سیلابی پروپیگنڈہ

سیلابی پروپیگنڈہ

کچھ باتیں ہماری قوم کے مزاج میں بہت عجیب ہیں، یہ ناواقف ہیں یا نا سمجھ اس سے خدا ہی آشنا ہے۔ کچھ برائیاں ہم میں ہیں مگرحرکات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کچھ ہم خود میں دیکھانا چاہتے ہیں!
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سر سے پیر تک خود کو اور اپنوں کو بُرا ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں!اس بات کو میں نے پہلی بار تب محسوس کیا جب میں سعودی عرب گیا! پھر تب تب جب کوئی یار دوست یا رشتہ دار باہر سے آیا!!
سعودی عرب میں میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ معاشرتی برائیوں میں ہم سے ذیادہ مبتلا ہے مگر ایک خاص چیز جو اُن میں خوبی کی شکل میں ہے وہ برائی کی تشہیر نہ کرنا! وہاں ہمارے وہ عزیز جو بھٹو دور میں جا کر آباد ہوئے اور اُن کی ایک نسل وہاں ہی پروان چڑھی کی زبانی جو باتیں معلوم ہوئی اُنہیں سُن کر شکر ادا کیا کہ ہماری قوم عملا اتنی خراب نہیں! ہمارے ہاں یہ عام تاثر لیا جاتا ہے کہ سعودیہ میں ہیروہین کے اسمگلر کو موت کی سزا دے دی جاتی ہے اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی! مگر ایسا وہ اپنے سعودی شہریوں کے ساتھ نہیں کرتے! اور نہ ہی اپنے اُن دوستوں کو جن کو وہ اپنا "جگری" مانتے ہوں! مگر باقی افراد کے لئے اُن کا قانون نہایت سخت ہے!! یہ بات ہم قریبی مشاہدے کی بناء پر کر رہے ہیں کہ ایسے ایک دو قصے ہمارے علم میں ہیں! باقی اگر آپ اُس معاشرے میں اجنبی ہیں تو لازم ہے کہ جرم سرزد ہونے پر آپ قانون کے شکنجے میں جکڑے جائے بغیر کسی رعایت کے۔
اس سے ملتی جلتی صورت حال مجھے تو کم از کم یورپ و امریکہ میں بھی نظر آتی ہے ایسے معاملات کا علم ہوا کہ مقامی پولیس اپنے ہم نسل کو دوران تفتیش کئی معاملات میں آسانیاں فراہم کرتی ہے جس میں معمولی جرم کی صورت میں گرفتار نہ کرنا یا تفتیش میں سست روی دیکھانا وغیرہ۔ مگر ہمیں اُن میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ ایسا نئی نسل ہی میں نہیں بلکہ بزرگوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جیسے کہ ایک بار کا قصہ یوں کہ اہم ایک بزرگ وکیل کے پاس بیٹھے تھے (کہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کو مل جاتی ہیں)، اُن کے ایک ہم عمر دوست و کلائینٹ آ گئے پہلے پہل تو اپنے بیٹوں کہ پاکستان سے پردیس ہجرت کر جانے کے عمل کو سراہنے لگے پھر ملک کے حالات کا رونا رویا یہاں تک ٹھیک تھا! اچانک کہنے لگے یہ ملک ان حکمرانوں سے نہیں چل سکتا انگریز ہی ٹھیک تھا!میں تو کہتا ہوں اب بھی اُن کو بلا کر حوالے کرو دیکھو کیسے ٹھیک ہو جائے گا! اس بات پر اُس سے جو بحث ہوئی وہ ایک خاص نقطہ پر جا کر بلا شبہ بدتمیزی کے ذمرے تک پہنچ گئی مگر نہ معلوم مجھے اُس پر افسوس نہیں ہے، اور  مجھے لگتا ایسے افراد مجھ سے خواہ وہ چھوٹے ہو یا بڑے! عالم ہوں یا جاہل!  میں بدتمیزی، خاص کر جو میرے ملک اور یہاں کے لوگوں کو بُرا سمجھیں با حیثیت قوم، ہونا  اُن کا حق ہے!

