آج کل کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ بینڈکٹ شازدہم برطانیہ کے سرکاری دورے پر ہیں! معلوم ہوا اُن کے قتل کے منصوبہ بنانے والے چھ مسلمان دہشت گرد آخری وقت میں پکڑے گئے! چلو جی پھر شروع قیاس آرائیاں کہ القاعدہ کے بندے ہوں گے! ڈیلی ایکسپریس نے تو یہ ہیڈلائن لگائی "مسلمانوں کا پوپ کو قتل کرنے کا منصوبہ" (یہ تو روشن خیالی ہو گی ناں؟؟ انتہا پسندی یا تعصب تو نہیں کہلائے گا!!)۔

اس ہی طرح سنا ہے دیگر برطانوی اخبارات میں بھی کسی نا کسی شکل میں اسلام و مسلمان کا عنصر ضرور پیش کیا خبر میں!!
میڈیا ٹرائن ہونے کے بعد یہ میڈیا اُس کا ازالہ کیوں نہیں کرتا؟ یوں تو نہیں چلے گا!! اخبارات کو تو ایک طرف رکھے آپ اس قصہ پر لکھے جانے والے بالگ تو زرا تلاش کر کے پڑھے! اور دیکھے قیاس کے ان گھوڑوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں!


اب اُنہیں برطانوی پولیس نے بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا ہے، اور معلوم یہ ہوا کہ کسی لطیفہ کی بنیاد پر گرفتاریاں عمل میں آئی! ایک نے لطیفہ سنایا اور باقی سے سنا! جیسے آج کل پاکستانی آج کل ایس ایم ایس پر وہ z سے شروع ہونے والے نام سے متعلق لطیفہ بھیجتے ہیں!
تو ایسے میں اپ کیا خیال ہے؟ گرفتاری کی اصل وجہ کیا تھی؟ لطیفہ یا ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردی کی عالمی جنگ جس میں ممکنہ دہشت گرد کون ہو گا؟میڈیا ٹرائن ہونے کے بعد یہ میڈیا اُس کا ازالہ کیوں نہیں کرتا؟ یوں تو نہیں چلے گا!! اخبارات کو تو ایک طرف رکھے آپ اس قصہ پر لکھے جانے والے بالگ تو زرا تلاش کر کے پڑھے! اور دیکھے قیاس کے ان گھوڑوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں!

اب کیا یہ دلچسپ حسن اتفاق نہیں کہ وہ 26اگست کو نیویارک ٹائمز میں ایک نیا تنقید سے بھرا مضمون لکھتے ہیں جسے بہت سے پاکستانی میڈیا آئوٹ لیٹس دیکھتے ہیں لیکن بیشتر ہیریسن کے ماضی کے پیش نظر اسے محض پروپیگنڈہ خیال کرتے ہوئے نظرانداز کر رہے ہیں۔ یہ مضمون بھارتی جنرل کو ویزا دینے کے چینی انکار کے فوری بعد پاکستان اور چین کے بارے میں تحریر کیا گیا تھا۔ اچانک نیویارک میں بیٹھے ہوئے اس نے ایک انتہائی تصوراتی مضمون تحریر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان میں علاقے کے حقیقی کنٹرول کیلئے 7ہزار سے 11ہزار تک چینی فوج پہنچ گئی ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پورے علاقے میں پاکستان کے خلاف بغاوت ہو چکی ہے۔ یہ بے سروپا دعویٰ ہے کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح علاقے کے لوگوں کو پہلی بار قومی سیاست کے دھارے میں لایا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کیلئے اس علاقے کو بند کر دیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ اس علاقے میں رونما ہونیوالے تمام واقعات تک کھلی رسائی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا یہ ایک مکمل جائز ایجنڈا ہے کہ گوادر پورٹ سے شمال کی جانب چین کے اندر سڑک اور ریل کے رابطے تعمیر کئے جائیں جس سے شاہراہ قراقرم کی اہمیت بڑھے گی۔ درحقیقت متواتر پاکستانی حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ بحیرہ عرب سے چین تک ریل اور سڑک کے ذریعے زیادہ روابط قائم کئے جائیں اور اب ایران سے چین تک انرجی پائپ لائن کا منصوبہ بھی ہے یہ بتاتے ہوئے کہ چینی کس طرح بھارت کے اندر اپنے ریل رابطوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہیریسن آخر کیوں پاکستان چین مواصلاتی روابط پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے فکرمند ہیں جبکہ کوئی انکے حد سے زیادہ پاکستان مخالف ذہنی رجحان کو بخوبی سمجھتا ہے کہ اگرچہ ہیریسن تسلیم کرتا ہے کہ بعض فوجی وہاں روڈ اور ریل انفراسٹرکچر کی تعمیر کے مقصد کیلئے مقیم ہیں جیسے شاہراہ قراقرم کیلئے وہاں رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ خود کو بھارتی پراپیگنڈہ کار کے اس نقطہ نظر سے نہیں بچا سکا کہ وہاں ضرور کوئی اور کام بھی ہو رہا ہے۔
آرڈینس کی دفعہ 4 کے تحت روزے کے وقت کے دوران کسی ریسٹورنٹ، کینٹین یا ہوٹل کے مالک، نوکر، منیجر یا کسی اور پبلک پلیس پر کسی فرد کو جانتے بوجھتے رمضان میں کھانے کی سہولت دینا یا دینے کی آفر کرنا منع ہے جبکہ اُس فرد پر روزہ لازم ہو اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ تین ماہ کی قید، یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا حقدار ہو گا۔