بارش!!!
بارش ہو رہی ہے کیا بات ہے بھائی!!! کل کی بارش سے گھر کا فون مر گیا ہے!!! یہ ہی کہے گے نا بھائی!!!!! ایک پوسٹ بھی لکھی تھی مگر فون ڈیڈ ہونی کی وجہ سے نہیں پوسٹ کر سکا!!! خیر ابھی تو بارش انجوئے کر رہا ہوں!!! آفس میں!!!عدالت نہیں جا سکتا ناں اس بارش میں!!! کیا کرو نوابوں والی سب حرکتیں ہیں!!! کراچی والوں بارش مبارک ہو!!! اب…
گوگل تنگ کرنے کا شکریہ
قرب(krib) گوگل کی وجہ سی کرب کا شکار ہوئے لہذا انہوں نے گوگل سے شکایت کر ڈالی اور یوں جناب کو گوگل نے معذرت بھرا کارڈ اور تحائف دے ڈالے کیا آپ کو کوئی شکایت ہے!!! گوگل سے؟؟؟
تیرے آنسو
موتی سے بھی قیمتی ہوتے تیرے آنسو جو میرے دامن میں گرتے تیرے آنسو میرے خوابوں کو آنکھوں میں بسا لیتی جو تو زمانے کی آنکھوں میں پھرتے تیرے آنسو ان کو دنیا کی آنکھوں سے بچا کر رکھنا کہیں کوئی چرا کے نہ لے جائے تیرے آنسو اِسی کو شاید اُجلا جل کہتے ہیں لوگ جب اُس جل میں ہیں ملتے ہیں تیرے آنسو جو لوگ مےکشی میں بھی خدا کو پا گئے ان …
شہد کی سرزمین میں بارود کی کڑواہٹ
پندرہ دن کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا!!! حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں!!! اب تو یہ بھی نہیں معلوم کتنے گھر بچ گئے ہیں!!! جہاں روزانہ بائیس ٹن بارود مزائل کی شکل میں داغے گئے ہوں!!! جہاں روزانہ کم سے کم بھی سو کے قریب ہوائی حملہ ہوتے ہوں وہاں بھلا کچھ بچ سکتا ہے کیا!!!! ہاں ہو گا تو صرف کھنڈر!!!! لبنان کو زمانہ قدیم میں کنعا…
لب آزاد نہیں اب وہاں بھی!!!! شاید
چلو پاکستان میں تو جمہوریت نہیں!!! آزادی رائے نہیں!!!!! اس لئے کہہ لو کہ بلاگ اسپاٹ پر پابندی لگی!!! مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ دوراِن مذاکرات ہمارے حکمرانوں نے پڑوسیوں کو بھی سمجھا دیا ہے تب ہی تو ایسا ہوا ہے !!!!.اب وہاں بھی یار لوگ اس راستے کو اپنا رہے ہیں!!!! کیا بات ہے بھائی ہون آرام ایں Tags : blogspot ، Free S…
طلب
طلب پیاس کی طرح ہوتی ہے لگتی ہے تو بے تحاشا لگتی ہے، شروع شروع میں بہت بے چین کرتی ہے۔ پوری ہو جائے تو تشنگی اور بڑھ جاتی ہے اگر حد سے بڑھ جائے تو خود ہی سیرابی ہو جاتی ہے جیسے پانی کا قطرہ سیپ کے اندر موتی بن جاتا ہے ۔اسی طرح طلب انسان کے اندر سیرابی بن جاتی ہے۔
آج اور کل
ایک ہی مسافت کے دو مرحلے ایک دوسرے کی جانب بڑھتے ہوئے رکنا نہ اس کا مقدر، ٹھہرنا نہ اس کا مقدور آج اور کل ایک دوسرے سے متعارف، ایک دوسرے پہ موقوف ایک دوسرے کا مقسوم یوں ایک دوسرے سے مختلف بھی منسلک بھی کہ ایک نمودار ہوچکا ہے دوسرے کی آہٹ سنائی دے رہی ہے آج کا وجود بہت بڑی ذمہ داری ہے آج موجود ہے اور مخاطب ہے کل بھی دور نہیں، کل…
احمد ندیم قاسمی
کون کہتا ہے کہ موت آئی گی تو مر جاؤ گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤ گا ------------------------------------------ مرو تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤ “ندیم“ کاش یہ ہی ایک کام کر جاؤ --------------------------------------- موت و حیات کا مقصد کیا ہے،آخر کچھ تو معلوم ہو لفظ تو ہیں صدیوں کے پرانے، ان کا مفہوم تو ہو --------…