بات کہاں سے کہاں نکل گئی میں یہ کہہ رہا تھا کہ خود میں برائی کا احساس ہونا بُرا نہیں مگر اس کی یوں تشہیر اچھی نہیں! 2005 کے زلزلے میں یقین حکمران جماعتوں اور مختلف این جی اوز نے امداد کے سامان میں خُردبرد کیا مگر اس قدر نہیں کتنی آپسی دشمنی کی بناء پر تشہیر کی گئی اور یہاں سے خبریں بنا بنا کر عالمی میڈیا کے ذریعے بدنامی کمائی گئی تھی اب یہ حال ہے وہ بدنامی عالمی سطح پر بے اعتباری کی شکل میں مدد میں رکاوٹ کا روپ لیئے ہوئے ہے غیروں میں ہی نہیں اپنوں میں بھی اور وہی سیاست اب بھی جاری ہے!! سیلابی پروپیگنڈہ کے روپ میں کیا ایسے معاملات میں اپنوں کو گالی دے کر اپنا نام کمایا جا سکتا ہے؟جبکہ محسوس ہو کہ یہ گالی حقیقت کے بیان کے بجائے اندرونی نفرت کے زیراثر جھوٹ کا فروغ ہے! اور اس جھوٹ کے فروغ میں شعوری و لاشعوری طور پر شریک احباب بھی برابر کے شریک ہیں! پچھلے دنوں کراچی کے حالات خراب ہوئے تب بھی اور اب جب ملک میں سیلابی آفت نازل ہےتو بھی آپسی نفرت کے زیر اثر موبائل پر ایس ایم ایس کی شکل میں اور انٹرنیٹ پر ای میل و دیگر انداز میں خود اپنوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جا رہی ہے، نہایت افسوس تب ہوتا ہے جب اہل عقل بھی اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں! اب یہاں دینی حوالہ دوں گا تو کئی احباب کو خود کو مومن کی فہرست سے باہر کرنے پرتکلیف ہو گی!۔
(یہ تحریر عنیقہ ناز کی تحریر پر ایک "بے نام" تبصرے میں بلا ثبوت ہوائی اُڑانے پر لکھی گئی ہے، اُس تبصرہ میں فوج مخالف پروپیگنڈہ تھا! جس کی حمایت خود عنیقہ ناز نے ثبوت فراہم کئے بغیر کی!میرے علم کے مطابق اُس پورے تبصرہ میں صرف ایک بات سچی تھی کہ امدادی سرگرمی میں شامل فوجیوں کو ہنگامی حالات کے اختتام پر چند دن کی چھٹی دیی جائے گی! میں سمجھتا ہوں بے نام اور بے ہودہ تبصرے بلاگرز کو اپنے بلاگ سے ہٹا دینے چاہئے! یہ خود صاحب بلاگ کے لئے اچھا ہے)


