یہ لیں چند نوجوانوں کی طرف سے کمرشل کی پیروڈیاں تیار کی گئی ہے!! ذاتی طور پر!! کچھ نہیں ہے ان میں مگر شغل و طنز ہے۔

بلاگر پارٹی
اگر آپ بلاگرز ڈاٹ کام پر بلاگنگ کرتے ہیں اور مستقبل مین بھی میری طرح اس ہی پلیٹ فارم سے منسلک رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ آپ کا یہ بلاگ ہوسٹ گیارہ سال کا ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں بلاگر نے پوری دنیا میں 31 اگست 2010 کو ایک ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔
اگر آپ کا ارادہ ہو تو اُس میں شرکت کرنے کے لئے یہاں خود کو رجسٹر کروا لیں! یہ دیکھ کر کہ آپ کے شہر میں آیا یہ پارٹی منعقد ہو رہی ہے یا نہیں! شرکت کی شرط صرف اتنی کہ آپ کا بلاگ بلاگر ڈاٹ کام پر ہو!!

اگر آپ کا ارادہ ہو تو اُس میں شرکت کرنے کے لئے یہاں خود کو رجسٹر کروا لیں! یہ دیکھ کر کہ آپ کے شہر میں آیا یہ پارٹی منعقد ہو رہی ہے یا نہیں! شرکت کی شرط صرف اتنی کہ آپ کا بلاگ بلاگر ڈاٹ کام پر ہو!!
یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیوں ہوا؟
ابتدا ہی اس دورے پر تنقید تھی! اول اول تو برطانوی وزیراعظم کے بھارت میں دیئے جانے والے بیان کو لے کر دوئم یہ کہ ملک میں سیلاب کی بناء پر اکثر کی رائے یہ تھی انہیں ملک میں رہ کر سیلابی امداد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے!
ا
ور اختتام بھی اچھا نہیں ہوا کہ ایک بزرگ نے اُن کی طرف دو جوتے اُچھال دیئے جسے برطانوی پولیس نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے چھوڑ دیا! بزرگ نے سندھ کا رواتی لباس پہن رکھا تھا!! بعد میں جب حاضرین جو دراصل پارٹی کارکنان تھےنے "گو زرداری گو" کے نعرہ لگائے تو محترم ادھوری تقریر چھوڑ کر چلے گئے۔
بحیثیت پاکستانی مجھے پاکستان کے صدر کو یوں بین الاقومی وزٹ پر اپنی پارٹی کارکنان ست خطاب پر جوتا پڑنا اچھا نہیں لگا! دوئم اپنے میڈیا کو اس بات کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری رکھنا!!۔
یہ کوئی ہنسی مزاق کی بات نہیں عالمی سطح پر نہایت بدنامی کی بات ہے۔
ایک اعتراض جو اول دن سے مجھے ہے وہ یہ کہ زرداری صاحب کو ملک کا صدر بنے کے بعد پیپلزپارٹی کی چیئرمین شب سے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا صدر کا عہدہ وفاق کی علامت اورمملکت کے سربراہ کی حیثیت کا حامل ہے اس بناء پر کسی سیاسی پارٹی سے صدر کا تعلق نہیں ہونا چاہئے، اگر وہ اول دن ہی یہ بات سمجھ جاتے تو اچھا ہوتا وجہ یہ کہ یہ جوتا دراصل صدر پاکستان کو نہیں مارا گیا تھا بلکہ مارا تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران ایک رُکن نے مارا! مگر بدنامی پاکستان کے صدر کے حصے میں آئی!!
ی
وں تو سرکاری ٹی وی نےجوتا پڑنے والی بات گول کر کےاس خطاب کو برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی سے قرار دیا ہے مگر یہ بات نہایت صاف تھی کہ یہ دراصل پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب تھا۔
مگر ان اقتدار کی ہوس اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے (کسی ممکنہ خوف کے پیش نظر) کے شوق میں مبتلا حاکموں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
اتنا ضرور ہے کہ جوتا مارنے کی روایت جوتا بننے کے بعد ہی ایجاد ہوئی ہے۔ اور شاید خواتین سر مردوں کی طرف آیا ہے، دوسرا رزداری صاحب کو ذیادہ غصہ نہیں کھانا چاہئے بُرے کام کرنے پر کاندان کے بزرگ ایک دو جوتا لگا دیتے ہے! آگے حرکتیں اچھی رکھے تو شاباشی بھی مل سکتی ہے ویسے بھی دُر فٹہ منہ کی جگہ دُر شاباش نے لے ہی لی ہے!

