بعض قتل ایسے ہوتے ہیں جو قتل خطا کےذمرے میں آتے ہیں۔۔۔۔۔ یعنی آپ کا ارادہ نہیں تھا غلطی سے سرزد ہو گیا ہو گئی۔۔ جب خطا ہو تو اسے محسوس کرنا بھی اکثر ممکن نہیں رہتا۔۔۔ غلطی انفرادی سطح پر ہی نہیں ہوتی اجتماعی سطح پر بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ نا معلوم،غیر محسوس،انجانے میں کوئی بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔
منٰی میں بھگڈر بھی ایک اجتماعی خطا ہے، ایک اجتماعی قتل خطا!!!!۔ برداشت ہو، انتظار کرنے کا حوصلہ ہو، دوسرے کے حق کو پہچاننے کی سمجھ ہو، تو افراتفری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس واقعے میں (اب تک کی خبر کے مطابق) ٣٤٥ کے قریب حجاج شہید ہو چکے ہیں۔۔۔
٢٥ لاکھ کے قریب کا اجتماع لازمّا کافی بڑا ہوتا ہے، اسے قابو کرنا ممکن نہیں، اسے انتظامی غفلت کا نام دینا آسان ہے، مگر میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اسے کسی حد تک اخلاقی تربیت کی کمی کہوں گا۔۔۔ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت ہے، اس کے ذریعہ ہم ایک خاص پیغام کہ ہم خواہ الگ ہوں ملکی لحاظ سے، ہم میں زبان کا فرق ہو، ہمارارنگ جدا ہو مگر اصل میں ایک ہیں، ایسے میں کوئی ایسا ایک حادثہ ہمارے اس پیغام کا تاثر تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، آج کے اس میڈیا کے دور میں، جب خبر منٹوں میں پھیل جاتی ہو۔
ایسے حادثات سے بچنے کے لئے اگر چند ضروری اقدامات کرنے میں کسی قسم کی مذہبی رکاوٹ کا سامنا ہو تو اس سلسلے میں اجتہاد کا راستہ موجود ہے، جیسے حجاج کی تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے منٰی کے موقعہ پر شیطان کو ٣ دن میں کنکریاں مارنے میں دشواری کا سامنا ہے کیوں کہ اس سلسلے میں مغرب سے پہلے یہ عمل کرنا بعض علماء کے نزدیک لازمی ہے تو اگر ممکن ہو تو مغرب کے بعد یعنی رات میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔۔۔۔ اگر کوئی شرعی قید نہ ہوتو ۔۔۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے
تاکہ حاجی کے ہاتھوں حاجی کا قتل خطا نہ ہو۔ خود اہل مسلم کا ایک غلط تاثر باقی دنیا کے سامنے نہ جائے۔
Technorati Tags: urdu, Stampede, stoningshaitans, deathinMina, hajj, اردو, حجقربانی کی کھالیں
Shoiab Safdar Ghumman
لیں! عید قربان آن پہنچی اور ساتھ ہی کھالوں کے امیدوار بھی۔ ورنہ۔۔۔آپ کی کھال تو ہے نا!
عید پر عیدی کیا؟؟؟ گوشت اور کھال!! ۔۔۔۔ اب آپ کس کے امیدوار ہیں؟؟ سارے فلاحی ادارے تو کھال مانگ رہے ہیں۔۔۔شکر ہے قربانی کے جانور کی کھال مانگی جاتی ہے ورنہ تو عوام کی کھال اتاری جاتی ہے ۔۔۔۔ عیدی و قرنانی دینے والے کا اپنا حصہ؟؟؟ ہڈیاں!!!۔۔۔۔۔ اور بس یہ لو کیا بھی بس ہے؟؟؟ ہمارے دوست ہیں کہتے ہیں کہ“ یار ٹھیک کہ اس عید کا اصل مقصد سُنت ابراہیمی کا پورا کرنا ہے اور دعا یہ کہ اللہ اس قربانی کو قبول کرے، مگر یہ کیا! خود قرنانی کرنے والے کا حصہ چھچھڑے یا پھر ہڈیوں کا سوپ اور گوشت اہل محلہ یا رشتہ دار لے جاتے ہیں باقی کچھ فقیر برادری!!!!! اور کھال یہ مدرسہ والے مانگ لیتے ہیں یہ دیر کردیں تو خدمت خلق یا الخدمت والے بتا دیتے ہیں کہ ہم لیں کر جائیں گے مانگتے بھی نہیں!!! “ ویسے مجھے ان سے اختلاف ہے کہ اہل محلہ اور رشتہ دار تو خود دینے بھی آتے ہیں اور غرین کو گوشت ملتا ہی اس عید پر ہے باقی معاملہ رہا کھال کا تو وہ تو ہوتی ہی اتارنے کے لئے ہے۔۔۔ اور جو چیز اتاری جائے اس کا نہیں بتاتے کیوں !!!۔۔۔ ویسے ہمارے یہ دوست ہیں کافی سمجھ دار ہیں وجہ!! بھائی ہڈیاں وہ دوسروں کو ڈالتے ہیں اور گوشت فریج میں۔۔۔۔ خیر جو ان کی مرضی ۔۔سانوں کی!
