اسے مت پڑھے

جب میں میٹرک میں تھا تو اس دور میں میں نے یہ تحریر پڑھی حرف بہ حرف تو یاد نہیں مگر کچھ یاد ہے ممکن ہے کہ آپ نے بھی پڑھی ہوں کچھ اس طرح تھی۔ "آپ نے اس تحریر کو پڑھنا شروع کردیا جبکہ عنوان میں اسے نہ پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے،آپ سے ایک بار پھر التماس ہے مزید پڑھنے سے اجتناب کرے اس میں آپ کے پڑھنے کو کچھ نہیں لہذا باز آجائے رک جائے وقت کے ضیائع سے گریز کریں،آگے نہ بڑھےتو بہتر ہے۔کیا بات ہے؟آپ منع نہیں ہورہےخدارا یقین کرے اس میں آپ کا فائدہ ہے رک جائے،بہت ہو گیا!عجب ڈھیٹ مٹی کے ہو! باز ہی نہیں آرہے،پڑھتے جا رہے ہو۔چلو اتناتم نے پڑھا کچھ ملا تم کو؟ نہیں نا!کچھ حاصل ہوا؟ اب تمہارا جواب نفی میں ہے،اس واسطے پھر عرض کرتا ہوں کہ اب آگے نہ پڑھنا،یار تم باز آنے والے نہیں معلوم ہوتے،کیا کرو کہ تم باز آجاؤ ،اب دیکھو میں آپ سے تم پر آگیا ہو کہیں تم سے تو نہ ہو جائے لہذا کچھ کرتا ہو،تم تو پڑھنے سے باز نہ آؤ گے ٹھیک ہے میں ہی لکھنا بند کردیتا ہو،ہون آرام ای"۔ کیسی لگی تحریر ؟اب ذرا یہ خالی جگہ تو پر کریں سموسہ کھایا نہیں اور جوتا پہنا نہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تھا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
تل

تل

تیرے مکھڑے تے کالا کالا تل اؤے منڈیا سیالکوٹیا شعور میں آنے کے بعد جب پہلی مرتبہ گانا سنا تو لگا جیسے میرے واسطے گایا گیا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ جناب یہ گانا تو نورجہاں نے میري پیدائش سے تیس پینتس سال پہلے کسی فلم کے لئے گایا ہے،شبہ کی وجہ ؟ میرے چہرے پر تل اور تعلق گاؤں روہیلہ سے ہیں جو ضلع سیالکوٹ میں ہے۔
اب معلوم ہوا ہے کہ جس طرح ایک دست شناس ہاتھ دیکھ کر آنے والے حالات سے آگاہ کرنے،قیافہ شناس چہرے سے نیت بتانے کااور ستارے کی چال کا حساب لگانے والا اس سے مستقبل کی زندگی کا پتہ دیتے ہیں سنا ہے تل بھی اس طرح انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں
ہونٹ پر تل رکھنے والا فطرت کا مالک ہوتا ہے یہ ہمیشہ ہربات پر شرط لگانے کو تیار رہتے ہیں۔جلدباز قسم کے ہوتے ھَیں شاری ان کی دیرسے ہوتی ہے- ان کوعلیحدہ رہنا پسندہوتا ہے۔ہروقت اپنی اور اپنے خاندان والوں کی تعریف ہی کرتے رہتے ھیں ۔اور پیسے کے معاملے میں کنجوس ہوتے ھیں۔
تل کسی بھی طرف رخسار پر ہو تو ایسے اشخاص سنجیدہ اور مطالعہ کا شائق ہوتے ھیں -زندگی سیاست اور مذہبی نظریات کےلئے درمیانی راستہ اختیار کرتے ھیں۔ان کی خوشیوں کے لئے دولت کی ضر ورت نہیں ہو تی درویش قسم کی طبیعت رکھتے ہیں قنا عت پسند ہو تے ہیں
ٹھو ڑ ي پر تل الٹی یا سید ھی طر ف ہو ایسے لوگ قا بل شک زند گی کے ما لک ہو تے ہیں - لو گو ں سے محبت کر تے ہیں بلند حو صلہ اور کا مو ں میں ایما نداري و سیاست کےشوقین ہوتے ہیں دور کے ملکوں کے رسم و رواج سے اگاہی رکھتے ہیں لائق اور ذمہ دار ہو تے ہیں ملک یاخاندان کیلۓذمہ داري کے کام قبو ل کر نے سے گر یز نہیں کرتے
کند ھے پر تل عموما انتھک محنتی ہوتے ہیں یہ لوگ گھر یلو اطمینان حا صل کر نے کی خاطر بیرو ن ملک سفر اختیار کرتے ہیں اگر دائیں کند ھے پر تل ہو تو عاقبت اند یشی فہم اور شادي کیلۓ وفاراري کی علامت سمجھا جاتا ہے ہنر مندی ظاہر ہوتی ہے ،اگرتل بائیں کندھے پر ھو تو ہر مرحلہ پر مطمئین رہنے کی علامت ہے
کندھے سے کہنی تک جو بازو کا حصہ ہے اس پر تل خوش اخلاقی اور اچھی زندگی کی علامت ہے ازواجی زندگی خوشگوار ہوتی ہے اگر تل کہنی کے قریب ہو تو ایسا مرد ملٹری یا پولیس میں ملازمت کرتا ہے اگرتل کسی عورت کا ہوتو وہ نرسنگ یا ائیرہوسٹس کا پیشہ اختیار کرتی ہے مالی طور پر خوش قسمت ہوتی ہیں شادیاں ا ن کی دو ہوتی ہیں
اس قسم کے تل والےسیاحت کے شوقین ہوتے ہيں ان میں آرٹ اور ہنر کے جوہر زیادہ ہوتے ہیں جو کمانے کےلئے خوش بختی لاتے ہیں لیکن یہ لوگ کام کا بہت کم شوق اور لگن رکھتے ہیں
کلائی پر تل کفا لت شعاري اور بھروسہ کے قابل ہوتے کی دلیل ہے اگر عورت کی کلائی پر ہوتو ایک شادي اگر مرد کی کلائی پر ہو تو دو شادیاں ہونے کا امکان ہوتا ہے طاقت اورہمت میں اضا فہ د یتا ہے محنت سے کام کرنے کا رجحان پیدا کرتا ہے
الٹے بغل کے نیچے ہوتو زندگی کے ابتدائی سالوں میں سخت جدوجہد کرنی پڑے گی چالیس سال کے دولت کی نشادہی کرتا ہے جس سے زندگی کی تمام آسائش حاصل ہوتی ہیں ۔سیدھے بازو کے نیچے ہوتو خوشحالی کےلئے ثابت قدمی اور ہوشیاري کا اظہار کرتا ہے
جن کے ہاتھ پر تل ھوتا ہے ۔دولت،صحت اور تقریبا ہر چیز کی بہتات ہوتی ہے عموما بہت ذہین ہوتے ہیں تل کسی بھی انگلی پر ہو یہ مبالغہ آمیزي کا اظہار کرتا ہے زندگی کے اہم امور جن سے دوچار ہوتے ہیں ان کی سختیوں کا مقابلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے کھوٹ کو بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہیں۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

