غیر حاضری معاف!

کچھ دنوں سے خیال آرہا ہے کیوں نا وہ دلچسپ قصے اس بلاگ کا حصہ بناؤ جو دوران وکالت اپنی نالائعقیوں کی بناء پر ہم بھگت چکے ہیں! ان میں چند ایک سبق آموز ہیں اور چند ایک صرف آموز! یہ سلسلہ قسط وار ہو گا!

تو جناب پہلا قصہ حاضر ہے! یہ دلچسپ ہے مگر سبق آموز نہیں! یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم ایل ایل بی کر کے تازہ تازہ اپنے سینئر کے پاس وکالت کے گُر سیکھنے جا پہنچے تھے! جوائن کئے کوئی ایک ماہ ہی ہوا تھا! ایک شام سینئر نے اپنے آفس میں بلایا کہا کہ یہ زازق خان صاحب کل کورٹ میں اپنا میڈیل سرٹیفکیٹ لے کر آ جائے گئے یہ ضمانت پر ہے مگر پچھلی دو تاریخوں پر غیر حاضر رہے ہیں ان کی Condonation کی درخواست دے دینا کہ بیماری کی وجہ سے غیر حاضری ہوئی! ہم نے ہدایات لیں رزاق صاحب کو ایک نظر دیکھا کہ صبح پہچاننے میں دشواری نہ ہو، اور کمرے سے باہر آ گئے۔
وہ صاحب جاتے ہوئے ہم سے ملنے آئے! ہم نے اُن سے پوچھا ‘کیا بیماری تھی آپ کو جو عدالت سے غیرحاضر ہوئے‘
کہنے لگے ‘یار ویسے ہی نہیں گیا وہ اب کورٹ سے نوٹس آیا تو ہوش آیا ہے!‘
تو زار کھلا کہ یہ معاملہ ہے! دریافت کی‘میڈیکل سرٹیفکیٹ کہاں سے لائے گے؟‘
کہنے لگے ‘کوئی مسئلہ نہیں‘ پھر آنکھ مارتے ہوئے گویا ہوئے! ‘میری ایک ڈاکٹر جاننے والی ہے، اُس سے ہی لے کر آؤ گا‘
میں نے کہا ‘ٹھیک ہے کل لے آنا میں اُس میں آپ کی بیماری کی درخواست بنا لو گا‘
اگلے دن ہم کورٹ پہنچے باقی کیسوں کو دیکھتے ہوئے جب اُس کورٹ میں پہنچے تو وہ صاحب وہاں موجود تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی ہماری جانب لپکے۔ میڈیکل سرٹیفکیٹ ہمیں دیا، اور لگے سنانے قصہ اپنے اور اُس ڈاکٹر کے تعلق اور سرٹیفکیٹ لینے کا۔ ہم نے سرٹیفکیٹ پر ایک سرسری سی نظر ڈالی، پہلے سے بنائی ہوئی درخواست سے منسلک کیا، آگاہی لی کہ کیس کا نمبر کب آئے گا! معلوم ہوا دو چار کیسوں کے بعد ہی ہے لہذا کورٹ میں بیٹھ گئے، اور بندے کو باہر انتظار کرنے کو کہا۔
کورٹ میں کافی رش تھا! سینئر وکیل موجود تھے اور اُن کے جونیئر بھی، ہماری باری آئی، جج کے سامنے حاضر ہوئے، درخواست پیش کی، رازق میاں بھی پیش ہو گئے، جج نے ہماری طرف دیکھا ہم نے بتایا کہ بندہ بیمار تھا اس لئے نہ آ سکا، جج نے بات سمجھنے کے انداز میں سر ہلانے لگے! ایک نظر درخواست پر ڈالی پھر اُسے پلٹ کر میڈیکل سرٹیفکیٹ دیکھنے لگے! سر اُٹھا کر پہلے مجھے اور پھر میرے سینئر کے کلائینٹ پر ڈالی!
مجھے سے پوچھا ‘وکیل صاحب اس میڈیکل سرٹیفکیٹ کو پڑھا تھا آپ نے؟‘
میں نے کہا ‘جی سر‘
