چلو کوئی تو دلپسند خبر ملی۔

چلو کوئی تو دلپسند خبر ملی۔

یوں تو اَسے اچھی خبر کہا جائے گا مگر سچی بات ہے اس خبر کو سُن کر یقین نہیں آ رہا! مجھے امید نہیں تھی کہ کبھی ایسا ہو گا! واقعی ہم اپنے محسنوں کو اُن کی زندگی میں عزت و احترام واپس لوٹا دیں گے! بنیادی طور پر یہ ہمارا قومی مزاج تو نہیں، ماضی تو ایسا شاندار نہیں ہے! جب پہلے پہل یہ خبر مجھ تک پہنچی تو میں نے اَسے رد کر دیا تھا ! میرا رد عمل تھا، “”چل اوٗئے! ایسا نہیں ہوسکتا! یہ عدالتیں ایسا نہیں کر سکتی، ڈوگر والا کیس سامنے ہے پھر یہ اسلام آباد کی  ہائی کورٹ؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو ویسے بھی ابھی تک مخصوص آئینی سقم کی بنیاد پر ہے ہی غیر آئینی عدالت”

مگر شکر ہے میری سوچ فیصلے ہی حد تک غلط ثابت ہوئی!

تمام محب وطن پاکستانیوں کو اپنے ہیرو کی آزادی مبارک ہو!

ہاں اب باقی دنیا کے ردعمل کو دیکھنا ہو گا! اور یہ بھی منفی ہونے کی صورت میں حکومت کیا حکمت عملی اپناتی ہے؟ نیز عدالتی حکم پر کتنا اور کب تک عمل ہوتا ہے؟

مکمل تحریر پڑھیں ←

موٹے جملے

نذر، نیاز، تحفہ، تحائف، انسانوں اور دیوتاؤں دونوں کو ورغلانے کی یکساں مقدرت رکھتے ہیں۔


جیل، مدرسہ، مذہبی ادارے انسان کو آدمی نہیں بناتے ہاں آدمی ہی صرف آدمیت سکھا سکتا ہے۔


جان پہچان کی تعریف یہ بھی ہے کہ ہم اس سے بے دھڑک قرض حاصل کرتے رہیں، لیکن قرض کی واپسی یا خود اس کو قرض دیتے وقت تامل کریں۔


ہم اُس شخص کو جو صبح شام ہماری خوشامد کرتا ہے اور ہماری شان میں جھوٹے قصیدے پڑھتا ہے پسند کرتے ہیں لیکن ہم اُن لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں اور نہ ہی اچھا سمجھتے ہیں، جن کے قصیدے کسی وجہ سے ہم کو پڑھنا پڑھتے ہیں۔


بہادر ہونا آسان ہے، کوئی شخص بھی کسی بھی وقت جرات، ہمت سے کام لیکر بہادری کا مظاہرہ کر سکتا ہے، لیکن شعیف ہونا مشکل ہے، ہر وقت ساری زندگی شرافت کا دامن ہاتھ سے پکڑنا پڑتا ہے۔


ہم دنیا کو پڑھتے اُلٹے طریقے سے ہیں، اور الزام دنیا  کے سر رکھتے ہیں کہ دنیا دھوکہ دے رہی ہے۔


جب چوہا بلی کا مذاق اُڑانا شروع کردے تو سمجھ لو کہ اس کا بل نزدیک ہے۔


خنجر کو بے نیام کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیجئے کہ اس کی دھار اچھی طریقے سے تیز کر لی گئی ہے۔

ایڈوکیٹ سید اظہار حیدر رضوی کی کتاب ‘وکالت اور جرح کا فن‘ سے انتخاب

مکمل تحریر پڑھیں ←
ہولوکاسٹ کل و آج

ہولوکاسٹ کل و آج

یہودی اپنی مظلومیت کی کہانی کا آغاز و اختتام ہولوکاسٹ سے کرتے ہیں! اور کئی لوگ ہولوکاسٹ کے حقیقت ہونے پر شک کا اظہار کرتے ہیں!
اگر ہولوکاسٹ ویسا ہی ہے جیسا اہل یہود باور کراتے ہیں تو ایک نظر موازنہ کرتے ہیں کہ آیا ہولوکاسٹ سے یہودیوں نے کیا سیکھا!!!

