یادداشت یعنی memo

اؤئے یہ میمو گیٹ والا کیا معاملہ ہے؟
“کیوں؟ تجھے اس سے کیا لینا ہے؟”
یار ویسے ہی پوچھ رہا ہوں ہر بندہ ہی اس کی بات کرتا ہے، اس لئے پوچھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہے بس ذرا فوج و حاکم مل کر 'مخول' کر رہے ہیں”
کیا مطلب ہے تمھارا؟ حسین حقانی کو سفارت سے ہٹا دیا، فوج کی مرضی کا سفیر بھیجنے کے بجائے وہ شیری رحمان کو اسمبلی سے استعفیٰ لے کر سفیر بنا کر بھیج دیا، اس مراسلے پر تفتیش ہو رہی ہے اور تمہیں یہ مخول لگتا ہے؟
“اُس میمو یا مراسلے کو چھوڑ، یہ دیکھ جہاں فوجی جرنیل و حاکم ملک میں ہونے والے ڈراؤن حملے نہ روک سکیں، دوسرے ملک کے کی فوج ملک میں داخل ہو کر فوجی کاروائی کر جائے انہیں خبر نہ ہو، دوسری فوج کے طیارے سرحدی چوکیوں پر حملہ کر کےاپنے فوجی مار جائے اور اپنی فوج کا سربراہ صرف مذمتی بیان جاری کرے۔ ابے وہاں ایک مراسلے پر تماشہ لگےیہ مخول ہی تو ہے”
تمہارا مطلب ہے کہ جرنیل و حاکم آپس میں مخول کر رہے ہیں؟
“نہیں تو”
یہ کیا مذاق ہے آپس میں تو کس سے؟ تو نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟
“ابے مخول تو یہ تیرے و میرے سے کر رہے ہیں، یعنی عوام سے۔ آپس میں تو ان کی یہ لڑائی سوکنوں والی ہے جو پیا من کو بھانے کو لڑتی ہیں، بس پیا کو یقین آ جائے میں اُس کی سکی ہوں دوسری تو ڈرامے باز۔کام ہو جائے آج جو یاداشت دجہ تنازعہ ہے وہ کل کسی کی یاداشت میں نہ ہو گی”
مکمل تحریر پڑھیں ←
مانگ ووٹ کہ تجھے ووٹ ڈالو

مانگ ووٹ کہ تجھے ووٹ ڈالو

اب تو قریب ہر کوئی جان چکا کہ بلاگ ایوارڈ ہو رہے ہیں۔ وہ بھی جو مقابلے میں اُتر چلے اور وہ بھی جو مقابلے سے انکاری ہیں ۔
بلاگ ایوارڈ میں کل 33 زمروں میں 350 بلاگ نامزد ہوئے ہیں۔ بہترین اردو بلاگ میں 16 اور اردو زبان کے بہترین استعمال میں 3 بلاگ۔ اس کے علاوہ 2 اردو بلاگ عمدہ مزاح کے زمرے میں اور ایک اردو بلاگ سیاسی بلاگ کے ذ مرے میں شامل ہے۔ یوں کل 22 اردو بلاگ مقابلے میں شامل 350 بلاگ میں موجود ہیں۔ جو کہ 6 انگریزی بلاگ کے مقابلے میں ایک اردو بلاگ کے بنتی ہے۔ اردو بلاگ کے ووٹ مانگنے کء لئے انگریزی زبان کا بینر دستیاب ہے۔
کچھ ایسے ذمرے تھے جن میں مزید اردو دنیا کا حصہ ہو سکتا تھا جیسے بہترین بلاگ ایگریگیٹر میں اردو سیارہ، ماروائی فیڈ ، اردو بلاگرز اور اردو کے سب رنگ شامل ہو سکتے تھے۔
 اسی طرح چند ایک ساتھی بلاگرز نے مقابلے میں حصہ نہیں لیا جو میرے نزدیک ایک درست رویہ نہیں۔ مقابلے میں شامل ہونے کا مقصد صرف مقابلے میں جیت ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں ذیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ احباب کو علم ہو ہم بھی میدان میں ہیں۔ جیسے کم از کم تین نئے اردو بلاگ کا علم مجھے اُن کے اس مقابلے میں شمولیت کے بعد معلوم ہوا۔ یہ ہی نہیں کئی عمدہ انگریزی بلاگ بھی ہمارے گوگل ریڈر کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
ہم قریب سب ہی اردو بلاگرز کو میرٹ پر ووٹ دے چکے جو مقابلے میں ہیں۔ مگر اگر بھی بھی کوئی یہ خیال کرے کہ وہ رہ گیا ہو شاید تو ضرور آگاہ کر دے۔ ہم نے انگریزی بلاگ کو بھی ووٹ کیا ہے کیا آپ کی پسند کا بلاگ مقابلے میں ہے؟ اگر ہاں تو ضرور ووٹ مانگے۔
وہ احباب جو مقابلے میں نامزد ہیں ووٹ مانگنے میں شرم محسوس نہ کریں کیونکہ اہل دانش کا کہنا ہے ووٹ مانگنے اور بھیک مانگنے کے اصول و قواعد ایک سے ہے۔ یعنی کہ ہر کسی سے مانگو، ہر وقت مانگو، ہر طرح سے مانگو اور بار بار مانگو۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
ابے تو بھی بڑا “زرداری” ہے

