تین دوست لاء فرم سے عدلیہ تک

 آفریدی، شاہ اینڈ من اللہ‘‘ وہ  لا فرم  جس کے تین پارٹنر پشاور، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے اپنے ہنر کا سکہ منواتے تھے۔ قسمت نے ایسی کروٹ لی کہ تینوں پہلے ہائی کورٹ کے جج بنے، پھر سپریم کورٹ تک جا پہنچے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے دو شاہ اور اللہ عہدے سے سبکدوشی کا راستہ اختیار کر چکے ہیں، جبکہ تیسرے ساتھی آفریدی، اس وقت ملک کے چیف جسٹس ہیں۔ جن کا وزیراعظم نے موجودہ ترمیم کے سلسلے میں شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

اصل نام تو ظاہر ہے آپ کے ذہن میں پہلے ہی موجود ہوں گے۔


بس نجانے کیوں اس موقع پر فلم تھری ایڈیٹس کا راجو یاد آ رہا ہے اس نے کہا تھا:

“جب دوست فیل ہوتا ہے تو دکھ ہوتا ہے… لیکن جب دوست ٹاپ کرتا ہے تو اور زیادہ دکھ ہوتا ہے!”


نوٹ: اب یہ فرم نہیں رہی کیونکہ یہ Zia & Shah Legal Consultants بن گئی تھی۔

ویسے اگر پرانی فرم کے ناموں کی ترتیب مختلف ہوتی جیسے من اللہ یا شاہ کا نام شروع میں ہوتا تو کیا وہ چیف جسٹس ہوتا؟


مکمل تحریر پڑھیں ←

اسرائیل، قطر و حماس

 


​قطر سمیت مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک نے اپنی حفاظت کی ذمہ داری امریکہ کے کاندھوں پر ڈال رکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تقریباً پچاس ہزار امریکی فوجیوں میں سے دس ہزار کے قریب قطر میں تعینات ہیں۔ اس ضمن میں قطر سالانہ تقریباً تین سو ملین ڈالر کے اخراجات برداشت کرتا ہے، اور یہ رقم دیگر دفاعی معاہدوں، جن کی مالیت 38 ارب ڈالر ہے، کے علاوہ ہے۔

​آج کا اسرائیلی حملہ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کرائے کا محافظ صرف اپنی اجرت تک ہی وفادار رہتا ہے۔ کسی ملک، ملت اور اس کی عزت و ناموس کی حفاظت اس کا مقصد نہیں ہوتی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ 

"جنديٌّ بالأجرة لا يموت في سبيلك"

"کرائے کا سپاہی تمہاری خاطر جان نہیں دیتا"۔

​اگر یہ حملہ قطر کی مرضی سے ہوا تھا، تو اس کا مطلب ہے کہ قطر اپنی خودمختاری گروی رکھ چکا ہے۔ اس ہزیمت کا احساس بحیثیت پاکستانی ہم تب محسوس کر چکے ہیں جب امریکہ اسامہ بن لادن کے تعاقب میں ایبٹ آباد تک آ پہنچا تھا۔ اور اگر یہ حملہ قطر کی مرضی کے بغیر صرف امریکہ کی آشیرباد سے ہوا ہے، تو اہلِ قطر اور دیگر ممالک جہاں امریکی فوج "تحفظ" کے نام پر موجود ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں یا قید؟ اور حفاظت کے نام پر وہ کب تک مقید رہنا چاہتے ہیں؟


مکمل تحریر پڑھیں ←

دیر یا انکار؟

 

کوئی کہتا ہے کہ دیر سویر تو ہوتی رہتی ہے، انکار نہیں ہونا چاہیے، دیر آید درست آید۔ اس کے برعکس ایک وکیل کہتا ہے کہ اگر دیر ہو گئی تو پھر کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ 'انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے۔' یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی بات کا اثر اُس کے سیاق و سباق سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ وقت اور موقع کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔

​مثال کے طور پر، اگر ایک ڈاکٹر مریض سے کہے کہ 'آپ نے دیر کر دی'، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، یعنی علاج سے انکار ہو گیا اور یہ انکار دیر کی وجہ سے ہوا۔ اسی طرح، اگر آپ کی ٹرین یا گاڑی نکل جائے، تو سفر تو نہیں رکتا اور نہ منزل کا فاصلہ بڑھتا ہے، بس آپ کا وقت بڑھ جاتا ہے۔ اب اگلی سواری پر مزید فاصلہ طے ہو گا، اور اگلی سواری ملنے میں دیر لگے گی۔ یہ انتظار ہے، انکار نہیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

