اہم یا احمق؟
عام طور پر یہ کہا اور بتایا جاتا ہے کہ جو ووٹ لے کر (یا ڈالوا کر) سربراہ بنتے ہیں وہ خادم ہیں حاکم نہیں؟ مگر یہ باتیں زبانی زبانی سچی ہوں تو ہوں ورنہ میں VIP یا VVIP Movement کے نام پر عوام کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے اس VIP میں I کا مطلب کیا ہے شایدایک کے لئے important اور دوسرے کے لئے idiotاب اہم کون اور احمق کون آج کے اخبار کی ان خبروں کے تراشے کی روشنی میں بتائیں۔


شاید جب حکمران اہم ہو جائیں تو عوام احمق ہی ہوتے ہیں تب ان کا سڑکوں پر مرنا اور پیدا ہونا ہی مقدر ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
شاید جب حکمران اہم ہو جائیں تو عوام احمق ہی ہوتے ہیں تب ان کا سڑکوں پر مرنا اور پیدا ہونا ہی مقدر ہے۔
اتنی چھٹی کا مطلب؟
یہ ایک سوالیہ پوسٹ ہے۔ سوال یہ کہ حکومت سندھ نے کل جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان قربان، میری اس بات کو کوئی غلط رنگ نہ دیا جائے جو میں پوچھنے جا رہا ہوں۔ کیا جبکہ ہفتہ 12 ربیع الاول کو وفاقی حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہوا تھا تو صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ کیسا ہے 11 ربیع الاول کو بھی چھٹی کا؟
ذاتی طور پر مجھے تو یہ بہتر معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اتنی چھٹیوں کے متہمل نہیں ہو سکتے ہم نے کچھ بلا ضرورت چھٹیاں اپنے سالانہ کیلنڈر میں بلاوجہ شامل کر لی ہیں آپ کچھ کہیں گے یا خاموش رہیں گے؟
میری زبان، ہمارا مستقبل
تحریر: اوریا مقبول جان
معاشرہ اور ۔۔۔۔۔۔۔
Shoiab Safdar Ghumman
اسلام
اسلحہ
امریکہ
آزاد عدلیہ
آئین پاکستان
بلوچستان
تعلیم
حکمران
دہشت گرد
طالبان
ویڈیو
پورے پانچ سال
میرے علم میں تو تھا مگر ذہن میں نہیں تھا مگر تین مبارک باد کے ایس ایم ایس آئے تو خوشی بھی ہوئی اور اچھا بھی لگا۔ مبارک باد کسے اچھی نہیں لگتی۔ آغاز میں یہ احساس ہی نہیں تھا کہ ایک نشے کی ماند میں اس کا شکار ہو جاؤں گا یہاں تک ہوا کہ اب اس سے جان چُھڑاناممکن نظر نہیں آتا، اور پانچ مستقل سال،جیسے کل کی بات ہوں۔اُ س وقت جب ہم نے شروعات کی تو ہم طالب علم تھے ویلے مصروف کوئی کام نہیں تھاسوائے کالج جانے و آنے ۔ اور اب تو وکیل ہیں مصروف ویلا۔
بہر حال آج پانچ سال کا ہو گیا ہے ہمارا بلاگ، ہمیں یاد ہے کہ پہلا تبصرہ ہمارے بلاگ پر دانیال کا تھا وہ بندہ اب نیٹ کی دنیا سے غائب میرا کہنا ہے بندہ غائب نہیں ہوا یہ نام غائب ہوا ہے، خود مجھے آصف نامی بلاگر کا بلاگ اولین پسند آیا تھا، خود اپنی یہ اولین پوسٹ لکھی تھی (یجس میں سےاب تصویر غائب ہو گئی ہے)اور پہلی پوسٹ یہ تھی (ایک نظم)۔
بہر حال آج پانچ سال کا ہو گیا ہے ہمارا بلاگ، ہمیں یاد ہے کہ پہلا تبصرہ ہمارے بلاگ پر دانیال کا تھا وہ بندہ اب نیٹ کی دنیا سے غائب میرا کہنا ہے بندہ غائب نہیں ہوا یہ نام غائب ہوا ہے، خود مجھے آصف نامی بلاگر کا بلاگ اولین پسند آیا تھا، خود اپنی یہ اولین پوسٹ لکھی تھی (یجس میں سےاب تصویر غائب ہو گئی ہے)اور پہلی پوسٹ یہ تھی (ایک نظم)۔
