تعلیمی کھیل

تعلیم بہت اہم ہے!!!! انکار نہ ممکن!!!! زندگی میں یہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ یہ تو آپ کو کردار عطا کرتی ہے۔ تعلیم کا تربیت کے ساتھ موازنہ بعد کی بات ہے پہلے تعلیم تو ملے !!! کہ تربیت کیسے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ڈگری انسان نہیں بناتی مگر استاد انسانیت کو وجود میں لاتا ہے تب ہی روحانی باپ کہلاتا ہے!!! اور وہ کہاں ملتا ہے؟؟؟؟ جنگ اخبار کے کالم نویس “جاوید چوہدری“ نے ایک بار لکھا تھا میرے اور میرے آباؤاجداد میں ایک اہم فرق تعلیم ہے ورنہ آج میں بھی جاہل ہوتا اور اس جگہ ومقام پر نہ ہوتا جہاں آج ہوں۔ اس کے متعلق لکھنا مشکل نہیں کہ تعلیم کس قدر اہم ہے!!! مگر اس کے ساتھ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ کیا ہے!!! میں اکثر بڑے بزرگوں کو اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا ہوں!!!! خاندان میں!!! محلے میں!!! کورٹ میں اپنے سینیئرز کو!!!! سب ان (بچوں) کے مستقبل کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اسکول کے انتخاب اور پھر اس میں بچے کے داخلے کے مراحل!!!!! مگر یہ اسکول والے کیا کرتے ہیں!!!! آج معلوم ہوا کہ رائل اکیڈمی نامی اسکول (فیڈرل بی ایریا کا ہے) نے آرٹس کونسل میں تین مختلف دن تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد کی !!! اسکول کے بچوں کو کلاس کے اعتبار سے تین مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا! جی !!!! جی نہیں بچوں کی کلاس کے اعتبار سے نہیں بلکہ والدین کی کلاس کے اعتبار سے!!!! کلاس یعنی طبقے کا انتخاب یوں کیا گیا تھا کہ پورش علاقے والے ایک دن ان سے نیچے دوسرے دن اور پھر تیسرا طبقہ آخری دن!!!! یہ کیوں؟؟؟؟ ہم تو آج تک جماعت میں بچے کی پوزیشن ہی کو اہم سمجھتے آ رہے تھے مگر یہ تقسیم تو ۔۔۔۔۔ کمال ہے!!!!!! ایک تماشہ حکومت نے بھی لگا رکھا ہے!!!! حمیدہ صاحبہ (وزیر تعلیم) ہنوز یہ فیصلہ نہیں کر سکیں کہ سندھ میں نویں اور دسویں کے امتحان مشترکہ ہونگے کہ جدا جدا!!!! پچھلے تین ماہ میں چار پانچ بار ان امتحانات کے مشترکہ ہونے کا اعلان ہوا اور پھر تردید!!! اب نویں جماعت کے بچے، ان کے والدین، ان کے ٹیچر اس سلسلے میں الجھن کا شکار رہے ہیں کہ کیا کیا جائے؟ کیا ہو گا؟ آیا امتحان اس سال ہو گا کہ اگلے سال نویں اور دسویں کا ایک ساتھ ہوگا کہ نہیں نیز اگر ایک ساتھ ہو گا تو کیسے؟ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے تعلیم کے اور اس کے طالب کے ساتھ!!!!! کیسی تعلیم مل رہی ہے اسے!!!! یہ کھیل کیا صرف تعلیم کے ساتھ ہے یا مستقبل کے ساتھ اور وہ بھی اپنا!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

خواب

خواب بھی اک مسافر کی طرح ہوتے ہیں رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا ان کی عادت ہی نہیں ایک جگہ پر رکنا ان کی قسمت ہی نہیں ایک نگر میں رہنا ہم بھی ایک خواب ہیں اے جان! تیری آنکھوں میں سایہ ابر نوحہ کے گمان میں میں رہنا ان کے طاق سے ہم کو نہ ہٹانا جب تک رات کے بام پر تاروں کے دیئے جلتے رہیں دیکھنا ہم کو ہمیں دیکھتے جانا جب تک ہم تیری آنکھ کی وادی میں سفر کرتے رہیں خواب کا شوق یہ ہی خواب کی قسمت بھی یہ ہی حلقہ رنگ رواں گرد سفر میں رہنا رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا ہم مگر خواب ہیں کچھ اور طرح کے ہم کو نہ کوئی شوق سفر ہے نہ تلاش خوشبو تیری آنکھ میں جلیں اور اور ان ہی میں بجھ جائیں چشم در چشم نہیں ہم کو سفر میں رہنا ہم کو ہے تیری نظر میں رہنا
مکمل تحریر پڑھیں ←
بھرم رہ گیا