ابے تو بھی بڑا “زرداری” ہے

گزشتہ چند ماہ سے بلکہ یوں کہہ لیں ڈھائی سال سے موبائل پر اسپیم ایس ایم ایس آتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ابتدا ہفتہ مین ایک دو ایس ایم ایس سے ہوئی مگر اب تو روزانہ درجن بھر آنے لگ گئے ہیں۔ اول اول تو ہم اس قدر اس سے بیزار نہیں تھے مگر اب دیکھ کر غصہ چھڑ جاتا ہے اگر ہم مصروف ہوں۔

آج کل ہمارے (وکلاء) کے الیکشن ہو رہے ہیں سپریم کورٹ کے الیکشن میں تو ہمیں تنگ نہیں کیا گیا تھا کہ ہم اُس مقابلہ میں ہماری ضرورت نہیں تھی وجہ صاف ہے ہم سپریم کورٹ کے وکیل تو نہیں ہیں ناں اب تک ! مگر ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کی الیکشن میں تو بذریعہ ایس ایم ایس ووٹ مانگنے والوں نے مت مار دی ہے، وہ الگ بات ہے ان ایس ایم ایس میں بھیجے جانے والے اقوال نہایے عمدہ ہوتے ہیں۔ اپنے وکلاء کے الیکشن تک تو بات ٹھیک تھی مگر نامعلوم کس نے ہمارا فون نمبر پریس کلب کراچی اور آرٹ کونسل والوں کو دے دیا؟ ممبر نہ ہونے کے باوجود وہاں سے الیکشن لڑنے والوں کے ووٹ کی درخواست کے ایس ایم ایس آتے ہیں اُن کے الیکشن کے دنوں میں۔

پہلے پہل آنے والے پیغامات میں کراچی میں فروخت ہونے والے مکان، فلیٹ،دفتر، گاڑی، کار، موٹر سائیکل اور دیگر قابل فروخت اشیاء کےنقد و آسان اقساظ پر دستیابی کے پیغامات آتے تھے۔ مگر اب زیر تعمیر مسجد و مدرسے کے چندے، یتیم بچیوں کی شادی میں مدد، استخارہ کرنے والے کا پتہ، رشتوں کی تلاش، ٹیوٹر (ٹیوشن سینٹر) کی دستیابی، پرائیویٹ اسکولوں و سینٹروں میں ڈاخلے کا اعلانات، پلمبر، مستری، رنگ والا، موٹر مکینک و بورنگ والے کی دستیابی بمعہ موبائل نمبر، ریسٹورینٹ و ہوٹل کا پتہ بمعہ مینو بلکہ یہاں تک کہ ایک بار ہمین ایک ایس ایم ایس آیا جس میں ڈلیوری کے وقت لیڈی ڈاکٹر کی دستیابی سے آگاہ کیا گیا تھا اور ساتھ یہ بتایا گیا تھا کہ ختنے کرنے کا معقول انتظام ہے۔ جبکہ اُس وقت ہم کنوارے تھے اور دوسری آفر بھی ہمارے لئے کار آمد نہیں تھی کہ وہ کام مین نمٹ گیا تھا۔ اس سلسلے میں 2009 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کر دیا تھا جس کا نام “تحفظِ صارفین ریگولیشن 2009” ہے۔

