فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ
زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ
براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا
ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے
جادو ٹپک پڑا نِگہ دلنواز سے۔۔۔۔. دل ہل گئے جمال کی شان نیاز سے
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
زاہد حدودِ عشق خِدا سے نکل گئے۔۔۔۔ انسان کا جمال جو دیکھا پھسل گئے
ٹھنڈے تھے لاکھ حُسن کی گرمی سے جل گئے۔۔۔ گرنیں پڑیں تو برف کے تودے پکھل گئے
القصہ دین، کفر کا دیوانہ ہو گیا!
کعبہ ذرا سی دیر میں بُت خانہ ہو گیا!


(جوش ملیح آبادی)

مکمل تحریر پڑھیں ←

کمرہ عدالت

جج ساحب نے وکیل سے کہا “ وکیل صاحب آپ اپنی  Limit Cross کر رہے ہیں“

وکیل نے جج کی بات سن کر کرخت لہجے میں جوابن کہا “ کون سالا یہ کہتا ہے؟“

جج نے وکیل کا جواب سنتے ہی اپنی سیٹ پر اپنی پوزیشن تبدیل کی اور وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں کہا “تو آپ مجھے سالا کہہ رہے پے“

حلات کی سنگینی کا اندازہ لگا کر وکیل نے پینرہ بدلا اور کہا“ مائی لارڈ میں تو کہہ رہا تھا کون سا لاء (Law) کہتا ہے“

مکمل تحریر پڑھیں ←

امبی دے بُوٹے تھلے

اِک بُوٹا امبی دا، گھر ساڈے لگا نی
جِس تھلے بہنا نی، سُرگاں وِچ رہنا نی
کیہ اوس دا کہنا نی، ویڑھے دا گہنا نی
پر ماہی باجھوں نی، پردیسی باجھوں نی
ایہہ مینوں وڈھدا اے، تے کھٹا لگدا اے
ایس بُوٹے تھلے جے، میں چرخی ڈاہنی آں
کوئل دِیاں کُوکاں نی، مارن بندوقاں نی
پِیڑھے نُوں بھناں میں، چرخی نُون پُھوکاں نی
پِھر ڈردی بھابو توں، لَے بہاں کسیدہ جے
یاداں وِچ ڈُبی دا، دِل کِدھرے جَڑ جاوے
تے سُوئی کسیدے دی، پوٹے وَچ پڑ جاوے
پِھر اُٹھ کے پیڑھے توں، بھنجے بہہ جاواں
چیچی دھر ٹھوڈی تے، وہناں وِچ ویہہ جاواں
سُکھاں دِیاں گلاں نی، میلاں دِیاں گھڑیاں نی
کھیراں تے پُوڑے نی، ساون دِیاں جھڑیاں نی
سوہنے دے ترلے نی، تے میریاں اڑِیاں نی
جان چیتے آ جاون، لوہڑی ہی پا جاون
اوہ کیہا دیہاڑا سی، اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جِس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میڑا لاڑا سی، میں نہاتی دھوتی نی
میں وال دودھائے نی، میں کجلا پایا نی
میں گہنے لائے نی، مَل مَل کے کھوڑی میں
ہیرے لشکائے نی، لا لا کے بِندیاں میں
کئی پھند بنائے نی، جاں ہار شنگاراں تو
میں ویہلی ہوئی نی، آ امبی تھلے میں
پھیر پُونی چھوہی نی، اوہ چند پیارا بھی
آ بیٹھا ساہویں نی، امبی دی چھاویں نی
اوہ میریاں پریتاں دا، سوہنا ونجارہ نی
قصے پردیساں دے، لاماں دِیاں چھلاں نی
گھمکار جہازاں دی، ساگر دی چھلاں نی
ویری دے ہلے نی، سوہنے دی دِیاں ٹھلاں نی
اوہ دسی جاوے تے، میں بھراں ہنگارا نی
ایس گلاں کردے نُوں، پتیاں دی کھڑ کھڑ نے
بدلاں دی شُوکر نے، ونگاں دی چھن چھن نے
چرخی دی گُھوکر نے، پٹیاں دی لوری نے
کوئل دی کُو کُو نے، منجے تے پا دِتا
تے گُھوک سُلا دِتا
تک سُتا ماہی نی، چرخی دی چرخ توں
میں کالکھ لاہی نی، جا سُتے سوہنے دے
متھے تے لائی نی، میں کُھل کے ہسی نی
میں تاڑی لائی نی، میں دوہری ہو گئی نی
میں چُوہری ہو گئی نی، اوہ اُٹھ کھلویا نی
گھبرایا ہویا نی، اوہ بِٹ بِٹ تکے نی
میں کِھڑ کِھڑ ہساں نی، اوہ مُڑ مُڑ پُچھے نی
میں گل نہ دساں نی
تک شیشہ چرخی دا، اوس گُھوری پائی نی
میں چُنگی لائی نی، اوہ پِچھے بھجا نی
میں دیاں نہ ڈاہی نی، اوس مان جوانی دا
میں ہٹھ زنانی دا، میں اگے اگے نی
اوہ پِچھے پِچھے نی، منجی دے گِردے نی
نسدے وی جائیے نی، ہسدے وی جائیے نی
اوہدی چادر کھڑکے نی، میری کوٹھی دھڑکے نی
اوہدی جُتی چیکے نی، میری جھانجر چھنکے نی
جاں ہف کے رہ گئی نی، چُپ کر کے بہہ گئی نی
اوہ کیہا دیہاڑا سی؟ اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میرا لاڑا سی
اج کھان ہواواں نی، اج ساڑن چھاواں نی
ترکھان سداواں نی، امبی کٹواوِان نی
توبہ میں بھلی نی، ہاڑا میں بھلی نی
جے امبی کٹاں گی، چڑھ کِس دے اُتے
راہ ڈھول دا تکاں گی