ا
بحیثیت پاکستانی مجھے پاکستان کے صدر کو یوں بین الاقومی وزٹ پر اپنی پارٹی کارکنان ست خطاب پر جوتا پڑنا اچھا نہیں لگا! دوئم اپنے میڈیا کو اس بات کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری رکھنا!!۔
یہ کوئی ہنسی مزاق کی بات نہیں عالمی سطح پر نہایت بدنامی کی بات ہے۔
ایک اعتراض جو اول دن سے مجھے ہے وہ یہ کہ زرداری صاحب کو ملک کا صدر بنے کے بعد پیپلزپارٹی کی چیئرمین شب سے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا صدر کا عہدہ وفاق کی علامت اورمملکت کے سربراہ کی حیثیت کا حامل ہے اس بناء پر کسی سیاسی پارٹی سے صدر کا تعلق نہیں ہونا چاہئے، اگر وہ اول دن ہی یہ بات سمجھ جاتے تو اچھا ہوتا وجہ یہ کہ یہ جوتا دراصل صدر پاکستان کو نہیں مارا گیا تھا بلکہ مارا تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران ایک رُکن نے مارا! مگر بدنامی پاکستان کے صدر کے حصے میں آئی!!
ی
مگر ان اقتدار کی ہوس اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے (کسی ممکنہ خوف کے پیش نظر) کے شوق میں مبتلا حاکموں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
اتنا ضرور ہے کہ جوتا مارنے کی روایت جوتا بننے کے بعد ہی ایجاد ہوئی ہے۔ اور شاید خواتین سر مردوں کی طرف آیا ہے، دوسرا رزداری صاحب کو ذیادہ غصہ نہیں کھانا چاہئے بُرے کام کرنے پر کاندان کے بزرگ ایک دو جوتا لگا دیتے ہے! آگے حرکتیں اچھی رکھے تو شاباشی بھی مل سکتی ہے ویسے بھی دُر فٹہ منہ کی جگہ دُر شاباش نے لے ہی لی ہے!
ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے
ہم نہ مہاجر ہیں، نہ پٹھان ہیں، نہ میمن ہیں،یہ لوگوں نے ناں بہت فرق نکال لئے ہیں ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم سب مسلمان ہیں۔ فرقہ ایک ہی ہونا چاہیئے، لوگوں نے بول دیا تو ہم سے دور رہ تو پختون ہے تو مہاجر ہے، یہ سب غلط بات ہےہم سب مسلمان ہیں!
یہ بی بی سی کی رپورٹ (1:20 سے 1:45 منٹ تک) میں شامل اُس لڑکے کے تاثرات تھے جو کرکٹ کھیل رہے تھے اور ساتھی لڑکوں نے اس بات کی حمایت میں تالیاں بجائی نیر ویڈیو میں نظر آنے والے پشتون لڑکے نے اُس ساتھی لڑکے کو سینے سے لگا لیا!!! اگر کسی کو یہ شکایت ہے کہ یار دوست تحریر حذف کر کے شیئر کرتے ہیں تو مجھے بھی یہ افسوس ہے کہ کم عمر لڑکوں کی اس قدر لسانیت مخالف تاثرات کو بی بی سی نے بوقت تحریر قلم بند نہیں کیا!! مگر شکریہ کہ بعد میں ویڈیو لگا دی اور بات پہنچ گئی۔
منجانب اہلیان کراچی
لو جی ہمیں آج تک اہلیان کراچی و کراچی کے شہریوں کی سمجھ نہیں آئی! بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ دراصل اہلیان کراچی و کراچی کے شہری ہیں کون؟؟
کیا آپ کو سمجھ ہے؟ یا آپ بھی میری طرح ہی ہیں! نا سمجھ؟ اب دیکھے ناں ایک دن آپ صبح صبح دفتر کے لئے یا کام سے نکلتے ہیں تو شہر میں بینر لگے ہوتے ہیں،
شہر میں طالبانائزیشن نا منظور منجانب اہلیان کراچی!
کبھی
لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا نامنظور اہلیان کراچی!
کہیں!
کراچی کے شہری بھتہ مافیاں اور دہشت گردوں کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گے!
