زخمی فرد کو میڈیکل سہولت

ناواقفیت کی بناء پر معاشرے میں کئی مرتبہ کچھ ایسی روایات جنم لے لیتی ہے جو نقصان کا باعث بنتی ہیں، اور عمومی طور پر ہم میں عام معاملات سے متعلق جستجو کی عادت نہیں ہے اس لئے بہتر تبدیلی کافی دشوار ہوتی ہے۔


ایک عمدہ حل اس سلسلے میں قانون سازی کا ہے مگر قانون سازی بھی ایسی ہو جس میں اول نہ تو کوئی سقم ہو کہ عملدرآمد مشکل ہو اور نہ ہی کچھ ایسا کہ نئی خرابی کو جنم دے۔ فرض کریں کہ قانون سازی میں کوئی خامی رہ گئی ہو تو پھر عدالت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے فیصلوں سے کچھ ایسے اصول واضح کرے کہ وہ نقص دور ہو جائے۔


ایسی ہی ایک خامی جو ہم میں داخل ہو گئی تھی وہ کسی زخمی کی مدد نہ کرنا تھا۔ دلچسپ معاملہ یہ کہ کسی فرد کو جس قدر سخت چوٹ یا زخم لگتا اُس قدر دشوار اُس کے لئے ڈاکٹر کی سہولت حاصل کرنے میں پیش آتی یوں حادثہ کا شکار ہونے والا ایک اور حادثے سے روشناس ہوتا۔ جائے وقوع سے اسپتال تک اور پھر اسپتال میں ڈاکٹر تک ہر ایک پولیس کی تفتیش کے خوف سے مدد کو نہ آتا۔


اس لئے 2004 میں پارلیمنٹ نےInjured Person (Medical Aid) Act پاس کیا اس قانون کے ابتدائیہ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ چونکہ طبی امداد(medical aid ) کے سلسلہ میں طبی قانون ( medico-legal ) کے بابت عمومی غلط فہمی ہے جس کی وجہ سے کئی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے لہذا طبی امداد کے سلسلے میں یہ قانون پاس کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون 14 دفعات پر مشتمل ہے۔


اس قانون کے تحت ایک(رجسٹر) ڈاکٹر جو کسی (رجسٹر) اسپتال میں ڈیوٹی پر ہو پابند ہے کہ کسی زخمی کو ابتدائی طبی امداد دینے کا پابند ہوگا کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی کا انتظار کئے بغیر۔


قانون کی دفعہ 2 (d) کے تحت زخمی سے مراد کوئی بھی ایسا فرد جو کسی ٹریفک حادثے، حملے یا کسی بھی دیگر وجہ سے زخمی ہو ہو اور جسے فوری علاج کی ضرورت ہو۔


قانون کی دفعہ 7 کے تحت حکومت نوٹس گزٹ کرے گی جس میں آگاہ کیا جائے گا کہ کون سے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی سہولت ہے کہ وہ زخمی افراد کو طبی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔


قانون کی دفعہ تین کے تحت اسپتال میں لائے گئے فرد کو کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگیوں میں پڑے بغیر ترجیحی بنیاد پر طبی مدد فراہم کی جائے گی۔


قانون کی دفعہ چار کے تحت پابند کیا گیا ہے کہ جب تک زخمی فرد زیر علاج ہو کوئی پولیس افسر اسپتال کے انچارج کی تحریری اجازت کے بغیر مداخلت نہیں کر سکتا ایسی اجازت بھی تب ہی مل سکتی ہے جبکہ زخمی سے تفتیش اسپتال ہی میں ممکن ہو۔
قانون کی دفعہ پانچ کے تحت جب کوئی زخمی ایمرجنسی میں لایا جائے اور ڈاکٹر کے لئے زخمی کے عزیز کا انتظار ممکن نہ ہو تو وہ بلا اجازت اُسے طبی سہولت فراہم کرے یا آپریشن کر سکتا ہے، زخمی کے رشتہ دار کی موجودگی کی صورت میں اُس کی اجازت لے لینا بہتر ہے۔


دفعہ چھ کے تحت جب تک زخمی کی حالت سنبھل نہ جائے اُسے دوسرے اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ اُس ہسپتال میں متعلقہ سہولت نہ ہو منتقل کرنے سے قبل متعلقہ ڈاکٹر تمام کاغذی کاروائی مکمل کرے گا اور تمام دستاویزات مریض کے ساتھ منتقل ہوں گی اگر ضروری ہو تو دوران سفر ایک ڈاکٹر مریض کے ساتھ رہے۔