نقطہ

کاغذ پر نقطہ کیا اہمیت رکھتا ہے؟تنہا۔۔۔۔۔۔شاید کچھ نہیں یا شاید مہت کچھ ۔۔۔بہت کچھ۔۔۔۔نقطہ نشانی آغاز۔۔۔۔آغاز کچھ بھی ہو کیسا ہی ہوکہی سے بھی ہو۔۔۔۔جیومیٹری کے ماہر کہتے ہیں ایک نقطہ پر تین سو اسی(۳۶۰)زاویے ہوتے ہیں۔وہ تین سو اسی راستوں کے سنگم پر واقعہ ہوتا ہے۔ہر راہ اسے تک رہی ہوتی ہے کہ شاید وہ اس راہ پر چلے۔۔۔۔اب اس کی مرضی وہ کس راستے کا انتخاب کرے۔۔۔۔نقطہ اپنے جیسے چند نقاط سے مل کر حرف بناتا ہے حروف لفظ کے وجود کا سبب بنتے ہیں اور الفاظ ایک جملہ کی تخلیق کرتے ہیں اور جملہ خیال کے اظہار کا ذریعہ۔۔۔۔۔خیال کی وجہ سے نقطہ کی پیدائش ہوئی اور اس نے اس کو دوسروں تک پہنچا کر اپنے ہونے کا جہاں احساس دلاتا ہے وہاں خیال کا مقصد بھی پورا کردیتا ہے۔۔۔۔ ایک نقطہ جو بظاہر بہت حقیر نظر آتا ہے لیکن ہے نہیں۔۔۔ ایک نقطہ نے مجھے محرم سے مجرم بنا دیا وہ دغا دیتے رہے ہم دعا سمجھتے رہے اس ایک نقطہ کی اونچ نیچ خدا سے جدا کردیتی ہے۔ خرم کو جرم بنا دیتی ہے۔ یہ ایک نقطہ دلیل کو ذلیل اور رحمت کو زحمت بنا دیتا ہے۔ مختصر یہ نقطہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

