غریب، برگر بچے اور انقلاب

کچھ عرصہ قبل ایک لطیفہ سنا تھا! نہیں معلوم تھا کہ اس کی ایک شکل دیکھنے کو بھی ملی گی!! لطیفہ کچھ یوں تھا کہ ایک امیر خاندان کی بچی اپنے پرچے مین غربت کا مضمون کچھ یوں تحریر کر کے آئی!

“غریب بہت ہی غریب ہوتا ہے، اُس کے پاس پینے کو Nestle کا پانی بھی کم مقدار میں ہوتاہے، وہ پیسے بچانے کے لئے Nestle کی بڑی بوتل خریدتا ہے، یہاں تک کہ ذیادہ گرمی میں وہ جوس پینے کے بجائے اس پانی پر ہی گزارہ کرتا ہے، غریب کے پاس ایک ہی گاڑی ہوتی ہے، اُس کا گھر بھی چھوٹا ہوتا ہے، غریب کے گھر میں سب سے ذیادہ مظلوم اُس کی بیوی ہوتی ہے کیوں کہ وہ بیوٹی پارلر بھی کم ہی جاتی ہے، اور اُسے کئی سوٹ دس سے پندرہ بار سے ذیادہ پہننے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔ غریب نہ صرف خود غریب ہوتا ہے بلکہ اُس کے نوکر، ڈرائیور، مالی، باورچی اور چوکیدار تک غریب ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مل کر غربت کے خاتمے کے لئے اپنی جدوجہد کرنے چاہئے"

ہم سوچتے تھے کہ غریب کے لئے جدوجہد ایسے مضامین لکھنے والے ممکنہ بچے کیسے جدوجہد کریں گے؟ تب ہم نے ایک ایسے ہی بچے کی انقلاب کی کاقش سے متعلق یہ ویڈیو دیکھی آپ سے جانے کہ انقلاب کیوں نہیں آ رہا!!






“جلسے کے لئے آپ دیکھے ہماری بہنوں، mothers کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ہم سارے اچھی فیملی کے لوگ ہیں، ہم سڑکوں پر آئے ہیں نعرہ لگانے کے لئے، عمران خان کے لئے، ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہیں، ہمیں دھکے دے رہی ہے، ہم انقلاب کے لئے آئے ہیں، اپ کے ملک کے لئے آئے ہیں، ہر بندہ اپنے ملک کے لئے نکل کر آیا ہے، اس گرمی میں کون اتنا جلوس کرتا ہے؟ پولیس والے ہمیں دھکے دے رہے ہیں! کس کے لئے؟ ایک انگریز کے لئے! ریمنڈ ڈیوس کے لئے؟ لاہور میں وہ خون خرابے کر کے بھاگ گیا اپنے ملک! ہماری عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا ہوا؟ اتنا انصاف تو کسی میں نہیں ہے! ہم سارے سڑکوں پر آئے ہیں، ہمارے گھروں میں بھی پردے ہوتے ہیں! ہماری عورتیں بھی پردے کرتی ہیں مگر جب انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں ہر بندہ نکل آتا ہے۔ کیوں؟(لوگوں سے سوال) میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں صحیح بول رہا ہوں ناں؟ (آوازیں : جی جی) سارا بندہ نکل آتا ہے! سر ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہے ہم انقلاب کیسے لائے گے؟ آپ بتائیں! آپ میڈیا والے ہیں آپ ہمارے ساتھ اگر ہوں گے تو تب انقلاب آئے گا! اگر پولیس والے ہمیں مارے گے نہیں تب انقلاب آئے گا! آپ دیکھے عمران خان اُس کا کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بہت امیر بندہ ہے، وہ اوپر کھڑا ہوا ہے وہ بھی جلسے جلوس دے رہا ہے اُس کو بھی دھکے لگ رہے ہیں۔ ہر ببدے کو Left, Right, Central دھکے دے رہے ہیں! یہ میرے بھائے گرمی میں خراب ہو گئے ہیں! ہمیں کوئی ضرورت ہے یہاں آنے کی"

کر لو گل!!! اے کی اے؟؟؟ مجھے ذاتی طور پر اس لڑکے کے خلوص پر شبہ نہیں! یہ سچے جذبے سے ممکن ہے سرشار ہو مگر زندگی کی حقیقت نے نا واقف ہے!!