اس ہی کی روشنی میں 14 نومبر کو پی ٹی اے نے تمام موبائل کمپنیوں کو ایک لیٹر یا سرکولر جاری کیا جس کے تحت “اسپیم فلٹر” پالیسی کے تحت اُن الفاظ کی لسٹ جاری کی گئی جن پر پابندی لگائی ہے۔ رومن اردو اور انگریزی الفاط کی یہ لسٹ نہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور انگریزی تو خیر ہماری ویسے بھی ملکی کی اکثریتی آبادی کی طرح نہایت “عمدہ” ہے مگر جاری کردہ رومن اردو کے الفاظ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ ہم تو اردو زبان سے بھی قریب “نابلد” ہی ہیں۔

دیگر سرکاری کاموں کی طرح ان جاری کردی بین الفاظ کی فہرستوں نے بھی عوام کو ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ کل 586 اردو کے الفاظ اور 1109 انگریزی کے الفاظ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اردو الفاظ کی بین لسٹ کے مطابق سیریل نمبر 13 پر “Mangaithar”(یعنی منگیتر) ، سیریل نمبر 35 پر “kutta”(یعنی کتا), سیریل نمبر 205 پر “mango” (جو آم کی انگریزی) , سیریل نمبر 214 پر لفظ “taxi”، سیریل نمبر 197 پر “kuti”(یعنی کتی) اور سیریل نمبر 195 پر “kuta”(یعنی کتا) جیسے الفاظ موجود ہے۔

اگر آپ رومن اردو میں ایس ایم ایس نہیں کرتے تو آپ اردو کی فہرست سے گالیوں کے تازے نمونے کسی کو ایس ایم ایم کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور ہاں بوقت ضرورت غصہ آنے پر اس پوسٹ کے “عنوان” کو لکھ کر جسے چاہے بھیج دیں۔ ٹھیک ہے ناں؟ کیونکہ اس لفظ پر تو بین نہیں لگ سکتا۔ ویسے اگر آپ کو عنوان کی سمجھ نہین آئی تو آپ علم کے آضافے کے لئے "اس ڈکشنری/لغت" پر نظر ڈالیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

دل کی بستی عجیب بستی ہے (اقبال)

دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے

ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی، فراخ دستی ہے

جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے

ہم فنا ہو کر بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اس طرح کی ہستی ہے

آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا
ابر کی طرح برستی ہے

شاعر: علامہ اقبال




مکمل تحریر پڑھیں ←
بکرا عید پر بکرا کون؟

بکرا عید پر بکرا کون؟

آج عید کا دن تھا! گزر گیا! مگر دو دن اور ہیں قربانی کے! لہذا دو دن کی عید باقی ہے، یوں ابھی دو دن اور ہیں عید مبارک کہنے کے! تو پھر آپ کو ہماری طرف سےعید مبارک چاہے آپ عید منا رہے ہیں یا آپ کو عید منانی پڑ رہی ہے۔
اب کہاں وہ عید ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی تھی! آہ کیا دن تھے۔ ذمہ داری کے احساس سے پاک، آزادی کے احساس سے بھرے۔ خوشی و سرشاری سے بھرپور! ہماری عید کا آغاز چاند نظر آنے سے تو نہیں مگر ہاں قربانی کا جانور آنے سے ہوتا ۔ عموما دنبہ یا بکرا قربانی کے لئے لایا جاتا اور اُس کے قربان ہونے سے پہلے تک ہم اُس پر قربان جاتے۔ لڑکیاں ہاتھوں میں مہندی لگاتی ہیں اور ہم اپنے بکرے کو مہندی لگا رہے ہوتے، مہندی کیا لگتی تھی اُس کے جسم پر “عید مبارک” لکھتے تھے پہلی بار تو مہندی پتلی ہونے کی وجہ سے “عید” ہی بہہ گئی تھی رہی سہی کسر بکرے صاحب نے خود کو قریبی دیوار سے خود کو رگڑ کر پوری کر دی تازہ لگی مہندی سمیت اور ہماری قسم کھانے کے با وجود بھی” رقیب” یہ ماننے تو تیار نہ تھے کہ ہم نے عید مبارک لکھا ہے۔ آنے والے سالوں ہم” عید مبارک “ لکھنے کے ماہر ہو گئے گئے۔
بکرے کی مخصوص پائل اور اُس کی دیگر لوازمات بھی ہم نے خرید کر رکھے ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی روایتی کنجوسی کی بناء پر بکرے کی (ذبح ہونے کے بعد ) نیم خون آلود اُن اشیاء کو دھو کر آئندہ سال کے لئے محفوظ کر لیتے تھے۔ اپنے بکرے کو تیار کر کے گلی/محلے میں لے کر پھرتے اور گلی کے دیگر بکروں سے اپنے والے کو افضل قرار دیتے نہ ماننے والے سے لڑ بھی پڑتے۔
عید والے دن بکرے کے ذبح ہونے پر غمگیں بھی ہو جاتے تھے جبکہ یہ پہلے سے علم و احساس ہوتا کہ اس ہی مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔
ایک اور شوق عید والے دن علاقے میں گھوم کر جانوروں کی قربانی دیکھنے کا ہوتا تھا۔ دوستوں کا ایک ٹولہ بنا رکھا تھا اور عید سے ایک یا دو دن پہلے سائیکلوں پر گھوم کر صحت مند و خوبصورت جانوروں کی لسٹ تیار کی جاتی اور مالکوں سے معلوم کیا جاتا کہ کب قربان کیا جائے گا اور عید والے دن اُس جانور کے قربان کئے جانے کا منظر دیکھنے جا پہنچتے۔
وقت کے ساتھ ساتھ لا شعوری طور پر اس جذبے میں کمی آتی گئی، اور پھر والد صاحب نےچھوٹے کی قربانی کے بجائے بڑے میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔ ہم قربانی میں شریک ہوتے ٹوکے کا استعمال تو نہیں کیا مگرچھری کی مدد سے گوشت بنانے میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔ دو چار مرتبہ انگلیاں بھی زخمی کی مگر اب اس کام میں بھی شریک نہیں ہوتے۔
ہم بڑے ہو گئے ہیں اور بدل سے گئے ہیں اس سال تو حد ہو گئی قربانی کے جانور کی ذرا سی بھی خدمت نہیں کی میں نے۔
احساس ہوتا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ یا پھر در حقیقت زمانے کے انداز بدل گئے ہیں،ہمیں آج کل گلی/محلے کے بچوں میں یہ جذبہ کم ہی نظر آتا ہے۔ یا ہم ہی فریب میں ہے۔
ہم زمانے کو ہم اردگرد کے احباب سے ناپتے ہیں، اور اپنے علاقے میں ہمیں اس سال قربانی کا رجحان کم نظر آیا، احباب سے بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے، قربانی کی خواہش ہے مگر وسائل نہیں۔
خدا جانے بکرا عید پر بکرا کون ہوتا ہے اب؟

مکمل تحریر پڑھیں ←
وال چاکنگ سے آرٹ تک

وال چاکنگ سے آرٹ تک

یار دوستوں کا خیال ہے کہ وال چاکنگ ایک بھی آرٹ کی ایک شکل ہے، کئی مرتبہ یہ آرٹ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر آرٹ ایسا ہے تو آرٹسٹ کیسا ہو گا، اگر اندر سے آرٹسٹ خوبصورت ہو تو شہر کے در و دیوار خوبصورت کرے گا ورنہ یہ نفرت کے بیج تو جا بجا بکھیر ہے رہا ہے نا۔ شہرکراچی میں یہ آرٹ عام طور پر رات میں ہی بکھیرا جاتا ہے، ہر نئے آرٹ کے نمونے شہر میں ایک نیا خوف و نفرت کے کانٹے لیئے ہوتا ہے۔
ہماری قوم کی بنیادی طور پر ایک خوبی یہ ہے کہ ہم ہر مواملے میں کوئی نہ کوئی مثبت پہلو تلاش کر لیتے ہیں لہذا بات درست ہو یا نہیں مگر یار لوگ دلیل/تاولیل دیتے ہیں یہ شہر کی دیواروں پر لکھے نعرے عوام کو عوامی جذبات کے اظہار کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہیں کمپنیوں و اداروں کو اشتہار کا راستہ بھی فراہم کرتے ہیں نیز ملک بھر کے عاشقوں و نامردوں کے علاج و حل کا مقام بھی ان ہی دیواروں پر پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچ کالونی سے پہلے بنے ایک فلائی اوور پر شہر کے ایک تعلیمی ادارے نے اپنے طالب علموں کو آرٹ بنانے کا پروجیکٹ دیا۔ پل کی ویواروں پر بنے نقش و نگار ہمیں عمدہ لگے لہذا کیمرے میں محفوظ کر لیئے۔ اب آپ فیصلہ کرے کہ اصل میں جنہیں آرٹ بتا کر دل کو تسلی دی جا رہی ہے وہ آرٹ ہے یا یوں شہر خوبصورت ہو سکتا ہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