یوں کرنا

شام کو جب کبھی
خاموشی سے نہ تم بیٹھ سکو
تو اتنا تم کر لینا
میرے گھر کا نمبر ملا کر
مجھ سے کچھ باتیں کرنا
کچھ اپنے من کی باتیں کہنا
کچھ میرے دل کا حال سننا
پھر میری کسی بات پر
مجھ سے تم روٹھ جانا
میں تجھ کو منانے کی خاطر
تیرے پاس چلا آؤتو پھر
تم مجھ سے نہ ناراض رہنا
پھر دونوں مل کر سیر کو جائیں گے
شام ڈھلے واپس آئیں گے
شب تم مجھ سے جدا ہوکر
تھوڑا سا بے چین ہونا
رات میں بستر پر لیٹ کر
میرا خیال ذہن میں لانا
تم پھر سو جانا
رات کوتم سوتے میں سپنے میرے دیکھنا
صبح اٹھ کر میرا ایک کام کرنا
کل والے اعمال کو
آج دوبارہ دوہرانا
یہ سب نہ اگر تم کر سکو
تو میرے خیالوں میں کھو کر
خاموشی سے بیٹھے رہنا
-{میری اپنی تنگ بندی}-
مکمل تحریر پڑھیں ←

بے تکی کو بے طقی

پچھلے دنوں بہت سے دوست احباب و اردو بلاگرز نے اِملا کی غلطی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی اور کہا ہے کہ میں نے بے تکی کو بے طقی غلط لکھا ہے ۔ تمام احباب درست ہیں۔ ایسا لکھنے کی ایک وجہ اپنے بے تکے پن کو ظاہر کرناہے۔

ایسا بے تکہ پن آپ کو انگریزی میں بھی نظر آئے گا تاکہ پڑھنے والا متوجہ ہو جیسے

school = skool , photo = Foto , college = kallege ,computer = kamputer

بعض اوقات کسی لفظ کو پڑھنے کا انداز [طریقہ] اِس کے معنوں کو تبدیل کر دیتا ھے اِس سلسلے میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ جو ہمارے ماموں کا ہے ملاحظہ ہو،یہ اُس وقت کی بات ہے جب وہ میٹرک کے طالب علم تھے،وہ انگریزی کا پرچہ دے کر آئے توبڑے ماموں نے اُن سے پرچہ لے سُننا شروع کیا کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں [اُن کی انگلش بھی میری طرح بس ایوے ہی تھی شاید] ایک مضمون "میرے دوست"کا ایک فقرے کو ماموں نے یوں سُنایا۔ We both go school to get her بڑے ماموں نے جملہ سنا اور چونکے پرچے کی پشت پر جملہ تحریر کرنے کو کہا تو وہ کچھ اِس انداز میں لکھا گیا۔ We both go school together یوں لفظ کا مطلب ہی تبدیل ہو گیا۔

ایسا ہی حال آپ اِس لفظ کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔ Assume = Ass+u+me اکٹھا پڑھنے پر "فرض کریں" اور توڑنے پر "آپ،میں کند ذہن" انگریزی زبان کے علاوہ لفظوں کا یہ کھیل اردو زبان میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر یونس بٹ[مشہور مزاح نگار] اپنے ٹی وی ڈراموں میں کافی استعمال کرتے ہیں۔مثلاً مذاکرات ہوئے[بات چیت ہوئی]۔ مذاق رات ہوئے[رات میں کافی مذاق ہوئے] ۔

اِس طرح آپ کو تلاش پر بہت سے الفاظ مل جائے گے جن کو بولنے،پڑھنے یا لکھنے سے اِن کا مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے۔ یوں بات میں ایک مزاح کا پہلو آ جاتا ہے۔تحریر میں ہم قافیہ الفاظ کے بعد ایسے الفاظ کا استعمال ایک خاص قسم کی مزاح نگاری کا سبب بنتا ہے۔ اِس طرح بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو ایک شخص کی اپنی ذہنی پیداوار ہوتے ہیں، جیسے پاکستانی صحافت نے لفظ "لوٹا" بے ضمیر سیاست دانوں کے لئے بھی مخصوص کر رکھا ہے۔ایک ہی زبان کے یا مختلف زبانوں کے ہم آواز مگر مختلف معنوں والے الفاظ کا نہایت اعلٰی استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً

١۔ تمہارا کرکٹ کا شوق [اردو] اہل محلہ کے لئے باعثِ شوق[انگریزی] ہے۔

٢۔ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے[پنجابی میں کھوتا گدھے کو کہتے ھیں]۔

یوں لفظوں کا ہیرپھیر ذومعنی جملوں کا سبب بنتا ہے۔جو پڑھنے یا سننے والے کے لئے وقتی طور پر جہاں مسکراہٹ کا وسیلہ بنتا ہے وہاں ہی کہنے والے کے لئے بات کو گول مول کر کے بیان کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے آپ بے طقی کو بے تکی پڑھے یا بے طوق کی [مطلب بغیر طوق والی یعنی جو ہر قید سے آزاد ہو]۔ کیا کہا؟آپ نے کیسی بے تکی بات ہے ۔
مکمل تحریر پڑھیں ←