دفعہ آٹھ کے تحت پابند کیا گیا ہے کہ کوئی پولیس والا کسی بھی حالت میں مریض کو پولیس اسٹیشن نہیں لے جا سکتا اور نہ ہی ڈاکٹر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔


دفعہ نو کے تحت زخمی کو انسانی ہمدردی کے تحت اسپتال میں لانے والے کو ڈرایا نہیں جا سکتا اُسے اُن کا نام پتہ پوچھ کر اگر مناسب ہو تو شناختی کارڈ کی کاپی لے کے جانے دیا جائے ساتھ ہی وضاحت کر دی گئی اس بناء پر اُسے چھوٹ حاصل نہ ہو گی اگر وہ وجہ حادثہ ہوا تو۔


قانون کی دفعہ گیارہ کے تحت اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والا کو دو سال تک کی سزا و دس ہزار روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں مزید یہ کہ عدالت ڈاکٹر کے لائسنس کو منسوخ بھی کر سکتی ہے۔


یہ تحریر مفاد عام تحت لکھی گئی ہے ایک پرانے سلسلے کی کڑی کے طور پر

مکمل تحریر پڑھیں ←
Have a nice Date

Have a nice Date

یہ کہنا مشکل ہے کہ کون ٹھیک نہیں؟ مگر یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ کیا ٹھیک نہیں!مگر روکیے کیا ٹھیک نہیں اس کا تعین کرنا بھی اب ممکن نظر نہیں آتا! کیونکہ آپ کا ٹھیک ممکن ہے ہے میرا ٹھیک نہ ہو؟ اور میرا ٹھیک آپ کے لئے قابل برداشت نہ ہو۔ یوں غلط و ٹھیک کی تعریف ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی حد کو جا پہنچے۔

ہماری با حیثیت مجموعی کچھ ایسی عادت بن گئی ہے کہ ہم عمل کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ فرد کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی طور پر کچھ ایسا مزاج بنا چکے ہیں کہ کسی کو غلط سے روکنے کے لئے غلط رستے کا انتخاب کرتے ہیں یا شاید ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے۔

جب ہم ایل ایل بی میں پڑھتے تھے تو ایس ایم لاء کالج کے قریب ہی جیو چینل کا دفتر کھلا، اُن کے چند ایک پروگرام کی ریکارڈنگ وہاں ہوتی تھی، ہم ایک دو پروگرام کی ریکارڈنگ میں بطور ناظرین جاتے ان میں ایک پروگرام تھا “اُلجھن سلُجھن” عوامی مسائل پر گفتگو ہوتی تھی، ایک مرتبہ گئے تو ٹرک ڈرائیوروں کے “دلبروں” کی بات ہو رہی تھی۔ یہ ٹاپت نہایت واہیات لگا لہذا واپس کالج چلے گئے ایک مرتبہ پھر گئے تو خواتین کی آپسی کشش سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل پر روشنی ڈالی جا رہی تھی گفتگو سن کر ہتھیلی تک میں پسینہ آ گیا جبکہ اسٹو دیو فل ایسی تھا۔ ٹاک شو میں ایسے ٹاپک پر ہونے والی گفتگو پر ہم نے جانے سے توبہ کر لی۔

جب کبھی ایسے افراد سے جو میڈیا میں ان ٹاپک پر بات کرتے سے بات ہوت کہ کیا ایسے پروگرام ہونے چاہئے یا یہ کہ ان ٹائمنگ میں ٹی وی پر چلنے چاہئے جس میں چلتے ہیں تو وہ بہت زور دار انداز میں اس کی حمایت کرتے اور انوکھا جواب یہ ہوتا کہ جب ہم نے اس مسئلے پر کام شروع کیا تو مولویوں نے بہت شور کیا ہمیں بہت مشکل پیش آئی مگر اب تو لوگوں میں “شعور” آ گیا ہے۔ میں اس argument سے کبھی بھی مطمئین نہیں ہوا۔