جگاڑ

“جگاڑ” کا لفظ اب تک ممکن ہے اردو لغت کا حصہ نہ بنا ہو مگر یہ ہماری عام زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس لفظ کے اصل خالق شہر کراچی کے آٹو مکینک ہیں۔ یہ لفظ اپنی ایک مخصوص نفسیات لیئے ہوئے ہے اس کا استعمال بذات خود ایک “جُگاڑ” کے طور پر کیا جاتا ہے یعنی ایک ایسا کام جو روائتی و رواجی انداز میں کرنا ممکن نہ ہو اور فوری طور پر اُس کا وقتی حل کچھ ایسے انداز میں کیا جائے جس سےوہ ممکنہ مسئلہ حل ہو جائے اورعموما “جگاڑ” سے اُس وقت تک کام نکالا جاتا ہے جب تک کہ مسئلہ کے مستقل حل کی جانب پیش رفت نہ ہو جائے۔ دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ جگاڑ غیر روایتی انداز میں کام کا وقتی حل ہے جبکہ قومی مزاج کے زیر اثر ہم نے اس جگاڑی رویے کو ہی روایت بنا لیا ہے۔
زندگی میں مختلف موقعوں پر “جگاڑ” لگانی پڑتی ہے۔ ہم نے بھی کافی سارے کام جگاڑ لڑا کر کئے ہیں، اس سلسلے میں دو قصہ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔
ہم عمرہ کرنے گئے تو عصر سے مغرب کےدرمیان ہم ونڈو شاپنگ کرتے تھے، ایک بار مغرب سے کچھ پہلے ہم نے ایک شال اپنی والدہ کے لئے خریدی ہم نے سوچا یہاں سے سیدھا مسجد احرام میں نماز کے لئے جایاجائے نماز کے بعد شال کو ہوٹل میں رکھ آئیں گے ہم جو مسجد احرام میں داخل ہونے لگے تو شرتے (سعودی پولیس کا علاقائی نام) نے ہمیں داخل ہونے سے منع کیا اشارے سے سمجھانے لگا کہ تم یہ تھیلی اندر نہیں لے کر جا سکتے ہم نے تھیلی سے شال نکال کر دیکھائی تھیلی کو اُلٹ پلٹ کر دیکھایا کہ میاں اس میں کچھ نہیں مگر وہ اپنی ضد پر قائم عربی میں اور بھی بہت کچھ کہا اُس نے مگر ہمیں صرف “یعلا یعلا” یاد ہے اُس وقت ہم نے یہ جان لیا تھا کہ اس قسم کی آواز کا مطلب ہوتا ہے کہ “چلو یہاں سے” خیر ہم نے اُس دروازے کو چھوڑا اور دوسرے داخلی دروازے کی طرف کا رُخ کیا، اُس باب (دروازے) پر بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوا ہم نے اس والے شرتے کو بھی اول یہ سمجھنانے کی کوشش کی کہ ہمارے پاس صرف شال ہے مگر مجال ہے جو اُسے سمجھ آئے، پھر ہم نے اشارے سے اُس پر واضح کیا کہ مقامی افراد بھی تو مسجد احرام میں مختلف سامان لے کر جا رہے ہیں مگر صرف ہم پر ہی یہ سختی کیوں؟ مگر مجال ہے جو وہ ٹس ست مس ہوا ہو۔ دو داخلی دروازوں کے درمیان کا لمبا پیدل سفر کرنے کے بعد اب ہم تیسرے داخلی دروازے کی طرف روانہ ہوئے پہلے پہل خیال آیا کہ کسی مقامی شخص کی مدد سے اس شال کو اندر لے جایا جائے کیونکہ ہوٹل جا کر آنے کے چکر میں مغرب کی نماز قضاء ہونے کا امکان ہے ویسے تو نماز نہیں پڑھتا، یہاں تو قضاء نہ کی جائے مگر کسی عربی کو عربی زبان میں اپنا مسئلہ بتانا بھی ایک مسئلہ تھا تو ہم نے ایک اور حل سوچا ہم نے تھیلی میں سے شال نکالی تھیلی کو جیب میں ڈالا شال کو کندھے پر رکھا اور تیسرے داخلی دروازے سے مسجد احرام میں داخل ہو گئے! اب کوئی کسی شرتے نے نہیں روکا۔
دوسری بار کا قصہ یوں ہے کہ ہماری ہمشیرہ نے ایم اے پرائیویٹ میں داخلہ لینا تھا، داخلہ فارم کے ساتھ انٹر کی مارک شیٹ یا سند کی کاپی لگانا ضروری تھی، سند اُس نے ابھی بنوائی نہ تھی اور اصل مارک شیٹ گریجوایشن کے داخلے کے وقت جمع کروائی جا چکی تھی اُس پر کمال یہ کہ اُس کی کوئی فوٹو کاپی نہ تھی، اول ہم انٹربورڈ گئے تو انہوں نے کہا کہ سند بنوانے کے لئے مارک شیٹ کی کاپی لے کر آئیں، بتایا کہ نہیں ہے کاپی تو بتایا گیا کہ پہلے Duplicate مارک شیٹ بنوائے پھر سند یا، خرچہ تو دو ہزار تک تھا مگراصل گڑبڑ یہ تھی کہ وقت کم سے کم دس دن تک لگنے کے امکان تھے اس عرصے میں ایم اے کے داخلے ختم ہوجانے تھےکہ سستی کی بناء پر ہم کافی دن پہلے ہی برباد کر چکے تھے! انٹر بورڈ میں ہم نے جس جس سے ملنا ممکن تھا مل کر اپنا مسئلہ بیان کیا مگر کوئی بھی مناسب مدد کرنے کو تیار نہ تھا ہم گھر جانے کے بجائے کراچی یونیورسٹی چلے گئی وہاں سے معلومات کرتے ہوئے اُس دیپارٹمنٹ جہاں گریجوایشن کے داخلہ فارم جمع ہوتے ہیں ہمشیرہ سے فون کر کے اُس کا گریجوایشن کا انرولمنٹ نمبر پوچھا کلرک کو 200 روپے دے کر ہمشیرہ کے یونیورسٹی میں جمع کاغذات میں سے انٹر کی مارک شیٹ کی فوٹو کاپی بنوائی اور پھر کیا ایم اے کا فارم بھی جمع ہو گیاا اور سند کے لئے اپلائی بھی کر دیا۔
آپ نے بھی کبھی “جُگاڑ” لڑائی ہے؟
ویسے آج کل ملک میں بیروزگار نوکری کے لئے “جگاڑ” کی تلاش میں رہتے ہیں۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

