قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟

قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ؟

اس کالم کامقصد صرف اور صرف سچ کی تلاش ہے نہ کہ کسی بحث میں الجھنا۔ میں اپنی حد تک کھلے ذہن کے ساتھ سچ کی تلاش کے تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ پچھلے دنوں میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک) پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان قبل 9اگست 1947 کو جگن ناتھ آزاد کو بلاکر پاکستان کاترانہ لکھنے کو کہا۔ انہوں نے پانچ دنوں میں ترانہ لکھ دیا جو قائداعظم کی منظوری کے بعد آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے نشر ہوااور پھر یہ ترانہ 18ماہ تک پاکستان میں بجتا رہا۔ جب 23فروری 1949کو حکومت ِ پاکستان نے قومی ترانے کے لئے کمیٹی بنائی تو یہ ترانہ بند کردیا گیا۔اس انکشاف کے بعد مجھے بہت سے طلبہ اوربزرگ شہریوں کے فون آئے جو حقیقت حال جاننا چاہتے تھے لیکن میرا جواب یہی تھا کہ بظاہر یہ بات قرین قیاس نہیں ہے لیکن میں تحقیق کے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے ان سکالروں سے رابطے کئے جنہوں نے قائداعظم پر تحقیق کرتے اورلکھتے عمر گزار دی ہے۔ ان سب کاکہنا تھا کہ یہ شوشہ ہے، بالکل بے بنیاد اور ناقابل یقین دعویٰ ہے لیکن میں ان کی بات بلاتحقیق ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ قائداعظم اور جگن ناتھ کے حوالے سے یہ دعوے کرنے والے حضرات نے انٹرنیٹ پر کئی ”بلاگز“ (Blogs) میں اپنا نقطہ نظر اور من پسند معلومات فیڈ کرکے محفوظ کر دی تھیں تاکہ انٹرنیٹ کااستعمال کرنے والوں کوکنفیوز کیاجاسکے اور ان ساری معلومات کی بنیاد کوئی ٹھوس تحقیق نہیں تھی بلکہ سنی سنائی یاپھر جگن ناتھ آزاد کے صاحبزادے چندر کے آزاد کے انکشافات تھے جن کی حمایت میں چندر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔
سچ کی تلاش میں، میں جن حقائق تک پہنچا ان کاذکر بعد میں کروں گا۔ پہلے تمہید کے طور پریہ ذکرکرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جگن ناتھ آزاد معروف شاعر تلوک چند کا بیٹا تھا ۔ وہ 1918 میں عیسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوا۔ اس نے 1937 میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور 1944 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی کیا۔ تھوڑاساعرصہ”ادبی دنیا“ سے منسلک رہنے کے بعد اس نے لاہور میں ”جئے ہند“نامی اخبار میں نوکری کرلی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ستمبر میں ہندوستان ہجرت کر گیا۔ اکتوبر میں ایک بار لاہور آیا اور فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے مستقل طور پر ہندوستان چلاگیا۔ وِکی پیڈیا (Wikipedia) اور All things Pakistan کے بلاگز میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ قائداعظم  نے اپنے دوست جگن ناتھ آزاد کو 9اگست کو بلا کر پاکستان کاترانہ لکھنے کے لئے پانچ دن دیئے۔ قائداعظم نے اسے فوراً منظور کیا اور یہ ترانہ اعلان آزاد ی کے بعد ریڈیو پاکستان پر چلایاگیا۔ چندر نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حکومت ِ پاکستان نے جگن کو 1979 میں صدارتی اقبال میڈل عطا کیا۔