بھرم رہ گیا

یہ تصویر بار میں رکنیت حاصل کرنے کے لئے بنوائی ہے!!!! رکنیت کارڈ پر آئے گی!!!! سب کہہ رہے ہیں اچھی آئی ہے!!!! شکر ہے اندر کی اصلیت تصویر میں نہیں اُبھری!!!! اور یوں بھرم رہ گیا!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
کیسا عہد کیسی تجدید

کیسا عہد کیسی تجدید

آج ٢٣ مارچ ہے!!! آج چھٹی ہے!!! سب گھر میں بیٹھے ہیں!! چند ایک نے اس مناسبت سے کوئی نا کوئی پروگرام بنا رکھا ہے کہ چھٹی ہے!! احباب کو یہ دن اس لئے اہم نظر اتا ہے کہ اس دن چھٹی ہو گی اس بناء پر نہیں کہ اس کا پس منظر کیا ہے!!! ابھی ایف ایم سن رہا تھا اس میں ڈی (ڈی سے ڈنگر مراد نہیں) جے صاحب فرما رہے تھے کہ کیسا لگتا ہے آپ کو holiday سے پہلے holiday کا آنا کیسا لگتا ہے؟؟؟ اگر یہ holiday کے بجائے holyday ہوتا تو شائد مجھے اعتراض نہ ہوتا!!!! مذہبی اعتبار سے تو نہیں مگر قومی اعتبار سے ہمارے لئے تو یہ دن مقدس ہے کہ !!!!نہیں؟؟؟؟؟ آج مسلم لیگ (ق) والے مسلم لیگ کی صد سالہ تقریب منا رہے ہیں!!! سو سالہ مکمل ہوئے ہیں تو مسلم لیگ کا یہ حال ہے کہ وہ ایک فوجی کی دُم چھلا بنی ہوئی ہے!!! آج کی مسلم لیگ میں اور اس دور کی مسلم لیگ میں کیا فرق ہے اس سے ہی معلوم ہو جاتا ہے!!! پہلے مسلم کا مفاد عزیز تھا!! اب لیگ (جسے اکثر کالم نگار اصحاب “ق“ کہتے ہیں) کا!!!!! ان حالات کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ اب ایسے دن ہمارے لئے تجدید عہد کے ہو!!!! عہد یاد ہی نہیں تو تجدید کیسی!!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

قاضي کا حال!!!

نا سمجھ؟ یا نہایت ذہین؟؟؟؟؟ کیا کہوں؟ ایک جماعت کے سربراہ ہیں۔۔۔۔۔ کیمرے کے سامنے! میڈیا کے روبرو! کب کس وقت کیا کہنا ہے؟ کیا اس سے نا واقف ہیں؟یہ واقعی سیاہ ست (جیسے ڈاکٹر افتخار صاحب سیاست کو کہتے ہیں) ہے! کہتے ہیں میں اسامہ سے مل چکا ہوں! وہ میری جماعت سے تعاون کرنا چاہتے تھے! میں نے نہ کر دی! نواز شریف کے حامی تھے اور بے نظیر کے مخالف؟ وہ پاکستانی سیاست میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے؟ حد ہو گئی!!!!!! یہ بیان کیا اثر لائے گا؟؟؟؟ مجھے یاد ہے توہین رسالت کے سلسے میں جس دن لاہور میں ہونے والا احتجاج ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گیا تھا اس سے اگلے دن پشاور میں بھی توڑ پھوڑ ہوئی تھی! تو سی این این میں ایشیا نیوز میں ایک تبصرہ نگار/تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ یہ جو ہنگامہ کر رہے ہیں ناں یہ اپنے رسول (صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم) کی توہین کا غصہ نہیں اتار رہے بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں جو طالبان اور القاعدہ کے حامی اور ایجنٹ ہیں!!! اس بہانے سے اپنا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں!!! کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود اپنی کمزوریاں دوسروں کو کیوں بتاتے ہیں!! مغرب کو کیوں بہانہ دیتے! اب یہ بیان “کوڈ“ کیا جائے گا کہ دیکھیں یہ جو بات کہی گئی تو اس کے علاوہ بھی نہ معلوم کیا کیا باتیں ہیں جو اب تک سامنے نہیں آئیں! اہل مغرب ہر بات کو اس وقت افشاں کرتے ہیں جب اس سے انہیں کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا اور ہم ہر کام ایسا کرتے ہیں کہ آ بیل مجھے مار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قاضی صاحب آپ کے ماضی کا تو مجھے نہیں معلوم مگر حال میں آپ کا یہ حال کچھ اچھا نہیں ہے!!
مکمل تحریر پڑھیں ←