مکمل تحریر پڑھیں ←
امدادی تو بہرحال آپ کو اور مجھے بننا ہے

امدادی تو بہرحال آپ کو اور مجھے بننا ہے

میں سمجھ رہا تھا یہ احساس ہم میں نہیں رہا کہ اپنوں کی مدد کرنی ہے مگر جب اردگرد نظر ڈالی، یاروں دوستوں سے بات کی تو دل میں ایک نامعلوم سا احساس جاگا کہ جو سمجھ رہا ہوں ویسا نہیں ہے بس دیکھایا جا رہا ہے کہ ہم میں احساس نہیں ہے! بتایا جا رہا ہے کہ ہم سنگ دل ہو چکے ہیں!
معذرت کے ساتھ اس میں جہاں خود ہماری غلطی ہے وہاں میڈیا نے بھی کچھ ایسا رول ادا کیا کہ دلوں میں سختی پیدا ہو گئی جو اب سیلاب کی تباہ کاریوں کی آگاہی سے کم ہوتی جا رہے ہے دوسرا عنصر بے اعتباری کا ہے! امداد کرنے کو دل کرے بھی تو یہ بے اعتباری کہ کس کے ذریعے امداد حقدار تک پہنچےگکی؟ سیاسی پارٹیاں تو ویسے بھی بے اعتبار ہو چکی ہیں! ہم لوگوں کا اعتبار اب تو امدادی اداروں پر نہیں رہا!خواہ وہ حکومتی ہوں یا غیرسیاسی! ایسی کہانیاں میڈیا میں 2005 کے زلزلہ کے امدادی سامان کی آئی تھیں اس بات سے ہٹ کر کہ آیا و سچی تھیں یا جھوٹی آج ہم منتظر اپنوں کی مدد میں سستی کے مرتکب ہوئے ہیں!
اگر آج ہم نے سستی کی تو کل ہمیں اس کا اور بڑا نقصان دیکھنا پڑے گا! کوئی تاویل کوئی بہانہ نہیں بات سیدھی سی ہے ہم میں سے ہر کسی کو اس مشکل گھڑی میں امدادی تو بننا پڑے گا!! کہ منتظر ہیں جو وہ میرے اپنے ہیں!

امداد سے متعلق چند تحریریں بلاگستان سے!!
سیلاب زدگان کی مدد کیجیے
آپ کی مدد کے منتظر
آؤمتاثرین کی امدادکریں


یہ صحفہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←
ان کو پانی بادشاہ لگتا ہے!!

ان کو پانی بادشاہ لگتا ہے!!

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے۔ اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں اور اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو اب اللہ کے نام پر جاری رہنا"

کیا آپ کو یاد ہے یہ کس خط کا مضمون ہیں! تاریخ دانوں کے بتائے ہوئے قصہ کے مطابق خلیفہ حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام اُس میں آنے والی ممکنہ خُشک سالی کا معلوم ہونے پر ایک نوجوان حسینہ کو اُس کی بھیٹ چڑنے سے بچانے کے لئے لکھا تھا اور تب ہی سے دریا نیل میں خُشکی نہیں آئی! اللہ اور اُس کے رسول پر کامل یقین تھا تو حکم چلانے کا حوصلہ بھی اور جانتے تھے یہ اختیار حاصل ہے۔
مگر اپنے سندھ کے وزیراعلی صاحب فرماتے ہیں "پانی تو بادشاہ ہے مقابلہ تو نہیں کرسکتے حدود میں رکھنے کی کو شش کریں" اندازہ لگائے! آج کے اس دور میں بھی جو پانی کو بادشاہ کہئے وہ اُس سے کیا بچاؤ کروائے گے!!
اگر حکمرانوں کی یہ سوچ ہو تو عوام کی حفاظت ممکن ہو گی؟ جبکہ اُن کی اپنی تاریخ اُنہیں ایک الگ سبق سکھا رہی ہو۔