میراپہلا ردعمل کہ یہ بات قرین قیاس نہیں ہے ، کیوں تھا؟ ہر بڑے شخص کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ایک تصویر ہوتی ہے اور جو بات اس تصویرکے چوکھٹے میں فٹ نہ آئے انسان اسے بغیر ثبوت ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم سرتاپا قانونی اور آئینی شخصیت تھے۔ اس ضمن میں سینکڑوں واقعات کاحوالہ دے سکتاہوں۔ اس لئے یہ بات میری سمجھ سے بالا تر تھی کہ قائداعظم کسی کو ترانہ لکھنے کے لئے کہیں اور پھر کابینہ، حکومت یاماہرین کی رائے لئے بغیر اسے خود ہی آمرانہ انداز میں منظور کر دیں جبکہ ان کا اردو، فارسی زبان اور اردو شاعری سے واجبی سا تعلق تھا۔ میرے لئے دوسری ناقابل یقین صورت یہ تھی کہ قائداعظم نے عمر کامعتدبہ حصہ بمبئی اور دہلی میں گزارا۔ ان کے سوشل سرکل میں زیادہ تر سیاسی شخصیات، مسلم لیگی سیاستدان، وکلا وغیرہ تھے۔ پاکستان بننے کے وقت ان کی عمر 71 سال کے لگ بھگ تھی۔ جگن ناتھ آزاد اس وقت 29 سال کے غیرمعروف نوجوان تھے اور لاہور میں قیام پذیر تھے پھر وہ پاکستان مخالف اخبار ”جئے ہند“ کے ملازم تھے۔ ان کی قائداعظم سے دوستی تو کجا تعارف بھی ممکن نظر نہیں آتا۔
پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو محض تخیلاتی باتیں ہیں جبکہ مجھے تحقیق کے تقاضے پورے کرنے اور سچ کا کھوج لگانے کے لئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔ ذہنی جستجو نے رہنمائی کی اورکہاکہ قائداعظم کوئی عام شہری نہیں تھے جن سے جو چاہے دستک دے کرمل لے۔ وہ مسلمانان ہند و پاکستان کے قائداعظم اور جولائی 1947 سے پاکستان کے نامزد گورنر جنرل تھے۔ ان کے ملاقاتیوں کاکہیں نہ کہیں ریکارڈ موجود ہوگا۔ سچ کی تلاش کے اس سفر میں مجھے 1989میں چھپی ہوئی پروفیسر احمد سعید کی ایک کتاب مل گئی جس کا نام ہے Visitors of the Quaid-e-Azam ۔ احمد سعید نے بڑی محنت سے تاریخ وار قائداعظم کے ملاقاتیوں کی تفصیل جمع کی ہے جو 25اپریل 1948تک کے عرصے کااحاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں قائداعظم کے ملاقاتیوں میں جگن ناتھ آزاد کاکہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ”پاکستان زندہ باد“ کے مصنف سید انصار ناصری نے بھی قائداعظم کی کراچی آمد 7اگست شام سے لے کر 15 اگست تک کی مصروفیات کاجائزہ لیا ہے۔ اس میں بھی آزاد کا ذکر کہیں نہیں۔ سید انصار ناصری کو یہ تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نیقائداعظم کی 3جون 1947 والی تقریرکااردو ترجمہ آل انڈیاریڈیو سے نشر کیاتھا اور قائداعظم کی مانند آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی بلند کیا تھا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ پھر بھی میر ی تسلی نہیں ہوئی۔ دل نے کہا کہ جب 7اگست 1947 کو قائداعظم بطور نامزد گورنر جنرل دلی سے کراچی آئے تو ان کے ساتھ ان کے اے ڈی سی بھی تھے۔ اے ڈی سی ہی ملاقاتوں کا سارااہتمام کرتا اور اہم ترین عینی شاہد ہوتا ہے اورصرف وہی اس سچائی کی تلاش پر مہرثبت کرسکتا ہے۔ جب قائداعظم کراچی اترے تو جناب عطا ربانی بطور اے ڈی سی ان کے ساتھ تھے اور پھرساتھ ہی رہے۔ خدا کاشکر ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن ان تک رسائی ایک کٹھن کام تھا۔ خاصی جدوجہد کے بعد میں بذریعہ نظامی صاحب ان تک پہنچا۔ جناب عطا ربانی صاحب کا جچا تلا جواب تھا کہ جگن ناتھ آزاد نامی شخص نہ کبھی قائداعظم سے ملا اور نہ ہی میں نے کبھی ان کانام قائداعظم سے سنا۔ اب اس کے بعد اس بحث کا دروازہ بند ہوجاناچاہئے تھا کہ جگن ناتھ آزا د کو قائداعظم نے بلایا۔ اگست 1947 میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے سبب جگن ناتھ آزاد لاہور میں مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لیتے پھررہے تھے اور ان کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ان حالات میں ان کی کراچی میں قائداعظم سے ملاقات کاتصو ر بھی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود جگن ناتھ آزاد نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا حالانکہ وہ پاکستان میں کئی دفعہ آئے حتیٰ کہ وہ علامہ اقبال کی صد سالہ کانفرنس کی تقریبات میں بھی مدعو تھے جہاں انہوں نے مقالات بھی پیش کئے جو اس حوالے سے چھپنے والی کتاب میں بھی شامل ہیں ۔ عادل انجم نے جگن ناتھ آزاد کے ترانے کاشوشہ چھوڑا تھا۔ انہوں نے چندر آزاد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جگن ناتھ آزاد کو 1979 میں صدارتی اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے صدارتی اقبال ایوارڈ کی ساری فہرست دیکھی ہے اس میں آزاد کا نام نہیں۔ پھر میں کابینہ ڈویژن پہنچا اور قومی ایوارڈ یافتگان کا ریکارڈ کھنگالا۔ اس میں بھی آزاد کا نام نہیں ہے۔ وہ جھوٹ بول کر سچ کوبھی پیار آ جائے۔ اب آیئے اس بحث کے دوسرے حصے کی طرف… ریڈیو پاکستان کے آرکائیوز گواہ ہیں کہ جگن ناتھ آزاد کاکوئی ترانہ یا ملی نغمہ یا کلام 1949 تک ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں ہوا اور 15اگست کی درمیانی شب جب آزادی کے اعلان کے ساتھ پہلی بار ریڈیو پاکستان کی صداگونجی تو اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ ملی نغمہ نشر ہوا۔
پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو
ان دنوں قاسمی صاحب ریڈیو میں سکرپٹ رائٹر تھے۔ 15اگست کو پہلا ملی نغمہ مولانا ظفر علی خان کا نشر ہوا جس کا مصرعہ تھا ”توحید کے ترانے کی تانیں اڑانے والے“
میں نے یہیں تک اکتفا نہیں کیا۔ اس زمانے میں ریڈیو کے پروگرام اخبارات میں چھپتے تھے۔ میں نے 14 اگست سے لے کر اواخر اگست تک اخبارات دیکھے۔ جگن ناتھ آزاد کا نام کسی پروگرام میں بھی نہیں ہے۔ سچ کی تلاش میں، میں ریڈیو پاکستان آرکائیو ز سے ہوتے ہوئے ریڈیو کے سینئر ریٹائرڈ لوگوں تک پہنچا۔ ان میں خالد شیرازی بھی تھے جنہوں نے 14اگست سے21 اگست 1947 تک کے ریڈیو پروگراموں کا چارٹ بنایا تھا۔ انہوں نے سختی سے اس دعویٰ کی نفی کی۔ پھر میں نے ریڈیو پاکستان کا رسالہ ”آہنگ“ ملاحظہ کروایا جس میں سارے پروگراموں کی تفصیلات شائع ہوتی ہیں۔ یہ رسالہ باقاعدگی سے 1948 سے چھپنا شروع ہوا۔ 18ماہ تک آزاد کے ترانے کے بجنے کی خبردینے والے براہ کرم ریڈیو پاکستان اکادمی کی لائبریری میں موجود آہنگ کی جلدیں دیکھ لیں اور اپنے موقف سے تائب ہوجائیں۔ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ اگر آزادی کا ترانہ ہمارا قومی ترانہ تھا اور وہ 1949 تک نشر ہوتارہا تو پھر اس کا کسی پاکستانی کتاب، کسی سرکاری ریکارڈ میں بھی ذکر کیوں نہیں ہے اور اس کے سننے والے کہاں چلے گئے؟ اگر جگن ناتھ آزاد نے قائداعظم کے کہنے پر ترانہ لکھا تھا تو انہوں نے اس منفرد اعزاز کا کبھی ذکرکیو ں نہ کیا؟ جگن ناتھ آزاد نے اپنی کتاب ”آنکھیں ترستیاں ہیں“ (1982) میں ضمناً یہ ذکر کیا ہے کہ اس نے ریڈیو لاہور سے اپنا ملی نغمہ سنا۔ کب سنا اس کاذکر موجود نہیں۔ اگر یہ قائداعظم کے فرمان پر لکھا گیا ہوتا تو وہ یقینا اس کتاب میں اس کاذکر کرتا۔ آزاد کے والد تلوک چند نے نعتیں لکھیں۔ جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کے لئے ملی نغمہ لکھا جو ہوسکتا ہے کہ پہلے کسی وقت ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ جگن ناتھ آزاد نہ کبھی قائداعظم سے ملے، نہ انہوں نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا اور نہ ہی ان کا قومی ترانہ اٹھارہ ماہ تک نشر ہوتارہا یا قومی تقریبات میں بجتا رہا۔
قائداعظم بانی پاکستان اور ہمارے عظیم محسن ہیں۔ ان کے احترام کا تقاضا ہے کہ بلاتحقیق اوربغیر ٹھوس شواہد ان سے کوئی بات منسوب نہ کی جائے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
جنس سے فحاشی تک