جدت میں یاد ماضی

ہم بچپن میں ایک مرتبہ پنجاب گئے تو گاوں میں چاول کی پنیر لگ رہی تھی، اُس وقت ایک بزرگ کو اُونچا سنائی دیتا تھا تو انہوں نے آلہ سماعت لگا رکھا تھا، جسے وہ ٹوٹی کہہ کر پکارتے تھے، پنیر لگاتے ہوئے وہ ٹوٹی کھڑے پانی میں گر گئی تو انہوں نے وہاں موجود تمام افراد کو ٹوٹی کی تلاش میں لگا دیا، کیونکہ اُس آلہ سماعت کی غیر موجودگی میں وہ سننے سے قاصر تھے۔ اُس ٹوٹی کے ملنے کے بعد ہمیں پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ تو کریم رنگ کی ہے ورنہ ہم تو اُسے پیلا سمجھ رہے تھے۔ اُن بزرگ سے کسی نے بھی کوئی راز کی بات کہنی ہوتی تو وہ اُن کے کان کے پاس منہ کر کے بات نہ کرتا بلکہ اُس ٹوٹی کے دوسرے سرے پر لگے آلے جوعموما اُن کی دائیں جانب کی جیب میں ہوتا کو ہاتھ میں کر اپنے منہ کے باس لے جا کر کرتا یہ عمل ہمارے لئے نہایت دلچسپ تھا۔ بعد میں انہوں نے ٹوٹی کی جدید شکل کا استعمال شروع کر دیا.جو کان پر ایک مختصر شکل میں موجود ہوتی۔
یوں ہی ایک مرتبہ ہم اپنے اسکول سے آ رہے تھے تو ہمارے آگے آگے ایک تنہا آدمی خود میں مگن جا رہا تھا۔ اور وہ خود ہی باتین کرتا جاتا، گفتگو سے اندازہ ہوتا کہ جیسے وہ کسی سے جھگڑا کر رہا ہواور اُس شخص کی حرکات سے یہ لگتا کہ وہ جس شخص لڑ رہا ہے وہ اُس کے سامنے ہے۔ ہمارے ساتھ جاتے ہم سے سینئر کلاس کی لڑکی نے ہماری حیرت کو دیکھے ہوئےاشارے سے اُس شخص کے پاگل ہونے کا اشارہ کیا۔ اور ہم اپنے طور پر مطمین ہو گئے۔
اپنی نوعیت میں انوکھے ہونے کی بناء پر یہ دونوں واقعات ہمیں یاد ہیں۔ نامعلوم کیا وجہ ہے جب بھی آج میں کسی یار دوست یا بندے کو ہینڈ فری کی مدد سے گانے سنتا یا فون پر بات کرتا دیکھتا ہو یا کسی منچلے کو bluetooth لگا دیکھتا ہو تو مجھے یہ دونوں باتیں یاد جاتی ہیں۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
ہتھیار اور بچے