ان تمام باتوں کے باوجود ہمیں کبھی اُن افراد سے ذاتی نفرت نہیں ہوئی میرے چند ایک دوست (جو جانتے ہیں) حیران ہوتے ہیں کہ میری حلقہ احباب میں چند ایک ایسے افراد بھی رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو ایسی سرگرمیوں میں مبتلا ہیں جو معاشرتی و اخلاقی اعتبار سے درست نہیں اور میرا اُن سے تعلق اُس وقت تک رہا جب تک کہ انہوں نے مجھے اُن عمل میں شریک کرنے کی کوشش نہ کی جب دعوت گناہ ہوا جو یا تو دعوت واپس لی گئی یا تعلق اختتام کو پہنچا۔ مگر کبھی کسی محفل میں ملاقات ہوئی تو ہیلو ہائے کر لی۔ اس بات پر ہم خود کو منافق بھی کہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں مایا خان ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ معاملہ پارکوں میں چھاپے تھے۔ یار لوگ چھاپہ مارنے سے ذیادہ مایا خان کو ننگی گالیاں دینے میں ذیادہ دلچسپی لیتے نظر آئے۔ دوسری بات جو مجھے سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ کہ عوامی مقامات پر کیا گیا کوئی عمل یا حرکت کسی کا ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے؟ اگر ہاں تو کیسے؟ اور کس حد تک؟ خواہ وہ اُن کا لباس کا انتخاب ہو! ! گھر کی چار دیواری میں تو آپ کی privacy ہو سکتی ہے مگر گھر سے باہر اور عوامی مقامات پر اس کا تعین کرنا ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ کچھ احباب اس سلسلے میں ملکی قانون تک اپنے رائے کا اظہار کرتے ہیں اور چند “انتہا پسند” مذہبی نقطہ نظر سے اس معاملے کو سُلجھانے کی کوشش کریں گے اور کچھ تو بین الاقوامی قوانین کو بھی اس سلسلے میں کھینچ لاتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر یار لوگ International Covenant on Civil and Political Rights کی دفعہ 17 کا حوالہ دیتے ہے جو کچھ یوں ہے:

1. No one shall be subjected to arbitrary or unlawful interference with his privacy, family, home or correspondence, nor to unlawful attacks on his honour and reputation. 2. Everyone has the right to the protection of the law against such interference or attacks.

یعنی ہر کسی کو تحفظ حاصل ہے نجی معاملات میں کسی دوسری کی غیرقانونی مداخلت سے خواہ وہ خاندانی نوعیت کے ہو یا گھریلو یا کسی قسم کی کوئی خط و کتابت جبکہ ایسی مداخلت اُس کی معاشرہ میں مقام و عزت کو متاثر کرے. اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ نجی معاملات کی کی وسعت کیا ہے؟ نجی معاملات میں وہ سے مراد وہ زندگی کے پہلو وہ خالص و بیادی طور پر فرد کی ذات سے متعلق ہیں۔

یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پرائیویسی کسی فرد کی زندگی کے وہ پہلو و تعلقات ہیں جو وہ نہ صرف عوام کی نظروں سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ جس میں مداخلت اُس فرد کو قبول نہیں۔ اسے ایک بنیادی حق تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پہلوو تعلقات جو کوئی فرد عوام سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے کیا عوام کے درمیان یا عوامی مقامات پر ظاہر کرے گا خواہ اُس کی کوئی بھی صورت ہو؟ ممکنہ جواب ہاں نہیں ہوسکتا مگر مباحث میں یہ ایک متنازعہ موضوع رہا ہے اور ممکن رہے مگر اکثریت مقامات پر جواب باں نہیں ہوتا، اگر مگر کے ساتھ چند احباب اسے ہاں کہہ دیتے ہیں۔

چار دیواری کے اندر ہونے والی حرکات تسلیم شدہ طور پر پرائیویسی کے ذمرہ میں آتی ہے اخلاقی، مذہبی، قانونی اور معاشرتی طور پر اسے تسلیم کیا جا چکا ہے۔ ملکی آئین کی دفعہ 14 اس ضمن میں قابل توجہ ہے۔

The dignity of man and, subject to law, the privacy of home, shall be inviolable.

اس ہی لئے جب پولیس کسی چاردیواری کے اندر سے “جوڑے” پکڑ کر ایف آئی آر کاٹتی ہے تو آغاز ایف آئی آر میں گھر میں داخل ہونے کی وجہ اُس عمارت میں مفرور ملزم کے موجود ہونا قرار دیتی ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے گھر کی چار دیواری میں کسی کی پرائیویسی میں دخل اندازی کی ممانعت کو سمجھنے کے لئے حضرت عمر کا وہ واقعہ ہی کافی میں جس میں رات کے پہر میں ایک گھر سے اس لئے معذرت کر کے باہر نکل گئے کہ اُن کا گھر کی چار دیواری میں تجسس کے زیر اثر بلا اجازت داخل ہونا غلط تھا جبکہ صاحب مکان کے پاس اُس وقت شراب و شباب موجود تھا۔