پھر اگلا سوال کیا ‘بغور‘
جواب عرض کی ‘جی ہاں‘ (دل میں کھٹکا ہوا معاملہ خراب لگتا ہے)
ہم نے رازق میاں پر نظر ڈالی! اور آنکھوں ہی سے سوال کیا! کوئی گڑبڑ تو نہیں! اتنے میں جج صاحب نے درخواست اپنے ریڈر کی طرف بڑھائی کہا ذرا ذرا اسے ایک نظر دیکھ لیں! میں نے ریڈر سے درخواست واپس لی، میڈیکل سرٹیفکیٹ پر ایک نظر ڈالی، دیکھا کہیں یہ تو نہیں لکھا کہ یہ کورٹ میں پیش کرنے کے لئے نہیں (اکثر ڈاکٹر یہ لکھ دیتے ہیں تا کہ کورٹ کی معاملات سے دور رہئے)، مگر ایسا نہیں تھا! ایک نظر اُس کے مضمون پر ڈالی کہیں اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ٹھیک لگا! اب ہم نے جج پر ایک حیرت بھری نظر ڈالی!
جج نے کہا “وکیل صاحب ذرا سرٹیفکیٹ کے ہیڈر کو پڑھنا“
میں نے اب جو ہیڈر پر نظر ڈالی تو اُس پر درج تھا! “شازیہ میٹرنٹی سینٹر و ہسپتال“! کمرہ عدالت میں اچانک کئی سینئر ہلکے قہقہہ سے ہنسے! اور ہمارا گلا خشک ہو چکا تھا! پچاس افراد کی موجودگی میں بے عزتی کا احساس امنڈ آیا!
جج نے مسکراتے ہوئے ایک نظر رازق میاں پر ڈالی پھر ہم سے مخاطب ہوئے“وکیل صاحب! جہاں تک میں دیکھ رہا ہو آپ کا ملزم ایک مرد ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں انہیں کون سی ایسی بیماری ہو گئی کہ انہیں اپنا علاج کروانے میٹرنٹی ہوم جانا پڑا؟؟“
اب ہم کیا بولتے؟ ہم تو پہلے ہی جج کی طرف التجا بھری نظروں میں دیکھ رہے تھے! اب جو سوال انہوں نے داغ دیا تو اُس کو کوئی ناں کوئی تو جواب دینا تھا! ایک بار پھر میڈیکل سرٹیفکیٹ پر نظر ڈالی! تمام تع توانائی کو جمع کیا اور بولے “سر آخر میں ہسپتال بھی تو لکھا ہے!“
جج بولا “مگر میٹرنیٹی سینٹر پہلے لکھا ہے اس لئے اس سے یہ اخذ ہوا ہسپتال عورتوں کا ہوا“
اب ہماری ڈیٹائی کی باری تھی! لہذا مخاطب ہوئے! “جی سر! عموما ایسا ہی ہوتا ہے! مگر اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔“
جج نے ہمیں گور کر دیکھا! درخواست ہم نے اُس کے ریڈر کو پکڑا دی! جج نے اُس پر نوٹ لکھا! اور ہمیں دیکھتے ہوئے کہا “وکیل صاحب! پہلے کنفرم کر لیا کریں! میں اس بار تو چھوڑ رہا ہو! آئیندہ غلط بیانی مت کیجئے گا“
ہم نے کہا “سر شکریہ! مگر یہ صرف میٹرنٹی ہوم نہیں یہاں مرد حضرات بھی جاتے ہیں، علاقے کی سطح پر ایک منی ڈسپنسری ہے“ اور کورٹ سے باہر آ گئے!
رزاق میاں کو پکڑ لیا ابے لعنتی مروا دیا تھا! اور بھی بہت کچھ جو قابل سنسر ہے اُس سے کہا! پھر ہم کافی دن تک اُس جج کی کورٹ میں جانے سے جھجکتے رہے!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
صدر کی رہائش گاہ بنا شادی ھال