لوگوں کو مقید رکھنے کیلئے فصیل و دیوار کی تعمیر

 

آزادانہ تقل و حمل پر بندش کیلئے چیک پوائینٹ کا قیام

گرفتاریاں و تشدد

 

گھر و رہائش گاہوں کو مسمار کرنا

اور نشل کشی!

اب آپ خود بتائیں یہ تصاویر کیا بتا رہی ہیں!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

زید حامد، یوسف کذاب اور آڈیو ٹیپ

Brasstrack والے زید حامد کے متعلق یہ بات کنفرم کی حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ وہ یوسف کذاب کے خلیفہ تھے!‌ توہین رسالت کے مرتکب!‌یوسف کذاب اِصے صدیق اکبر کہا کرتا تھا!‌ آج islamabadobserver کی اس پوسٹ‌ سے ایک آڈیو ٹیپ کا حؤالہ ملا جس میں‌یو سف زید حامد کا تعارف کرواتا ہے اور یہ کوئی ایک منٹ کے لئے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہیں!!!‌ساتویں‌ منٹ‌ میں‌تعارف ہے!

آگے اللہ بہتر جانتا ہے!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے

اسرائیل کا غزہ پر فوجی دہشت گردی کا تیسرا ہفتہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اور ہنوز اس جارحیت کو روکنے کی تمام کاوشیں ناکام ہوئی ہیں، نیز اوباما کی حلف برداری تک یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی! ممکن ہے اُس وقت اس جارحیت کو روک کر اسرائیل اِس کا سہرا اوبامہ کے سر ڈال دے اور ساتھ ہی آنے والے الیکشن میں اسرائیل کی حکمران پارٹی مخصوص فائدہ اُٹھائے۔

ان تین ہفتوں میں روزانہ پچپن کی اوسط سے اب تک قریب ایک ہزار ستر فلسطینی مسلمان شہید ہوئے، جن میں پانچ سو  تک بچے و خواتین شامل ہیں جو کُل شہادتوں کا قریب پنتالیس فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ پانچ ہزار تک زخمی ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ کی تمام  آبادی متاثر و قریب نوے ہزار سے ایک لاکھ  بے گھر ہو چکے ہیں ۔

جبکہ  جواب میں صرف چودہ اسرائیلی مارے گئے! ہلاکتوں کی تعداد و فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آیا یہ جنگ ہے یا اسرائیلی ریاست کی طرف سے کھلی دہشت گردی؟ اسرائیلی افواج نے پورے غزہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے! ایک ایک رات میں قریب قریب ساٹھ ہوائی حملے غزہ پر ہوتے ہیں اور اسرائیل جواب میں چند حماس کے راکٹ کے حملوں کو جواز بناتا ہے جبکہ خود جون دوہزار آٹھ سے امن معاہدہ کے اختتام تک گاہے بگاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن دوسو پچاس افراد کو شہید کرنے کا جرم اُسے یاد نہیں۔

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے!

اسرائیل نے قریب صرف چار سو دس فلسطینی بچے اپنی وحشت کا شکار بنائے ہیں اور قریب دوہزار زخمی کئے ہیں، یہ وہ تعداد ہے جو جمسانی طور پر متاثر ہوئے ہیں مگر نفسیاتی بیمار ہوئے یا متاثر اُن کا ابھی علم ہی نہیں! اب اسرائیل کو مستقبل میں خود کُش حملوں کی شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ خودکُش بمبار تو وہ خود گزشتہ تین ہفتوں سے تیار کر رہا ہے۔

اپنوں کی لاشوں پر نا معلوم کتنے لوگوں نے بدلے کا عہد کیا ہو! اور کتنے آزاد فلسطین کی عملی جدوجہد کے راہی بننے کے خود سے آمادہ ہو چکے ہوں!۔ اسرائیل اس دوران غزہ کی آبادی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر لے کر اُس پر اپنا جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے جو پہلے دیکھنے میں یوں نہیں آئے ظالم وہ بم گرا رہا ہے جن سے انسانی جسم بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور انسان ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔

اس کے علاوہ  سفید فاسفورس (اس کا ستعمال جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے، 1995 میں اسرائیل نے اس پر دستخط کئے تھے)  بم جو انسانی گوشت کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے اُن کے زیراستعمال ہے ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخمی ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں جن کے جسم بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں (جس کا مشاہدہ محتلف جاری ہونے والے تصاویر سے ہوتا ہے)۔

امریکہ و اسرائیل کو حماس سے شکایت ہے جو ایک جمہوری عمل سے اقتدار میں آئی تھی اور ہے،  شکایت وہ اُن مسلم حکمرانوں سے کررہے ہیں جو اپنے اپنے ملک میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں!