ممکن ہے ایسے ہے پولیس کی دنڈے کے ڈر سے انقلاب سے بھاگنے والے کارکنان سے مایوس ہو کر عمران خان نے لندن والی سرکار کو فون کیا ہو "پیر صاحب! ہمارے بندے تو پولیس سے جان کی امان مانگتے ہیں وہ منتر مجھے بھی دے دو جس سے آپ کے کارکنان پولیس کو جان سے آہو!!!!”

اپ ڈیٹ:- اس جذباتی جذبے والے لڑکے کا رد عمل:

مکمل تحریر پڑھیں ←
اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟

اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟

گزشتہ ہفتہ ہم اپنے وکیل دوستوں کے ہمراہ لاہور کی سیر کو نکلے ہوئے تھے، ۱۴ مارچ کی رات قریب ۱۱:۳۰ بجے اچانک واپسی کا ارادہ ہوا لہذا سامان پیک کیا، اُس وقت ریل گاڑی سے واپسی ممکن نہ تھی لہذا نظر انتخاب Daewoo پر پڑی، Daewoo کے اسٹاپ تک جانے کے لئے ایک رکشہ والے سے معاملہ طے کیا اور روانہ ہوئے۔ ایک جگہ پولیس نے روکا ہم نے تعارف کروایا ، اور آگے روانہ ہوئے تب رکشہ والا یوں مخاطب ہوا
“تو آپ لوگ وکیل ہیں"
ہم "جی جناب، کوئی قصور اس میں ہمارا؟"
رکشہ والا "نہیں جناب قصور آپ کا کیا ہونا ہے، مین نے تو ویسے ہی پوچھ لیا کہ آپ نے ابھی پولیس والوں کو اپنا تعارف کروایا تھا ناں اس لئے"
ہم "اچھا"
رکشہ والا "ویسے صاحب میں مکمل ان پڑھ بندہ ہو مگر یہ جانتا ہوں کہ جس کو قانون آتا ہے ناں وہ بڑا تیز بندہ ہوتا ہے، دوسرا ہم تو ویسے ہی وکیل کا گرویدہ ہے"
ہم "یار گرویدہ تو ہم ہے آپ لاہوریوں کے آپ نے جو ڈیوس کو پکڑا"
رکشہ والا "صاحب ہم نے کیا پکرنا تھا، اُس کی قسمت ہی بری تھی قابو آ گیا"
ہم " نہین یار بڑا کام کیا تم لوگوں نے"
رکشہ والا "صاحب ویسے ایک بات ہے جب سے وہ پکڑا گیا ہے ناں ایک عجیب سا اطمینان ہے اندر، یہ پولیس والے بھی اب مطمین نظر آتے ہیں ذیادہ تنگ نہیں کرتے ورنہ پہلے تو بہت سوال کرتے تھے"
ہم " کیا اطمینان؟ اور پولیس والے کیسے مطمین ہو گئے؟"
رکشہ والا " ارے صاحب، جب کوئی مجرم مکمل ثبوت کے ساتھ پکڑا جائے اور مناسب تشہیر سے یہ احساس ہو کہ اسے قرار واقعی سزا ہو گی تو ہم غریبوں کو اندر سے اطمینان ہوتا ہے کہ انصاف ہو گا، اور پولیس بھی اچھی لگتی ہے محافظ معلوم ہوتی ہے ورنہ تو دشمن۔ صاحب اُس دن سے ہمارا روزگار بھی بڑھا ہے"
ہم "کیا بات ہے آپ تو بہت گہری باتیں کرتے ہوں"
رکشہ والا "ارے صاحب کیوں مذاق اُڑاتے ہوں"

آج ریمنڈڈیوس کی رہائی کی خبر سن کو جو دوسرا شخض ہمارے ذہن میں آیا وہ وہی رکشہ والا تھا۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟ اور سچی بات بتاؤ اب تو خود مجھے بھی عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے کیا معلوم کب کہاں کوئی ریمنڈڈیوس کسی گاڑی سے مجھ پر بھی فائر کر دے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