قربانی صرف جانور ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے مالک کی بھی ہوتی ہے پہلے جانور خریدنے کے لئے بجٹ بنانا پڑتا ہے پھر اس سے آگے کا سسلسہ ۔۔۔۔۔۔۔ خود قربانی کا جانور بڑا لاڈلا ہوتا ہے، جب تک ہوتا ہے، اُس کے ناز نکھرے اُٹھانے پڑتے ہیں،اُس کی صحت اور مزاج کا خیال رکھا جاتا ہے، پڑوس میں ایک مرتبہ بکرا اپنے لاڈ نہ آٹھائے جانے پر اس قدر برہم ہوا کہ عید سے ایک دن پہلے ہی قربان کرنا پڑا ۔۔۔۔ یوں اس نے عید تک بھی خیر نہ منائی اور چھری کے نیچے آگیا۔۔۔اب مجھے یہ نہیں معلوم اس نے یہ بتایا کہ نہیں کہ وہ بکرے کی ماں نہیں بلکہ بھائی ہے یا نہیں؟؟؟ مگر خیر ،خیر تو اس کے مالک کی بھی نہیں رہی اسے دوسرے بکرے کا انتظام کرنا پڑا عید والے دن!!! ان کا کہنا تھا اس بار تین قربانیاں ہوئیں ہیں ہمارے گھر دو بکروں کی اور ایک میری!!!!
عید تو اصل میں بچوں کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ بچے رہتے ہیں پریشانی سے،ذمہ داری سے، کام سے اور اپنے سے بڑاں کی ڈانٹ سے کہ عید کا دن ہے اب کیا کہے ان کو۔۔۔ اور عیدی الگ!!! جب ہم چھوٹے تھے تو۔۔۔ جی جناب ہم بھی چھوٹے تھے قسم لے لیں!! ذیادہ پرانی بات نہیں ہے۔۔۔۔ تو عید ہوتی تھی اصل میں ہماری۔۔ عید قرناب پر سارا دن ایک جگہ سے دوسری جگہ جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے جانا۔۔۔ جہاں کوئی اچھا (صحت مند) جانور ہوتا اس کی قربانی کو دیکھنے کا شوق ہوتا تھا ہمیں ۔۔۔ اس مقصد کے لئے ایک دن قبل ہی ہم دوست علاقے کا جائزہ لے کر بڑے جانور نوٹ کر لیتے تھے اب یہ باتیں یاد آتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے یہ حرکتیں تھی ہماری؟؟؟؟۔۔۔۔ کمال ہے!!!