صدر کی رہائش گاہ بنا شادی ھال

پاکستان میں دونوں عیدوں کے درمیانی عرصہ میں شادیاں بہت ہوتی ہیں! سنت ہے شادی کرنا لہذا یہ ایک نیک کام ہے! خود ہمیں چھ سات شادیوں میں شرکت کی دعوت مل چکی ہے! کیا کریں جانا پڑتا ہے! شادی کرنے والے احباب یا تو سڑک پر ٹینٹ لگا کر یہ تقریب مناتے ہیں یا کوئی شادی ھال بُک کر کے!!
شادی کی ایک تقریب ہمارے ملک کے صدارتی محل میں بھی منائی گئی ہے! یار لوگ اسے بھی کرپشن و عوام کی دولت کا غلط استعمال کہتے ہیں!

اس میں کوئی حرج نہیں اگر کوئی بھی شخص اپنی شادی کی تقریب ایک مخصوص قیمت ادا کر کے وہاں منا سکتا ہو مگر اگر وقت کی سرکار یا حکمران سے تعلق اس کے اہلیت ٹہرے اور خرچ سرکاری ہو تو یہ قابل اعتراض و احتساب ہے! ویسے شاید ایوان صدر میں یہ شادی کی پہلی تقریب ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
ٹی وی دیکھے!!!

ٹی وی دیکھے!!!

جب ہم ڈائل اَپ انٹرنیٹ کے صارف تھے تو اُس وقت تک انٹرنیٹ پر گانے سننا تو دور کی بات ویب سائیٹ کی تصاویر و فلیش بھی اکثر Disable کردیا کرتے تھے! مگر اب آن لائن ٹی وی دیکھتے ہیں! اس سلسے میں ہمیں کسی فورم سے ایک چھوٹا کا ٹول ملا تھا کسی بھارتی کا بنایا ہوا تھا اس لئے اُس نے اس کا نام انڈیا ٹی وی رکھا تھا! ہم نے ڈاؤن لوڈ کر لیا اچھا لگا! مگر اُن پر انڈیا لکھا اچھا نہیں لگا! لہذا مشہور سوئی والے لطیفہ “میڈ اِن پاکستان“ کی روشنی پر اُس پر ہم نے اُس پر اپنا نام لکھ دیا!!!! اُس میں قریب آن لائن موجود تمام پاکستانی و ہندوستانی ایف ایم ریڈیو و ٹی چینل کی فیڈ جمع کر دی گئی ہیں! امید ہے اگر آپ کا نیٹ کنکشن اچھا ہے تو آپ اس مستفید ہو سکتے ہیں! بلکہ جتنا اچھا ہے اُتنا مستفید ہو سکتے ہیں!! اگر کوئی نئی فیڈ آپ کے علم میں ہو تو مجھے بھی آگاہ کر دینا! شکریہ!
یہ سافٹ ویئر صرف دنڈو کے صارفین کے لئے ہے!! لینکس والے اِس کی طرز پر کوئی ہے تو اُس سے آگاہ کریں!

Watch TV

ڈاؤن لوڈ کریں!! یا یہاں سے کر لیں!!

آپ کو کیسا لگا!

