انعامی لا قانونیت

یہ ایک عام تاثر ہے کہ انعامی اسکیم میں جن کی بڑی رقم نکلتی ہے اُن کا وجود نہیں ہوتا! اس سے ذیادہ اہم بات یہ کہ اپنے مال یا سروس کی تشہیر کے لئے انعام کا لالچ دینا کیا اخلاقی طور پر درست ہے؟
آپ کا خیال و جواب کچھ بھی ہو مگر یہ سلسلہ میرے ملک میں زور و شور سے جاری ہے، اور ادارے خواہ وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری خود ایسی اسکیموں کی تشہیر کے لئے زور بھی لگاتے ہیں اور شور بھی مچاتے ہیں۔
اس وقت میڈیا میں ٹیلی کام کمپنیاں سب سے ذیادہ انعامی لالچ کی ترغیب کے ذریعے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں! بغیر کسی شک شبہ کے ایسی کوئی بھی اسکیم شرعی نقطہ سے ناجائز ہے خواہ انعام پانے والے اپنی انٹرویو میں یہ ہی کہے میں نے انعام کا سن کر دو رکعات شکرانے کے ادا کئے :)
کیاملکی قانون کے تحت یہ جائز ہیں؟
یہ سوال عموما سامنے آتا ہے اور وہ بھی اس رائے کے ساتھ اگر اجازت نہ ہو تو کیوں ایسی اسکیمیں متعارف ہوں؟ جواب سادہ ہے تعزیرات پاکستان کی دفعہ294 بی کے تحت کاروباری معاملات کے سلسلے میں انعامات کا لالچ دینا قابل گرفت جرم ہے۔
اس دفعہ کے لفاظ یوں ہیں!
Whoever offers, or undertakes to offer, in connection with any trade or business or sale of any commodity, any prize, reward or other similar consideration, by whatever name called, whether in money or kind, against any coupon, ticket, number or figure, or by any other device, as an inducement or encouragement to trade or business or to the buying of any commodity, or for the purpose of advertisement or popularising any commodity, and whoever publishes any such offer, shall be punishable, with imprisonment of either description for a term which may extend to six months, or with fine, or with both.

ہاں کہنے کو سزا صرف چھ ماہ ہے مگر بات یہ ہے کہ ملکی قانون میں انعامی ترغیب کے ذریعے کاروبار کا فروغ ایک غیر قانونی عمل ہے اور یہ لاقانونیت باقاعدہ ہمارے ملک میں چل رہی ہے۔ 1965 میں یہ دفعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی۔ دلچسپ یہ کہ نہ صرف عام کمپنیاں و ادارے اس قانون کی پابندی نہیں کر رہے بلکہ مختلف ادوار میں ریاستی مشینری و حکومتی سرپرستی میں اس قانون کے خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔
معاشرے و ریاستوں کی تنزلی کا اندازہ قانون کی پاسداری سے لگایا جاتا ہے اور ہمارا معاشرہ قانون شکنی کو معیوب نہیں سمجھتا! کیوں؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

قانون کو بدل دیتے ہیں!

کیا کریں طاقت ہاتھ میں ہیں! اہل اقتدار ہیں! جو چاہے آپ کی کابینہ کرے! آپ نہیں ہوں گے تو آپ کے بچے ہوں یہ ملک بنا ہی آپ کی حکمرانی کے لئے ہے انگریز نہ سہی انگریز کے ملک کی شہریت ہی سہی!! ایسے ہی تو نہیں ہم کہتے کالے انگریز!! آپ میں اور اُن میں ایک ہی فرق ہے وہ باہر سے گورے ہیں اندر سے تو دونوں کا حال ایک سا ہی لگتا ہے! جی بلکل ایسا جیسا ہمارا باہر سے ہے، کالا!! اندر کا رنگ دیکھنے کے لئے کوئی خاص ٹوٹکا نہیں کرنا پڑتا بس سامنے والے کے قول و فعل کو دیکھا و پرکھا جاتا ہے۔
اب آپ سے کیا پردہ! بلکہ یہ کہہ لیں آپ کا کیا پردہ سب صاف صاف نظر آ رہا ہے مگر کوئی نا سمجھ بچہ ہجوم میں نظر نہیں آ رہا جو کہہ سکے “بادشاہ بے لباس ہے” ہم تو یہ ہی کہیں گے نہایت عمدہ لباس ہے جو آپ نے پہن رکھا ہے، واہ واہ سرکار واہ واہ۔
قانون کا شکنجہ سب کے لئے ہوتا ہے یہ سب میں سب ہی تھوڑا شامل ہیں۔ سب سے مراد تو عوام ہے عوام! عوام یعنی ہے عام۔
وہ قانون جو اپنی گردن پر فٹ ہوتا ہو جو تو نظام میں فٹ نہیں لہذا قانون بدل دو لہذا فیصلہ ہوا بدل دیا جائے گا!
دوسری ملک کے شہری یہاں کی شہریت لے کر اور یہاں کے "اہل وفا" اُن سے عہد وفا کر کے بھی حکمرانی کا حق رکھیں گے اور وہ عدلیہ کی حکم عدولی پر قابل سزا نہ ہو گے!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ہون میں کی کراں؟