کھال سے بات بچپن پر چلی گئی ۔۔۔۔ واپس کھال میں آتے ہیں آپے سے باہر ہونا اچھی عادت نہیں۔۔۔
“جان کسے دو گے“
“اللہ کو“
“اچھا! ٹھیک ہے تو کھال مجھے دینا“
کیوں ٹھیک ہے نا! جان تو نہیں مانگی اس نے۔۔۔ اچھا آپ کھال کسے دیں گے؟؟؟؟
کھال جسے مرضی دیں اور گوشت چاہے کھالیں آپ بس میری طرف سے ایک بات۔۔۔۔ وہ کیا؟؟؟۔۔۔ پریشان مت ہو جان نہیں مانگ رہا!!!!!۔۔۔۔ وہ بات یہ ہے کہ
عید پر عیدی کیا؟؟؟ گوشت اور کھال!! ۔۔۔۔ اب آپ کس کے امیدوار ہیں؟؟ سارے فلاحی ادارے تو کھال مانگ رہے ہیں۔۔۔شکر ہے قربانی کے جانور کی کھال مانگی جاتی ہے ورنہ تو عوام کی کھال اتاری جاتی ہے ۔۔۔۔ عیدی و قرنانی دینے والے کا اپنا حصہ؟؟؟ ہڈیاں!!!۔۔۔۔۔ اور بس یہ لو کیا بھی بس ہے؟؟؟ ہمارے دوست ہیں کہتے ہیں کہ“ یار ٹھیک کہ اس عید کا اصل مقصد سُنت ابراہیمی کا پورا کرنا ہے اور دعا یہ کہ اللہ اس قربانی کو قبول کرے، مگر یہ کیا! خود قرنانی کرنے والے کا حصہ چھچھڑے یا پھر ہڈیوں کا سوپ اور گوشت اہل محلہ یا رشتہ دار لے جاتے ہیں باقی کچھ فقیر برادری!!!!! اور کھال یہ مدرسہ والے مانگ لیتے ہیں یہ دیر کردیں تو خدمت خلق یا الخدمت والے بتا دیتے ہیں کہ ہم لیں کر جائیں گے مانگتے بھی نہیں!!! “ ویسے مجھے ان سے اختلاف ہے کہ اہل محلہ اور رشتہ دار تو خود دینے بھی آتے ہیں اور غرین کو گوشت ملتا ہی اس عید پر ہے باقی معاملہ رہا کھال کا تو وہ تو ہوتی ہی اتارنے کے لئے ہے۔۔۔ اور جو چیز اتاری جائے اس کا نہیں بتاتے کیوں !!!۔۔۔ ویسے ہمارے یہ دوست ہیں کافی سمجھ دار ہیں وجہ!! بھائی ہڈیاں وہ دوسروں کو ڈالتے ہیں اور گوشت فریج میں۔۔۔۔ خیر جو ان کی مرضی ۔۔سانوں کی!
قربانی صرف جانور ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے مالک کی بھی ہوتی ہے پہلے جانور خریدنے کے لئے بجٹ بنانا پڑتا ہے پھر اس سے آگے کا سسلسہ ۔۔۔۔۔۔۔ خود قربانی کا جانور بڑا لاڈلا ہوتا ہے، جب تک ہوتا ہے، اُس کے ناز نکھرے اُٹھانے پڑتے ہیں،اُس کی صحت اور مزاج کا خیال رکھا جاتا ہے، پڑوس میں ایک مرتبہ بکرا اپنے لاڈ نہ آٹھائے جانے پر اس قدر برہم ہوا کہ عید سے ایک دن پہلے ہی قربان کرنا پڑا ۔۔۔۔ یوں اس نے عید تک بھی خیر نہ منائی اور چھری کے نیچے آگیا۔۔۔اب مجھے یہ نہیں معلوم اس نے یہ بتایا کہ نہیں کہ وہ بکرے کی ماں نہیں بلکہ بھائی ہے یا نہیں؟؟؟ مگر خیر ،خیر تو اس کے مالک کی بھی نہیں رہی اسے دوسرے بکرے کا انتظام کرنا پڑا عید والے دن!!! ان کا کہنا تھا اس بار تین قربانیاں ہوئیں ہیں ہمارے گھر دو بکروں کی اور ایک میری!!!!