جنس سے فحاشی تک

جہاں جنس کا ذکر آئے یار لو کمرے کے دروازے کی طرف ضرور دیکھتے ہیں پھر اطمینان کرنے کے بعد ماؤس آگے بڑھاتے ہیں۔ اب کیا کہا جائے اردو بلاگنگ کے بلاگز اب اپنی تحریروں تاریک گوشوں کا ذکر کرتے ہیں تو انکشاف ہوتا ہے یہ ادب ہے!
آج سے چھ سال پہلے پاکستانی sex کافی گوگلتے تھے، اتنا کہ گوگل رجحان میں ابتدائی دس ممالک میں ملک کو نام بھی شامل ہو گیا تھا مگر اب اس میدان میں بھی پستی کا سامنا ہے ممکن ہے یہ ملک میں انتہاپسندی کے فروغ کی بنا پر ہوا ہو۔
بات یہ ہے کہ آج ہم اس بلاگ پر پہنچے جہاں علی نے بھارتیوں کو اس بناء پر ٹھرکی قرار دیا کے removing لکھنے پر گوگل انڈیا عوامی رجحان کی جانچ کی بناء پر نامعقول الفاظ تجویز کرتا ہےجبکہ گوگل بین الاقوامی شریفانہ الفاظ تجویز کرتا ہے جس کا اندازہ ذیل کی تصاویر سے لگا سکتے ہیں۔

اب گوگل انڈیا

ویسے گوگل پاکستان بھی اچھے تلاش کے الفاظ تجویر نہیں کرتا ذیل سے اندازہ لگا لیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
اب میں کیا کرو؟ بلکہ نہیں اب ہم کیا کریں؟

اب میں کیا کرو؟ بلکہ نہیں اب ہم کیا کریں؟

“بھائی یہ آپ نے نام سے کیسے کیسے تبصرے آ رہے ہیں؟"
آج جب میں رات میں آن لائن آیا تو ایک محبت کر نے والے دوست نے ہم سے سوال کر ڈالا۔ بات کا علم نہیں تھا! کیا جواب دیتے اُلٹا ہم حیران تھے یہ کیا پوچھ رہے ہیں آیا واقعی مجھ سے پوچھا ہے یا کسی اور سے بات کرتے کرتے غلطی سے ہمارے والے IM میں یہ ٹائپ کر دیا ہو گا، وہاں سے جواب انے سے پہلے ہی ڈاکٹر صاحب کی اس تحریر نے اُس کا انٹرنیٹ پر ہماری شناخت کے سرقہ کی کہانی فاش کی۔ یعنی کسی صاحب نے ہماری تصویر و بلاگ ایڈریس کے استعمال کرتے ہوئے ایک ساتھی بلاگر کی تحریر پرنہایت گھٹیا تبصرہ کیا ہے۔
پانچ سالہ بلاگنگ میں احباب ضرور میرے مزاج و خیالات سے واقف ہو چکے ہو گے!
جعفر کے تبصرہ سے معلوم ہوا کہ وہ صاحب ملک سے باہر ممکنہ طور پر یو اے ای میں ہوتے (یہ اندازہ انہوں نے کس طرح لگایا وہ ہی بتا سکتے ہیں شاید IP ایڈریس جعفر کے علم میں آ گیا ہو) ہیں۔ ابھی تو تبصرہ نگار نے ایسا تبصرہ کیا جس سےبا آسانی اندازہ ہو گیا کہ تبصرہ نگار نے شناخت چوری کی ہے مگر مستقبل میں ہر تبصرے کو پرکھنا آسان نہ ہو گا! اور یہ امکانیا خدشہ بھی جنم لیتا ہے کہ کہیں بلاگرز میں موجود نظریاتی اختلاف کو شناخت کے سرقہ سے ذاتی رنجش و دشمنی میں بدلنے کا کوئی کوشش نہ شروع ہو جائے۔ پہلے ہی بے نام کے تبصروں نے اردو بلاگرز کی دنیا میں کافی کڑواہٹ ملا دی ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ کوئی لائحہ عمل بنانا چاہئے! آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں؟
میری شناخت والے کسی بھی تبصرہ کو سنجیدگی سے لینے سے پہلے مجھ سے یہ بذریعہ ای میل یا فون کال یہ کنفرم کر لیں کہ آیا یہ تبصرہ میں نے ہی کیا ہے یا نہیں دوئم میں یہ سمجھتا ہوں ہماری (تمام بلاگرز کی) یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں۔ اس کا بہتر حل میرے مطابق ایسے تبصروں کو حذف کرنا ہی ہے، اپ کی کیا رائے ہے؟
کیا مجھے یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ وہ میرا کیا ہوا تبصرہ نہیں ہے؟


