خود کش بمبار لڑکے سے
سُرخ سیبوں جیسے گالوں والے خوبصورت لڑکے
تمھارا نام کیا ہے؟
کیا کہا عبدلقیوم ؟
ارے میرے منے کا بھی تو یہی نام ہے
وہ جو صبح اسی رستے سے اسکول گیا ہے
جس پہ تم جیکٹ پہنے جا رہے ہو
تمہیں کہیں ملا تو نہیں
شکر ہے اس وقت تک تو وہ اسکول پہنچ گیا ہو گا
اُس کے ابو اسی سڑک کی
ایک پولیس چوکی پہ پہرہ دے رہے ہیں
عبدلقیوم اُن سے روز گلے مل کے جاتا ہے
تم نے انہیں دیکھاتو نہیں؟
خدارا انہیں اپنا نام نہ بتا دینا
کہیں وہ تمہیں بھی گلے سے نہ لگا لیں
شاعر: نیلم بشیر _________________ بشکریہ: جہان رومی
پاگل کون ہے؟؟؟
جواب یوفون کی جانب سے پاگل کے فتوی کے ساتھ یوں آیا۔۔
جوابی حملہ آج صبح یوں آیا ہے۔۔
آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔
عرب بچوں کے قتل کی دھمکی خبر کیوں نہیں؟
امریکا کے یہودی جنگجو دانشور ڈینیل پائپس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ وقت گیا جب فتح وشکست کے فیصلے میدان جنگ میں ہواکرتے تھے‘ اب جنگوں کے فیصلے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز اور ادارتی صفحوں پر ہوتے ہیں۔ یہ صرف پائپس کی سوچ نہیں بلکہ ہر یہودی اس کا ادراک رکھتا ہے کہ دنیا پر تسلط کا خواب معاشی غلبے اور میڈیا پر قبضے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دنیا پر غلبہ کے لیے درکار ان دونوں چیزوں پر آج یہودیوں کاکنٹرول ہے۔ دنیا کا 98 فیصد میڈیا براہ راست یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ باقی پر بھی مختلف طریقوں سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی میڈیا خصوصاً باثر ابلاغی گروپوں پر بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کے زیرکنٹرول ہیں۔ یہ غیرذمہ دارانہ بیان ہوسکتا ہے کیوں کہ الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔
اب اگر پاکستانی میڈیالاعلمی میں یہودی مقاصد کو پورا کرتا ہے تو صرف اس بنیاد پر اس کو یہودیوںکے زیر کنٹرول قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ہوسکتا ہے کہ بڑے ابلاغی گروپوں کے پالیسی ساز عہدوں پر ایسے افراد فائز ہونے میں کامیاب ہوگئے ہوں جو یا تو معاشی منفعت کی خاطر یا پھرآزاد خیالی کے شوق میں ایساکرتے ہوں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اس وقت ملک کے کئی ٹی وی چینلز کے پالیسی سازاور نیوز کے شعبے میں کلیدی عہدوں پر وہ لوگ فائز ہیں جو بہت فخریہ انداز میں دین سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں گو کہ ان کے نام مسلمانوں کے سے ہیں۔ یہ بہترین پروفیشنل ہونے کے سبب ان جگہوں تک پہنچ کر نہ صرف نیوز اور ویوز یعنی خبر اور تجزیہ کے ذریعے اپنی ساری توانائیاں اسلام اور اسلام کے نام لیواوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں صرف کرتے ہیں بلکہ اس سے نچلی سطحوں پر بھرتی کا اختیار رکھنے کے سبب ایسے ہر فرد کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جو وضع قطع یا سوچ سے ذرا سا بھی اسلامی لگتا ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ مالکان کو اس کا ادراک نہیں ہے‘ ورنہ غیر جانب دار ہونے کا دعویٰ کرنے والے بے شک اپنے اداروں میں بھرتی کے غیر جانبدارانہ معیار کو یقینی بناتے۔ جب صورت حال یوں ہوتو ایسے میں پاکستانی ٹی وی چینلز سے پورا دن نام نہاد طالبان کی طرف سے عورت پر تشدد کی جعلی ویڈیو دکھانے کی شرمناک حرکت پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔
گزشتہ دنوں کسی بندہ خدا نے برطانیہ اور امریکا کے اخبارات میں خبروں کے تجزیہ پر مشتمل ایک ای میل بھیجی جس میں دکھایا گیا تھا کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی اپنی بیوی بچوں کو مار دے تو لکھا جاتا ہے کہ ”ایک آدمی نے بیوی‘ بچوں کا مار ڈالا“ لیکن جب مسلمان ایسا کرتا ہے تو سرخی جمتی ہے کہ”ایک مسلمان باپ نے بیوی بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا“ جبکہ بعض اخبارا ت میں مسلمان کے ساتھ دہشت گرد کا لفظ بھی لکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ وجہ وہی ہے۔ اس لیے جعلی ویڈیو دکھا کر مسلمانوں کو وحشی ‘ درندے اور ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے میڈیا نے جب ایک جنونی ربی کے بیان کو جگہ نہیں دی تو مجھے ذراسی بھی حیرت نہیں ہوئی۔ مانیٹرنگ کا اعلیٰ ترین نظام رکھنے والے اردو اور انگریزی زبان کے بڑے اخبارات اور معروف ٹی وی چینلز نے خبرنشر تو نہیں کی تاہم مجھے یقین ہے کہ ان اداروں میں بننے والی مسِنگ کی لسٹ میں بھی یہ خبر شامل نہیں ہوگی۔ ایک ربی کی صورت میں وحشی‘ درندہ اور دہشت گرد کا کہنا ہے کہ ”جنگ جیتنے کے لیے یہودیوں کو عرب مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو قتل کردینا چاہیے“ عمر البشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والی‘ امریکا کے گھر کی لونڈی اقوام متحدہ ایسے بیانات کا نوٹس نہ لے تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن کوئی مسلمانوں کی نسلی کشی کا اعلان کرے اور مسلمان مذمت کے دو لفظ ادا نہ کریں تو اسے شرمناک اور افسوس ناک قرار دینا غلط نہ ہوگا۔
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز ‘ کے مطابق موومنٹ میگزین کے ایک سوال کے جواب میں شبد( فرقے کی) ربی ’فرائیڈ مین‘ نے کہا ہے کہ” اخلاقی جنگ لڑنے کا واحد طریقہ یہودی طریقہ ہے۔ان (عربوں)کے مقدس مقامات تباہ کرو۔ (ان کی) آدمی ‘عورتیں اور بچے ماردو“ ممکن ہے بعض لوگ کہیں ” یہ تو ایک آدمی کی سوچ ہے‘ اسے یہودیوں کی نمائندہ سوچ نہیں کہا جاسکتا‘ اس لیے ہم نے اسے اپنی خبروں میں جگہ نہ دی ‘ہم صرف مولوی عمر اور مسلم خان کو اپنی خبروں میں جگہ دیتے ہیں جو اسکول تباہ کررہے ہیں۔ہم ان کے Beepers لیتے ہیں۔ہیڈلائز میں رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی کہی بات خبر ہوتی ہے۔ ابلاغ عامہ میں پڑھا تھا کہ ’کتا کاٹے تو خبر نہیں ‘انسان کتے کو کاٹے تو خبر ہے‘ عملی صحافت میں آکر سب کچھ مختلف پایا۔ جو لوگ تعداد میں چند تھے ان کو اہم بنادیاگیا اور جو نمائندہ تھے‘ انتخابات سے عوامی نمائندگی ثابت کرچکے تھے ‘ ان کے لیے جگہ نہیں۔ معصوم بچوں ‘ عورتوں کے قتل کی ترغیب دینے کی خبر کے لیے بھی جگہ نہیں کیوں کہ اس سے یہود وہنود کی دوستی سے انکاری اسلام پسندوں کو فائدہ پہنچے گا ۔