عید تو اصل میں بچوں کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ بچے رہتے ہیں پریشانی سے،ذمہ داری سے، کام سے اور اپنے سے بڑاں کی ڈانٹ سے کہ عید کا دن ہے اب کیا کہے ان کو۔۔۔ اور عیدی الگ!!! جب ہم چھوٹے تھے تو۔۔۔ جی جناب ہم بھی چھوٹے تھے قسم لے لیں!! ذیادہ پرانی بات نہیں ہے۔۔۔۔ تو عید ہوتی تھی اصل میں ہماری۔۔ عید قرناب پر سارا دن ایک جگہ سے دوسری جگہ جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے جانا۔۔۔ جہاں کوئی اچھا (صحت مند) جانور ہوتا اس کی قربانی کو دیکھنے کا شوق ہوتا تھا ہمیں ۔۔۔ اس مقصد کے لئے ایک دن قبل ہی ہم دوست علاقے کا جائزہ لے کر بڑے جانور نوٹ کر لیتے تھے اب یہ باتیں یاد آتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے یہ حرکتیں تھی ہماری؟؟؟؟۔۔۔۔ کمال ہے!!!
کھال سے بات بچپن پر چلی گئی ۔۔۔۔ واپس کھال میں آتے ہیں آپے سے باہر ہونا اچھی عادت نہیں۔۔۔
“جان کسے دو گے“
“اللہ کو“
“اچھا! ٹھیک ہے تو کھال مجھے دینا“
کیوں ٹھیک ہے نا! جان تو نہیں مانگی اس نے۔۔۔ اچھا آپ کھال کسے دیں گے؟؟؟؟
کھال جسے مرضی دیں اور گوشت چاہے کھالیں آپ بس میری طرف سے ایک بات۔۔۔۔ وہ کیا؟؟؟۔۔۔ پریشان مت ہو جان نہیں مانگ رہا!!!!!۔۔۔۔ وہ بات یہ ہے کہ
“عید مبارک ہو آپ کو“
رات کے گپ اندھیرے میں
Shoiab Safdar Ghumman
میں نے رونا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
وہ جو ایک عادت تھی میری
تارو سے باتیں کرنے کی
چپکے چپکے بھیگی بھیگی
پلکوں سے موتی چونے کی
گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے
گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی
یہ کرنے کی وہ کرنے کی
جانے کتنے سال پرانی
وہ جو ایک عادت تھی میری
خود سے لڑتے رہنے کی
اپنے لئے نظمیں کہہ کہہ کر
دیواروں پر لکھنے کی
یہ بھی کرنا چھوڑ دیا تھا
رات کے گپ اندھیرے میں
کچھ دن گزرے
وہ پرانی عادت مجھ میں
پھر سے لوٹ آئی ہے
میں پھر سے باتیں کرنے لگی ہو
بھیگے موتی چننے لگی ہو
پھر سے خود سے لڑنے لگی ہو
پھر سے نظمیں لکھنے لگی ہو
پھر اس بار ایک عجب سا سناٹا چھایا ہے
اب میں خود سے ڈرنے لگی ہو
رات کے گپ اندھیرے میں
رات کے گپ اندھیروں میں
چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
وہ جو ایک عادت تھی میری
تارو سے باتیں کرنے کی
چپکے چپکے بھیگی بھیگی
پلکوں سے موتی چونے کی
گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے
گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی
یہ کرنے کی وہ کرنے کی
جانے کتنے سال پرانی
وہ جو ایک عادت تھی میری
خود سے لڑتے رہنے کی
اپنے لئے نظمیں کہہ کہہ کر
دیواروں پر لکھنے کی
یہ بھی کرنا چھوڑ دیا تھا
رات کے گپ اندھیرے میں
کچھ دن گزرے
وہ پرانی عادت مجھ میں
پھر سے لوٹ آئی ہے
میں پھر سے باتیں کرنے لگی ہو
بھیگے موتی چننے لگی ہو
پھر سے خود سے لڑنے لگی ہو
پھر سے نظمیں لکھنے لگی ہو
پھر اس بار ایک عجب سا سناٹا چھایا ہے
اب میں خود سے ڈرنے لگی ہو
رات کے گپ اندھیرے میں
تازہ ُتک بندی
Shoiab Safdar Ghumman
چراغ کے بجھ جانے سے
اجالے سمٹ جانے سے
اندھیرا پھیل جانے سے
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی
غم کے دلدل میں
آنسوں کے بھنور میں
سسکیوں کے جھرمٹ میں
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی
بھیڑ کے چھٹ جانے پر
اپنوں کے بچھڑ جانے پر
تنہا رہ جانے پر
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی
مگر درد سے نا آشنائی ہو
اندر بے حسی کی پرچھائی ہو
سانس تو چلتی رہتی ہے
موت تب بھی نہیں آتی
پر زندگی زندگی نہیں رہتی
اجالے سمٹ جانے سے
اندھیرا پھیل جانے سے
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی
غم کے دلدل میں
آنسوں کے بھنور میں
سسکیوں کے جھرمٹ میں
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی
بھیڑ کے چھٹ جانے پر
اپنوں کے بچھڑ جانے پر
تنہا رہ جانے پر
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی
مگر درد سے نا آشنائی ہو
اندر بے حسی کی پرچھائی ہو
سانس تو چلتی رہتی ہے
موت تب بھی نہیں آتی
پر زندگی زندگی نہیں رہتی
بلا عنوان
Shoiab Safdar Ghumman
مکمل تحریر پڑھیں ←
آخری رابطہ
Shoiab Safdar Ghumman
ہائے!!