اِسے کیا کہا جائے؟

چند مسلم حکمرانوں کے گھروں میں یہودی بیویاں ہیں! اہل بنی اسرائیل میں اگر مرد باہر شادی کر لے تو خارج مگر اگر عورت ایسا کرے تو اُس کی اولاد بنی اسرائیل کی اولاد کہلاتی ہے! اس لئے انہیں اعتراض نہیں ہوتا اپنی عورتوں پر۔ اس کا ثمر مصر کی پالسی کی صورت میں نظر آ رہا ہے! جہاں کے تاجروں کی بڑی تعداد یہودی بیویاں رکھتے ہیں۔

آج جب اہل فلسطین کو ضرورت ہے تو مصر نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں!

کسی بھی قسم کی تقل حمل بند ہے، خواراک و ادویات کے لئے منتظر فلسطینی سرحد کے اُس پار جبکہ خوارک و ادویات سرحد کے اس پار ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی مصر فلسطین میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا صرف اٹھائیس زخمی مصر میں داخل ہو پائے ہیں۔ منافقت دیکھے اسرائیل سے ہر طرح معاہدے و کاروبار جاری ہیں مصر کے وہ فلسطینوں کو تیل دینے سے انکاری ہے مگر قابض اسرائیل سے اگلے پچیس سال تک آج کی کی قیمت میں تیل کی فراہمی کا وعدہ ایفا کر رہا ہے!

یار لوگ پُر امید ہیں مستقبل قریب میں سب اچھا ہو جائے گا!

اور آج کی صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کو دیتے ہیں!

مگر میں نا امید ہوں ، آگے کچھ نہیں ہونے والا، ممکن ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رُک جائے مگر مسلمانوں کا نہیں رکتا نظر آتا۔ ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہ ہو گا!

او آئی سی بھی صفر جمع صفر کا مجموعہ ہے اور بقول ضمیر جعفری یو این او میں یو دراصل یو ایس اے (امریکہ) کا ہے باقی سب کے لئے نو(NO) ہی نو ہے۔

جب تک عوام کے اعمال درست نہیں ہوں گے حکمران بھی اچھے نہیں ملیں گے، خود تو ہم ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا رہے اور حاکم پاکباز ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟

کہیں غزہ کو سزا خود ہماری ھی وجہ سے تو نہیں مل رہی ہے

 

عالمی اخبار کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
تذکیر وتانیث

تذکیر وتانیث


امیر حیدر خان ہوتی

خان صاحب کیسے ہو!
“بس صاحب اللہ کی کرم ہے“
خان صاحب اللہ کا کرم ہوتا ہے اللہ کی کرم نہیں
“بس بس یہ ہمارا مجبوری ہے!“
خان صاحب کیسی مجبوری؟
“دیکھو تمھارا وزیراعٰلی ہوتا ہے ناں!“
ہاں
ہمارا تو مرد وزیراعٰلی بھی ہوتی ہے

مکمل تحریر پڑھیں ←
گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!

گھر بنانا سہل نہیں اور میرے آٹھ گھر!