مایا خان پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ انہیں یوں اپنی ممکنہ اپنی اخلاقی اقدار کی تبلیغ کرنے کا اختیار نہیں یا نافذ کرنے کا۔ تبلیغ تو انسان کی فطرت بھی ہے اور بلا شک و شبہ جز ایمان بھی اور جن نظریات و اقدار کو آپ حق تسلیم کرتے ہو وہ خود با خود آپ پر لاگو ہو جاتی ہے۔ تبلیغ فطرت یوں ہے کہ اگر میں کہو کہ آپ اپنی اخلاقی اقدار کسی پر لاگو نہیں کو سکتے تو بنیادی طور پر میں اپنی اخلاقی اقدار کی تبلیغ کر رہا ہو اور چاہتا ہون کہ آپ اس” اخلاقی” اصول کو خود پر لاگو کریں۔

اس پورے معاملے میں ایک عنصر ایسا ہے تو قابل گرفت ہے اور وہ یہ کہ آیا کسی فریق کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے؟ اگر ہاں تو مایا خان اس سلسلے مین قابل گرفت ہو گی مگر اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملکی عدالت کے پاس ہے عدالت کا دروازہ متاثرہ فریق ہی کھٹکا سکتا ہے آپ یا میں نہیں!

آخری بات یہ کہ اگر آپ چار دیواری میں اپنے پریمی کے ساتھ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہم آپ کو کہیں گے “Have a nice Date”.

مکمل تحریر پڑھیں ←

اللہ جانے کون بشر ہے؟

بڑے بزرگ کہتے ہیں انسانوں میں ہونا ایک بات اور انسان ہونا دوسری بات ہے۔آبادی میں میں درندے بھی ہوتے ہیں اور فرشتے بھی! انسان سب سے کم ہوتے ہیں! مگر شکلیں سب کی ایک جیسی! اس انسان نما مخلوق میں ایک گرہ ایسا بھی ہے جو عمر میں مختلف مراحل میں ان تینوں درجات سے گزرتا ہے۔ جس کی کوئی ممکنہ ترتیب نہیں ہے۔ بہروپئے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان یا فرشتے کا روپ اپنا کر اپنی درندگی کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیت حق و سچ کی ہوتی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کئی بار باطل کی حکمرانی کئی تہذییوں و نسلوں کو برداشت کرنی پڑتی ہے اور جب تک حق سچ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے آبادی میں موجود بہروپئے ایک مخصوص تعداد کو گمراہ کر کے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ دراصل باطل ہی حق ہے۔
یہ ہی تباہی کا نقطہ عروج کہ ایک گروہ گمراہی کی اُس نہج پر ہو کہ خود کو درست جان کر باطل کی کامیابی کے لئے ایک مخلص جدوجہد کرے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

فیس بک کا like بٹن

like کا مطلب ہے پسند! یعنی کچھ اچھا لگے تو آپ اُسے پسند کر لیں! ہم تو یہ ہی سمجھے ہیں! کتاب چہرہ میں ہر چہرہ کتابی نہیں اور نہ ہر بندہ! ہر بات و ہر خبر پسند نہیں آتی!
آج جب ہم حقیقی زندگی کے ساتھ ساتھ virtual زندگی کے بھی باسی ہو چکے  ہیں اور سوشل میڈیا کی قید میں یوں جکڑے جا چکے ہیں کہ اپنی ہر بات یا حرکت یا احساس و خبر اپنے سوشل میڈیا کی نیٹ ورک پر share کرتے ہیں ایسے میں اس سوشل میڈیا کا ایک بڑا کردار فیس بک یا کتاب چہرہ ہے۔
فیس بک والوں نے کسی کے اسٹیٹس پر تبصرہ کرنی کی سہولت کے ساتھ ساتھ اُسے پسند کرنے کو اپنے صارف کو like کرنے کی سہولت بھی دی ہے مگر dislike کرنے کا کوئی طریقہ نہیں رکھا، آپ unlike کر سکتے ہیں مگر like کرنے کے بعد۔
کئی احباب اس سہولت کا بہت عجیب استعمال کرے ہیں میری سمجھ سے باہر ہے کہ کسی افسوس ناک خبر یا اطلاع کو یار دوست کیوں like کرتے ہیں؟ یقین جانے دل کو ایک ضرب سی لگتی ہے اس عمل سے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

