ میں نہ استغناے سلمانی نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل…