دیہاڑی دار

اِک دیہاڑے انکّھاں والا اک مزدور
سڑک کنارے
وانگ کبُوتر اکھّاں مِیٹی
تِیلے دے نال ماں دھرتی دا سینہ پھولے
خورے کنک دادا نہ لبھّے
رمبّا کہئی تے چِھینی ہتھوڑا
گینتی اپنے اَگے دھر کے
چوری اکھّیں ویکھ کے اپنے آل دوالے
کر کے مُوہنہ اسماناں ولّے
ہولی ہولی بھیڑے بھیڑے اَکھّر بولے
اُچّی اُچّی
اُچیا ربّا، سچیا ربّا، چنگیا ربّا
تو نہیوں ڈبیاں تارن والا
ساری دنیا پالن والا
جتّھوں کل اُدھار اے کھاہدا
اُوتھے وی اے اج دا وعدہ
میری اج دیہاڑی ٹُٹّی
میرے دل چُوں تیری چُھٹّی
اُچیا ربّا سچیا ربّا چنگیا ربّا
پنجاں کلیاں مگروں جہیڑا
میرے ویہڑے کھِڑیا پُھل
باہحھ دوائیوں
پُونی ورگا ہوندا جاوے
میرے مستوبل کا دیوا
ویکھیں کِدھرے بُجھ نہ جاوے
اُچیا ربّا سچیا ربّا چنگیا ربّا
اَج نئیں جانا خالی ہتھ
ویچاں بھانویں اپنی رت
شاعر: بابا نجمی

مکمل تحریر پڑھیں ←
کیا یہ بھی کوئی انقلاب ہے؟؟

کیا یہ بھی کوئی انقلاب ہے؟؟

میں نے کافی پہلے یہ لطیفہ سنا تو اسے اپنے بلاگ پر آپ لوگوں سے شیئر کر لیا، دوبارہ شیئر کر لیتا ہوں لطیفہ کچھ یوں تھا ۔
"ایک ملک میں انقلاب آیا۔اس ملک کا ایک باشندہ جو انقلاب سے قبل بیرونی ملک کے دورے پر تھا واپس آیا تو ائرپورٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا "کسی نزدیکی دکان پر ٹھہرجانا، مجھےسگریٹ خریدنا ہے"۔
"سگریٹ خریدنے کے لئے آپ کو چرچ جانا پڑے گا"۔ڈرائیور نے جواب دیا ۔
"کیا؟ چرچ تو وہ جگہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے "۔
"لوگ عبادت کے لئے یونیورسٹی جاتے ہیں"۔
"کیا؟ یونیورسٹی میں تو وہ لوگ نہیں ہوتے جو پڑھتے ہیں؟"۔
"نہیں پڑھنے والے تو جیل مہں ہوتے ہیں"۔
ڈرائیور نے کہا "جیل میں تو مجرم ہوتے ہیں"۔
"اوہ نہیں، وہ تو برسر اقتدار ہیں"۔
ہمیں نہیں معلوم تھا یہ لطیفہ کبھی حقیقت بھی بن سکتا ہے اس حقیقت سے واسطہ کہیں اور نہیں اپنے ملک میں ہی ہمارا پڑے گا۔ 
پہلی مرتبہ اس انقلاب کا علم اُس وقت ہوا جب بلوے کے کیس میں مطلوب ملزم ایک صوبے کا گورنر بن گیا، دوسری مرتبہ اُس وقت ہوا جب ایک امر کی جگہ پارلیمنٹ میں نیا صدر منتخب کیا گیا۔ اب ایک بار پھر احساس ہونے لگا ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں یہ انقلاب آنا تھا۔ تازہ خبر پنجاب کی رکن اسمبلی محترمہ (کیا محترمہ کہنا بنتا ہے؟) شمیلہ انجم رانا، جو مسلم لیگ نون کی کی رُکن ہیں، کی کریڈٹ کارڈ چوری کی کہانی ہے۔ انہوں نے اپنی ہیلتھ کلب کی ساتھی زائرہ ملک کے دو کریڈٹ کارڈ چوری کرنے کے بعد فورا ہی قریب کی دوکان سے اسی ہزار مالیت کے زیورات اور تین مردانہ جوڑے خریدے، اس تمام کاروائی خریداری کی فلم بن چکی ہے۔