مکمل تحریر پڑھیں ←

آصف زرداری اور کشمیر

اچھا کہنے اور بننے کا شوق بُرا نہیں بلکہ بہت بُراہے! مگر اچھا ہونا بُرا نہیں! ہمارے حکمران اچھا بنتے نہیں مگر خود کو کہلوانا چاہتے ہیں! افسوس یہ ہے کہ اپنی عوام سے مخلص ہواتے نہیں، اور دوسروں پر اپنے خلوص کی بارش کرتے رہتے ہیں!!
ایسا ہی حال ہمارے نئے صدر کا ہے! سنا ہے کہ “وہاں“ جناب کی اپنی کوئی خاص پہچان نہیں!! مغربی میڈیا تو انہیں بی بی کا زنڈوا قرار دیتا ہی تھا! لیکن جب امریکی صدر بش سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے بھی کہا آپ کو تو نہیں البتہ میں بینظیر کو جانتا ہوں چین میں اُن کے بچوں سے ملا قات بھی ہوئی تھی! تو کیا آپ اُن کے باپ ہوتے ہیں؟ بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر! اور جناب وہاں ایک لیڈر کے طور پر خود کو نہیں منوا سکے! البتہ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ یار لوگوں نے اُن کی کئی جگہ کی گئی نالائقیوں پرروشنی ڈالی ہے!
پاکستان کا بانی کون؟ قائداعظم! اور اُن کا کہنا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رَگ ہے! وہ ہی کشمیر آج خود کو بھارت کے شکنجھے سے آزادی کی جدوجہد میں ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے! یہ تحریک جو زمین کے جھگڑے سے شروع ہوئی اور جس میں شیخ عبدالعزیز کی شہادت نے ایک نئی روح پھونک دی ہے آگے ہی بڑھتی جا رہی ہے! اس میں کشمیر کی نواجوان نسل سب سے پیش پیش ہے! اور تاریخ بتاتی ہے کہ جس تحریک میں کسی قوم کے نوجوان شامل ہوں وہ جدوجہد منزل کو پا لیتی ہے!
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار خود بھارتی میڈیا یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ہر گز پاکستان یا آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیں! (آوٹ لک انڈیا کا یہ کالم پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور بھاتی اور انٹرنیشنل میڈیا میں اس کا کافی تذکرہ ملتا ہے) اور کیونکہ پانچ سے آٹھ لاکھ افراد کا ایک جگہ جمع ہونا ایک کال پر اُس کے جذبہ آزادی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے! اور اِن جلوسوں میں لگنے والے نعرے کچھ یوں ہیں،

“ہم کیا چاہتے! آزادی!
ہے حق ہمارا! آزادی!
چھین کر لیں گے! آزادی!“

“اے جابرو! اے ظالمو!
کشمیر ہمارا چھوڑ دو!“

“جس کشمیر کو خون سے سینچا!
وہ کشمیر ہمارا ہے!“

“خونی لکیر توڑ دو
آر پار جوڑ دو“

“ہندوستان تیری شامت آئی!
لشکر آئی! لشکر آئی“

اور پاکستان سے اُن کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نعرے بھی اُن کی زبان پر ہوتے ہیں!

“کشمیر کی منڈی! رولپنڈی“

“جیوے جیوے پاکستان“

“پاکستان سے رشتہ کیا! لاالااللہ! آزادی کا مطلب کیا! لاالااللہ! ہندوستان کا مطلب کیا؟ بھاڑ میں جائے ہم کو کیا!“

“ننگا بھوکا ہندوستان
جان سے پیارا پاکستان“

ایسے میں ہمارا میڈیا اِسے اُس طرح ہم تک نہیں پہنچا رہا جو حق ہے! بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خبریں چھپائی جاتی ہیں!! کشمیری لیڈر عمر فاروق نے باقاعدہ یہ اعتزاض اُٹھایا ہے کہ ہمیں جو توقعات پی ٹی وی سے تھی وہ کوریج کے معاملے میں اُس نے پوری نہیں کیں! اور دوسری طرف ہم نے کشمیر کمیٹی کا سربراہ “مولانا ڈیزل“ کو بنایا دیا ہے (میں جناب کے کشمیر کاز سے دوری یا دشمنی پر بعد میں لکھوں گا!)، اس پر حریت کانفرنس والوں نے بھی اعتراض کیا تھا!
اور آج پھر ایک مرتبہ وال اسٹریٹ جرنل کو دیئے گئے آصف زرداری کے انٹرویو کو پاکستان کے اخبارات نے خبر کے طور پہلے صحفہ پر جگہ دی مگر کشمیر اور بھارت والے بیان کو جان بوجھ (کم از کم مجھے تو یہ ہی لگتا ہے) گول کرنے کی کوشش کی ہے! جبکہ میں سمجھتا ہوں میڈیا کو ازخود اس پر جناب کی “مخصوص عزت افزائی“ کرنی چاہئے تھی! اس انٹرویو میں بقول آصف زرداری صاحب کے “بھارت کبھی پاکستان کے لئے خطرہ نہیں رہا!!!“ (سوات والے معاملات کے بعد بھی؟؟؟) اور “کشمیر میں سرگرم اسلامی عسکریت پسند دہشت گرد ہیں“!!! اسے خود اخبار نے حیران کُن قرار دیا ہے! اخبار کہتا ہے!