مکمل تحریر پڑھیں ←
کیا جشن آز|دی و رمضان کی مبارک باد دی جائے؟

کیا جشن آز|دی و رمضان کی مبارک باد دی جائے؟

اپنے علاقے پر نظر ڈالی تو یوں لگا کہ جیسے کوئی کمی ہو!! کچھ ایسا جو ہونا چاہئے مگر نہیں ہے! وہ کیا ہے؟ یوں معلوم ہوتا ہے ہم وہ نہیں رہے جو تھے! اور جو ہونے چاہئے!!
ہم میں احساس و جذبہ دونوں ختم ہو گئے ہیں! یا کم ہو گئے ہیں ہم ہم نہیں رہے بلکہ میں ہو گئے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ جشن آزادی کا جوش و رمضان کا مہینہ دونوں مل کر ہم میں ایک نئی رو پھونک دیتے مگر ہم تو کسی خاص بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، ملک کی دو کروڑ کی آبادی جو قریب کل آبادی کا گیارہ فیصد بنتا ہے بے حال و بے گھر ہو چکا، مگر وہ جو خود کو اس بپھرے پانی سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اپنے حال میں مست ہیں!
یہ بات ہر صاحب دل نے محسوس کی کہ اس بار سیلاب زدگان کی مدد کا جذبہ اہل وطن میں کافی کم دیکھائی دیا ہے۔ اور ایسا تب دیکھنے میں آیا جب ہم اپنی تاریخ کے سب سے بڑی تباہی کا سامنا کرر ہے ہیں یہ اس دہائی کا سب سے بڑا المیہ یا حادثہ ہے جس سے قوم گزر رہی ہے بلکہ معذرت ہم نے تو یہ جانا کہ اب یہاں بھی قومیں آباد ہے ایک قوم ہوتی تو مدد کرتی جب تقسیم دلوں کی یوں ہو کہ ہر ہر گروہوں خود کو قوم کہے تو امدادی غیر قومیں ہی ٹہرتی ہیں! تب اپنے خیر ٹھرتے ہیں جن کی مدد نہ تو فرض ہوتی ہے نہ حق مانی جاتی ہے خاص کر تب جب "فکر" میں متبلا یہ وضاحت کر چکے ہوں کہ یہ تو جانور ہیں، جاہل ہے، بد تہذیب بھی! (یہاں یہ وضاحت کر دوں مجھے خاور کی دونوں پوسٹوں کا انداز و لہجہ اچھا نہیں لگا! اُس میں موجود گروہی مواد سے بھی اختلاف ہے)
قوموں کی تاریخ میں دو موقع ہی تو اہم ہوتے ہیں ایک اُن کے قومی دن دوسرے اُس کے مذہبی تہوار!! ہم تاریخ کے اُس دوراہے پر ہیں جب ہم پر اپنی قومی زندگی کی ایک بڑی مصیبت نازل ہو چکی ہے، اور ہمارے قومی دن و مذہبی تہوار دونوں ہم میں ایک قوم کا جذبہ پیدا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
تو کیا ایسے میں جشن آزادی اور آمد رمضان کی مبارک باد دی جائے اگر ہاں تو کس کو؟ وہ جو خود پنجابی تو ہے، خود سندھی تو ہے،خود بلوچی تو ہے، پٹھان تو ہے، مہاجر تو ہے، ہزاراوال تو ہے مگر پاکستانی نہیں! یا دوسرے کو پاکستانی ماننے کو تیار نہیںاور جو سنی تو ہے، اہلحدیث تو ہے، شیعہ تو ہے، مگر دوسرے کومسلمان ماننے کو تیار نہیں!!!
بلکہ سچی بات کہو تووہ دوسرے کو انسان ماننے کو تیار نہیں! دل نہیں مانتا کہ انہیں جشن آزادی کی مبارک باد دوں، انہیں آمد رمضان پر نیک تمناؤں سے نوازوں!
بہت مایوس ہوا ہوں میں خاص کر اُس سے جنہیں صاحب علم و شعور سمجھ رہا تھا۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے










سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے

تو وہ حملہ نہیں کرتا

سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے

تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو

پڑوسی مان لیتی ہیں

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سارا جنگل جاگ جاتا ہے

ندی میں باڑ آجائے

کوئی پل ٹوٹ جائے

تو کسی لکڑی کے تختے پر

گلہری سانپ چیتا اور بکری

ساتھ ہوتے ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے

خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر

ہمارے شہر میں اب

جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر



شاعرہ: ذہرہ نگار

مکمل تحریر پڑھیں ←
بلاگر پارٹی

بلاگر پارٹی

اگر آپ بلاگرز ڈاٹ کام پر بلاگنگ کرتے ہیں اور مستقبل مین بھی میری طرح اس ہی پلیٹ فارم سے منسلک رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ آپ کا یہ بلاگ ہوسٹ گیارہ سال کا ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں بلاگر نے پوری دنیا میں 31 اگست 2010 کو ایک ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔
اگر آپ کا ارادہ ہو تو اُس میں شرکت کرنے کے لئے یہاں خود کو رجسٹر کروا لیں! یہ دیکھ کر کہ آپ کے شہر میں آیا یہ پارٹی منعقد ہو رہی ہے یا نہیں! شرکت کی شرط صرف اتنی کہ آپ کا بلاگ بلاگر ڈاٹ کام پر ہو!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیوں ہوا؟

یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیوں ہوا؟

ابتدا ہی اس دورے پر تنقید تھی! اول اول تو برطانوی وزیراعظم کے بھارت میں دیئے جانے والے بیان کو لے کر دوئم یہ کہ ملک میں سیلاب کی بناء پر اکثر کی رائے یہ تھی انہیں ملک میں رہ کر سیلابی امداد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے!
اور اختتام بھی اچھا نہیں ہوا کہ ایک بزرگ نے اُن کی طرف دو جوتے اُچھال دیئے جسے برطانوی پولیس نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے چھوڑ دیا! بزرگ نے سندھ کا رواتی لباس پہن رکھا تھا!! بعد میں جب حاضرین جو دراصل پارٹی کارکنان تھےنے "گو زرداری گو" کے نعرہ لگائے تو محترم ادھوری تقریر چھوڑ کر چلے گئے۔
بحیثیت پاکستانی مجھے پاکستان کے صدر کو یوں بین الاقومی وزٹ پر اپنی پارٹی کارکنان ست خطاب پر جوتا پڑنا اچھا نہیں لگا! دوئم اپنے میڈیا کو اس بات کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری رکھنا!!۔
یہ کوئی ہنسی مزاق کی بات نہیں عالمی سطح پر نہایت بدنامی کی بات ہے۔
ایک اعتراض جو اول دن سے مجھے ہے وہ یہ کہ زرداری صاحب کو ملک کا صدر بنے کے بعد پیپلزپارٹی کی چیئرمین شب سے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا صدر کا عہدہ وفاق کی علامت اورمملکت کے سربراہ کی حیثیت کا حامل ہے اس بناء پر کسی سیاسی پارٹی سے صدر کا تعلق نہیں ہونا چاہئے، اگر وہ اول دن ہی یہ بات سمجھ جاتے تو اچھا ہوتا وجہ یہ کہ یہ جوتا دراصل صدر پاکستان کو نہیں مارا گیا تھا بلکہ مارا تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران ایک رُکن نے مارا! مگر بدنامی پاکستان کے صدر کے حصے میں آئی!!
یوں تو سرکاری ٹی وی نےجوتا پڑنے والی بات گول کر کےاس خطاب کو برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی سے قرار دیا ہے مگر یہ بات نہایت صاف تھی کہ یہ دراصل پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب تھا۔
مگر ان اقتدار کی ہوس اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے (کسی ممکنہ خوف کے پیش نظر) کے شوق میں مبتلا حاکموں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
اتنا ضرور ہے کہ جوتا مارنے کی روایت جوتا بننے کے بعد ہی ایجاد ہوئی ہے۔ اور شاید خواتین سر مردوں کی طرف آیا ہے، دوسرا رزداری صاحب کو ذیادہ غصہ نہیں کھانا چاہئے بُرے کام کرنے پر کاندان کے بزرگ ایک دو جوتا لگا دیتے ہے! آگے حرکتیں اچھی رکھے تو شاباشی بھی مل سکتی ہے ویسے بھی دُر فٹہ منہ کی جگہ دُر شاباش نے لے ہی لی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←