ایک تو عرصہ ہوا ہم سے رٹا نہیں لگتا دوسرا کبھی بھی ہم سے یہ نہیں ہو پایا کہ امتحان میں سوالات کے جوابات کو لمبا کرنے کے لئے بلاوجہ الفاظ کی جُگالی کریں۔ اس لئے اکثر سوالات کے جوابات کا مواد مقدار میں مقرر نمبروں کے مقابلے میں کم ہی ہوتا ہے ۔مگر خوش قسمتی یہ کہ ہمیں کبھی کسی تحریری امتحان میں ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا یعنی جس طرح کبھی انٹرویو میں پاس نہیں ہوئے بلکل اس ہی طرح تحریری امتحان میں خواہ کس کی نوعیت کا ہو ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔
ہمارا خیال تھا کہ زندگی میں ملنے والی چند نئی کامیابی و ناکامیوں میں اس بار بلا آخر امتحانی پرچوں میں ناکامی کا سنگ میل عبور کرنے کا موقعہ ملے گا مگر ہائے رے قسمت!!! ہر پرچے پر کالج پہنچنے پر معلوم ہوتا کہ پرچہ ملتوی ہو گیا !! وفاقی اردو میں طلباء تنظیموں کے جھگڑے کی بناء پر تمام پرچے ایک ایک کر کے ملتوی ہوتے رہے جن کا ہمیں بروقت علم نہ ہوا اخبار میں خبر آتی مگر اخبار میں وہ صحفہ پڑھنے کی ہمیں عادت نہ ہے لہذا ابو جان سے ڈانٹ پڑی ہے کہ تجھے باقی ساری خبروں کی جزیات تک کا علم ہوتا ہے مگر اپنے پرچوں کی خبر نہیں۔
سچی بات تو یہ ہے بغیر تیاری امتحان کو جانے کو دل نہیں کرتا مگر اُس سے ذیادہ دکھ اُس وقت ہوتا ہے جب منزل امتحان پر پہنچ کر علم ہو کہ امتحان ملتوی ہو گیا ہے تو دل پر ایک چوٹ سی لگتی ہے !!! کیوں ؟ یہ سمجھ نہیں آتی!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ہم ایف ایم پر

ہماری این جی او کو ایف ایم پر قانونی مشورے دینے کی افر آئی گزشتہ ہفتہ ہم اہنی این جی او کی طرف سے نامزد ہوئے دوستوں کا خیال ہے ہم نے "آہ آہ" بہت کی ہے گفتگو میں اس پر ہمیں قابو پانا چاہئے۔ آپ اپنی رائے دیں ذرا



مکمل تحریر پڑھیں ←
کامیاب امیدوار

کامیاب امیدوار

حسن اتفاق جب وہ اپنے دیگر آفس کولیگ کے ساتھ انٹرویو میں کامیاب امیدوار کا انتخاب کر رہا تھا جب ہم اُس سے ملاقات کو اُس کے دفتر جا پہنچے! کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ دوبارہ آپس میں “مطلوبہ” امیدوار کے بارے میں مشورے میں مصروف ہو گئے! اُسے اپنے آفس کے لئے ایک آفس سیکریٹری کی ضرورت تھی!

اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ آج ہی اس سیٹ کے لئے اُمیدواروں کے انٹرویو کئے گئے ہیں! تمام پینلسٹ امیدوار کی صلاحیتوں سے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے! وہ اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا اور تمام افراد کی رائے کو غور سے سن رہا تھا! آخر میں اُس کے ایک ساتھی نے اُس سے اُس کی رائے معلوم کی تو وہ اپنی کرسی پر سیدھا ہو میز پر رکھے قلم کو ہاتھ میں پکڑ کر انگلیوں میں گھماتے ہوئے حتمی لہجے میں بولا!


ایسا کرو وہ لڑکی نہیں تھی نشیلی آنکھوں اور کھلے بالوں والی، جس نے لال رنگ کی تنگ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی! اور بال ڈائی کئے ہوئے تھے اُس کا آفر لیٹر نکال دوں میرے کام کی تو وہ ہی ہے! بولڈ ہے بندہ بولڈ کر سکتی ہے “ایک موٹی گالی” “

معیار کی جانچ کی ایک مثال یہاں بھی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
نوشتہ دیوار

نوشتہ دیوار

جب ہم پی ایف کالج میں پڑھتے تھے تو زندگی بہت عمدہ تھی! فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا!! کر تو ہم اب بھی عیش ہی رہے ہیں مگر تب کی بات اور تھی۔

ایک دن کالج آئے تو ایک خاتون کا نام اور فون نمبر کالج کی تمام دیواروں پر لکھا ہوا تھا! شدید حیرت ہوئی! اگلے پورا ماہ اہم موضوع بحث یہ اسٹوڈنٹ ہی رہی تمام کالج میں! وہ اسٹوڈنٹ تو اگلے دن سے کالج نہیں آئی!! جن کے ناموں کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا اُن میں ہمارا نام بھی تھا جب ہی مجرم پکڑنے کی ذمہ داری Vice Principle نے ہمیں دے دی!! ایسے کیسوں کے مجرم پکڑ میں آتے ہیں کیا؟

تب ہم نے جانا ایک کام کا چور ہر کام کا چور مانا جاتا ہے! ہمارا جرم بس اتنا تھا کہ ہم نے کالج کی ایک سابقہ روایت کو دوبارہ زندہ کیا تھا اور وہ تھی کلاس یا کالج سے bunk مارنا!! اس ہی بناء پر کوئی بھی دو نمبر کام ہوتا ہمارا نام مجرمان کی فہرست میں آتا تھا!! وہ تو شکر ہے نہ تو ہمارا کبھی bunk پکڑا گیا نہ کسی اور جرم کی پاداش میں ہم کالج سے نکالے گئے۔

آج فلکر پر ایک تصویر دیکھ پر کالج کا یہ قصہ یاد آ گیا!

مکمل تحریر پڑھیں ←
لاؤڈ اسپیکر کا استعمال!

لاؤڈ اسپیکر کا استعمال!