When I ask whether he would consider a free-trade agreement with traditional archenemy India, Mr. Zardari responds with a string of welcome, perhaps even historic, surprises. “India has never been a threat to Pakistan,” he says, adding that “I, for one, and our democratic government is not scared of Indian influence abroad.” He speaks of the militant Islamic groups operating in Kashmir as “terrorists” — former President Musharraf would more likely have called them “freedom fighters”

شاید حادثاتی سربراہ بن جانے اور جینوئن لیڈر میں یہ ہی فرق ہوتا ہے کہ جینوئن لیڈر کو معلوم ہوتا ہے کیا کہنا ہے اور کیوں کہنا ہے! وہ کسی کو خوش نہیں کرتا!! یا پھر کشمیر کے ایک ماہ میں حل کا وعدہ یہ ہی تھا؟ حریت پسندوں کو دہشت کرد مان لیا! پھر آزادی مانگنے والوں کو باغی کہہ دیا جائے گا! اللہ اللہ خیرسلا! بات ختم پیسہ (مزید) ہضم!!
ممکن ہے آپ میں سے کئی اس بات کو معمولی سمجھے مگر ایسی بات ملکی خارجہ پالیسی کے لئے نقصان کا باعث ہوتی ہے! آج بھارت کے تمام اخبارات نے اس خبر کو یوں چھاپا ہے! “زرداری مانتے ہیں کشمیر میں دہشت گرد سرگرم ہیں“!!! ہون آرام اے!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
اگر اجازت ہوتو لپٹ جاؤں؟

اگر اجازت ہوتو لپٹ جاؤں؟

بقول سی این این کے پاکستان کے صدر نے تو Alaska کی گورنر اور نائب صدر کی امیدوار سے بس اتنا کہا تھا
“آپ تو بہت ذیادہ حسین ہے جتنا کہ آپ دیکھتی ہیں (آواز مدہم) پر“
“شکریہ، کرم نوازی آپ کی“ سارہ پالین
“اب میں سمجھا سارا امریکہ آپ کو دیوانہ کیوں ہے“ زرداری
(جب سارہ اور زرداری ہو تصاویر کے لئے دوبارہ ہاتھ ملانے کو کہا تو)
“میں سمجھتی ہوں دوبارہ ہاتھ ملانے کا انداز اپنانا پڑے گا“ سارہ پالین
“اگر اس نے مجبور کیا تو، ممکن ہے میں گلے لگا لو“ زرداری!

بس اتنی سی بات! اور یار لو ہو گئے ناراض! پریشان ہو گئے ہیں، یہ اپنے زرداری صاحب کیا کر بیٹھے؟ کیا ہوا بھائی؟ اس میں ناراض ہونے والی کیا بات؟ جس پر تبصرہ ہوا وہ تو خوش ہے؟ سارہ پالین نے تو صحافیوں سے ملاقات کو very informative اورhelpful قرار دیا ہے!
ویسے بھی یہ کوئی بات نہیں پالین جی کو تو بالغان کے رسالے کے لئے بھی آفر آئی تھی! اور جان میکن کی صدرارتی مہم کو کو نشانہ بنایا گیا ہے!
یہ تو کچھ بھی نہیں یا! بے شک زرداری اسلامی جمہوریہ کے صدر ہیں!!! مانا کہ رمضان چل رہے ہیں!
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! (شریف حضرات ذیل کی تصویر کو دیکھنے سے پر ہیز کریں! روزہ خراب ہونے کی صورت میں آپ خود ذمہ دار ہوں گے، آرام نہ آنے کی صورت میں مولوی سے رجوع کریں)!