یہ بھی مغرب کی سازش ہے؟
کر لو گل آج کے اخبارات میں یوم محبت منائے جانے کی خبروں کے ساتھ اس کی مخالفت میں بھی بے تحاشہ بیان آئے ہیں ایک پارٹی نے تو یوم محبت کو یوم حیا کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا ہے بقول اُن کے یہ دل کا نہیں دین کا معاملہ ہے۔
نوجوان شادی شدہ جوڑے بہتر ہو گا احتیاط کے طور پر اپنے ساتھ نکاح نامہ رکھ لیں نہیں تو امکان ہے کہ یوم حیا والے اپنے آج کے "منشور" پر عمل کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر لیں ، لہذا نکاح نامے یا نکاحی رشتہ کے غیر موجودگی میں "کزن ہے کزن ہے" کی رٹا لگانے کی مشق کر لیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ خالی خودپُرلیں اندازہ تو ہو گا آپ کو، اس کے علاوہ جیب میں چند پیسے پارک کے چوکیدار و ریسٹورنٹ کے ویٹرکے علاوہ قانون کے "محافظوں" کے لئے بھی رکھ لیں کہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک تو یہ دن آیا بھی چھٹی والے دن ہے یار لوگوں کے لئے تو مسئلہ نہیں مگر "قوموں کی عزت جن سے ہے" اُن کے لئے کارگر بہانے کی تلاش دشوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن عاشقین نے کوئی دس دن پہلے ہی ممکنہ بہانوں کی ایک فہرست بذریعہ ایس ایم ایس انجمن کے اراکین و ہمدردوں تک پہنچا دی تھی۔
اب آتے ہیں سنجیدہ بات کی طرف ہم بعض مرتبہ ضرورت سے زیادہ رد عمل دیکھاتے ہیں یا یوں کہہ لیں درست طریقے سے ردعمل نہیں کرتے بات کو لوجیکل طریقے سے کرنے بجائے جذباتی انداز میں پیش کرتے ہیں، ہر معاملہ کو بلاوجہ مغربی سازش قرار دے دیتے ہیں یہ بات سمجھ سے قاصر ہے کہ وہ اپنے تہواروں کو کسی بھی سازش کے تحت کیوں کر متعارف کروائے گے؟، بے شک محبت ایک اچھا جذبہ ہے مگر یہ انداز محبت ہمارا نہیں یہ بات ہمیں سمجھنے و سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں میں نہ نہ کرتے ساٹھ فیصد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی "بھول" کو نکاح کا شیڈ دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا کو احتیاط کرنا تو چاہئے ہی کیونکہ کم عمر بچے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے بعد اس طرح کے سوالات کے ساتھ وارد ہوتے ہیں کہ جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نا پختہ ذہن صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہی اور برائی میں بہت کشش ہے۔
اگر ہمارا معاشرہ جس میں کسی دور میں میاں بیوی خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں ایک چارپائی پر بیٹھنے تک سےاحتیاط کرتے تھے اور نوبیہاتے جوڑے آپسی گفتگو سے، اور بزرگ آج بھی ان باتوں کو بتاتے ہوئے خوبیوں میں گنتے ہیں، اگر آج اُس سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں نوجوان لڑکی لڑکے تعلق کو جائز سمجھنےکی روایت پڑ چکی ہے تو آپ ایسے دنوں کو نہ منانے کا کوئی جواز پیش کر دیں رد سمجھا جائے گا جو اپنی ثقافت و روایات اور دینی معاملات کوجان کر بھی ایسے دنوں کے حامی ہیں وہ کسی دلیل سے ماننے والے نہیں۔ ہاں آپ اُن کی نظر میں قدامت پسند، تنگ نظر،مذہبی اور جاہل وغیرہ ضرور مانے جائے گے۔