یہ میرا تم سے آخری رابطہ ہے، تمھارا میرا ساتھ خوب رہا! اس ساتھ میں کئی خوشی کے لمحے بھی آئے اور دکھوں کے پل بھی، مگر ہمارا آپس کا تعلق قائم رہا، اب تم سے دوری کا وقت آ گیا ہے،ہاں!میں تم سے دور جا رہا ہوں! مجھے نہیں معلوم تم خوش ہو یا غمگین، میں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوں! اگلے چند لمحوں میں مر جاؤ گا!میرے مرتے ہی ہمارے درمیان موجود رشتہ ٹوٹ جائے گا، تمہاری کوئی کوشش مجھے مزید زندگی نہیں دے سکتی، لمبے ساتھ کے بعد ایک پل کی مہلت کیا معنٰی رکھتی ہے؟ میری عمر ہی اتنی تھی ! یہ میں جانتا تھا، مجھے معلوم ہے کہ میرے جاتے ہی تم مجھے بھول جاؤ گے!!!! اس لئے میں تم سے یہ نہیں کہوں گا کہ تم مجھے یاد رکھنا! میرا جانا تمہیں یہ سمجھانے کہ لئے کافی ہے کہ ہر شے فانی ہے!!! میں بھی اور تم بھی!!
فقط تمہارا
سال دو ہزار پانچ
××××××××××××××
آج میں نے دوست سے کہا “بھائی نئے سال کی پیشگی مبارک“
جواب آیا “خیر مبارک!! ویسے میں مسلمان ہوں، میرے نئے سال کا آغاز ابھی نہیں ہوا“
لہذا اگر آپ ایسا نہیں سوچتے (یا سمجھتے) تو “نیا سال مبارک ہو آپ کو“
گڑیا
Shoiab Safdar Ghumman

جی!!! گڑیا ۔۔۔۔ ویسے تو یہ نک نیم (کہنے کو پیار کا لیکن اصل میں بگڑا ہوا) اکثر گھروں میں کسی نا کسی بچی کا ہوتا ہے ۔۔۔ مگر یہاں اس سے مراد وہ گڑیا ہے جو بچیوں کا کھلونا ہے۔۔۔۔ پہلے پہل ہمارے یہاں مائیں خود سے اپنی بچیوں کو گڑیا بنا کر دیا کرتی تھیں۔۔۔ چونکہ وہ ہی اس گڑیا کی خالق تھی لہذا وہ ہی اس کے متعلق کہانیاں بتاتی۔۔۔ “اس گڑیا کو وہ بچیاں اچھی نہیں لگتی جو بڑوں کا کہنا نہیں مانتی“ ، “ارے! بڑی بہن سے بدتمیزی کرنے والوں سے یہ گڑیا ناراض ہو جاتی ہے“ ، “دیکھو! رات ہو گئی ہے گڑیا کو نیند آ گئی ہو گی تم دونوں اب سو جاؤ تمہاری وجہ سے گڑیا بھی نہیں سوئے گی اور وہ بھی بیمار ہو جائے گی“۔۔۔۔ یوں جو گڑیا بچی کے لئے ایک کھلونا ہے تو ماں کے لئے بچی کی تربیت کا ذریعہ۔۔۔۔ خواہاں کوئی بات ہو گڑیا کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کر کے تربیت کا ذریعہ تھی۔۔۔ بیمار گڑیا کی تیمارداری، اچھی گڑیا کی نشانیاں،اس کے لئے کپڑے تیار کرنے اور آخر میں اس کی شادی اور رخصتی ۔۔۔۔ بات سمجھانے کے طریقے۔۔۔۔
پھر گڑیا گھر میں تیار ہونے کے بجائے بازار سے آنے لگی۔۔۔ نئی نسل کے لئے نئی طرح کی گڑیا! ۔۔۔ جو باتیں کرنے لگی ،لیٹتے
ہی آنکھ بند کر لیتی، بغیر سہارے کے کھڑی ہوتی ،بیٹھ جاتی، گانے سناتی، ہنستی، روتی غرض ہر طرح کے کام کرنے لگی۔۔۔۔ پھر ایک گڑیا آئی باربی ڈول! ۔۔۔ آئی اور چھا گئی۔۔۔ اب کوئی عام گڑیا نہیں چاہیے اب باربی چاہئے۔۔۔ اس کا گھر،لباس،اس کی ضرورت کی اشیاء خود سے بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ دکان سے خرید لیں۔۔ اس کی دوست بھی ہیں اور اس کا دوست بھی(کین)۔۔۔چونکہ یہ یورپین گڑیا تھی لہذا اسے علاقائی کہانیاں منسوب نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ اس کا حلیہ مغربی تھا! لازما غیر اسلامی بھی۔۔۔ لہذا اسلامی گڑیا تخلیق کی جانے کی کوشش کی جانے لگی! کبھی سارہ کے نام سے، کبھی لیٰلی کے نام سے اور کبھی کسی اور نام سے۔۔۔