اپڈیٹ!! میں شکر گزار کو عثمان کا کہ انہوں نے اُس "آزاد بلوچ" والے تبصرہ سے میرا ای میل ایڈریس ہٹا دیا ہے نیر تبصرہ نگار کی آئی پی ایڈریس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوریا میں ہے اور وہ KOREA TELECOM کا صارف ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
دھنک

دھنک

کراچی میں پیٹ (طوفان) آتے آتے رہ گیا دت تیرے کی!! کل شام میں ہم سمندر کنارے بھی گئے تھے تب ہی سمندر نے ہمیں مایوس کیا تھا! پھر بھی لگا کہ شاید ہم توفان سے آمنا سامنا کر لیں مگر !!!! چلو جان دو فیر کدی سہی!
اس طوفان کو ہمارے سروں پر میڈیا نے سوار کیا تھا!!! ہمارے گھر میں تو کیبل نہیں مگر جن کے گھروں میں ہے اور خاص کر جو کراچی سے باہر ہیں انہوں نے تو اتنا گھر والوں کو ڈرا دیا تھا کہ لگتا تھا کہ ہفتہ دو ہفتہ عدالت کشتی پر آنا جانا ہو گا ۔ ویسے جس قدر ڈرایا گیا طوفان کو القاعدہ کا ممبر یا پنجابی طالبان کا ساتھی بتا دینا چاہئے!! ٹویٹر پر صبح سے یار لوگ آگاہ کر رہے تھے کہ اتنا دور رہ گیا اتنے وقت میں پہنچ جائے گا اور یہ اور وہ۔ مگر ہماری قسمت میں ہی طوفان ہے جو طوفان سے آمنا سامنا نہ ہو سکا ورنہ۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں! طوفان کے نہ آنے کا الزام روشن خیال بہن کی زبانی معلوم ہوا لوگوں نے سمندر کنارے والے بابا پر لگایا ہے۔
پیٹ کی وجہ سے کراچی میں بارش ہوئی کافی ہوئی رات کو جب ہو رہی تھی تو ہم خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے! دن میں اس سے کچھ لطف اندوز ضرور ہوئے ہیں! بارش کے بعد کراچی میں دھنگ دیکھی گئی ہے چند تصاویر ذیل میں ہیں اس دھنک کی۔



بشکریہ ایم شعیب یاسین


بشکریہ محمد ایاز


بشکریہ رابعہ


بشکریہ علی رضا عابدی
مکمل تحریر پڑھیں ←
کتاب چہرہ بندش کا نقصان؟؟

کتاب چہرہ بندش کا نقصان؟؟

ہمارے اکثر دوستوں کو شکایت تھی یا یوں کہہ لیں کہ ہے فیس بک کی بندش کا کیا فائدہ؟ اور یہ وہ نا معلوم کیا کیا!! بلکہ جوان کے بچے یہاں تک کہتے ہیں کہ بندش کی وجہ سے تو اس صحفہ کی مشہوری ہوئی مگر اگر بندش نہ ہوتی تو شاید فیس بک والے از خود پاکستان میں یہ ناپاک صحفہ بند کرتی مگر ایسا اب وہ کرنے پر مجبور ہے دیکھ لیں جہاں جہاں ردعمل سامنے آیا فیصلوں پر نظر انداز ہوا ہے۔ آپمیں سے شاید اب بھی بُرا منہ بنائے مگر جان لیں کہ ردعمل ایسا ہو جو دوسرے کو ایک بار ہلا دے اور اس کرنے کے لئے جگرا چاہئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی کہے کہ یہ تو کوئی حل نہیں مگر کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر۔ ممکنہ ایسے بین کے خوف سے بھارت میں بھی فیس بک نے یہ ہی پالیسی اپنائی نیر اب بنگلادیش سے متعلق می اپس نے از خود بندش والی پالیسی اپنائی ہے۔
 خبر کا حوالہ دینا ضروری ہے کیا؟؟؟ پی سی ورلڈ دیکھ لیں۔ اور کچھ مالی مفاد پاکستان سے وابستہ تھے تو عدالت میں فیس بک نے اپنا وکیل کھڑا کیا تھا ناںآآآآ
مکمل تحریر پڑھیں ←
فیس بک پر پابندی !! کھلی آزادی! مگر کہاں؟

