رات کے گپ اندھیرے میں
میں نے رونا چھوڑ دیا ہے رات کے گپ اندھیروں میں چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے رات کے گپ اندھیروں میں وہ جو ایک عادت تھی میری تارو سے باتیں کرنے کی چپکے چپکے بھیگی بھیگی پلکوں سے موتی چونے کی گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی یہ کرنے کی وہ کرنے کی جانے کتنے سال پرانی وہ جو ایک عادت تھی میری خود سے لڑتے رہنے کی اپنے لئے نظمیں …