تازہ ُتک بندی
چراغ کے بجھ جانے سے اجالے سمٹ جانے سے اندھیرا پھیل جانے سے زندگی روٹھا نہیں کرتی موت آیا نہیں کرتی غم کے دلدل میں آنسوں کے بھنور میں سسکیوں کے جھرمٹ میں زندگی روٹھا نہیں کرتی موت آیا نہیں کرتی بھیڑ کے چھٹ جانے پر اپنوں کے بچھڑ جانے پر تنہا رہ جانے پر زندگی روٹھا نہیں کرتی موت آیا نہیں کرتی مگر درد سے نا آشنائی ہو اندر بے حسی کی پرچ…