فیس بک پر پابندی !! کھلی آزادی! مگر کہاں؟

عدنان کے بلاگ پر “فیس بک کی بندش اور مکمل آزادی رائے” ایک اچھی تحریر نیز عواب علوی کے بلاگ پر “فیس بک کے دوہرے میعار “ پر مہمان بلاگر سعد ورائچ کی عمدہ پوسٹ۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
بائیکاٹ سے بندش تک

بائیکاٹ سے بندش تک

کہتے ہیں ایک بندہ پہلی بار سفر پر روانہ ہونے لگا تو خاندان کے بڑوں نے الگ الگ کچھ اس انداز میں اُسے نصیحتیں کی۔
ایک خاتون نے کہا ؛ بیٹا آج کل زمانہ بہت خراب ہے ، اپنے علاوہ کسی پر سفر میں بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے، جو دیکھنے میں فرشتہ لگتا ہے وہ تو شیطان کا بھی با پ ہوتا ہے، لوگ معصوم معصوم چہرہ رکھ کر دھوکہ دے جاتے ہیں، اب تم اپنی خالہ کے بیٹے کو دیکھ لو پورے خاندان کا لاڈلا بچہ تھا نہایت ذہین و نونہال، اُس نے اسکالرشپ جیتی ہمارے دل کو بھی حوصلہ ہوا کہ چلو ایک ہی بچہ ہے زبید ہ کا شاید اس کے ذریعے ہی اُس کی کچھ قسمت بدل جائے، مگر ایئرپورٹ پر اُس کے پاس موجود بیگ سے ہیروئین نکل آئی اور پانچ سال کے لئے اندر ہو گیا، کسی خاتون نے اپنا بیگ بڑھاپے کے بہانے اُسے پکڑا دیا تھا۔ اپنے پچھلی گلی والے مرزا صاحب کا قصہ تو تمہیں یاد ہی ہو گا پچھلے ہفتہ گھر واپسی پر ایک خاتون کو لفٹ دی اور اگلے ناکے پر پولیس نے در لیا خاتون پولیس کو مطلوب تھی اور اُن کو اُس کا ساتھی سمجھ کر مقدمہ بنا دیا گیا آج کل ضمانت پر ہیں اور پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ نیکی کا زمانہ نہیں ہے بیٹا، نیکی ہی گلے کو آتی ہے۔ اب دیکھو ناں تمہاری بہن کی نند کے گھر کے گیٹ پر ایک بزرگ غش کھا کرگر گیا تھا پانی پلایا دوپہر کا وقت تھا گھر کے اندر بٹھایا اُس نے بیٹوں کو فون کرنے کے بہانے ساتھیوں کو بلا لیا اور لوٹ کر چلے گئے۔ لہذا کسی سے راستے میں کوئی ہمدردی یا دوستی کرنے کی ضرورت نہیں نہ کچھ لے کر کھانا وہ امجد بچا رے کا تو معلوم ہے ناں کراچی آتے ہوئے کسی لڑکے نے کچھ نشہ آور شے پلا کر لوٹ لیا تھا بچار ے نے ٹیکسی کا کرایہ بھی ساس سے لے کر دیا تھا، اچھا اپنا خیال رکھنا دوران سفر سکھ سے جاو۔
دوسرے صاحب نے کچھ یوں کہا؛ یار جوان آدمی ہو ، لمبے سفر پر جا رہے ہو، یار دوست کوئی ساتھ نہیں ورنہ دونوں ہنستے کھیلتے جاتے ہمیں بھی پریشانی کم ہوتی تمہاری، اب خود ہی اپنا خیال رکھنا ، انسان انسان کا وسیلہ ہوتا ہے ، ایک دوسرے کی اسے سدا ضرورت ہوتی ہے، سفر میں یہ ضرورت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ تمہیں بھی پڑے گی اور دوسرے تم سے مدد بھی مانگے گے۔ بچے اور بزرگ زیادہ مدد کے طالب ہوتے ہیں، بزرگوں کی دعاؤں کا جو موقعہ ملے لے لو ضائع نہ کرو اس کا صلہ دنیا و آخرت دونوں جگہ ملتا ہے۔ پھر نیکی کی نیکی۔ اللہ تمہارا حامیوں ناصر ہو۔
ایک نے کہا؛ بھائی آپ کو کیا سمجھانا نہایت سمجھ دار ہیں، عمر کے اُس حصے میں ہیں جب لوگ دوسرے کو سمجھ بوجھ دینا شروع کر دیتے ہیں ہمیں تم پر اعتماد ہے لیکن پھر بھی بڑا ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کچھ نا کچھ تمہیں سفر کی ٹپس دیں دوران سفر آنکھیں کھلی رکھنا، اپنے سامان کی حفاظت کی پہلی ذمہ داری خود آپ کی اپنی ذات پر آتی ہے، کسی سے کچھ لے کر کھانے میں محتاط رویہ اختیار کرنا منع کرنا ہو ایسے کہ اُسے بھی محسوس نہ ہو، راہ میں خریداری کرتے وقت چوکنا رہنا کہیں کسی فراڈیئے کے ہاتھ نہ لگ جاو۔ جلد بھروسہ کرنے اور تمام سفر اپنے اردگرد سے بیگانہ رہنے سے بھی اجتناب کرنا اور منزل پر پہنچ کر فون کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کرنا اور راستے میں بھی گاہے بگاہے ایس ایم ایس کر کے آگاہ کرتے رہنا۔