تمہیں کیوں شکایت ہے؟؟

جب ورلڈکپ کا آغاز ہو تو پی ٹی وی پر رمیز راجہ نے ایک کرکٹ سے متعلق پروگرام کیا! جس میں عبدلقادر بھی شریک تھے! اُس میں کرکٹر عبدلقادرنے پرانے دور کا ذکر کیا تو بتایا کہ کیسے ویسٹ انڈیر کے ایمپائر اپنے ملک میں اپنے کھلاڑیوں کا آؤٹ کھا جاتے تھے!! وجہ عوام کا خوف کہ مارے گے!!
آج ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بنگالیوں سے ہضم نہیں ہوا لہذا ہوٹل جاتی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پتھروں سے نوازا!!! اس پر کرس گیل کچھ یوں شکایت کرتے نظر آئے

مانا کہ بنگلہ دیش کی عوام کو یہ حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی مگر کرس گیل کو اتنا بھی غصہ نہیں آنا چاہئے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
ٹی بریک!! ایک تعارف۔۔۔ایک پلیٹ فارم

ٹی بریک!! ایک تعارف۔۔۔ایک پلیٹ فارم

میرے عزیز(اردو) بلاگرز؛ آج سے ٣ برس پہلے جب ٹی بریک نے انٹرنیٹ کی دنیا میں آنکھ کھولی تو ہمارے سامنے ٢ آزمائشیں تھیں: ایک پاکستانی بلاگز کی دنیا تک رسائی اور دوسرا معیاری مواد کو فروغ دینا. ان چند سالوں میں ہم نے کئ سنگ میل عبور کیے؛ لیکن معیاری مواد آج بھی ہماری اور پڑھنے والوں کی اولین ترجیح ہے. ٹی بریک کو پاکستان کے سب سے بڑے بلاگنگ نیٹ ورک ہونے کا اعزاز حاصل ہے.١٦٠٠ سے زائد registered بلاگزمیں پاکستان کے کئی مشہور بلاگرز بھی شامل ہیں جو انگریزی پڑھنے والوں میں بہت شہرت رکھتے ہیں. ان بلاگز کو نہ صرف پاکستان بلکہ کئی مغربی ممالک میں بھی بہت ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے. جو انکے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے. ان بلاگز نے اپنا سفر ٹی بریک کے ساتھ شروع کیا اور آج بھی ٹی بریک کے ساتھ منسلک ہیں. ان چند سالوں میں کئی اردو بلاگرز سے ملاقات کا شرف ہوا اور ان کے خیالات اور تحریر نے مجھ کو بہت متاثر کیا. لیکن جب بھی تحقیق کے لئے google کی مدد لی تو انگریزی مواد نے اردو مواد پر سبقت لے لی. اسکے پیچھے کئی تکنیکی عوامل کارفرماں ہیں. لیکن عمدہ معیار کے باوجود اردو بلاگز آج وہ حیثیت یا عوامی پذیرائی نہیں رکھتے جو انکو ملنی چاہیے اور اسکا سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ visibility ہے.

ٹی بریک اس بلاگ پوسٹ کے توسط سے تمام اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ٹی بریک میں شامل ہوں اور اردو پڑھنے والوں تک اپنی آواز پہنچایں اور انگریزی بلاگرز کے ساتھ برابری کی سطح پر قدم ملا کر چلیں. اس سے نہ صرف اردو کو ترقی ملے گی ; اردو پڑھنے والوں کو معیاری مواد ملےگا، بلکہ اردو لکھنے والے نوجوان طبقے کو پذیرائی بھی ملے گی جو شہرت کے حصول کے لئے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے. میں اس موقعے پر اپنی بات ختم کرتا ہوں اور آپکی گزارشات اور تجاویز کے لئے اس فورم پر دعوت دیتا ہو. آپ ٹی بریک میں اپنے بلاگز register کروائیں اوراردو کی ترقی کے لئے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں.!