یا پھر یہودو ہنود کی وکالت کرنے والے دہریوں کو نقصان پہنچے گا‘ اس لیے یہ خبر نہیں۔“ دلیل کیا ہوگی؟ ایک غیر اہم آدمی کی پاگل پن کی بات۔ توآپ کو بتاتے چلیں کہ فرائیڈ مین کون ہیں؟ فرائیڈ مین 1772ءمیں شروع کی گئی سب سے بڑی یہودی تحریک Chabad کے سب سے موثر ربی ہیں۔ عام آدمی نہیں۔ ایک ٹی وی شو کے میزبان اور بسٹ سیلر ‘ایک کتاب کے مصنف ہیں‘ جس کو چار دفعہ شائع کیاجاچکا ہے اور ہر دفعہ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ان کے دیے گئے لیکچرز کی ڈیڑھ لاکھ سی ڈیز خریدی جاچکی ہیں۔فرائیڈ جس تحریک سے وابستہ ہیں اس کی چار ہزار چھ سو برانچز ہیں۔کیا یہ غیر موثر ہی؟ نہیں جناب ! یہ وہ تحریک ہے جس کے منشور پر امریکااور اسرائیل کی حکومتیں عمل درآمدکرہی ہیں۔ اتنے موثر آدمی کی مسلمانوں کو دھمکی کی خبر نہ بنے تو اس سے اپنے پاکستانی ٹی وی چینلز کو غیرپاکستانی چینلز قراردینے والوں کو تقویت ملے گی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان خصوصاً بڑے ابلاغی گروپ کے مالک اس بات پر غور کریں کہ کہیں ان کے پالیسی سازعہدوں پر ایسے لوگ براجمان ہونے میں کام یاب تو نہیں ہوئے ہیںجو ان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو پاکستان ‘ اسلام اور پاکستانیوں کا نمائندہ بنانے کے بجائے اپنی مخصوص سوچ کی ترویج کا ذریعہ بنارہے ہیں۔ اخبار اور ٹی وی چینلز ان کا کاروبار ہے‘ معاشی مفاد اپنی جگہ اہم اور یہ ان کا حق ہے لیکن میڈیا کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک اور مذہب کی ترجمانی کرے۔یقین جانیے یہ لبرل انتہا پسند مٹھی بھر ہیں۔ ناظرین کی اکثریت اسلام پسند اور محب وطن ہے۔ ملک وقوم کی ترجمانی چینلز کی پسندیدگی کا سبب بنے گی اور معاشی فائدہ کا بھی۔
تحریر: ابو سعود _________________________بشکریہ: جسارت
احتیاط لازم ہے ورنہ
باپ کے جیل جاتے ہی یوں تو بی بی سیاست میں لیڈر کے طور پر داخل ہو گئی تھیں، مگرباپ کی موت اور دوبارہ وطن واپسی پر انہوں نے اپنی سیاست کا سنجیدگی سے آغاز کیا تو انہیں پنکی سے محترمہ بینظیر بھٹو بننا پڑا۔ نہ صرف لباس میں بلکہ اطوار کو بھی تبدیل کرنا پڑا خواہ عوام کو دیکھانے کے لئے ہی سہی جس میں سے ایک عادت جو اپنانی پڑی وہ خاص ہاتھ ملانےسے اجتناب تھا۔ ویسے یہ مختلف بات ہے کہ جیالے و پیپلزپارٹی کے لیڈر اُن کے مشرقی ہونی کی گواہی قسمیں کھا کھا کر مختلف فورم پر دیتے آئیں ہیں اور جبکہ کئی احباب یہ دعوی کرتے ہیں کہ بی بی گھر میں اکثر مغربی لباس زیب تنگ کرتی تھیں، اُن کی ایک ایسے ہی لباس میں موجود تصویر کو اصلی نہ ماننے پر بھی جیالوں کی اکثریت میدان میں موجود پائی جاتی ہے، بی بی ایک عالمی سطح کی سیاست دان بنی تو دہشت گردی کا شکار ہو گئی، یہ الگ سوال کہ کہ اُس مارا کس نے بیت اللہ نے یا ڈک چینی کے اسکواڈ نے؟ ہمارے ہاں جو مر جاتا ہے اُس کی صرف اچھائی کرنے کا رواج ہے لہذا بی بی ایک عظیم و نیک عورت تھی۔
بی بی کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ عملی اعتبار سے آصف زرداری کےہاتھ میں آ گئی ہے، اور اُن کےشریک بنے اُن کے بیٹے بلاول۔۔ بلاول نا سمجھ تھا تب ہی جناب کی اپنی ہم جنس پرست دوست کی ساتھ چند تصاویر نیٹ پر پائی گئی، مگر یار دوست زرداری کو سمجھ دار بتاتے ہیں۔ مگر پہلے انہوں نے سارہ پالین سے لپٹ جانے کی فرمائش کر ڈالی تھی، اب جناب سے کسی اور کے لپٹنے کی تصویرمنظر عام پر آئی ہے، جناب کی مسکراہٹ قابل غور ہے۔
