ایران کارٹون کی طرف سے ہالوکاسٹ پر مبنی کارٹونوں کے مقابلے کااعلان یہ کارٹون پہلے نمبر پر آیا!!!,,,,,,,,,
No Dates, No Dancing
ذاتی طور پر میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی گروہ کے تعلیمی اداروں میں وجود کا مخالف ہوں!!!!
,,,,,,,,,
عيد مبارک
مسلم علماء کا پوپ کے نام خط
مسلم علماء کی جانب سے پوپ کے نام لکھے گئے خط کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
ایک ماہ کے مسلمان
اس ماہ کئی افراد عملاَ بھی مسلمان ہوئے اور کئی زبانی جمع خرچ کرتے رہے میری طرح!!! شہر میں افطار پاڑٹیاں بھی کافی ہوئیں آخری عشرے میں تو دو دو جگہ سے دعوتیں موصول ہو رہیں تھیں!!! سمجھ نہ آتا تھا کہ کہاں جائیں کہاں نہ جائیں!! افطار پارٹی کا ایک فائدہ ہے کہ پرانے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے!! افطار پارٹی میں شرکت کرنے والوں میں کئی احباب ایسے بھی تھے جو سارا دن افطار کرتے رہتے تھے اور شام کو صرف پارٹی اٹینڈ کرنے آ جاتے!!! ان کی خوش خوراکی معاملے کی وضاحت کر دیتی تھی!!!
اکثر نیک لوگوں نے روزے داروں کی افطاری کا انتظام راستے میں ہی کررکھا ہوتا تھا کہ جو لوگ گھر نہ پہنچ پائیں وہ وہاں ہی رُک کر روزہ افطار کرلیں!!! کچھ حقیقت میں مجبوراَ وہاں روزہ افطار کرتے اور بعض نیتَ وہاں پہنچ جاتے تھے!!! اعمال کا دارومدار نیت پر ہے!! خیر سڑک کے کنارے ایسا افطاری کا انتظام ایک مسلم معاشرے ہی میں ممکن ہے!!!
رمضان میں اللہ کے گھر میں حاضری دینے والوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ،مساجد میں نمازیوں کی تعداد دوگنی سے بھی ذیادہ ہو گئی!!!! بلکہ علاقے کی مسجد کے مولوی صاحب تو تلقین کرنے لگے کہ بھائی رمضان کے علاوہ بھی مسجد میں حاضری قائم رکھی جائے!!! تراویح کا معاملے میں البتہ گھر سے مسجد کے لئے نکلنے والوں کی تعداد مسجد میں حاضر ہونے والوں کے مقابلے میں ذیادہ ہوتی تھی!!!! باقی مسجد سے باہر ہوتے!!!
امید ہے کہ آج ساحلی علاقوں میں چاند نطر آجائے گا!! لہذا کل یہاں پاکستان میں عید ہو!!! ممکن ہے کہ جس لمحے آپ یہ پڑھ رہے ہو عید کا اعلان ہو چکا ہو!!! ویسے پاکستان میں کئی مقامات پر بھی آج عید منائی گئی اور عید کے اجتمات میں ملی یکجہتی کو فروغ دینے کا درس دیا گیا!!! ملت یکجا ہو کر عید تو مناتی نہیں ملی یکجہتی کیسے فروغ پائے؟؟؟؟
پاکستان میں تین دن کی سرکاری چھٹی دی گئی ہے!!! پیر، منگل اور بدھ!!! پیر کی چھٹی کس تُک میں دی گئی یہ بات سمجھ سے بالا ہے!!! فرض کیا کہ آج چاند نظر نہیں آتا تو عید کے دوسرے دن کام پر جانا کیسا لگے گا؟؟؟؟
خیر عید مبارک ہو !!! وہ بھی بہت بہت!!!!! اور عیدی!!! یار !! چھڈ اوے!!! نہ منگ یار!!!!
اپ ڈیٹ؛- عید بدھ کو ہے!!! اور جمعرات کو بھی چھٹی!!! کیا بات ہے بھائی!
لطیفہ
یہ لطیفہ چند دن پہلے ایک کالم میں پڑھا تھا!!!!!
ایک بازار سے ایک سرکاری افسر کا گزر ہوا، اس نے وہاں موجود ایک لڑکی پر آواز کَسی!!! لڑکی کا بھائی وہاں موجود تھا اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس افسر کو مارنا شروع کردیا!!! لڑکی کا باپ وہاں سے گزرا اسے اصل بات کا علم ہوا تو اس نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا!!! لڑکی کا منگیتر بھی اتفاق سے آ پہنچا!!! حالات کا علم ہوا تو وہ بھی افسر کو پیٹنے لگا!!! اہل بازار بھی کچھ دیر بعد افسر کو مارنے والوں میں شامل ہو گئے!
اب افسر کی مدد کو تھانیدار بمعہ سپاہیوں کو آگیا!! افسر صاحب کو ان سے بچا لیا گیا!!! اور تمام لوگوں کو ایک قطار نے کھڑا کردیا گیا!!!
