کالا پانی
تحریر= اوریا مقبول جان
اِک دیہاڑے انکّھاں والا اک مزدور سڑک کنارے وانگ کبُوتر اکھّاں مِیٹی تِیلے دے نال ماں دھرتی دا سینہ پھولے خورے کنک دادا نہ لبھّے رمبّا کہئی تے چِھینی ہتھوڑا گینتی اپنے اَگے دھر کے چوری اکھّیں ویکھ کے اپنے آل دوالے کر کے مُوہنہ اسماناں ولّے ہولی ہولی بھیڑے بھیڑے اَکھّر بولے اُچّی اُچّی اُچیا ربّا، سچیا ربّا، چنگیا ربّا تو نہیوں ڈبی…
میں نے کافی پہلے یہ لطیفہ سنا تو اسے اپنے بلاگ پر آپ لوگوں سے شیئر کر لیا ، دوبارہ شیئر کر لیتا ہوں لطیفہ کچھ یوں تھا ۔ "ایک ملک میں انقلاب آیا۔اس ملک کا ایک باشندہ جو انقلاب سے قبل بیرونی ملک کے دورے پر تھا واپس آیا تو ائرپورٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا "کسی نزدیکی دکان پر ٹھہرجانا، مجھےسگریٹ …
جب ہم ایل ایل بی سال دوئم کے طالب علم تھے تب کی بات ہے ہمارے کالج کے پرنسپل جناب خورشید ہاشمی جو ہمیں بین الاقوامی قانون پڑھاتے تھے نے ایک دن ایک قصہ یا واقعہ کہہ لیں ہم طالب علموں سے شیئر کیا، محترم نے بتایا کہ ایک بار وہ ایک یورپی یونیورسٹی {معذرت مجھے نام بھول گیا} میں لیکچر دینے گئے تو انہوں نے دوران لیکچر سوال کی…