پرکھ

کئی تجربے بہت عجیب ہوتے ہیں اتنے کہ بیان سے باہر، کچھ عرصہ پہلے تک ہم یہ ہی سمجھتے تھے کہ کسی آدمی کی تعریف اُس کی شرافت و نیک سیرت شخصیت ہی کے بناء پے کی جاتی ہے اس کے باوجود کہ ہم نے یہ معقولہ ایک مخصوص کلاس کی نمائندے سے سن رکھا تھا کہ “یاری یا تو کلاس (طبقے) کی ہوتی ہے یا گلاس (شراب کے جام )کی باقی سب تو مجبوریاں ہوتی ہیں”۔
گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی محفل میں جہاں “لبرل کلاس” کے نمائندے موجود تھے اور ہم بھی اپنی تمام تر منافقت کو سمیٹے بیٹھے تھے تو حاضرین محفل اپنے طور پر مختلف ممکنہ امیدواروں میں سے ایک کام کے بندے کے چناؤ میں مصروف تھے۔ تب اہل محفل نے ایک نے موزوں فرد کی خوبیاں کچھ ان الفاظ میں بیان کی:-
“میرا ووٹ تو 'فلاں' کے حق میں ہے آزاد منش ہے، باہر سے تعلیم لے کر آیا ہے، کھاتی پیتی فیملی کا ہے، دقیانوس خیالات سے پاک ہے، کلب جاتا ہے، Saturday Night کی محفلوں میں بھی ریگولر ہے، لوکل برانڈ کی وسکی کو ہاتھ نہیں لگاتا اپنے “فلاں نمبر 2” کی طرح نہیں کہ دیسی برانڈی پر دوستوں کو ٹرخا دے، اُس کی محفل میں شباب کا بھی بھرپور انتظام ہوتا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کے خاندان میں کوئی بھی مولوی ٹائپ کا بندہ نہیں کہ ڈر ہو وہ بھی پٹری سے اُتر کر مولوی ہو جائے”
مکمل تحریر پڑھیں ←

نشان زدہ

جی جناب عمار کے کھیل میں ہماری شمولیت کی وجہ محترمہ عنیقہ ناز اور محترمہ شاہدہ اکرام کی طرف سے نشان زدہ کرنا تھا۔ افسوس اردو بلاگرز کی اقلیت یعنی خواتین بلاگرز نے تو ہمیں اس کھیل میں شامل کیا مگر کسی مرد بلاگر کو یہ توفیق نہیں ہوئی۔ خیر اب حسب روایت سوالات کے جوابات عرض ہیں۔

سوال نمبر 1- ۲۰۱۲ میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
وہ سب کچھ جو گزشتہ سال کرنا چاہتا تھا مگر کچھ حالات و واقعات و مجبوریوں کی بناء پر نہیں کرسکا۔
سوال نمبر 2- ۲۰۱۲ میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
ایسا کچھ نہیں جس کا انتظار ہو مگر یہ دعا ضرور ہی کچھ بُرا نہ ہو۔
سوال نمبر 3- ۲۰۱۱ میں کوئی کامیابی ؟
زندگی آگے بڑھ رہی ہے اور جہاں چند خواہشات حسرت کا روپ دھار لیتی ہیں وہاں ہی کئی خواہشات و تمنائیں پوری ہو جاتی ہیں مگر گزشتہ برس ایسی کو کئی کامیابیاں تھی جن پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں مگر یہاں بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔
سوال نمبر 4- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ناکامی ؟
جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے اور جو اچھے کے لئے ہو وہ ناکامی نہیں ہوتی۔
سوال نمبر 5- سال ۲۰۱۱ کی کوئی ایسی بات جو بہت دلچسپ اور یادگار ہو؟
ناقابل بیاں
سوال نمبر 6- سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
ایک لفظ میں!!! بُرا۔ سال کا آغاز اچھا نہیں رہا پہلے ماہ کے پہلے عشرے میں اوپر نیچے دو تین بُرے واقعات و حادثات سے دوچار ہونا پڑا!
سوال نمبر 7- کوئی چیز یا کام جو ۲۰۱۲ میں سیکھنا چاہتے ہیں؟
“اللہ کی رضا میں راضی ہونا”


تو جی جناب اب ہم کس کس کو اس کھیل میں شامل کریں؟؟ چلیں جناب بلال میاں،محترم شاکر عزیز، محترم عمیر ملک،محترم فہد میاں، عدنان مسعود اور راشد کامران!!!! بات روایت کی ہے اردو بلاگرز کی روایت۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
انٹرویو !!!

انٹرویو !!!