ایک بزرگ یوں گویا ہوئے؛ محترم ماشاءاللہ سفر پر جا رہے ہو، ہم بزرگوں کی باتیں آج کل کے تم نوجوان نظر انداز کر دیتے ہو، مگر ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں، تم جیسے نالائقوں کو کچھ نہ سمجھاؤ تو کچھ نہ کچھ غلط ہی کرتے ہو، اچھائی کی امید تو نہیں ہے یہ بھی یقین ہے جو ہم کہیں گے تم نے اُس پر عمل نہیں کرنا بلکہ اُس کا اُلٹ ہی کرو گے۔کسی نوجوان حسینہ کو دیکھ کر آپے سے باہر نہ ہو جانا کہ خاندان کا نام ڈبو ڈالو سفر آنکھ مٹکے کے لئے نہیں ہوتا سمجھے، کہ وہ تمہیں لوٹ کر یہ جا وہ جا، اور یہ جو سامان اور تحفے لے کر جا رہے ہو ناں اس کی حفاظت بھی کرنا کہ موبائل کے اندر مگن ہو جاؤ۔ ویسے تمہاری حرکتیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ تم کوئی گُل گلائے بغیر ایک سفر کو بہ خوبی انجام تک پہنچا ؤ۔ ویسے ضرورت کیا ہے جانے کی بہتر ہیں یہاں ہی رہو، وہاں جا کر کرو گے کیا؟ ہم نے سنا ہے نکما ہر جگہ ہی نکما ہوتا ہے، تم بھی رہنے ہی دو وقت و پیسہ دونوں کی بربادی ہے محترم سن رہے ہو ناں میری بات!!!۔
ان میں سے کس کا مشورہ سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے؟ ممکن ہے شاید کسی کا بھی نہیں! ممکن کوئی ایک یا دو سے آپ متعفق ہوں!! اور یہ بھی ممکن ہے ہر کوئی اپنے اپنے طور پر درست کہہ رہا ہو، بات کہنے کا انداز اہمیت رکھتا ۔ اوپر کی مثال میں چار افراد نے ایک شخص کو چار مختلف مشورے دیئے اور تمام کے مشورے ایک دوسرے کے مخالف مگر اگر انفرادی طور پر دیکھیں تو اپنی اپنی جگہ سب ہی سچے ہیں مگر نا معلوم کیوں فیس بک کی پابندی کے خلاف بولنے والوں کے اب تک کے کسی مکالمے نے مجھے متاثر نہیں کیا مجھے انفرادی طور پر متاثر نہیں کیا یا تو بات ٹھیک نہیں تھی یا انداز؟
ملک میں آج کل انٹرنیٹ پر کتاب چہرہ کی بندش زیر بحث، رونے والے کہتے ہیں اوئے پابندی کیوں لگائی؟ ساتھ میں چور راستے بتاتے ہیں استعمال کے! ہاں اس سارے جھگڑے میں یہ تو وضاحت اب ہو گئی کہ توہین رسالت پر ہمارا آپسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں رہی! بس ہر بار دلائل بدل جاتے ہیں تاویل بدل جاتی ہے! ایک نہایت دلچسپ مکالمہ ہر بار کی طرح یہ سامنے آیا ہے کہ پابندی کو درست قرار دینے والوں کی اکثریت فیس بک سے ہی ناواقف ہے! اور دوسرا یہ کہ ہمارے ملک کی عدلیہ میں بیٹھے جج اس ٹیکنالوجی سے ناواقف و نالائق ہیں! ان خیالات کا اظہار کرنے والے کیا واقف ہیں کہ جج مقدمے کا فیصلہ یا اُس پر وقتی ریلیف کس طرح دیتا ہے؟ چلیں مختصر بتا دیتے ہیں۔
آپ کو جب بھی عدالت کا دروازہ کھکانہ ہو تو اول اپنا مدعا یعنی وہ معاملات عدالت کو بتانے ہوتے ہیں کہ کیا ہوا ہے؟ وجہ تنازعہ کیا ہے؟جس پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ اس سے متاثر ہوئے ہیں! آخر میں یہ کہ آپ کی مانگ کیا ہے؟ نیز جو آپ کی مانگ ہے وہ ملکی قانون کے مطابق قابل عمل ہے۔ان میں سے ایک عنصر بھی جزوی یا مکمل طور پر غائب ہو یا دوران کیس ختم ہو جائے تو کیس ختم ہو جاتا ہے۔ ہائی کورٹ میں ایک کیس کی اگلی پیشی عموما 10 سے 17 دنوں میں آتی ہے۔
یہاں بھی یہ کوئی فائنل آڈر یا فیصلہ نہیں مزید کیس کی سماعت 31 مئی کو ہو گی! اگر کسی کو اس فیصلہ پر اعتراض ہے تو باہر رولا ڈالنے کے بجائے 31 مئی کو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کرے۔ مزید یہ کہ ننانوے فیصد امکان ہے کہ 31 مئی کو بندش ہٹ جائے گی کہ غالب امکان ہے کہ وجہ تنازعہ ختم ہو چکا ہو گا! ۔
ملکی شہریوں کے مزاج کی روشنی میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہائی کورٹ یہ 19 مئی کا پابندی کا فیصلہ درست تھا ورنہ افراد نے بہت غصہ کھانا تھا! ہاں کوئی چاہئے تو کہہ لیں فیصلہ پنجاب کی عدالت نے دیا اس لئے پنجابی بول اُٹھا!!! ویسے میں پاکستانی مسلمان ہوں!
متعلقہ تحریریں؛
سزا، مانگ اور توقع عبث
کھلی چھٹی