قریب 1941 میں یہ نظم موہن سنگھ نے لکھی جو بعد میں ان کی کتاب “ساوے پتر“ میں چھپی!!!! میرے کزن (بھائی) نے مجھے سنائی تھی!!!! اس نظم میں منظر کشی اچھی ہے!!! ایک عورت کی اپنی مرد کو یاد کرنا ایک شرارت اور گھر میں لگے درخت کو بہانہ بنا کر

مکمل تحریر پڑھیں ←

سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

سنو تم لوٹ آؤ ناں
میری منتظر آنکھیں
دعا مانگتی آنکھیں
تمہیں ہی سوچتی آنکھیں
تمہیں ہی ڈھونڈتی آنکھیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں
یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے
تمہارا نام لیتا ہیں
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں
تمہارے دکھ میں بہتے ہیں
کہ بارش جب بھی ہوتی ہے
تمہیں ہی یاد کرتی ہیں
خوشی کوئی جو آئے بھی
تمہارے بن اُدھوری ہے
سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

باہر کا جھگڑا اور گھر کی مار

بعض باتیں کافی دلچسپ ہوتی ہیں!!! لڑائیاں بھی!!!مار بھی!!! بچپن میں جو پہلا جھگڑا میرا ہوا تھا اس میں میں مار کھا کر آیا تھا!!! پھر گھر آ کر مار کھائی گھر آنے پر پہلا سوال یہ ہوا کہ بھائی غلطی کس کی تھی جب بتایا کہ دوسرے کی تو اگلی کاروائی ہوئی  کہ اگر لڑائی ہوئی تھی تو میں مار کھانے والا کیوں بنا مارنے والا کیوں نہیں!!! اس کے بعد پھر کبھی لڑائی نہ ہوئی!! پھر جب ہم آٹھویں جماعت میں تھے ایک دن ابو نے اپنے سگریٹ لینے کے لئے دکان ہر بھیجا نیا نیا شوق ویڈیو گیم کا چڑھا ہوا تھا کوئی ماہ دو ماہ ہوئے ہوں گے!!! لہذا ویڈیو گیم کی دکان میں جا کھڑے ہوئے!!! گیم دیکھنے (چونکہ ابھی اُس میں ماہر نہیں ہوئے تھے) میں اس قدر مگن کہ کچھ خبر ہی نہیں ، ایک لڑکا پاس آیا کہنے لگا آپ کی جیب میں پچاس روپے تھے؟ جو جیب دیکھی تو ابو کے دیئے ہوئے پیسے غائب تھے!!! فورا کہا ہاں یار تمہیں کیسے پتا؟؟ کہنے لگا وہ لڑکا نکال کر لے گیا ہے!!! میں نے جا اس لڑکے کو کہا “تم نے میری جیب سے جو پیسے نکالے ہیں وہ واپس کرو“ وہ انکاری ہو گیا!!! اور میرا ہاتھ غصہ سے اُٹھ گیا، اور لڑائی شروع ہو گئی بمشکل مار کھانے سے بچے!!! معاملہ پچاس روپے سے ذیادہ ابو کی ڈانٹ (ومار) کا خوف تھا!!!! آس پاس موجود لڑکوں نے اُس لڑکے کی پٹائی کرنے پر داد تو دی مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر جان نکال دی کہ اس کا بھائی تو “فلاں“ پارٹی کا ہے اب تیری خیر نہیں!!!! پچاس کا نوٹ اُس لڑکے سے تو نہیں ملا مگر گیم کی دکان کے مالک نے مجھے اپنے پاس بلا کر پچاس کا نوٹ دے دیا اور کہا کہ اُس لڑکے کے واپس آنے سے پہلے پہلے میں وہاں سے نکل جاؤ!!! کہ غالب انکان ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ آ سکتا ہے!!! لہذا ہم وہاں سے فرار ہو کر گھر لوٹ آئے!! گھر میں امی اور بہنوں نے تو ہماری حالت کا پوچھا تو ہم ٹال گئے البتہ ابو نے اُس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا!!! شام میں دوستوں سے اس جھگڑے کا ذکر کیا تو اُں کے بیانات خون خشک کر دینے والے تھے!!! کہ وہ لڑکا تو جب تک بدلہ نہیں لیتا معاف نہیں کرتا!!! لہذا اگلے دن ہم نے چھٹی کر لی!!! اور اُس دن شام میں کھیلنے جانے سے پہلے ابو نے گزرے دن ہماری خراب حالت کے بارے میں پوچھ لیا!!! ہم نے ساری بات صاف صاف بتا دی!!! والد صاحب نے باقی باتیں تو جیسے سنی ہی نہیں اور گیم کی دکان پر جانے سے منع کر دیا اور “عزت“ (سمجھ گئے ہوں گے) کی گیم کی دکان پر جانے پر!!! “عزت“ سے فارغ ہو کر بس اتنا کہا کہ کل اسکول لازمی جانا ار اُس لڑکے سے ڈرنے والی کوئی بات نہیں اگر لڑائی کرے تو کسی خوف میں مبتلا ہوئے بغیر اُس کی پٹائی کر دینا اور اُس کا بھائی اُس کے ساتھ ہو تو اُس سے کہہ دینا کہ میرا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں !!! اتفاق ایسا ہوا کہ اگلے دن وہ وہ صاحب ہمیں اپنے اسکول کے باہر “آدھی چھٹی“ میں مل گئے مگر اس نے مجھے سے کوئی بات نہیں کی!!!!
نویں جماعت میں تھے کہ ہماری کلاس کا جھگڑا دسویں کلاس سے ہوا!!! دونوں کلاسوں میں کافی ٹھیک ٹھاک قسم کا جھگڑا ہوا!!! ہماری شرٹ کی جیب پھٹ گئی دوسرا گلی کے ایک لڑکے نے اس جھگڑے کا تمام احوال گھر میں بتا دیا!!! اب کے ہمیں اس لڑائی کی وجہ سے ابو سے مار پڑی کہ اسکول مجھے پڑھنے کے لئے بھیجا جاتا ہے اِس کام کے لئے نہیں!! دوسرا میں غلط بعد پڑ جھگڑا ہوں!!!
اُس دن کے بعد ہم کسی بھی معاملہ میں اُس وقت تک لڑائی میں نہ پڑتے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ میں ٹھیک طرف ہوں!!!! ویسے والد سے کیا کبھی آپ کو مار پڑی ؟؟؟؟مجھے ڈانٹ تو پڑتی رہتی ہے!!! مجھے آخری بار ابو نے کوئی تین برس پہلے (تھپڑ) مارا تھا !!! ڈانٹ تو کوئی ایک ماہ ہو گیا پڑی ہے!!! اور سچی بات ہے اُن کی یہ ڈانٹ و مار میری زندگی کا سرمایہ ہیں!!! انہوں نے کبھی بھی بلاوجہ ایسا نہیں کیا!!! والدین کی مار مار نہیں ہوتی تربیت ہوتی ہے وہ کھا لینا ہی اچھاہے

مکمل تحریر پڑھیں ←

لا یغیرُ ما۔۔۔

بُرائی سے نفرت ہی کرتا تھا پہلے
کہ بزرگوں سے مَیں نے یہی کچھ سنا تھا
پھر اک وقت آیا_______کہ اوروں کی خاطر،
بُری چیز کو بھی بُری چیز کہتے ہوئے
مَیں جھجکنے لگا!
اب بُرائی کو اچھا سمجھنے لگا ہُوں
یہی “ارتقا“ کی وہ دلدل ہے جس سے بچانا
کسی کے بھی بس میں نہیں ہے
اگر مَیں نہ چاہوں!