Sarah

مکمل تحریر پڑھیں ←
صدراور Spelling bee

صدراور Spelling bee

ہمارے صدر صاحب ہمارے باقی صدور سے یوں مختلف ہیں کہ جیسی شہرت باقی پاکستان کے سابقہ صدروں کو اپنے آخری دور میں حاصل ہوئی انہیں اپنے اقتدار کے آغاز میں ہی مل گئی! یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایک آنے والے صدر کو یار لوگ اُن ہی کلمات سے یاد کر رہے ہیں جیسے جانے والوں کو یاد کیا جاتا ہے! وہ تمام “خوبیاں“ ابتدا میں ہی سامنے آنے لگ پڑی ہیں جو عام طور تحت سے ان سربراہان مملکت کے بچھڑ جانے پر یاد آتی ہیں!
یار لوگ ہم انگریزی کے ماروں کو ویسے بھی بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں مگر ہمیں کیا ہم تو ہیں ہی اردو میڈیم (لو انگریزی کا لفظ استعمال کر لیا) کے مارے ہوئے،لہذا ہم سے غلطی ہو تو کوئی کفر نہیں ہوتا! پھر یاروں نے اپنے وزیراعظم کی انگریزی پر تنقید کی تو ہم نے آگاہ کردیا جناب یہ ملتانی بھی اردو میڈیم کا مارا ہوا ہے!
ابتدا میں ہمیں اپنے صدر کے گریجویٹ ہونے پر شبہ تھا مگر اُن کے اہل بیت نے ہمیں آگاہ کیا جناب وہ نہ صرف گریجویٹ ہیں بلکہ برطانیہ کے ڈگری تافتہ ہیں! ساری ٹینشن دور ہوگئے چلو حکمرانی کا سرٹیفکیٹ لے کر آیا ہے! ورنہ تو کیا مزا! پہلے ہی ہمیں لوکل سربراہ پسند نہیں، مغربی ذرائع ابلاغ کو جب جناب میں انٹرویو دیئے تو اچھی بھلی انگریری بولی! مگر یار لوگ پیچھا نہیں چھوڑتے! کہتے ہیں کہ انگریزی لکھنے کی قابلیت صدر صاحب میں نہیں!
زرداری کی قابلیت

پچھلے دونوں جناب کراچی آئے اس لئے قائداعظم کے مزار پر بھی حاضری دی وہاں موجود ڈائری پر لکھی گئی تحریر کی تصاویر اتار کر یار لوگ صدر کی انگریزی کی قابلیت کو نشانہ بنا رہے ہیں! کہتے ہیں کہ GOD اور STRENGTH کی Spelling جناب نے غلط لکھی ہیں! حد ہو گئی ہمارا صدر ہے کوئی Spelling bee تو نہیں!

اب آپ کہے گے “منزل انہیں ملی جو شریک حیات تھے“ غلط بات ہے! قابل بھی ہیں!