مکمل تحریر پڑھیں ←
قوم کی دعائیں ہمیں کیوں نہیں؟

قوم کی دعائیں ہمیں کیوں نہیں؟

ویسٹ انڈیز سے پاکستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی سے نامراد واپس آ گئی ، ٹیم کی کپتان ثناء میر نے نامراد لوٹنے کی وجہ قوم کی دعاؤں کی عدم دستیابی قرار دیا نائب کپتان نین عابدی نے بھی قوم کا خواتین کھلاڑیوں کے لئے دعائیں نہ کرنے کا گلہ کیا ہے، :) بندیاں سچی ہیں، میں نے بھی دعائیں نہیں کی تھی۔ یعنی دعائیں نہ کرنا زیادتی ہے وہ الگ بات ہے ہمارے دوست کا کہنا ہے خواتین کے آگے پیچھے زیادتی کا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے کہ ملکی صحافت نے اس لفظ کا استعمال خواتین کے سلسلے میں ایسے معاملات تک محدود کر دیا ہے کہ حدود کے معاملات کے کیس بن جاتے ہیں اور بندہ بے مختیار ہو کر بیبیوں کے زیر اثر چلا جاتا ہے۔
ویسے مجھے ثناء میر کا شکایت سن کر ایک بار ہنسی آ گئی ، وہ اس طرح تو کچھ اور اعتراضات یا اپنی طرف سے کچھ اور دلائل بھی پیش کر سکتی تھیں جیسے بھارت سے ہارنے کی ایک وجہ شعیب ملک سے پاکستانی لڑکیوں کو چھوڑ کر بار بار بھارت میں شادی کرنے کا بدلہ لینا، یا یہ کہ ہماری ٹیم کی خواتین ہر گز کپتان اس عمر گل کی طرح اُس طرف فیلڈنگ کی فرمائش نہیں کرتی جہاں جنس مخالف کی وافر تعداد ہو۔ یا بے شک نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ لائن نہیں چل سکی مگر مجال ہے کسی پر میچ فکسنگ کا الزام لگا ہو وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک شغلی تحریر ہے، سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ویسے کیسے لگے کل کو اپنی ناکامیوں کو ہر شخص و طبقہ دعاؤں کی عدم دستیابی کو قرار دیں! پھر کہتے ہیں ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو جان دو!
خبر: لنک

مکمل تحریر پڑھیں ←