ایک دور تھا عالم دین اس رائے پر اختلاف کا شکار تھے کہ آیا لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے یا نہیں اور ابتدا میں تو وہ صرف مسجد میں اس کا استعمال خطیب کے خطبہ تک محدود رکھتے تھے مگر بعد میں جب دوبارہ دنیاوی تعلیم رکھنے والوں نے دین کی طرف رغبت کی اور شرعی علم کے حامل افراد نے بھی ایک بار پھر خواہ محدود تعداد میں ہی دنیا کے علم کو سمجھنے کی سہی کی تو تب لاؤڈ اسپیکر کو مساجد میں دیگر دینی امور جیسے نماز وغیرہ کے لئے استعمال کیا جانا شروع کر دیا گیا!
قریب تمام علماء بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر متعفق ہیں کہ اذان کے علاوہ کسی بھی دیگر استعمال کے لئے مساجد کے باہر لگے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اسلامی شعائر کے مخالف ہے!وجہ لاؤڈ اسپیکر کا غیر اسلامی ہونا نہیں بلکہ عوام الناس کے تکلیف پہنچنے کا امکان ہے۔
علماء کی اس رائے کے برخلاف یہ ہمارے معاشرے کی عام روش ہے کہ مخصوص دینی ایام و تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر مساجد و تقریب کی مقام سے باہر بھی استعمال کر کئیے جاتے ہیں جو کہ اہل علاقہ و محلہ کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا یہ غلط استعمال صرف دینی حلقوں کی جانب سے ہی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی جماعتوں و خود کو “روشن خیال” کہلانے والے دیگر مختلف طبقے بھی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔
اونچی آواز میں اسپیکرز(کہ اہل محلہ و علاقہ تک آواز جائے) پر گانے سننے یا نعت و نوحہ چلانے و پڑھنے کی یہ غیر اخلاقی حرکت معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ اب کئی احباب اس بارے میں اس رائے کا شکارہیں کہ شاید یہ کوئی غلط بات نہیں! اور اس سلسلے میں ہر طبقہ دوسرے کو مثال بنا کر پیش کرتا نظر آتا ہے کہ “ارے وہ بھی تو 'فلاں''فلاں' موقعہ پر ایسا کرتے ہیں تب تو کوئی کچھ نہیں کہتا”۔
لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے عوام کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو نہ صرف یہ کہ اخلاقی و دینی اعتبار سے قابل گرفت ہے بلکہ ملکی قانون بھی ایسے حالات میں اس عمل کو “جرم” تصور کرتا ہے۔ مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کے تحت یہ ایک جرم ہے! یہ متعلقہ قانون کل آٹھ دفعات پر مشتمل ہے! اس قانون کی دفعہ پانچ کے تحت یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہے!
لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ 2 کے تحت عوامی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جرم تصور کیا جائے گا اگر اُس سے عام افراد کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو! مزید یہ کہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عدالتوں، مختلف دفاتر کے قریب کام کے اوقات میں نیز مساجد و دیگر دینی مقامات (چرچ و مندر) کے قریب عبادات کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال منع ہے۔
یہ ہی نہیں قانون کی دفعہ 2 میں مزید بیان ہے کہ مساجد، چرچ ، مندر اور دیگر دینی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے ان کے قریب کے رہائشی متاثر ہو کی بھی ممانعت کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی عوامی و ذاتی مقام ہر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے فرقہ واریت و نفرت انگیز پھیلنے یا نظم و ضبط متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو بھی یہ عمل قابل گرفت تصور ہو گا۔ تاہم اس دفعہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اذان دینے، عبادات (قانون میں لفظ prayers استعمال کیا گیا ہے جس سے نمازیں مراد لیا جائے گا) اور جمعہ و عید کے خطبہ کے لئے لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت ہے۔
اس قانون کی دفعہ 3 کے تحت جو کوئی بھی اس قانون کی قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اُس کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جا سکتے ہیں!
وہ لاؤڈاسپیکر جو اس غیر قانونی عمل میں استعمال کیا گیا ہو گا علاقہ تھانہ کا سب انسپکٹر یہ اس سے اونچے عہدے کا افسر اپنے قبضہ میں لینے کا مجاز ہو گا اور پابند ہو گا کہ جس قدر جلد ممکن ہو اُسے عدالت علاقہ کے روبرو پیش کرے۔
لہٰذا کوئی سیاسی تقریر، مذہبی وعظ، نعت خوانی ، جلسہ اور کسی بھی قسم کا کوئی موسیقی کا کوئی پروگرام اگر لاؤڈ اسپیکر پر اس طرح نشر کیا جائے کہ محلے والوں کی نیندیں خراب ہوں، سوتے بچے ڈر نے لگ جائیں، مریضوں کو اختلاج قلب شروع ہوجائے، یا دن کے وقت اُس کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تو یہ عمل قانونی طور پر قابل گرفت ہے اور مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ تین کے تحت متعلقہ بندے کے خلاف رپٹ درج کروائی جا سکتی ہے۔
(یہ تحریر مفاد عام کے تحت لکھی گئی ہے)

مکمل تحریر پڑھیں ←

کاروباری رقابت

کاروباری مسابقت کبھی نا کبھی کاروباری رقابت میں تبدیل ہو جاتی ہے! خاص کر جب دوسرا آپ کے علاقے میں آپ کے کاروبار ی منافع یا حصہ میں سے کچھ نا کچھ سمیٹنا شروع کر دے! رقابت دشمنی میں کب بدل جائے اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں مگر جب رقابت کا آغاز ہوتا ہے دشمنی خود با خود ہی اُمنڈ آتی ہے۔

میرے شہر میں کئی طرح کے لوگ کاروبار کرتے ہیں! کہتے ہیں معاشرہ میں موجود ایک فرد کی مجبوری دوسرے کا روزگار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم ایک مشہور ہسپتال میں ایک دوست کے میڈیکل شک اپ کے لئے گیا تو وہاں ایک دل کا ڈاکٹر دوسرے ساتھی سے یوں کہہ رہا تھا "آج کل کام کافی مندہ ہے نہ معلوم کیا چکر ہے مین تو آج صبح اپنی بیوی سے کہہ کر آیا ہوں کوئی صدقہ وغیرہ نکالو" ہم مسکرا کے رہ گئے!