فلا وہ گڑیا ہے جس نے باربی کو مشرقی وسطیٰ نکال باہر کیا ہے۔۔۔ ساڑھے گیارہ انچ کی اس گڑیا
کی جو خوبی سب کو اچھی لگی ہے وہ یہ کہ یہ گھر سے باہر سر پر اسکاف باندھے ہوئے ہے، ایک لمبا لبادہ لے کر باہر جاتی ہے، اپنے والدین کی عزت کرتی ہے، استاد کا حکم مانتی ہے اس کے دوستوں کی فہرست میں یاسمین اور نادہ شامل ہیں اس کا کوئی بوائے فرنڈ نہیں ہے! یہ تخلیق ہے شام کی کمپنی “نیو بوائے“ کی۔۔۔۔۔مزے کی بات ہے ہانگ کانگ کی جو کمپنی باربی بناتی ہے اسے ہی “نیو بوائے“ نے فلا بنانے کے لئے منتخب کیا ہوا ہے۔۔۔ یعنی جائے پیدائش ایک ہی۔۔۔۔
قائد
Shoiab Safdar Ghumman
فرینک مورس نے جو ایک ممتاز وکیل اور مصنف تھے عدالت کے کمرے میں قائد کے مقدمہ لڑنے کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قائد مقدمے میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت انہیں دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ بہت کم وکلاء کو مقدمہ لڑنے میں وہ مہارت حاصل ہو گی جیسی قائد کو حاصل تھی۔ ان کا مقدمہ لڑنے کا انداز ایک آرٹ ک حیثیت رکھتا تھا۔ قائد مقدمے کا گوشت چھوڑ کر اس کی جڑ اس کے گودے تک پہنچتے تھے۔ انہیں مقدمہ پیش کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ وہ مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے میں استادانہ مہارت رکھتے تھے۔ جب وہ کسی مقدمے میں پیش ہوتے تو ان کی ممتاز شخصیت اور پر کشش انداز کو دیکھنے کیلئے عدالت کا کمرہ چھوٹے بڑے وکلاء سے بھر جاتا تھا۔ سننے والوں پر، چاہے وہ جج ہوں یا وکیل ہوں عجیب سحر طاری ہو جاتا تھا۔ وہ نڈر ترین وکیل تھے اور کوئی بھی انہیں مرعوب نہیں سکتا تھا
بشکریہ۔۔۔ نوائے وقت
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
Shoiab Safdar Ghumman
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
نیم وار دریچوں میں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
جاگتی نگاہوں میں
ہم بھی چاہتے ہیں کہ
ہم بھی ایک دن آئیں
بس تیری پناہوں میں
دلنشین بانہوں میں
ہم بھی پیار کرتے ہیں
سے بے پناہ جاناں
اور اس محبت کا
اعتراف کرتے ہیں
روز تیرے کوچے کا
ہم طواف کرتے ہیں
ہم تو اس محبت میں
ایسا حال رکھتے ہیں
روز رنج لمحوں کو تم سے دور رکھتے ہیں
اور اپنے سر پر ہم
دکھ کی شال رکھتے ہیں
ہم تو یوں محبت کا
اہتمام کرتے ہیں
کرب زندگانی کو اپنے نام کرتے ہیں
تجھ کو خوش رکھیں گے کیسے
یہ خیال رکھتے ہیں
بس تیری محبت کے
ماہ سال رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
