لانگ مارچ کے قیدی! ہوئے آزاد
لانگ مارچ کا رزلٹ آ گیا!
پی ٹی وی پر اعلان ہو گیا ہے کہ “افتخار محمد چوہدری“ کو بحال کیا جا رہا ہے!
مبارک!! قوم کو جیت مبارک
ایم کیو ایم کی قلابازی! وفاق دشمنی یا ۔۔۔۔۔۔۔
بھائی اس میں کوئی شک نہیں یہ پارٹی بہت اورگنائز ہے! اتنی کہ اگر یہ چوبیس گھنٹے پہلے فیصلہ کرے کہ کل کراچی میں پاور شو کرنی ہے تو مقررہ وقت پر آرام سے پانچ سے سات ہزار کا مجمع لگا لیتی ہے! اگر یہ فیصلہ کرے کہ کراچی میں کسی دوسرے کا شو نہیں ہونے دینا تو وہ نہیں ہوتا خواہ اس کے لئے چالیس پچاس بندوں کی کیوں نہ قربان کرنے پڑے! اور اگر قائد “تحریک“ کسی کے گھر جانے کی خواہش کریں تو تھندر اسکوارڈ اُس بندے کی “تعزیت“ کا بندوبست کر دیتے ہیں!
آج اس جماعت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے! اول تو انہوں نے حکومت سے علیحدگی کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہتے ہیں اگلے 48 گھنٹے میں الگ ہو جائے گے! دوئم انہوں نے کہا ہے سندھ کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں! آیا ایسا کہیں ہوا ہے؟ اگر ہاں تو میڈیا میں کس کس چینل نے اس کی فوٹیج دیکھائی ہے؟ میری اپنے اُن کراچی بار کےدوستوں سے جو لانگ مارچ کے قافلے میں شریک ہیں سے بات ہوئی ہے وہ ایسی کسی بھی بات سے انکاری ہے! اُن کا کہنا ہے کہ جو چند نعرے لاگئے جارہے ہے وہ پاکستان کے ہیں جیسے “پاکستان بنایا تھا! پاکستان بچائے گے!“ “ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو“ اور سب سے ذیادہ “جینا ہوگا مرنا ہو گا، دھرناہوگا دھرنا ہوگا“۔ اگر آپ کو کوئی درست اطلاع ہو تو بتائیں!!
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اے این پی کے چند سیاستدان اور مولانا ڈیزل کیوں اسے پنجاب کی تحریک کہہ رہے ہیں؟ ایم کیو ایم سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
اس دور کے رسم رواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں
اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
وہ جن کی ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور مجرم پلتے رہتے ہیں
ان چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرے داروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو
جو عورت کو نچواتے ہیں
بازار کی جنس بنواتے ہیں
پھر اُس کی عصمت کے غم میں
تحریکیں بھی چلواتے ہیں
ان طالم اور بدکاروں سے
باراز کے ان معماروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو
جو قوم کے غم میں روتے ہیں
اور قوم کے دولت ڈھوتے ہیں
وہ محلوں میں جو رہتے ہیں
اور بات غریب کی کہتے ہیں
ان دھوکے بار لٹیروں سے
سرداروں اور وڈیروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو
مذہب کے جو بیوپاری ہیں
وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
وہ جن کے سوا سب کافر ہیں
جو دین کا حرفِ آخر ہیں
ان جھوٹوں اور مکاروں سے
مذہب کے ٹھیکے داروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو
جہاں سانسوں پر تعزیریں ہیں
جہاں بگڑی ہوئی تقدیریں ہیں
ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
سوچوں کی ایسی پستی سے
اس ظلم کی گندی بستی سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سے پہ ظلم کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو
شاعر؛ نامعلوم