ایک سوال آخر یوم محبت پر ایسا کیا ہوتا ہے کہ یار لوگ ٹھیک نو ماہ بعد بچوں کا دن مناتے ہیں؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
نوجوان شادی شدہ جوڑے بہتر ہو گا احتیاط کے طور پر اپنے ساتھ نکاح نامہ رکھ لیں نہیں تو امکان ہے کہ یوم حیا والے اپنے آج کے "منشور" پر عمل کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر لیں ، لہذا نکاح نامے یا نکاحی رشتہ کے غیر موجودگی میں "کزن ہے کزن ہے" کی رٹا لگانے کی مشق کر لیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ خالی خودپُرلیں اندازہ تو ہو گا آپ کو، اس کے علاوہ جیب میں چند پیسے پارک کے چوکیدار و ریسٹورنٹ کے ویٹرکے علاوہ قانون کے "محافظوں" کے لئے بھی رکھ لیں کہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک تو یہ دن آیا بھی چھٹی والے دن ہے یار لوگوں کے لئے تو مسئلہ نہیں مگر "قوموں کی عزت جن سے ہے" اُن کے لئے کارگر بہانے کی تلاش دشوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن عاشقین نے کوئی دس دن پہلے ہی ممکنہ بہانوں کی ایک فہرست بذریعہ ایس ایم ایس انجمن کے اراکین و ہمدردوں تک پہنچا دی تھی۔
اب آتے ہیں سنجیدہ بات کی طرف ہم بعض مرتبہ ضرورت سے زیادہ رد عمل دیکھاتے ہیں یا یوں کہہ لیں درست طریقے سے ردعمل نہیں کرتے بات کو لوجیکل طریقے سے کرنے بجائے جذباتی انداز میں پیش کرتے ہیں، ہر معاملہ کو بلاوجہ مغربی سازش قرار دے دیتے ہیں یہ بات سمجھ سے قاصر ہے کہ وہ اپنے تہواروں کو کسی بھی سازش کے تحت کیوں کر متعارف کروائے گے؟، بے شک محبت ایک اچھا جذبہ ہے مگر یہ انداز محبت ہمارا نہیں یہ بات ہمیں سمجھنے و سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں میں نہ نہ کرتے ساٹھ فیصد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی "بھول" کو نکاح کا شیڈ دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا کو احتیاط کرنا تو چاہئے ہی کیونکہ کم عمر بچے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے بعد اس طرح کے سوالات کے ساتھ وارد ہوتے ہیں کہ جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نا پختہ ذہن صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہی اور برائی میں بہت کشش ہے۔
اگر ہمارا معاشرہ جس میں کسی دور میں میاں بیوی خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں ایک چارپائی پر بیٹھنے تک سےاحتیاط کرتے تھے اور نوبیہاتے جوڑے آپسی گفتگو سے، اور بزرگ آج بھی ان باتوں کو بتاتے ہوئے خوبیوں میں گنتے ہیں، اگر آج اُس سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں نوجوان لڑکی لڑکے تعلق کو جائز سمجھنےکی روایت پڑ چکی ہے تو آپ ایسے دنوں کو نہ منانے کا کوئی جواز پیش کر دیں رد سمجھا جائے گا جو اپنی ثقافت و روایات اور دینی معاملات کوجان کر بھی ایسے دنوں کے حامی ہیں وہ کسی دلیل سے ماننے والے نہیں۔ ہاں آپ اُن کی نظر میں قدامت پسند، تنگ نظر،مذہبی اور جاہل وغیرہ ضرور مانے جائے گے۔