کم بخت جتنے فائنل انٹرویو ہم نے نوکری کے لئے دیئے سب میں فیل ہوئے!! اول اول ہم فوجیوں کے ہاتھ لگے ہوا یوں کہ پی ایف کالج میں پاکستان فضائیہ والوں کی ٹیم آئی انہوں نے فضائی فوج سے متعلق ایک معلوماتی لیکچر دیا پھر طالب علموں کو پاک فورس کی طرف راغب کرنے کو پریزینٹیشن دی اور بعد میں چند ایک کا ٹیسٹ لیا! نتیجہ چند ایک طالب علموں کو بتایا آپ بارہ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد کس پوسٹ کے لئے قسمت آزمائی کرنا!! ہمیں کہا کہ Aeronautical engineer کے لئے جانا!! ہم گئے ISSB کے بعد ہمیں منہ ہی نہیں لگایا!! وجہ ذومعنی سوچ!!!
پھر جب کریجویشن میں تھے پی آئی اے میں flight steward کے لئے اپلائی کیا تو فائنل انٹرویو میں دیسی لہجے میں ولایتی زبان بولنے اور رنگ سانولا ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھی چونی اٹھوا دی!!!
جب ہم قانون کے طالب علم تھے تو پولیس میں ASI کی نوکری کے لئے اپلائی کیا!! وہاں بھی فائنل انٹرویو میں کامیابی نہ مل سکی!!
آج کل سرکاری وکیل کے لئے انٹرویو دیا ہوا ہے امید ہے سابقہ ریکارڈ نہیں توڑ پاؤں گا!! اس کے علاوہ ایک اور بار جج کے لئے اپلائی کیا تھا مگر تحریری امتحان میں ہی فیل ہو گیا!!! اب تک یہ پانچ جگہیں ہی ایسی ہے جہاں ہم نوکر ہونے گئے مگر ناکام رہے اوریوں تین میں انٹرویو میں اور ایک بار تحریری امتحان میں نامراد لوئے!!! ایک کا ابھی انتظار ہے!!! اس کے علاوہ ہم نے جب بھی انٹرویو دیا کامیاب ہوئے!!دو تین مرتبہ انٹرویو میں کامیاب ہونے کے باوجود اس لئے نوکری جو تنخواہ وہ دے رہے تھے وہ کم تھی یا جانے والوں کی طرف سے ہمیں یہ باور کروایا کہ اس انٹرویوں میں کامیابی اُن کے مرہون منت ہوئی ہے۔
میز کے اُس طرف انٹرویو دینے کے ایسے تجربے سے ہم اب تک گھبراتے ہیں!!! مگر گزشتہ دنوں ہم میز کی دوسری طرف جا بیٹھے یعنی انٹرویو لینے والوں میں!!! وہ بھی صنف نازک یعنی خواتین کا!! جو ایک الگ کی تجربہ تھا!!!تین ناکام انٹرویوز میں فیل ہونے کے بعد انٹرویو کرنے کا تجربہ درحقیقت نہایت انوکھا تھا!! انٹرویو والے پینل میں شامل دیگر دونوں احباب ہمارے استاد تھا!!ایک سابقہ وفاقی وزیر قانون پروفیسر شاہدہ جمیل اور دوسرے سابقہ جنرل سکرٹیری کراچی بار ایسوسی ایشن و موجودہ ممبر سندھ بار کونسل محترم ندیم قریشی (میں نے اپنی وکالت کا آغاز ان ہی کے چیمبر سے کیا تھا) اُن کے ساتھ یوں بیٹھنا جہاں ایک اعزاز تھا وہاں اُن کے تجربوں سے مجھے اپنی کی گئی تمام غلطیوں کا ادراک بھی ہوا!
باقی لوگوں کو پرکھنا جتنا آسان لگتا ہے اُتنا ہے نہیں امتحان لینے والا انتخاب کے وقت خود ایک امتحان میں ہوتا ہے، بہت مشکل ہے یہ امتحان جب ایسے افراد بھی آپ کو پرکھنے ہو جو کہ آپ کے جاننے والوں میں شامل ہوں! تعلق بد دیانتی و نا انصافی کی طرف مائل کرتی ہے تب دراصل دوسروں کو پرکھنے کے بجائے منصف خود کو پرکھنے لگتا ہے !!! یہ بات تجربے سے معلوم ہوئے!! اور اپنی نظروں میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انصاف ہو۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