<(ڈفر نے ہمیں ٹیگ کیا تھا کہ اپنے (مطلوبہ) آٹھ گھروں کے بارے میں بتائے اُس ہی سلسلے میں یہ تحریر ہے)
ہماری پیدائش لیاری کی ہے! ‘اڑے تم مانو! نہیں تو دے گا ایک ہاتھ‘، نیوی کے سرکاری فلیٹ کی! والد صاحب بے شک پی آئی اے میں تھے مگر وہ رہتے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تھے جو نیوی میں تھے! وہاں سے گرین ٹاؤن میں ایک کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئے، یہاں سے انہیں ڈیوٹی آنے جانے میں آسانی رہتی تھی! بچپن میں اپنے گھر کی اُنسیت سے ہم ناواقف تھے!
جب ہم آٹھ برس کے ہوئے تو والد صاحب نے ماڈل کالونی میں ایک سو بیس گز کا ایک پلاٹ خریدا، چاردیواری کی پھر دو کمروں اور ایک کچن اور باتھ روم کا اسٹکچر کھڑا کیا، اُن پر سیمنٹ کی چادریں ڈال کر وہاں شفٹ ہو گئے! یہاں سب سے پہلے تو صحن میں وہ ٹینک بہت عجیب لگا جس پر کوئی چھت نہیں تھی، ہمارے ذہین میں جو پہلی چیز اُسے دیکھ کر سمجھ میں آئی وہ یہ کہ یہ نہانے کے لئے ہے مگر ایسا نہیں تھا! کیونکہ وہاں شفٹ ہونے کے کوئی ہفتہ بھر کے اندر ابو نے اُس پر چھت ڈلوا دی تھی، اہم وجہ خود ہماری ذات تھی کہ ہم و ہماری بہنیں اُس میں گر ہی ناں جائے! پہلی رات اُس گھر میں ہم کافی دیر تک جاگتے رہے، وجہ اُس کا نیا ہونا نہیں بلکہ، وہ آسمان کے تارے تھے جن سے ہماری واقفیت اُس ہی رات ہوئی تھی، مجھے وہ بہت بھلے لگے! اس سے قبل فلیٹ و کرائے کے مکان میں یوں کھلے آسمان کو دیکھنے سے ہم محروم رہے تھے، ہمارے اُس اشتیاق و خوشی کا ذکر اب بھی والد صاحب کبھی کبھی کرتے ہیں۔ ایک اور چیر ہم نے اس گھر میں قریب دو ماہ بغیر بجلی کے گزارے تھے اور چھ ماہ بجلی کے کنکشن کے بغیر!
ایک سو بیس گز کوئی بڑی جگہ نہیں مگر اُس وقت ہمیں بہت بڑی معلوم ہوتی تھی! ہم یہاں کرکٹ بھی کھیل لیتے، لوکن میٹی بھی کھیلی اور باغ بانی بھی کی! کوئی چالیس گز کی کچی جگہ پر ہم نے بنڈیاں، لوکی، آلو، مرچیں، توری، ٹماٹر اور کریلے جیسی سبزیاں وغیرہ، چیکو، آم، امرود، پپیتا اور انار جیسے پھل، گنا بھی نیز گلاب، موتیا، رات کی رانی و دن کا راجہ اور نہ معلوم کون کونسے دیگر پھول وغیرہ کی کامیاب کاشت کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مکان کے نقشہ و حالت میں اُس وقت موجود بجٹ و سوچ و خواہش کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی رہیں! کبھی پلستر کروا لیا، کبھی لینٹر ڈلوا لیا، کبھی کچھ اور کبھی کچھ، ہر بار کسی بڑی تبدیلی کے بعد گھر کے بجٹ میں روزمرہ کے آمور کی تبدیلی سے اس کے پہلے جیسے نہ رہنے کا پتا چلتا! جیسے جب لینٹر ڈلوایا یا یوں کہہ لیں جب چھت پکی ہوئی تو امی اگلے تین سال پنجاب میں اپنے میکے نہیں گئی! کیونکہ ایسے ایک چکر کے لئے بھی تو اچھے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔`
گھر میں اب بھی کئی تبدیلیاں متوقعے ہیں! اب یہ دوسوپچاس گز کا ہے، اس میں اب بھی ایک باغیچاں ہے، اس کی موجودہ حالت کی چند تصاویر درجہ ذیل ہیں!