شاعر: محسن بھوپال

مکمل تحریر پڑھیں ←

اصل دہشت گرد اور ہم ملزم

آج کل تہذیبوں کا تصادم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے جاری ہے، جس میں ظالم یا دہشت گرد قرار دیا جانے والا خود کو بے قصور ثابت کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ یہ میڈیا کی دنیا ہے اور یہ میڈیا ہماری پولیس سے بھی آگے، کہتے ہیں پاکستانی پولیس کی چھتر پریڈ سے شیر خود کو بکری کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا شیر کے بکری ہونے کا ایسا پروپیگنڈا کرتا ہے کہ شیر خود ہی یہ باور کرنے جاتا ہے کہ وہ بکری ہے۔
اجمل قصاب پاکستانی ہے ایسا کسی اور نے نہیں پاکستانی نادان میڈیا نے دنیا کو ثابت کر کے دیا۔ یوں تو یہ معاملہ کافی حد تک ویسے ہی گھمبیر تھا کہ محمود میاں کی سمجھ ہی نہیں آئی وہ ہمارے ملک کے مشیر قومی سلامتی ہیں یا ۔۔۔۔۔؟ دوسرا شیری رحمان عرف عام میں سُٹے بار کے موبائل نمبر سے بی بی سی کو تصدیقِ ایس ایم ایس کی کچھ سمجھ نہیں آئی!
ہمارے حکمرانوں کے اعمال ہی ایسے ہیں! وہ اُن کو جو ہمارے ہی دشمن ہیں انعامات سے نوازتے ہیں! مسلم عوام اگر فرعون وقت کو الواداعی تحفہ میں جوتوں سے نوازتی ہے تو یہ اُس کے ساتھی  کو ہلال قائداعظم کے ایواڈ سے، ہمیں ویسے ہی اُس “باؤ“ سے “چڑ“ ہے!
اچھا تو بات کا آغاز ہو تھا دہشت گرد قرار دیئے جانے سے! اب تک یوں تو دہشت گردی کی تعریف ہی پر اتفاق نہیں ہو سکا مگر بھر بھی یہ کہا جاتا ہی جو کوئی کیفے، بس، باراز، ہوٹل وغیرہ میں بم دھماکا کر کے عام انسانوں کی جان لے دہشت گرد! اگر  یہ سچ ہے تو جس نے سب سے پہلے اس عمل کی بیاد رکھی وہ دہشت گردی کا بانی ہو گا ناں!!
تاریخ کا کسی کیفے میں پہلا بم دھماکا 17مارچ 1937 کو یافا میں یہودیوں نے کروایا، بم کا پہلا استعمال فلسطین میں اسی سال اگست و ستمبر میں یہودیوں کی جانب سے کیا گیا، ھفیاء شہر کے بازار اگلے ہی برس جولائی کی چھ کو بم دھماکہ کا نشانہ اہل یہود کی مہربانی سے بنے۔ 1946 میں بائیس جولائی کو انہوں نے ہی القدس شہر کے ہوٹل میں بم دھماکا کروایا۔ اس کے علاوہ ایک لمبی فہرست اسے کی کارناموں کی سامنے آئی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

چلو PC چلیں!