توبہ توبہ!! ابے یہ کرتا کیا ہیں؟پتا تو چلے

ہمارے ایک بہت پیارے دوست نے ایک دفعہ اپنا ایک سچا قصہ ہم سے شیئر کیا! اول تو قصہ بہت عمدہ تھا دوئم ہمارے اُس دوست کو جیسے قصہ گوئی کا فن آتا ہے سن کر ہنس ہنس کر ہم بے حال ہو گئے ہمیں وہ قدرت تو حاصل نہیں مگر قصہ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔
بقول ہمارے دوست کے وکالت کے آغاز میں انہوں نے اپنے علاقے میں ایک دفتر کھولا اور دفتر میں دیگر دفتری اشیاء کے ساتھ ایک ٹی وی میں لگوا لیا! جس پر کیبل کا کنکشن حاصل کیا۔ آغاز وکالت فراغت کے دن ہوتے ہیں لہذا ایسے ہی ایک فراغت کےوقت میں ہمارے دوست کیبل پر انگریزی فلم دیکھ رہے تھے تو اُس کا ایک دوست جو مولوی تھا آفس میں آ گیا ہمارے دوست نے چینل نہ بدلہ دونوں گفتگو میں مصروف ہو گئے مگر نظر بیشتر اسکرین پر مرکوز رہتی کہ اتنے میں وہ “سین” بھی فلم کے کسی ایکٹ میں آ گیا جس میں فلم کے دو کردار اپنی محبت کا “عملی” مظاہرہ کرتے نظر آئے “مولبی” کی موجودگی کی بناء پر ہمارے دوست نے چینل بدلنے کو ریموڑٹ اُٹھا تو “مولبی” گویا ہو “رہنے دوں ہم بھی دیکھیں یہ خبیث کرتے کیا ہیں” پھر وہ محبت کے “عملی”اظہار میں آنی والی شدت کے ساتھ ساتھ ذیادہ جذباتی انداز میں بولتے “اوئے اوئے خبیث” “توبہ توبہ”” استغفار” “خبیث اوئے”۔
یہ ہی حال ہمارے میڈیا کا ہے! وہ بھی کسی عمل غلط کو ذکر کرتے، عکس بندی کرتے، اُس پر بحث کرتے، اُس پر تنقید کرتے اور اُس کا تجزیہ کرتے ہوئے “اوئے اوئے خبیث” “توبہ توبہ”” استغفار” “خبیث اوئے” تو کرتے ہیں مگر ایسے کہ نہ صرف اُس عمل “بد” کی تشہیر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں سے ایک طبقہ ایسا پیدا ہو جاتا ہے جو اُس عمل کو واہ واہ کرتے داد دیتا نظر آتا ہے۔
آج کل میڈیا میں صدر صاحب کے بیرونی ملک جانے کے بعد جو خبر لوگوں کے دماغوں پر سوار ہے وہ ایک پاکستانی اداکارہ( طوائف و کنجری کہنا بھی درست ہو گا کیوں کہ اعمال کو دیکھتے ہوئے یہ اُس کا پروفیشن ہے اُس کیلئے گالی نہیں) کے بھارت میں کپڑے اُتار کر تصاویر بنوانا ہے۔ کہانی ISI کے ٹیٹو سے شروع ہوئی اور اب انکار سے ممکنہ اقرار کی طرف گامزن ہے۔ تین (پہلی، دوسری اور تیسری) جاری کردی تصاویر کو وجہ تنازعہ بنایا جا رہا ہے، بالغان کے رسالے کے لئے اب برقعہ پہن کر تو تصاویر نہیں اُتاری جانے سے رہے، اس بندی کا ماضی ایسا ہے کہ ملکی سطح پر بھی ماڈلنگ کے آغاز میں ایک ایسا فوٹو شوٹ کروا چکی ہے۔ لہذا ایسی طوائف مزاج خواتین کو میڈیا میں جگہ نہ دی جائے تو بہتر ہے مگر اچھے بھلے بیک گراونڈ والے ادارے بھی بھیڑچال میں وجہ تشہیر بن جاتے ہیں۔ ایسی خواتین کو اپنے گھر والے تعلق سے انکاری ہو جاتے ہیں۔
باقی کیا کہنے ہمارے ملک میں ایک طبقہ ایسا ہے جو برقعہ پوش عورت کو اپنے حق سے نا واقف و جاہل قرار دیا ہے مگر برہنہ ہونی والی خاتون کو بہادر و با ہمت قرار دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کیا علاج ہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

محبت

آہ کیا چیز ہے یہ محبت!! نہ ہو کسی سے تو زندگی آسان، ہو جائے تو عذاب۔
یار لوگ کہتے ہے زندگی عزاب تب نہیں ہوتی جب محبت ہو جائے تب ہوتی ہے جب اُس کا احساس ہو جائے۔ خود کو بھی اور جس سے ہوئی ہو اُس کو بھی۔
اُس وقت محبت کرنے والا اُسے جذبے کو نعمت سمجھ رہا ہوتا ہے  مگر وہ دراصل  ایک امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے۔
اور اہل نظر پرکھ لیتے ہیں کہ یہ امتحان اب عذاب بنا کہ تب۔