چند مزید تصاویر یہاں ہیں! اس کی سٹیلائیٹ تصویر یہاں دیکھ لیں!
جب ہم اپنے اس علاقے میں آئے تھے تو یہ علاقہ نہایت غیر آباد تھا! رات آٹھ بجے کے بعد سواری نہیں ملتی تھی، مگر اب یہ ایک اچھے علاقوں میں شمار ہوتا ہے! ہر سہولت یہاں موجود ہے! لہذا آٹھ گھروں کی گنتی میں اسے پہلے نمبر پر رکھے کیونکہ اس گھر کی تعمیر میں وقت و پیسے کے ساتھ ساتھ میری فیملی کی محبت و الفت بھی شامل ہے۔
دوسرا گھر میرا میرے اپنے آبائی گاؤں میں ہے، یہ میرے پیدائش سے پہلے سے وہاں موجود ہے مگر اب اُس کی شکل بھی پہلی سی نہیں رہی، میرے تایا زاد کزن کی شادی کے موقع پر اُس کی ایک بار پھر نئے سرے سے تعمیر کی گئی ہے! مکمل جدید طرز کی، پہلے اُسے حویلی کہا جاتا تھا، اب مکان کہہ لیں! یہ ہمارے دونوں تایا و ابو کا مشترکہ مکان ہے جو ہزار گز (ایک کنال) سے کچھ اوپر جگہ پر ہے۔ گاؤں میں ہماری جتنی زمین ہے مجھے اس کا اندازہ نہیں! البتہ اُس کے ٹھیکہ کی مد میں اتنے چاول آ جاتے ہیں کہ ہمیں بازار سے خریدنے نہیں پڑتے پورے سال! اور ساتھ میں آنے والی رقم پورے سال کے ٹھیکے کی مد میں البتہ ابو کی ایک ماہ تنخواہ سے آدھی یا ہماری ایک ماہ کی کمائی سے کچھ اُوپر ہوتی ہے!
کوئی اور گھر نہیں ہے! البتہ اسلام اباد میں گلشن کشمیر نامی اسکیم میں ایک کنال کا پلاٹ ہے خواہش ہے کہ خدا پیسے دے تو وہاں بھی ایک اچھا سا مکان تعمیر کر لو!!!
یہ تو ہو گئے وہ مکان جو درحقیقت ہیں، آٹھ میں سے تین آپ ان ہی کو گن لیں، اب خواہش یا خوابوں کی بات ہو تو باقی کی پانچ بھی کہیں ناں کہیں بنا لیتے ہیں! شرط پاکستان (جس ملک میں رہائش والی شرط کی روشنی میں) کی حدود کے اندر کی خوامخواہ میں لگا دی ہے! ہم تو ویسے بھی یہاں سے باہر کا سوچتے ہی نہیں ہیں!
چوتھا مکان! سیف الملوک جھیل کے کنارے پر ہونا چاہئے! اایسی خوبصورت جگہ پر مکان کے جگہ اور کئی فائدے ہیں وہاں یہ امکان بھی ہے کہ شائد پریوں سے ملاقات وغیرہ ہو جائے! کوئی پری ہماری محبت میں گرفتار ہو جائے اور یوں ہماری کہانی بھی بچے اپنی اپنی دادی کی زبانی سنا کریں گے!! ٹھیک ہے ناں!
پانچواں مکان مالم جبہ کے آس پاس ہونا چاہئے! تاکہ کبھی سیف الملوک پر نہانے کے لئے آنے والی پریوں سے دور جانے یعنی اُن کی نظروں سے چھپنا ہو تو بندہ مالم جبہ پر چھٹیاں گزارنے چلا جایا کرے! شہر کے ہنگاموں اور پریوں کی صحبت ے دور!
چھٹاں مکان جا کر مری میں بنایا جائے تاکہ کبھی اسلام آباد سے نکل کر قریب قریب تفریح کا ارادہ ہو تو اِدھر کا رُخ کیا جائے! کچھ ہمارے دوسرے (سمجھا کریں ناں) جاننے والوں کو بھی فائدہ ہو!
ساتواں مکان ہونا چاہئے کشمیر میں! خواہش تو سری نگر کی ہے مگر ابھی مظفرآباد پر ہی گزارا کرتے ہیں!!!
اور آٹھوں مکان _______ میں ہونا چاہئے! بھائی یہ بھی بتا دیا تو ہم چھپے گے کہاں؟؟؟ یہ نہیں بتانا! کوئی ایسی بھی تو جگہ ہونی ہو ناں جہاں _____________!!! سمجھا کریں ناں!
اچھا اب آٹھ بلاگرز کو ٹیگ بھی کرنا ہے تو جناب بدتمیز، جہانزیب، عمار، ابوشامل، شاکر، مارواء، ساجد اقبال اورشاہ فیصل کو ٹیگ کرتا ہو!!!! ہون تسی لکھو!
مکمل تحریر پڑھیں ←