یہ عمار یاسر کی تحریر ہے! ان کا اول ذکر/تعارف اردو بلاگرز عمار ضیاء کی اس تحریر میں پڑھ چکے ہیں! محترم ٹی بریک کے Co-Founder ہیںاور  ایک عمدہ شخصیت کے مالک۔

 اس تحریر کا بنیادی مقصد اردو بلاگرز کی ترویج ہے گو کہ اس سے قبل بھی اردو بلاگرز کو اپنے چند ایک اعلی پلیٹ فارم میسر ہیں
مکمل تحریر پڑھیں ←

بھوک ہرتال

“اوئے کچھ سنا اُس سی آئی اے کے ایجنٹ نے بھوک ہرتال کر دی ہے کہ جب تک مطالبہ پورے نہیں ہوں گے اُس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں گا"
اوئے فکر نہ کر ڈرامہ ہو گا امریکہ ہو یا اُس کا ایجنٹ دونوں بھوکے نہیں رہتے البتہ بھوک کے لئے بندے مار دیتے ہیں خواہ بھوک تیل کی ہو یا اقتدار کی!۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

سوچنے کی بات

“اور میاں کیسے ہو؟"
کرم ہے رب کا آپ سناؤ
“میں تو ٹھیک ہو مگر یہ بتاؤ وڈے سرکار کا ولیمہ کب ہے؟"
کیا مطلب کس کا ولیمہ؟
“یار وہ ہی جو پاکستان کو کھپانے کی آرزو لیئے بیٹھے ہیں آپ کا! سنا ہے محترم نے شادی کھپا دی ہے!”
ارے بھائی وہ خبر تو جھوٹی تھی ! اس لئے تو صدر صاحب نے اس لئے متعلقہ اخبار کو جس نے یہ خبر نیٹ سے لے کر شائع کی تو
محترم نے لیگل نوٹس دے دیا ہے سنا ہےکہ کافی بڑی رقم مانگ لی ہے۔
“کر لو گل تو کیا اس کا مطلب ہے کہ جن معاملات میں جو لیگل نوٹس نہیں دیا تو وہ الزامات سچ ہے
“چپ اوئے"
مکمل تحریر پڑھیں ←
انقلاب ابھی دور ہے

انقلاب ابھی دور ہے

تیونس و مصر کے عوامی احتجاج کو دیکھ کر یار لوگ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ ممکن ہے انہیں دیکھ کر پاکستانی قوم/عوام بھی سڑکوں پر آ جائے! حق مانگے یا حق چھین لے! کیوں کہ میں بھی اس عوام کا حصہ ہوں اس لئے اپنی موجودہ اندرونی حالت کو دیکھ کر یہ جان چکا ہوں کہ ابھی عوام حقوق کی جدوجہد کو زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں لے کر جائے گی۔
ابھی بیداری اُس نہج پر نہیں پہنچی کہ عوام گھر سے باہر نکلے!اُن ملکوں کے حاکم ڈکٹیٹر تھے، اور اپنے جمہوری ڈکٹیٹر!! یعنی بظاہر جمہوری مگر درحقیقت ڈکٹیٹر!! کوئی عوام کے دکھ میں اپنا دکھی ہے کہ ملک سے باہر رہ کر 'چندہ' کی رقم پر گزارہ کر کے، عوامی بلکہ قومی مسائل کا حل تلاش کر رہا ہے، کوئی اپنی باری کے انتظار میں ابھی اپنے نئے لگے بال سنوار رہا ہے اور کوئی 'زر' جمع کرنے کو اقتدار میں ہے۔

کل پھر وہاں جانے کا اتفاق ہوا جہاں حاکم جماعت کے 'co-chairman' صاحب کا(جی آب اُن کا ہی گھر ہے کیا ہوا جوبیٹے کے نام پر ہے) گھر ہے! یہ تو علم تھا کہ ایک مخصوص آرڈیننس کے ذریعہ انہوں نے اپنے تمام مکانات کو 'صدارتی رہائش' قرار دے دیا ہے مگر ہم نا واقف ہیں کہ یہ 'بلاول ہاؤس' کا احاطہ ہے کتنا۔ صدارتی رہائش قرار دینے کے بعد اول اول تو بلاول ہاؤس کے سامنے موجود سروس روڈ کو بند کر دیا گیا سیکورٹی کے نام پر یا کے لئے پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احاطہ اس قدر بڑھتا گیا کہ قریب ہی موجود کلفٹن گرل ہوٹل بند ہوا اوراب یہ ہوا کہ نا صرف سروس روڈ بند ہے بلکہ Express Road کی بھی ساتھ میں 'قبضہ' میں لے لی گئی ہے۔ اور وہاں کنکریٹ کی دیوار بنائی جا رہی ہے جس کی ابتدائی اونچائی قریب 6/7 فٹ ہو گی! سوال یہ ہے کہ اگر صدر پاکستان عوامی سڑک پر اپنی سیکیورٹی کے نام پر قبضہ کر لیں! ایسا ہی کراچی Avari Hotal کے قریب واقعی زرداری ہاؤس والی سڑک پر کیا گیا ہے۔ اور کوئی سؤال کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو یا انگلی نہ اُٹھاتا ہو تو میرا نہیں خیال کہ انقلاب کا سفر ابھی اس قوم نے شروع کرنے کا سوچا بھی ہو!! ابھی یہ قوم حق کے لئے سڑک پر نہیں آئے گی!! البتہ خوش فہمی پال لو تو الگ بات ہے۔
اور جب صدر ایسا کریں تو باقی کسی اور سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟
ہنوز انقلاب دور است!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
دو قصے