ہمارے ماموں نے ایک بار اپنا قصہ ایسے ہی واقعہ کے سلسلے میں یوں بیان کیا کہ ایک بندے جو اُن کے ساتھ جاب کرتا تھا نے اُن سے قرضہ لیا ایک بار ماموں سے اُن سے پیسے کی واپسی کو کہا تو ان صاحب نے جواب میں کہا "یار کاروبار نہیں چل رہا دعا کرو کاروبار میں تیزی آءے تو میں آپ کو رقم لوٹا دوں گا" ماموں نےکہا چلو اللہ آپ کے کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی دے تب قریب بیٹھے مشترکہ دوست نے کہا معلوم ہے اس کا کاروبار کیا ہے؟ ماموں جو کہ انجان تھے نے انکار میں سر ہلا دیا تب اُس نے آگاہ کیا یہ کفن فروخت کرتا ہے ۔

میرے شہر میں ایک کاروبار بد بھتہ لینے کا ہے ، آج کراچی ایک بار پھر بند ہے وجہ یہ کہ شہر میں ایک بار پھر ایک کاروباری مسابقت جو کہ رقابت سے کب کی دشمنی میں بدل چکی ہے ! اور یوں ماضی کی طرح دوبارہ بھتہ مافیا نے بھتہ خوروں کے خلاف جنگ کا نعرہ لگایا ہے!

ہم ماضی میں بیان کردہ اپنی بات کو دوبارہ آپ سے آج کے دن کی مناسبت سے شیئر کرتا ہوں کہ وہ تب بھی سچ تھی اب بھی درست ہے۔
"

دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔

کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!

ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!

مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!

اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!

آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!

اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!

"

مکمل تحریر پڑھیں ←
ارتقاء میرٹ

ارتقاء میرٹ

معیار بدلتا جا رہا ہے! ایک دور تھا ملک میں میرٹ کی تعریف کچھ تھی اور اب کچھ ہے! پہلے انتخاب یوں ہوتا کہ مقابلہ کم تھا لہذا آپ مطلوبہ معیار کی حد کو نہیں بھی آتے تھے تو بھی انتخاب میں آ جاتے تھے! نوکری دینے والا پوچھتا میاں تم قابل معلوم ہوتے ہو کیا فلاں ڈگری ہے؟ ادھر آپ نے ہاں کہا اُدھر وہ آپ کو نوکری کی آفر کر دیتا آپ انکاری ہوتے تو اُس کے پاس آپ کو اُس نوکری کے فوائد بتانے کے لئے بے شمار دلیلیں ہوتے پھر معیار بدلہ اور ڈگری والے کو سفارش کی ضرورت پڑنے لگی تب ڈگری و سفارش میرٹ بن گیا! وقت کے گزرنے کے ساتھ زر کی اہمیت معاشرتی زندگی میں نظر آنے لگی تو نوکری کے خواہش مندوں نے سفارش کا توڑ رشوت سے کیا یوں لوگ جاننے لگے کہ کس سیٹ کی کیا قیمت ہے یوں ڈگری ، سفارش اور رشوت کبھی انفرادی طور پر اور کہیں اجتماعی طور پر معیار ٹھہرے اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی! اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یار دوست ایک ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی سفارشی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جا کر التجاء کی جاتی ہے کہ “ہمارا بندہ قابلیت کے اعلی معیار پر ہے کسی سے سفارش کر دیں کہ رشوت لے کر اُسے یہ نوکری دلوا دے امیدوار نے مطلوبہ ڈگری کے حصول میں امتحانات میں “یہ” پوزیشن لی “ضلع/شہر” میں، نوکری کے لئے دیئے گئے تحریری امتحان میں بھی اچھے مارکس لے لے گا”
مکمل تحریر پڑھیں ←