مکمل تحریر پڑھیں ←
امداد و قوت

امداد و قوت

جب ہم چھوٹے تھے تو بچوں کی کہانیاں کافی شوق سے پڑھا کرتے تھے! کئی کہانیاں ہمیں سمجھ بھی نہیں آتی تھیں! ایک ایسی ہی کہانی کچھ یوں تھی!
کہتے ہیں ایک ملک خداداد میں رعایا کافی سکون سے رہ رہے تھے، ملک کی آبادی توحید کی قائل تھی! جو کچھ بھی مانگنا ہوتا رب تعالٰی سے طلب کرتی! ایک بار مشہورہو گیا کہ ملک خداداد کے گنجان جنگل میں ایک درخت ہے اُس کے سامنے کھڑے ہو کر جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی، کئی لوگوں نے دعا مانگی اور وہ قبول ہو گئی، ہوتے ہوتے یہ سلسلہ اس قدر بڑھ گیا کہ عوام گمراہ ہو کر اُس درخت کی عبادت کرنے لگ پڑے۔ جب اس کا علم اُس علاقے کے ایک چھوٹے دوکاندار بہادر ہو ہوا تو اُسے بہت غصہ آیا اُس نے اپنی کلہاڑی لی اور درخت کاٹنے کے لئے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا! کہ نہ درخت ہو گا نہ یہ گمراہی مزید پھیلے گی! جب وہ جنگل کے قریب پہنچا تو شیطان ایک پہلوان کے روپ میں اُس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا! پہلے شیطان نے اُسے پیار محبت سے روکنے کی کوشش کی لیکن بہادر نے اُس کی ایک نہ مانی اور وہ اپنے ارادے پر قائم رہا! پھر شیطان اُسے دھمکیاں دینے لگ پڑا مگر بہادر ٹس سے مس نہ ہوا، آخر دونوں میں کُشتی ہوئی اور بہادر سے پہلے ہی وار میں شیطان کو اُٹھا کر دور دے مارا! شیطان کو سمجھ آ گئی کہ لڑائی میں اس شخص کو مات دینا ممکن نہیں لہذا شیطان نے فورا نیا تیر چلایا! اُس نے اُسے آفر کی کہ اگر تم اُس درخت کو نہ کاٹو تو میں تمہیں پانچ سو درہم دوں گا! بہادر نے انکار کر دیا! اُس نے کہا میں ہر ماہ تمہیں اتنی رقم ادا کرو گا! بہادر لالچ میں آ گیا اور پانچ سو درہم اُس ہی وقت لے کر واپس چلا آیا!
قریب پانچ ماہ تک شیطان نے اُسے ہر ماہ پانچ سودرہم دیئے! پھر اچانک یہ سلسلہ رک گیا! ابتدا میں بہادر کو پانچ سو درہم کا انتظار رہا پھر اُسے اندر سے ملامت ہونے لگی! لہذا ایک بار پھر وہ کلہاڑی لے کر وہ درخت کاٹنے کے لئے نکل گیا! اب کی بار پھر پرانے والے مقام پر شیطان اُس ہی پہلوان کے روپ میں اُسے ملا، اُس نے پرانے والئے انداز نے پہلے پیار سے پھر ڈرا دھمکا کر اُسے روکنا چاہا، آخر دونوں میں لڑائی ہوئی اور بہادر نے شیطان کو چاروں شانے چت کر دیا! آخر میں شیطان نے پھر لالچ والی ترتیب آزمائی اور بہادر نے انکار کر دیا! شیطان نے انکار کیا تو شیطان نے سو درہم بڑھا دیئے، پھر ہوتے ہوتے بہادر آٹھ سو درہم پر درخت نہ کاٹنے پر راضی ہو گیا!
اب کے کوئی تین ماہ بعد ہی شیطان نے رقم کی ادائیگی روک لی، بہادر اب کے جو گھر سے نکل کر جنگل کی طرف بڑھا تو شیطان نے راستہ روک لیا! دونوں میں لڑائی ہوئی اور شیطان نے بہادر کو وہ چاروں شانے چت کر دیا! بہادر کچھ بھی نہ کر سکا! اور شاید اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا!
کہانی لکھنے والے نے بعد میں بتایا کہ حرام کھانے سے برائی کو روکنے کی قوت ختم ہوجاتی ہے! میں یہ سمجھا کہ جس سے مانگ کر کھایا جائے اُس کے خلاف لڑنا ممکن نہیں ہوتا نہ ہی سکت ہوتی ہے! یہ انفرادی واجتماعی سطح دونوں صورتوں میں درست ہے؟
ہم بیرونی دنیا سے امداد کے طالب رہے ہیں! لیتے رہتے ہیں! ہماری نئے وزیراعظم بھی امریکہ کا ایک دورہ اس لئے کر چکے، ہمیں فوجی و سویلین امداد لینی ہوتی ہے!ایسی میں وہ کیا ہے جو ہم رہن رکھ کر آتے ہیں؟؟؟ خوداری و عزت!
یار لوگ ناراض ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر زمینی حملہ کیا بیس افراد جان بحق یا ہلاک (اب شہید کہوں گا تو اپنے ہی مارے گے) ہوئے، اور پاکستان نے کیا کیا؟ ارے بابا پارلیمنٹ نے قرارداد مذمت پاس کردی، دفتر خارجہ نے مذمتی و احتجاجی بیان کافی نہیں ہے کیا! اور بھی امداد لینی ہے! بند ہو گئی تو پھر؟ دہشت گردی کی یہ جنگ جاری رکھنی ہے ناں!
War on?
ویسے آج یوم دفاع ہے آپ کو مبارک ہو! یوم دفاع!

مکمل تحریر پڑھیں ←