سرکاری افسر نے لڑکی کے بھائی سے سوال کیا “تم نے کیوں مارا مجھے“
اس نے بتایا کہ میں لڑکی کا بھائی ہو، باپ سے پوچھا تو اس نے بتایا کی میں لڑکی کا باپ ہو!!! منگیتر کا جواب بھی یہ ہی تھا کہ لڑکی کا منگیتر ہونے کی وجہ سے میری غیرت نے مجھے مجبور کیا!!!!
اس کے بعد سرکاری افسر نے باقی لوگوں سے پوچھا تو ان کا جواب تھا!!
“ہم سمجھے کہ حکومت چلی گئی ہے“
اسلامُ گیمنگ
اس خبر کے بارے میں آپ کی رائے!!!! کیا ہے!!! ایران و امریکہ!!! سیاسی جنگ !!!! اور ایک ویڈیو گیم!!!!کیا یہ واقعی مسلمانوں کا ویڈیو گیم ہو گا؟؟؟؟؟
“ان کی دھمکیاں،رپورٹیں اور ہماری پالیسی“
کمزوری جب بھی دیکھائی جائے بری ثابت ہوتی ہے۔ یہ باریک سوراخ سے شگاف کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اُن کی ہر دھمکی ہر رپورٹ پر ہم کمزوری ظاہر کر کے پالیسی بدلنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں!!!! پھر تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ یہ قومی و ملکی مفاد میں میں کیا ہم نے!!!! ملک کا مفاد کیا ہے یہ قوم نہیں جاتی ہے!!!! یہ لوگ جانتے ہیں!!!! پتھر کے دور میں دھکیل دینے کی دھمکی کی وجہ سے افغانستان پر حملے کی اجازت پیش کی!!! اور نعرہ لگایا “سب سے پہلے پاکستان“ اب یوں لگ رہا ہے کہ جن کے ہم اتحادی بنے ہوئے ہیں ان کا بھی یہ ہی نعرہ ہے“سب سے پہلے پاکستان“ کو پکڑو باقیوں کو بعد میں دیکھ لیں گے!!!!! افغان پالیسی میں تبدیلی نے ہمارا ایک باڈر کمزور کیا!!!! پھر اتحادی کی نظر ایٹمی ٹیکنالوجی پر پڑی!!!! لہذا جو قوم کا ہیرو تھا اسی کے پیچھے پڑ گئے!!!! ہم پہلے تو ٹھیک رہے کہ یہ الزام غلط ہے پھر آہستہ آہستہ کمزور پڑتے گئے اور آخر میں بات یہاں تک آ پہنچی کہ نہ صرف اُٰس سے اعتراف جرم کروایا! نظر بند کیا! بلکہ صاحب بہادر نے اپنی کتاب میں اسے اس رنگ میں پیش کیا کہ لگتا ہے کہ وہ ہیرو نہیں غدار ہو!!! یارو(اتحادی) کی نظر پھر شہ رگ (کشمیر) کی طرف اٹھی ہماری پالیسی فلمی ہیروئین کی کمر کی طرح کافی لچکدار ہو چکی تھی!!! یا شائد موم کی ناک کی طرح!! جہاں دک کیا موڑ دی!!! لہذا ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے!!! تنہا ہی تھے لہذا خود ہی اکیلے بیٹھے ہم کلامی کرتے رہے کبھی ایک تجویر پیش کرتے کبھی دوسری!!! اصل بات سے ہی ہٹ گئے!!!! یہ تو ماضی تھا!!!!
حال میں اب یہ حال ہے کہ اب یارو کی فرینڈلی فائرنگ کی زد میں اپنی خفیہ ایجنسی “آئی ایس آئی“ ہے!!!! برطانوی وزارت دفاع کی ایک رپورٹ لیک ہوئی ہےیا کی گئی ، جو اس کی خفیہ ایجنسی کے کسی فرد نے تیار کی ہے کہ ایسی رپورٹوں کا مقصد صرف لیک کرنا ہوتا ہے ایک بار خبر کی زینت بن جائے تو بس کافی ہے وہ کیا ہے کہ آئی ایس آئی اسلامی جہادیوں کے پیچھے کے !!!! اُن کی مدد کو!!! لہذا اس ایجنسی کو ختم ہو جانا چاہئے!!!!! بی بی سی کے پروگرام نیوز نائیٹ میں جب صدر صاحب نے اس رپورٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال میں اسے مسترد کیا اور ساتھ کی برطانوی وزارت دفاع کے بند کرنے کا مشورہ دیا تو ہم سمجھے کہ شائد بات بن گئی مگر “ٹوٹ گئی تڑک کر کے“ جب جناب نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام “میٹ دی پریس“ میں ماضی میں آئی ایس آئی کے چند سابق افسران کے تعلق کا اظہار کیا یون تو اب تک بیان اس قدر خطرناک نہیں مگر یہ باریک سی لچک کیا رنگ لاتی ہے یہ کون جانتا ہے۔
اس ایجنسی کے کچھ کاموں سے لاکھ اختلاف ہو!!! مگر پھر بھی یہ ایجنسی دنیا کی بڑی اہم ایجنسیوں میں ہے!!!!