یہ بینر کالے یا سفید رنگ کے کپڑے پر ہوتے ہیں! حیران کن بات یہ کہ یہ "نامعلوم" اہلیان کراچی چار سے آٹھ گھنٹے میں تمام کراچی میں بینر نصب کر دیتے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا! اور کہیں کراچی بچاؤ تحریک کے پوسٹر لگے ہوتے ہیں!! جس میں کراچی کے شہریوں کو مخاطب کیا ہوتا ہے۔
جیسے ہی کراچی کے حالات کسی بھی ABC وجہ سے خراب ہوں! نام نہاد لیڈر، رہنما، سیاستدان اور بھائی کراچی کے شہریوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کہ حقیقت میں کراچی کے شہری خود امن کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں! جان بچا کر بھاگ رہے ہوتے ہیں! اپنی گاڑیوں کو جلنے سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں!نہ کہ امن کو تباہ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہوتے ہیں!
خدا کرے کل کو واقعی اصلی والے اہلیان کراچی پورے کراچی میں بینرز بنا کر لگا دیں! جس پر درج ہوں

کیا آپ کو سمجھ ہے؟ یا آپ بھی میری طرح ہی ہیں! نا سمجھ؟ اب دیکھے ناں ایک دن آپ صبح صبح دفتر کے لئے یا کام سے نکلتے ہیں تو شہر میں بینر لگے ہوتے ہیں،
شہر میں طالبانائزیشن نا منظور منجانب اہلیان کراچی!
کبھی
لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا نامنظور اہلیان کراچی!
کہیں!
کراچی کے شہری بھتہ مافیاں اور دہشت گردوں کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گے!
یہ بینر کالے یا سفید رنگ کے کپڑے پر ہوتے ہیں! حیران کن بات یہ کہ یہ "نامعلوم" اہلیان کراچی چار سے آٹھ گھنٹے میں تمام کراچی میں بینر نصب کر دیتے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا! اور کہیں کراچی بچاؤ تحریک کے پوسٹر لگے ہوتے ہیں!! جس میں کراچی کے شہریوں کو مخاطب کیا ہوتا ہے۔
جیسے ہی کراچی کے حالات کسی بھی ABC وجہ سے خراب ہوں! نام نہاد لیڈر، رہنما، سیاستدان اور بھائی کراچی کے شہریوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کہ حقیقت میں کراچی کے شہری خود امن کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں! جان بچا کر بھاگ رہے ہوتے ہیں! اپنی گاڑیوں کو جلنے سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں!نہ کہ امن کو تباہ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہوتے ہیں!
خدا کرے کل کو واقعی اصلی والے اہلیان کراچی پورے کراچی میں بینرز بنا کر لگا دیں! جس پر درج ہوں
تمام سیاسی ، مذہبی و لسانی جماعتوں و گروہوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اپنی ذاتی سوچ و خیال اور ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات براہ راست ایک دوسرے تک پہنچاؤ ہمارا نام استعمال نہ کیا جائے منجانب اہلیان کراچی!
دوپٹہ
عالمی اخبار کے بلاگ پر اج "نادیہ بخاری" کا یہ بلاگ پڑھا اچھا لگا اس لئے یہاں شیئر کر رہا ہوں۔اٹھارہ سالہ شکیلہ میرے ہاسٹل میں تقریبا دس سال سے ملازمہ ہے میرے ہا سٹل مالکان ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکہ سے واپس ائے اور کافی سامان بھی ساتھ لائے کل میں کچن میں کھڑی تھی تو شکیلہ مجھے کہنے لگی باجی امریکی پاگل ہیں کیا ؟میں نے حیرت سے جواب دیا نہیں کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگی دیکھیں نہ باجی اپ کے پیچھے جو چپل پڑی ہے وہ ہاسٹل والی باجی امریکہ سے لائی ہے اور اس پر امریکہ کا جھنڈا بنا ہوا ہے بھلا بتاو کوئی جھنڈا بھی اپنے پاوں میں پہنتا ہے مجھے شکیلہ کی پریشانی میں لطف انے لگا میں نے شکیلہ کو چھیڑنے کے لئے کہا کہ شکیلہ تیرا کیا بھروسہ ابھی ہوسٹل والی باجی نے کوئی پرانا سا پاکستانی جھنڈا نکالنا ہے اور تو نے اس سے جھاڑ پونچھ شروع کر دینی ہے تو فورا شکیلہ بولی ہاے بخاری باجی میں مر نہ جاوں جو میں اپنے ملک کے جھندے کو اس مقصد کے لئے استعمال کروں میرے ملک کا جھنڈا تو میرے سر کا دوپٹہ ہے بھلا کوئی دوپٹہ کی بھی بے قدری کرتا ہے شکیلہ نے اپنی زندگی میں ابھی تک سکول کا منہ نہیں دیکھا لیکن اس کی سوچ یقینا ان کئی نوجوانوں سے افضل ہے جو اپنی تعلیم سے تخریب کاری کا سامان تیار کر کے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں شکیلہ جیسے حب الوطن نوجوان ہوں بھلا بتائیں کہ کیا کبھی اس ارض پاک کی طرف کوئی دشنمن میلی انکھ سے دیکھ سکتا ہے؟
کراچی میں بارش
جعلی ڈگریوں والے
جی جناب یہاں جعلی ڈکریوں والے اب تک کے سیاستدانوں کی مکمل لسٹ ہے دیکھیں اور کتنے سیاستدان اس لسٹ میں شامل ہوتے ہیں!!!۔
ویسے اُن لوگوں کو کیسے پکڑا جائے جنہوں نے پرچے آوٹ کروا کر اور اپنی جگہ کسی اور کو بیٹھا کر ڈگری حاصل کی ہے؟
سیا سی لطیفہ
Shoiab Safdar Ghumman
اے این پی کا ایک کارکن اپنے دوست کے پاس بیٹھا تھا! اُس کے دوست نے کہا "اوئے سوتا کیوں نہیں؟"
“یار بس آج رات نہیں سونا!”