بقول شخصے خلاف کرنے کے لئےکچھ اور بتانے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ یہ اسرائیلی صحافی ہے نام ہے Daphne Barak اور کزن ہیں سابق اسرائیلی وزیراعظم Ehud Barak کی۔ جناب احتیاط لازم ہے تصویر پر اعتراض نہیں انداز پر ہے، ورنہ پھر الزام بھی تو لگ سکتا ہے مردوں کی دنیا ہے۔۔۔۔۔
خوابِ محبت کی ایک متروک تعبیر
محبت کب کتابوں میں لکھی کوئی حکایت ہے؟
محبت کب فراقِ یار کی کوئی شکایت ہے؟
محبت ایک آیت ہے جو نازل ہوتی رہتی ہے
محبت ایک سرشاری ہے، حاصل ہوتی رہتی ہے
محبت تو فقط خود کو سپردِ دار کرنا ہے
انالحق کہ کے اپنے عشق کا اقرار کرنا ہے
محبت پر کوئی نگران کب مامور ہوتا ہے؟
محبت میں کوئی کب پاس اور کب دور ہوتا ہے؟
میں تنہائی میں تیرے نام کے ساغر لنڈھاتا ہوں
محبت کے نشے میں ڈوب کر میں لڑکھڑاتا ہوں
مرا دل ، عشق کے شعلے میں مدغم ہونے لگتا ہے
محبت کے سمندر میں تلاطم ہونے لگتا ہے
مجھے لگتا ہے جیسے ابرِ اُلفت چھانے والا ہے
میں جس کا منتظر رہتا ہوں ، شاید آنے والا ہے
محبت میری فطرت ہے، محبت میرا جیون ہے
محبت میرے ہاتھوں کی امانت، تیرا دامن ہے
شاعر: مسعود منور
آہ
مکمل تحریر پڑھیں ←بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ
آج کل ہر کوئی تو کر کٹ کی بات نہیں کر رہا مگر کئی کر بھی رہے ہیں، اپنے ملک کی ٹیم کے کپتان کے اُس بیان کی کافی شہرت ہے ے جس میں جناب نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور بین الاقوامی کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ اس کا فیصلہ تو تجریہ نگار ہی کرتے اچحے لگتے ہیں کہ کرکٹ کھیل ہے یا تفریح؟ کھیل و تفریح کا بنیادی فرق کیا ہے؟ اور بندر کی ذات تفریح کا کتنا سبب بنتی ہے؟ آیا کرکٹ سے ذیادہ یا کم؟ جی میں بندر کی بات کر رہا ہوں؟ آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں؟ اور یہ کہ بندر و کرکٹ میں کیا تعلق ہے؟
شاید اس ویڈیو کو دیکھ کر کچھ رائے آپ قائم کر سکیں؟
ڈالر
1951 وہ سال تھا جب تک پاکستان روس کی دعوت کو مسترد کر کے امریکہ سے یاری پالنے کے شوق میں آگے بڑھ چکا تھا، دلچسپ بات یہ کہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت بنانے کے لئےنوٹوں کے بریف کیس وفاداری کی خرید کے ضمن میں ادا کئے گئے تھے اب یہ معلوم نہیں وہ نوٹ ڈالر کی شکل میں تھے یا روپے کی؟؟ بہر حال یہ کوئی واقف حال ہی بیان کر سکتا ہے مگر ڈالر کی کارستانی کا آغاز ہو ہی چکا تھا۔ تب ہی تو اُس وقت نعیم صدیقی مرحوم کی ذیل کی نظم "ڈالر" 1951 میں کراچی کے ایک مقامی رسالے میں چھپی تھی ناں، آپ نظم پر ایک نظر ڈالےتو پھر بتائیں کہ کیا شاعر کے وجدان کا قائل ہونا بنتا ہے یا نہیں؟؟
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو ظلم کا حاصل
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص
سرمائے کی اولاد
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل
تو سود کا فرزند!