محترمہ اسمبلی میں مذہبی امور اور اوقاف کمیٹی کی ممبر ہیں، IDPs کی کوآرڈینیٹنگ کمیٹی کی ممبر ہیں (خدا خیر کرے)، پارٹی کی و دیگر تقریبات میں نعتیں پرھنے کی شوقین ہیں مگر اب معلوم ہوا کہ ایک چور بھی ہیں۔
ہمارے ملک میں اب شاید چور و ڈاکو ہی منتخب نمائندے ہوں گے تبھی گزشتہ دنوں ہمارے موبائل پر کچھ ایسا ایس ایم ایس آیا۔
"گیارہ سال جیل میں رہنے والا ہمارا صدر، چھ سال جیل میں رہنے والا ہمارا وزیر اعظم، دس سال جلاوطن رہنے والا خادم پنجاب، انیس سالوں سے بھتہ پر لندن میں عیاشی کرنے والا ہمارا بے تاج بادشاہ۔۔۔۔۔ ارے دو چار سال آپ بھی جیل کی ہوا کھا آئیں ایمان سے زندگی بن جائے گی"
کہتے ہیں حکمران عوام کے اعمال کا آئینہ ہوتے ہیں، اگر یہ سچ ہے تو خدا رحم کرے، عوامی اعمال سے کہیں زرد انقلاب تو نہیں آ گیا؟

مکمل تحریر پڑھیں ←
پاکستان بننے کے نقصانات

پاکستان بننے کے نقصانات

جب ہم ایل ایل بی سال دوئم کے طالب علم تھے تب کی بات ہے ہمارے کالج کے پرنسپل جناب خورشید ہاشمی جو ہمیں بین الاقوامی قانون پڑھاتے تھے نے ایک دن ایک قصہ یا واقعہ کہہ لیں ہم طالب علموں سے شیئر کیا، محترم نے بتایا کہ ایک بار وہ ایک یورپی یونیورسٹی {معذرت مجھے نام بھول گیا} میں لیکچر دینے گئے تو انہوں نے دوران لیکچر سوال کیا کہ یہاں موجود کتنے طالب علموں کا تعلق پاکستان سے ہے؟ تو قریب بارہ سے تیرہ نوجوانوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے۔ اس کے بعد اُن کا اگلا سوال یہ تھا کہ کتنے طالب علم بھارت سے تعلق رکھتے ہیں تو بھی قریب اتنے ہی ہاٹھ جواب میں اٹھے ، جب اُن میں مسلمان طلباء کی تعداد دریافت کی تو وہ صرف ایک تھی۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا۔ ہماری کامیابیوں کی تمام وجوہات کا ہر سرا اس کے وجود کے مرہون منت ہے خواں وہ کامیابیاں اس ملک سے باہر ہی کیوں نہ ملی ہوں۔مگر ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے سربراہ فرماتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر صرف نقصان ہی نقصان ہوا ہے۔ جی نہیں میں آج سے پانچ سال پہلے والے بھارت میں جناب کی تقریر کی بات نہیں کررہا کل رات کے تازہ "____" کا کہہ رہا ہوں۔ ویڈیو ذیل میں ہے یوں تو تمام ویڈیو دیکھ لیں مگر ساتویں منٹ سے جو بات شروع ہوتی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔

Altaf interview

اس کے جواب میں ایک بہت لمبی حقائق پر مبنی پوسٹ لکھ پر جناب کے دعوی کو غلط ثابت کرنا نہایت آسان ہے۔ مگر جو نہیں سمجھنا چاہتے اُن کے لئے صرف خاموشی۔ ویسے جناب کی اپنی سیاست بھی اس ہی تقسیم کا نتیجہ ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←