مصنف اور منصف
اپنے صدر صاحب مصنف ہو گئے ہیں!!!! جناب نے پوری کتاب لکھ ڈالی ہے!!! کہتے ہیں کہ میری اپنی خودنوشت ہے!!!ٹائم اسے شائد قسط وار چھاپ رہا ہےابھی تو چند ٹکڑے ہی لکھے ہوئے ہیں!!!!!!! 368صفحات اور 32ابوب پر مشتمل یہ کتاب انگریزی زبان میں ہے!!! 1245 روپے میں اردو بازار کراچی سے مل رہی ہے!!!! سنا ہے قریب ایک ماہ بعد اس کا اردو ترجمہ پاکستانی مارکیٹ میں موجود ہو گا جو انگریزی کتاب کی قیمت کے چوتھائی کے برابر ہوگا!!!
کتاب کی اشاعت سے قبل ہی صدر صاحب نے “سی بی ایس “ چینل کے پروگرام “ساٹھ منٹ“ میں امریکی دھمکی کا ذکر کر کے کتاب کی تشہیر کا آغار کر دیا تھا!!! بعد میں یعنی اب یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیا معلوم کیا کہا تھا مجھے تو جنرل محمود نے یہ ہی بتایا تھا!!! اور جنرل صاحب تبلیغ پر نکلے ہوئے ہیں کسی کے ہاتھ ہی نہیں لگ رہے کہ بندہ پوچھ لے بھائی اصل ماجرا کیا ہے؟؟؟؟؟ میں صدقے جاؤ!!! فوجی بندہ اور اتنا سیاسی!!! کیا بات ہے!!! کسی کتاب کی مشہوری کا اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہے کہ اسے جس قدر ممکن ہو متنازع بنایا جائے!!!! لہذا اس میں موجود اکثر باتوں کے متعلق یہ رائے عام ہے کہ اس بات پر کوئی تنازع نہیں کہ فلاں بات متنازع ہے!!!!
جن احباب نے یہ کتاب پڑھی ہی ان کی رائے میں صدر صاحب نے کمال کیا ہے!!! جو زبان اس کتاب میں استعمال ہوئے لگتا ہی نہیں کہ یہ کسی جنرل کہ کتاب ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہایت اعلی لکھاری ہے!!! تو بھائی ٹھیک ہے کوئی لکھاری ہو گا!!! مگر کون ؟؟ یہ ایک پہلی ہے!!! جو بوجھ لے اس کی خیر نہیں!!!
جناب نے اس کتاب میں ڈاکٹر قدیر کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ہے !!! انہیں انا پرست، دولت اور شہرت کا لالچی کہا ہے!!! ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ان کا اپنا نیٹ ورک تھا جہاں سے وہ دنیا میں یہ ایٹمی ٹیکنالوجی پھلا رہے تھے!!! بھارت نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا اور کوریا سے بھی ڈیل کی تھی!!! نوار شریف ، شہبار شریف اور ان کے ابا جی کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا کہ یہ شریف نہیں !!!! بھٹو کو آمر اور فاشٹ قرار دیا!!!! ضیاء کو ظالم کہا!!!
خود کو کارکل کو ہیرو کہا ہے!!! اور نواز شریف کو زیرو!!!! برطانوی پولیس اور خفیہ اداروں سے بھی ناراضگی جاہر کی اور امریکہ سے بھی!!!!اور القاعدہ کے بندوں کے بدلے پیسہ لینے کی بھی بات کی.
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ جناب صرف مصنف بنے یا منصف بھی اور ہر بات انصاف کے ترازوں پر تول کر سچ سچ بیان کی یا نہیں!!! مگر بہر حال میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ کتاب لکھنے میں برائی نہیں مگر ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے!!!! صدر جی کو کتاب لکھنے یا لکھوانے کا اتنا ہی شوق تھا تو وہ اس کرسی صدارت و فوجی وردی اتارنے کے بعد یہ کام کرتے!!! جب آپ اس سیٹ پر ہوں تو آپ کوئی کئے معاملات میں خاموشی اختیار کرنا پڑتی کہ یہ ملکی مفاد میں ہوتا ہے!!!! اب کوئی آپ کی بات پر کیا یقین کرے گا کہ آپ آس کی بات کو راز میں رکھے گے!!!!
مبارک!!!!!!
رمضان مبارک، رمضان کی مہنگائی مبارک، سحری مبارک، افطاری مبارک، تراویح مبارک، روزے مبارک، نیکیوں کی اضافی قیمت مبارک!!!!!!!!