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے
بیواوں کی فریاد!
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش
توضعیف کی اک چیخ
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر
تو کتنی تمناوں کی ایک قبر سنہری
تاریخ کا اک اشک
تو جنگ کی پرہول نفیروں کا تجسم
تو موت کی پریوں کا فسوں کارترتم
تو برق جہاں سوز کا خوں خوار تکلم
لاشوں سے کمائی ہوئی دولت
تہذیب کوتو زخم لگانے کی ہے اجرت
اف کتنی ہی اقوام کے نیلام کی قیمت
بچھو کا ترا ڈنگ
سانپوں کا ترا زہر
انگاروں کا ہے سوز
ہے سونے کے لفظوں میں لکھی تلخ حقیقت
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
اے سونے کے ڈالر!
اس فاقہ و افلاس پہ تو رحم نہ فرما
بھوکے ہیں یہاں پیٹ
ننگے ہیں یہاں جسم
پھر روگ ہیں اور درد
جو چارہ گری کے نہیں شرمندہ احساں
یہ ٹھیک ! "چچا سام" کے اے راج دلارے
لیکن مری اس بات سے ناراض نہ ہونا
بھوکے ہیں اگر پیٹ تو ہم بھوکے ہی اچھے
ننگے ہیں اگر جسم تو ہم ننگے ہی اچھے
بیمار ہیں بیچارے، تو ہم مرتے ہیں اچھے
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو آئے تو ڈالر!
سو عیش تو ہوں گے، سکھ چین اڑیں گے
زرخیز ہیں گوکھیت، پر قحط اُگیں گے
کھیت تو بھریں گے، ہم فاقت کریں گے
جامے تو سلیں گے، تن کم ہی ڈھکیں گے
آمد تو گرے گی، اور بھاو چڑھیں گے
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
اس دیس میں تو آئے تو اے سونے کے ڈالر!
آئے کا زبا بھی
پھیلے کا جوا بھی
چھائے گا زنا بھی
اُڑ جائے گا ہر پھول سے پھر رنگ حیا کا
اخلاق پہ منڈلائے گی ہر گندی ہوا بھی
تو آئے تو ڈالر
یاں لائے گا اک اور ہی افتاد یقینا
ہاں پھیلے گا نظریہ الحاد یقینا
ہو جائیں گے ایمان تو برباد یقینا
انسان کو بنا دے گا تو جلاد یقینا
پس جائے کی یہ ملت آزاد یقینا
عبرت کا بنا نقش ترے فیض سے
برباد فلسطین
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو آئےتو پھر ہم میں حمیت نہیں رہے گی
اس قوم میں، اس دیس میں غیرت نہ رہے گی
اشراف میں کچھ بوئے شرافت نہ رہے گی
رشتوں میں کہیں روح اخوت نہ رہے گی
ڈرتا ہو میں اسلام کی عزت نہ رہے گی
تو آئے تو ڈالر
تقلید کی بو آ کے رہے گی
احساس کی آواز رکے گی
افکار کی پرواز رکے گی
کچھ اور عنایات بھی ساتھ آئیں گی
کچھ خفیہ ہدایات بھی ساتھ آئیں گی
مغرب کی روایات بھی ساتھ آئیں گی
ادبار کی آیات بھی آئیں گی
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
یہ خاک مقدس!