ہتھیار اور بچے

یار لوگ کہتے ہیں میڈیا ہی آج کے دور میں معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہے، یار لوگون کو کیا جھوٹا کہنا مگر ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا تو معاشرے پر ہی نہیں بلکہ ممکنہ اگلی نسل پر بھی نہایت عجب انداز میں اثر انداز ہوتا ہے ایسے میں اُن تحقیقات اور تجربات کا کیا حوالہ دوں جو اس ملک سے باہر موجود مختلف درسگاہوں و تجربہ گاہوں میں اُن معاشروں کے ماہرین نے کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک بچی اسکرین پر موجود کرداروں سے بہت کچھ اپناتا ہے خواہ وہ اسکرین ٹی وی کی ہو، کمپیوٹر مانیٹر (اب ایل سی دی کہہ لیں) یا موبائل کی۔ اور خواہ وہ کردار فلم کا ہیرو یا ولن کر رہا ہو یا گیم کا کوئی کردار۔

آج کل فلم و گیم سے ذیادہ گھر میں ٹی وی پر کوئی نا کوئی نیوز چینل چل رہا ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ تشدد کے ایسے مناظر دن مین کئی مرتبہ بار بار دیکھائے جاتے ہیں۔/p>

ایسے میں آپ اپنے گلی کے بچوں کو یوں نقلی ہتھیاروں سے کھیلتا دیکھے تو اندازہ کر لیں مستقبل کیا ہو گا؟

مکمل تحریر پڑھیں ←

جمہوریت کی پٹری

اجی کچھ سنا تم نے؟
ارے کیا سنانے چلی ہو اس عمر میں
ہمسائی بتا رہی تھی ایم کیو ایم پھر حکومت میں شامل ہو رہی ہے، اپنے غداری نے اُنہیں آفر کی ہے آ جاو
ہاں میں نے بھی سنا ہے کچھ ایسا 
کیوں کیا مزرا کا بولا سچ نہیں ہے کیا؟ کیا وہ لندن والا ملک نہیں توڑ رہا؟
ہو سکتا ہے توڑ رہا ہو، مگر جمہوریت کو پٹری پر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کر کھائے اوہ مطلب ملک کر حکومت میں رہے۔
اجی اس عمر میں کیا بہکی بہکی باتیں کرتے ہو، جمہوریت ملک سے ذیادہ اہم ہے کیا؟
مجھے کیا معلوم؟ مگر دیکھ لو جمہوریت کو نقصان ہو تو سب تو تکلیف ہوتے ہے ملک کی کسی کو کیا فکر آج اہم سیاست ہے ریاست کی فکر کو رہاستی کرتے ہیں ناں۔
مطلب؟
مطلب سادہ ہے، پاکستان میں پاکستانی ہوتا تو فکر کرتا ناں جہاں پنجابی، سندھی، بلوچی، پچشتوں، سرائیکی، مہاجر اور ناں معلوم کون کون رہ رہا ہوں وہاں توجمہوریت ہی اہم ہو گی ناں۔
کیا کہہ رہے ہو؟
مکمل تحریر پڑھیں ←