آپ کو اگر کوئی کہے کہ چلو PC چل کر چائے پیتے ہیں! تو لازم آپ کا خیال “پرل کانٹی نینٹل“ ہوٹل کی طرف جائے گا! مگر کبھی آپ مجھ سے ملیں تو پہلے پہل تو میں آپ کو لسی کی دعوت دوں گا! جو لازمی سی بات ہے کسی بھی “ناگوری ملک شاپ“ سے تو مل سکتی ہے مگر شاید پرل کانٹی نینٹل سے نہیں! دوئم اگر میں چائے کی دعوت دوں تو میں آپ کو PC چلنے کو ہی کہوں مگر وہ ہر گز پرل کانٹی نینٹل نہیں ہو گا! بلکہ “پٹھان کیفے“ ہو گا! جی ہاں میں ہر کوئٹہ کیفے یا ایسے دوسرے چائے کے کھوکھے یا ریسٹورینٹ کو “پٹھان کیفے“ کو “PC“ ہی کہتا ہوں!
میرا ماننا ہے یہ درحقیقت “پرل کانٹی نینٹل“ سے بہتر ہیں! یہاں کے اسٹاف سے آپ کی بہت جلد بن جاتی ہے! آپ کو دیکھاوے والے “رکھ رکھاؤ“ کی کوئی ضرورت نہیں ہے! سب سے بڑی بات دیوار پر بے شک یہ درج ہوتا ہے کہ یہاں پر “سیاسی گفتگو کرنا منع ہے“ مگر ہر کوئی ملکی سیاست پر اپنے رائے درج کرواتا نظر آتا ہے! ایسے کیفے میں تین چار جگہ اعلان چپسا ہوتا ہے “نقد بڑے شوق سے اُدھار اگلے چوک سے“ مگر مجھ کیسے کئی افراد کا بل ایک ایک ہفتے بعد ادا ہوتا ہے مگر خان صاحب کبھی تنگ نہیں کرتے!
ایک اہم فوقیت یہ کہ اس مہنگائی میں “پٹھان کیفے“ جیب پر بھاری نہیں پڑتا! جبکہ “پرل کانٹی نینٹل“ میں “ہائے ٹی“ بل کے اعتبار سے واقعی “ہائے“ (اردویا پنجابی والا) ٹی بن جاتی ہے!!!
یہ ہی نہیں جیسے محبت دلوں کو یکجا کر دیتی ہے ایسے ہی میرے PC کی چائے کے تمام اجزاء یکجا ہوتے ہیں!
تو کیا خیال ہے؟ PC چلیں!

مکمل تحریر پڑھیں ←

او! خبیثَ!

وکالت میں کئی قصے سنانے سے تعلق رکھتے ہیں! یہ قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے!