اک قوم کا گھر ہی نہیں
اسلام کا گھر ہے
یہ حق کے لئے وقف ہے مسجد کی طرح
مخصوص جو قرآں کے اصولوں کے لئے ہے
اللہ کے لئے ، اُس کے رسولوں کے لئے ہے
کانٹوں کے لئے یہ کب ہے؟ پھولوں کے لئے ہے
اس دیس میں اب بزم نئی ایک سجے گی
اس دیس سے تہذیب نئی ایک اٹھے گی
انساں کو نئی روشنی اب یاں سے ملے گی
پھر مطلع خورشید ہے شعلہ بداماں
رنگوں کے یہ گرداب، کرنوں کے یہ طوفاں
اک صبح کے ساماں
یہ آدم خاکی کے لئے آخری امید
یہ جنت اخلاق کی تاسیس، یہ تمہید
مستقبل انسان کی تاریخ کی تسوید
یہ آخری امید
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
ہو گا کیا؟؟
ہم تو اُس دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے! مگر اپنے بڑوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب 1965 میں پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو جتنے دن ملک میں جنگ ہوتی رہی! اتنے دن نہ تو کوئی ملک میں کوئی چوری ہوئی نہ ڈاکا پڑا لاہور جیسے بڑے شہر پر دشمن قبصہ کرنا چاہتا تھا مگر لاہور راتوں کو جاگ اور دن میں کاروبار زندگی چل رہا تھا! باقی ملک کا کیا حال ہو گا؟ پنجاب صوبے کا گورنر نواب آف کالا باغ تھا جس نے تمام تاجروں کو اپنے بلا کر کہہ دیا تھا کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہونے چاہئے! لہذا بازار کھلے تھے اوراشیاء خردونوش کی کوئی کمی نہیں تھی! اور پاکستان اُس وقت جنگ جیت گیا (یہ الگ بات ہے کئی کی رائے ہے کہ پاکستان وہ جنگ ہارا تھا!)
اب سوال یہ ہے کہ آج جب پاکستانی فوجیں حالت جنگ میں ہیں! جن علاقوں میں جنگ ہورہی ہے وہاں سے جان بچا کر بھاگنے والے ہم وطنوں کو وہ اپنے علاقوں میں قبول کرنے کو تیار نہیں جن کے نبی نے ہجرت کی، اور اُس نبی کے پیروکاروں نے ایک ہجرت کے بعد انصار و مہاجرین کی محبت کی عظیم داستانیں رقم کی اُس ملک کے باسی اپنے ہم وطنوں کی میزبانی سے انکاری ہے جن کی میزبانی ایک نئی مملکت کے شہریوں نے کی۔ اس بات ہر اختجاج کر رہے ہیں! ہرتال کر رہے ہیں! اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں! اپنی املاک کو جلا رہے ہے! آپس میں نفرت کا بیج بو رہے ہیں! سیاست چمکا رہے ہیں! ملک میں لسانیت، عصبیت، فرقہ واریت، صوبائیت عروج پر ہے۔ ملک میں مرنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اُن کا قاتل کون ہے؟ کیوں ہے؟ اس ملک میں جب پوری قوم کو ایک ہو جانا چاہئے! قوم منقسم ہے!
حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ وہ بیرونی دوروں میں مصروف ہیں! وہ اہل بننے کے بجائے قرار دئے جانے پر جشن مناتے ہیں! وہ ملک کو بھیک میں قرضہ ملنے کو کامیابی بتاتے ہیں! وہ کروڑوں کا فائدہ بتا کا اربوں کا نقصان پنچاتے ہیں! وہ نجکاری کے نام پر ملکی املاک فروخت کرتے ہیں! وہ جدیدیت کے نام پر نظریات گروی رکھتے ہیں! وہ سفر کے نام پر عیاشی کرتے ہیں!
یہ معاملات امن میں ملکوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور ہم تو حالت جنگ میں ہیں!
سوچیں!
یوم تکبیر پرکہ
آخر ان حالات میں اس ملک کا ہو گا کیا!!