دو قصے

پرسوں اپنے کامیاب گورنری کے لئے دیئے گئے انٹرویو کے بعد جب پیپلزلائر فورم کے چیرمین کراچی کے پیپلز پارٹی کے وکلاء کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو ایک شریک محفل کے اس جملے پر کہ "بھائی ان کے ساتھ ابھی جس نے کوئی تصویر بنانی ہو یا وعدہ لینا ہو لے لےورنہ بعد میں کیا معلوم ملاقات ہو بھی یا نہیں؟" تو جواب میں اُن حضرت نے یہ قصہ سنایا!
ایک سابقہ گورنر پنجاب گورنری ملنے سے قبل اپنے ایک دوست کے ہمراہ اکثر شکار کو جاتے تھے اپنے کا وہ دوست جانوروں کی اوازیں نکالنے کا ماہر تھا! جب وہ صاحب گورنر بنے تو جناب کے دوست اُن سے ملنے گورنر ہاؤس پہنچے تو سیکورٹی والوں نے انہیں اندر داخل نہ ہونے دیا جواب میں اُس دوست نے باہر ہی کھڑے ہو کر جانوروں کی آوازیں نکالنا شروع کر دی تو کھر صاحب نے کہا بھائی اس بندے کو اندر انے دوں!! لہذا آپ لوگ بھی وکیل ہو تحریک میں نعرے لگانے کی پریکٹس ہو گئی ہے شروع ہو جانا!! پھر کون روک سکے گا آپ کو داخلے سے؟
اس کے علاوہ ایک اور نہایت دلچسپ و (بتانے والے کے بقول) سچا قصہ یوں ہے!
ہمارے ملک کے ایک صوبے کے وزیراعلی جن کے متعلق اہل خبر جانتے ہیں کہ وہ مخصوص نشے کے شوقین ہیں، اُس ہی نشے میں مدہوش اپنے پہلے اسلام آباد کے دورے سے واپسی پر اپنے صوبے میں لوٹے تو سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر وزیراعلی ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے! ہوئے پروٹوکول کی گاڑیوں نے ہارن/سائرن بجایا، گھبرا کر اپنے ڈرائیور سے مخاطب ہوئے!
“ابے! گاڑی تیز چلا، لگتا ہے اپنے پیچھے پولیس لگ گئی ہے"
ڈرائیور نے عرض کیا جناب پولیس پیچھے نہیں لگی آپ اس صوبے کء وزیراعلی ہو یہ آپ کے پروٹوکول کی گاڑیاں ہیں! آپ کی حفاظت ہر مامور ہیں تو انہیں اطمینان ہو!!!
کمال ہے ناں!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
ایک سوال!!

ایک سوال!!

بڑی لڑائی ہے آج کل عشق رسول و توہین رسول کی!
چلو اس بات کو ایک طرف رکھیں کہ جس کے باپ نے ایک ایسے قاتل کے جنازے کے لئے چارپائی مہیا کی جو اُس وقت کی ریاست کے قانون کے مطابق مجرم ہو کر بھی ایک خاص طبقے میں غازی و شہید کہلایا اور آج اُس کا قاتل بھی ایک خاص طبقے میں وہ ہی مقام رکھتا ہے جبکہ دونوں قاتلوں کا مقصد ایک ہی تھا۔بحث یہ نہیں کہ حق پر کون ہے بلکہ
سوال یہ ہے کہ کیا توہین رسالت کی سزا موت سے کم ہو سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کتنی اور کیوں؟

مکمل تحریر پڑھیں ←