ایک سوال آخر یوم محبت پر ایسا کیا ہوتا ہے کہ یار لوگ ٹھیک نو ماہ بعد بچوں کا دن مناتے ہیں؟
یوٹیوب کی واپسی
جی نہیں یو ٹیوب کہیں نہیں گئی تھی بس پاکستان میں آج بروز اتوار شام چھ بجے سے دس بجے تک بند تھی اب دوبارہ کھول دی گئی ہے مگر اپنے صدر صاحب کی ایک دیڈیو تک رسائی روکنے کے بعد کیا۔ جی وہ ہی والی
“جمہوریت بکواس بند کرو” دیکھنے کی کوشش کریں گے تو لکھا ہو گا This Site is Restricted۔
ویسے میں اسے جائز سمجھتا ہوں۔ آپس کی بات ہے لیکن احتیاط ضروری ہے اس سے قبل صدر کے خلاف ایس ایم ایس پر مقدمہ رجسٹر ہو چکا ہے۔
امریکی میڈیا اور عافیہ کیس
ابراہیم ساجد ملک کے بلاگ سے ہمیں فہد یعنی ابو شامل نے آگاہ کیا تھا، بمعہ اس بندے کی میڈیا سے تعلق کی تاریخ کے رشتے سے۔ عافیہ صدیقی کیس میں امریکی میڈیا کے تعصبی کردار پر اپنی اس پوسٹ میں انہوں نے نہایت عمدہ روشنی ڈالی ہے ایک نظر دیکھ لیں۔
منصف امریکن اور انصاف
سنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنا دی گئی ہے ہے اُسے امریکی میرین پر
قاقلانہ حملہ کرنے کے جرم میںسزا سنائی گئی اس کے علاوہ دیگر چھ جرائم
میں بھی مجرم تھرایا گیا ہے۔
ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میںہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میںنومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میںانہوںنے وعویٰکیا کہ یہ گرے لیڈی چار سال سے امریکیوںکی قید میں ہے جبکہ زار کے افشاء ہونے پر امریکیوںنے 17 جولائی 2008 کی تاریخکو ڈرامائی کہانی کے ذریعے اس کی گرفتاری دیکھائی یعنی کہ 11 دن بعد باحثیت وکیل میںیہ سمجھتا ہو کہ صرف یہ ایک فیکٹ ایسا ہے جو گرفتاری کو مشکوک ہی نہیں بلکہ باقاعدہ جعلی قرار دینے کے لئے کافی ہے اور فطری انصاف کی رو سے اگر گرفتاری جعلی ہو تو الزام بھی جھوٹے تصور ہوںگے خاصکر جبکہ وہ الزام خاص طور پر مجموعی طور پر گرفتاری کے بعد کے واقعات پر مشتمل ہوں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟کیسا لگا یہ انصاف آپ کو؟ سابقہ ملکی روایات کے مطابق صرف مذمت ہی ناں یا وہ بھی نہیں؟
ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میںہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میںنومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میںانہوںنے وعویٰکیا کہ یہ گرے لیڈی چار سال سے امریکیوںکی قید میں ہے جبکہ زار کے افشاء ہونے پر امریکیوںنے 17 جولائی 2008 کی تاریخکو ڈرامائی کہانی کے ذریعے اس کی گرفتاری دیکھائی یعنی کہ 11 دن بعد باحثیت وکیل میںیہ سمجھتا ہو کہ صرف یہ ایک فیکٹ ایسا ہے جو گرفتاری کو مشکوک ہی نہیں بلکہ باقاعدہ جعلی قرار دینے کے لئے کافی ہے اور فطری انصاف کی رو سے اگر گرفتاری جعلی ہو تو الزام بھی جھوٹے تصور ہوںگے خاصکر جبکہ وہ الزام خاص طور پر مجموعی طور پر گرفتاری کے بعد کے واقعات پر مشتمل ہوں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟کیسا لگا یہ انصاف آپ کو؟ سابقہ ملکی روایات کے مطابق صرف مذمت ہی ناں یا وہ بھی نہیں؟