آغاز وکالت میں شوشل ویلفیر کا نیا نیا شوق تھا! اب کچھ پرانا ہو گیا ہے ناں! مگر اپنا وکالت نامہ لگانے سے گھبراہٹ ہوتی تھی! ساتھ ہی کوئی تنہا کیس چلانے سے بھی! ایسا تنہا ہمارے ساتھ نہیں تھا، دیگر یار دوست بھی کچھ ایسی کیفیت کے حامل تھے! تب ہی کی بات ہے ہمارا ایک وکیل دوست ایک مائی اماں کے ساتھ راہ چلتے سامنے آ وارد ہوا! ہمارے یہ دوست بھی خلق خدا کے خدمت گزار بننے کے شوقین ہیں!
ماں جی موٹے موٹے آنسوؤں سے ساتھ پولیس والوں کو بد دعا دیتی جا رہی تھی! ‘اللہ کریں پولیس والوں کو اللہ اُٹھا لیں‘ اماں کے اکلوتے بیٹے کو پولیس والوں نے موبائل فون چھننے کے کیس میں جیل بھیج دیا تھا! ماں کا دعوٰی تھا کہ اُن کا بیٹا نہایت شریف و نونہال ہے! اُس نے کبھی ڈاکا تو کجھا راہ میں میں پڑی ہوئی کسی کی چیز پر ملکیت کا دعوٰی نہیں کیا!
اماں کے ساتھ اُن کے بیٹے کے کیس کی ایف آئی آر حاصل کرنے مطلوبہ کورٹ کے کلرک کے پاس جا پہنچے۔ دوست نے جیب سے جناب کو اُن کا مخصوص ‘ٹیکس‘ ادا کر کے ایف آئی آر حاصل کی! پھر اُس نے اپنے سینئر کا وکالت نامہ اماں کو دیا کہ بیٹے سے دستخط کروا کر لے آنا! وہ ہمارے منہ کی طرف دیکھنے لگی! بقول اُس کے مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا، خیر پولیس وین کے ڈرائیور جو جیل سے قیدی لے کر اتا ہے اُس سے رابطہ کرکے اُس سے ذریعہ وکالت نامہ دستخط کروانے کا پروگرام بنایا! وہاں پہنچے وکات نامہ دیا! اب اُس کو مطلوبہ معلومات دیں! تو وہ مسکرا کر دیکھنے لگا! میرے دوست سے مجھے اشارہ کیا! جیسے کہہ رہا ہے پہلے میں نے نقد ویلفیر کی ہے اب تمہاری باری ہے! مفلسی میں آٹا گیلا! خیر مجبوری تھی! کام سے پہلے مزدوری ادا کی گئی!
اماں کو تسلی دے کر بھیج دیا! کورٹ کے دیگر ذاتی کیسوں سے فارغ ہو کر! لائبریری میں بنائے گئے پروگرام کے مطابق ملےآ ایف آئی آر کا مطالعہ کی! چند قانونی نقائض جو ہماری سمجھ میں اُس میں ایسے تھے تو کام آ سکتے تھے! نوٹ کئے! مزید کی تلاش کے لئے وہاں سے اُٹھ کر کورٹ میں جا کر فائل میں سے دیگر کاغذات کا مطالعہ کر کے اُس کیس کو ٹائپ کرکے پرنٹ نکالنے کی ذمہ داری اُٹھا کر ہم دفتر آگئے! اور دوست اپنے دفتر چلا گیا!
کیس ٹائپ کیا! دوست کو ای میل کیا اُس نے اُس ایک نظر دیکھا ہو گا! چند مزید باتیں ایڈ کی! واپس ای میل کیا! ہم نے پرنٹ نکال کر اگلے دن اُس کے حوالے کر دیا! بعد میں وکالت نامہ حاصل کرنا! اور ضمانت فائل کرنا اُس کے سر تھا! اور اس دوران ہونے والا خرچا بھی!!!
دوپہر میں اُس کا ایس ایم ایس آیا دو دن بعد کی تاریخ ملی ہے! ہم نے ڈائیری میں نوٹ کیا! کیس لاء تلاش کئے! اگلے دن دوست کو بتائے اُس نے بھی تیاری کر رکھی تھی! اُس کا کہنا تھا کیس وہ چلائے گا! میں نے کہا ٹھیک ہے! اماں کو بھی وہ ہی ڈیل کر رہا تھا!
مخصوص دن ہم دونوں کورٹ میں تھے! Bail چلائی! جج نے تین دن بعد آڈر پر رکھ دیا! اور اُس دن آرڈر نہیں آیا! جج صاحب نے معذرت کی کہ کام کے رش کی وجہ سے آڈر نہیں لکھوا سکا! دو دن معاملہ آگے چلا گیا! اور دو دن بعد ضمانت منظور ہو گئی! پچاس ہزار کی!
ماں کو بتایا! اور اسے کہا کہ اماں پندرہ بیس دن صبر کرنا! پھر ضمانت کم کرنے کی درخواست لگا دے گے تمہارے پاس کہاں پیسے ہوں گے!!! ا ٹھیک ہے کہہ کر وہ چلی گئی مگر اگلے ہی دن ایک بندے کو ساتھ لے کر کورٹ میں آ گئی! اُس کے گاڑی کے کاغذات ضمانت کے طور پر کورٹ میں داخل کروانے کے لئے! ضمانت کورٹ میں داخل ہوئی! کورٹ نے ویریفیکیشن کا آڈر کیا! اگلے دن بندہ باہر!
جس چیز نے مجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ جس مائی کے پاس پہلے فیس و کورٹ کے لئے پیسے نہیں تھے! بیٹے کی ضمانت منظور ہوتے ہی کیسے نہ صرف ضمانت کا انتظام ہو گیا؟ نیز اُ نے اس دن کورٹ میں بھی ہزار پندرہ سو روپے خرچ کر ڈالے! اور ہمیں صرف دعائیں دیں!!! خیر!
تیسرے دن دوست سے کورٹ میں ملاقات ہوئی تو اُس نے بتایا! کہ وہ مائی کا لڑکا ضمانت پر نکلنے کے بعد دفتر شکریہ کرنے آیا تھا ور میں سینئر سے ملاقات کروانے جب اُن کے کمرے میں اُسے لے کر گیا تو میرا سینئر اُس دیکھ کر کھڑا ہو گیا!
میں نے کہا کیوں؟
تو بتانے لگا کہ سینیئر نے اُس سے کہا کہ ‘اوہ خبیثَ! میرا موبائل تو نے چھینا تھا فلاں فلاں جگہ‘ اُس نے یہ تو نہیں کہا ہاں مگر تین گھنٹے بعد وہ اُس ہی ماڈل کا موبائل دینے آ گیا! اور مائی کو بیٹے کی حرکتوں کی خبر تھی!
کیا سمجھے!

مکمل تحریر پڑھیں ←