 یہ میرے خیالات ہیں لہذا اتفاق کرنا ضروری نہیں
مکمل تحریر پڑھیں ←

تم قومی غیرت کی بات کرتے ہو؟

مجھے نہیں معلوم لوگوں میں اتنا حوصلہ کیوں نہیں ہوتا کہ وہ مخاطب پر اپنی شناخت ظاہر کر سکیں؟ میں کل ایک بلاگ پوسٹ تحریر کی یار لوگ اُس پر تبصرہ کرنے کے بجائے میرے ای میل پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں وہ بھی اصلی نام سے نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ ای میل کے تبادلے مین ایک اہم الزام ہم پر یہ لگا کہ ایک تو میں متعصب ہوں دوسرا تنگ نظر! ہم انکار نہیں کرتے ممکن ہیں دونوں باتیں درست ہوں کیونکہ بقول ہمارے بڑوں کے یہ دونوں بیماریاں جس میں ہوتی ہیں وہ خود میں اس کی تشخیص نہیں کر سکتا یوں ہم اس پر اپنی رائے نہیں دیتے اور چونکہ ہم “اُبھرتی آواز” کی شخصیت سے واقف نہیں تو اُس پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ای میل تبادلے میں جو بات وجہ تنازعہ بنی وہ وہ ہی معاملہ ہے جو نیٹو و پاکستان کے درمیان وجہ تنازعہ ہے۔ یعنی پاکستانی سرحد پر نیٹو کا حملہ۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ عوامی رد عمل کی غیر موجودگی میں فوج اس معاملے پر اپنی آواز بلند نہ کرتی! اور فوجی ردعمل بھی چند دن میں عامی جذبات کے ٹھنڈا ہونے پر اسکرین سے غائب ہو جائے گا۔ مگر “ابھرتی آواز” اس سے متعفق نہیں تھے۔
میرا کہنا یہ ہے کہ ہم گذشتہ 11 سال کی اس جنگ میں چالیس ہزار جانے گنوا چکے ہیں۔ جون 2004 سے اب تک 290 ڈراؤن حملوں میں قریب 2700 کے قریب جانوں کا نقصان اُٹھا چکے ہیں ان ڈھائی ہزار مرنے والوں میں سے آفیشلی 98 فیصد افراد کے متعلق سب کا اتفاق ہے (مارنے والوں کا بھی) کہ وہ بے گناہ تھے بقایا دو فیصد پر بھی شبہ ہے کہ ممکن ہے اُن کے اکثریت بھی مطلوبہ ٹارگٹ نہ ہوں بمشکل 70 سے 90 افراد کے درمیان پر قیاس ہے کے وہ اُن کے مطلوبہ “دہشت گرد” ہیں۔ اتنی بری تعداد میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی اموات پر کوئی ردعمل نہیں ہوا تو اب کیسے فوجی جرنیل کی غیرت جاگ سکتی ہے؟
اور قومی غیرت کا یہ حال ہے کہ ہم نے اُس چالیس ہزار شہیدوں کو یاد رکھنے کا کوئی ایک بہانہ بھی نہیں تراشہ یار کیا رکھیں گے؟ غیر ملکی فوج کے ہاتھوں ڈراؤن اٹیک میں مرنے والوں کا کبھی نہیں سوچا تو اب کے کیا کر لیں گے؟
اپنے فوجی کے مرنے پر ردعمل دیکھنا ہو تو دور کی کیا مثال دوں اپنے نام نہاد اتحادیوں کو ہی دیکھ لو۔ مئی 2007 میں ایک پاکستانی فوجی نے جذبات میں آ کر ایک امریکی فوحی میجر لیری کو مار (پوری دہشت گردی کی جنگ میں کسی پاکستانی فوجی کے ہاتھوں مارے جانے والا واحد اتحادی فوجی) گیا تو امریکی میڈیا ہے اُسے فیچر کیا۔ اُس وقت ہی نہیں بلکہ پر سال اُس کی برسی پراور اس کے علاوہ بھی بہانے بہانے سے لکھتے ہین اور ہر بار اسے ایک فوجی کا جذباتی انفرادی رد عمل نہیں بتاتے بلکہ پاکستانی فوج کی اندرونی سازش قراد دیتے ہیں ایسا آخری فیچر نیو یارک جیسے اخبار نے شائع کیا جبکہ پینٹاگون آفیشلی یہ کہہ چکا ہے کہ ہونے والی تفتیش میں یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اپنے مرنے والے فوجی کی یاد میں ایک میموریل فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت نہ صرف طالب علموں کو اسکالرشپ دی جاتی ہے بلکہ ہر سال بیس بال ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔
اور دیکھ لیں “اُبھرتی آواز” ہم کہاں کھڑے ہیں؟ موجودہ ڈرامے بازی کو آپ رد عمل کہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔
جب تک ہم اس “دہشت گردی” کی نام نہاد جنگ کا حصہ ہیں تب تک تبدیلی حاکم و جرنیل کت رویے میں مجحے نظر نہیں آتی۔
آپ اپنی شناخت تو بتانے کی ہمت نہیں رکھتے! قومی غیرت کہاں سے دیکھاؤ گے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←