نیم وار دریچوں میں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
جاگتی نگاہوں میں
ہم بھی چاہتے ہیں کہ
ہم بھی ایک دن آئیں
بس تیری پناہوں میں
دلنشین بانہوں میں
ہم بھی پیار کرتے ہیں
سے بے پناہ جاناں
اور اس محبت کا
اعتراف کرتے ہیں
روز تیرے کوچے کا
ہم طواف کرتے ہیں
ہم تو اس محبت میں
ایسا حال رکھتے ہیں
روز رنج لمحوں کو تم سے دور رکھتے ہیں
اور اپنے سر پر ہم
دکھ کی شال رکھتے ہیں
ہم تو یوں محبت کا
اہتمام کرتے ہیں
کرب زندگانی کو اپنے نام کرتے ہیں
تجھ کو خوش رکھیں گے کیسے
یہ خیال رکھتے ہیں
بس تیری محبت کے
ماہ سال رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
دو باتیں
Shoiab Safdar Ghumman
میں نے کمرے میں پڑی چیزوں کو ایک نظر دیکھا اور اندازہ لگانے لگا کہ جب میں سیٹھ کو سچ بتاؤں گا تو وہ میرے سر پر گلدان مارے گا یا گلاس۔۔۔۔!!! اگر گلدان مارا پھر تو ٹھیک ہے ، لیکن اگر گلاس مارہ تو دو باتیں ہوں گی، یا تو میرا سر پھٹ جائے گا ،یا گلاس ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ اگر گلاس ٹوٹ گیا ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر میرا سر پھٹ گیا تو دو باتیں ہوگی۔۔۔۔ یا تو میں مر جاؤں گا ،یا مزید زخمی ہو جاؤں گا اور بے ہوش ہو جاؤں گا- اگر بے ہوش ہو گیا پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر مر گیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔ یا تو سیٹھ میری لاش گھر والوں کے حوالے کر دے گا، یا جنگل میں پھینکوا دے گا۔۔۔۔۔۔۔اگر گھر والوں کے حوالے کردی تو ٹھیک ہے لیکن اگر جنگل میں پھننکوا دی تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے گدھ چاٹ جائیں گے یا کمیٹی والے اٹھا کر لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔ گدھ چاٹ گئے ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر کمیٹی والے لے گئے تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔۔ یا وہ مجھے دفنا دیں گے، یا میرا کیمیکل بنا دیں گے۔۔۔ دفنا دیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر کیمیکل بنا دیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے کسی تیزاب میں استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔یا صابن میں۔۔۔ تیزاب میں استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اگر صابن میں استعمال کیا تو دو باتیں ہوں گی یا یہ صابن مرد استعمال کریں گے ۔۔۔۔۔ یا عورتیں۔۔۔۔ اگر مردوں نے استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ لیکن اگر۔۔۔۔۔۔ اوئی اللہ ۔۔۔۔ میں شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔ “ہرگز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔“ میں نے جلدی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
اقتباس؛ “ٹائیں ٹائیں فش“_______________تحریر؛“گل نو خیز اختر