دوست "کیوں؟"
کارکن "یار کل رات خواب میں ایم کیو ایم کے بندے سے پھڈا ہو گیا تھا! تو میں نے اُس کی دُرگت بنادی تھی"
دوست " تو پھر اس میں نہ سونے والی کیا بات ہے؟"
کارکن "بھائی ڈر لگتا ہے کہیں آج رات خواب میں وہ بندے لے کر نہ آ جائے! یہ بھی خدشہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہ بن جاؤ!! اور امکان ہے کہ آپریشن کے نام پر رینجر و پولیس کا چھپاپہ نہ پڑ جائے"

“یار بس آج رات نہیں سونا!”
دوست "کیوں؟"
کارکن "یار کل رات خواب میں ایم کیو ایم کے بندے سے پھڈا ہو گیا تھا! تو میں نے اُس کی دُرگت بنادی تھی"
دوست " تو پھر اس میں نہ سونے والی کیا بات ہے؟"
کارکن "بھائی ڈر لگتا ہے کہیں آج رات خواب میں وہ بندے لے کر نہ آ جائے! یہ بھی خدشہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہ بن جاؤ!! اور امکان ہے کہ آپریشن کے نام پر رینجر و پولیس کا چھپاپہ نہ پڑ جائے"
(کراچی شہر میں گردش کرتا تازہ جوک، چوہے کے یونٹ انچارج والے لطیفہ کے بعد تازہ انٹری)
بے ہودہ بات
اگر آپ شریف ہیں تو ذیل میں لکھی بات پڑھنے سے اجتناب کریں، اور اگر میسنے تو اُس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیجئے گا! یاکہ ۔۔۔۔۔۔
لکھنا کیا ہے بس اپنے ایک یار کی بات یار آ گئی نوین نقوی کا بلاگ پڑھ کر۔
ہمارے ایک دوست ہیں اکثر کسی کو غلط بات پر کرنے والے کے متعلق کہتے ہیں "یار یہ اپنے ماں بات کی غلطی کا نتیجہ ہے یا لذت کا؟ خواہش کا نہیں ہو سکتا ورنہ ایسی بے وقوفیاں نہ کرتا!! یہ جو اسےحرکتیں کرتا ہے ناں ضرور 'غلط لذت' کی پیداوار ہے"
بہر حال نوین نقوی کے/کی ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ملک کی آبادی کی اکثریت حادثہ کا نتیجے میں پیدا ہوتی ہے!
کر لو گل!
جی نہیں میں نے نوین کے/کی ڈاکٹر کی بات کو بے ہودہ نہیں کہا بلکہ دوست کی بات کو کہا ہے!! کیا آپ کسی ایسے بندے کو جانتے ہیں جو 'غلط لذت' کی پیداوار ہو؟ یا حادثہ کی!
کیا بےہودگی ہے!!

لکھنا کیا ہے بس اپنے ایک یار کی بات یار آ گئی نوین نقوی کا بلاگ پڑھ کر۔
بہر حال نوین نقوی کے/کی ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ملک کی آبادی کی اکثریت حادثہ کا نتیجے میں پیدا ہوتی ہے!
کر لو گل!
جی نہیں میں نے نوین کے/کی ڈاکٹر کی بات کو بے ہودہ نہیں کہا بلکہ دوست کی بات کو کہا ہے!! کیا آپ کسی ایسے بندے کو جانتے ہیں جو 'غلط لذت' کی پیداوار ہو؟ یا حادثہ کی!
کیا بےہودگی ہے!!