آسمان سے برستا پانی

 بارش سیلاب لاتی ہے تو ہریالی بھی لاتی ہے۔ مگر یہ اس پر منحصر ہے کہ بارش کس زمین پر برسی ہے۔ جب زمین نم ہوتی ہے تو اس کی زرخیزی کا در کھل جاتا ہے۔ پکی زمینیں، جن پر پتھر یا پکے مکانات ہوں، پانی میں ڈوب کر تباہ ہو جاتی ہیں لیکن جہاں پانی کو زمین میں جذب ہونے کا راستہ ملے، وہاں سے ہریالی پھوٹتی ہے اور ایک خوشگوار و دلکش منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ تھر کے ریتیلے پہاڑ اس کی بہترین مثال ہیں جنہوں نے آسمان سے برسنے والے پانی کے بعد ایک سبز قالین بچھا لیا ہے۔ یہ مناظر تھر کی چند روز قبل کی واپسی پر بنائی گئی ایک چند سیکنڈ کی ویڈیو سے لیے گئے ہیں۔


مکمل تحریر پڑھیں ←
میٹرک کے دوستوں کے ساتھ ایک بیٹھک

میٹرک کے دوستوں کے ساتھ ایک بیٹھک


لڑکپن کی یاری اور جوانی کا پیار—دونوں ساری عمر نہیں بھولتے، یہ ہم نے ہمیشہ سنا ہے۔ جوانی میں تو کبھی پیار نہ ہوا، البتہ لڑکپن کے دوست آج بھی رابطے میں ہیں، اور ایک آدھ سال بعد بیٹھک بھی ہو جاتی ہے۔



اسکول اور کالج کی دوستی کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اُس وقت کا تعلق ہوتا ہے جب زندگی کی جدوجہد ابھی شروع نہیں ہوئی ہوتی، اور نہ ہی دنیاداری کا کوئی خاص علم یا فہم ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ رشتہ خالص اور اصل ہوتا ہے، بے غرضی کا۔


اُس دور کے دوست آج زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہیں—انگریزی میں کہیں تو بالکل "Diversified"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت کا دوست صرف دوست ہوتا ہے: نہ کامیاب نہ ناکام، نہ اچھا نہ برا۔ اُسے پرکھا نہیں جاتا، آزمایا نہیں جاتا، بس دل میں سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

سیاست، عدالت اور تضاد

 جو لوگ پہلے سپریم کورٹ کو 'اسٹیبلشمنٹ کی عدالت' قرار دیتے تھے، وہی آج اپنے حق میں فیصلہ آنے پر اسے کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں سمجھتے۔ یہی نہیں، وہ بیرسٹر گوہر کے اس بیان کو بھی کسی ڈیل کا حصہ ماننے کو تیار نہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ: ”ہم فرشتے نہیں، 9 مئی ایک غلطی تھی جس کی ہم سب نے مذمت کی۔“ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی لوگ جب آئی ایس پی آر کے اس بیان پر کہ سید نے وڑائچ کو کوئی انٹرویو نہیں دیا پر سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ”دیکھا! ہمارا کپتان نہیں مانا۔“ وہ خود کو سچا اور مکمل سچائی پر یقین رکھنے والا سمجھتے ہیں۔

​ہم نے دیکھا ہے کہ فوجداری مقدمات میں، چاہے وہ ضلعی عدالت میں ہوں یا انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں، جب مدعی فریق اپنا بیان تبدیل کرتا ہے تو وہ عموماً دو میں سے ایک ہی بات کرتا ہے: یا تو یہ کہ ”یہ مجرم نہیں“ یا پھر یہ کہ ”ہم نے اللہ کی رضا کی خاطر معاف کیا“۔ حالانکہ حقیقت میں سب جانتے ہیں کہ ایک ڈیل ہو چکی ہوتی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار کی اداکاری کی جاتی ہے اور جان بوجھ کر انجان بنا جاتا ہے۔ نہیں نہیں یہ نہیں کہا جا رہا کہ یہاں ایسا ہوا ہے۔ 

​ وڑائچ صاحب ایک قدآور صحافی ہیں، انہیں مزید شہرت کا کوئی لالچ نہیں ہونا چاہیے۔ اور نیازی صاحب ابھی تک باہر نہیں آئے، وہ آنا چاہتے ہیں مگر جن پر انہیں باہر لانے کی ذمہ داری ہے وہ لانا نہیں چاہتے شاید، وہ بونے اپنا قد لمبا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ باقی جو لوگ اقتدار میں ہیں، ان کے بارے میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ:

​Power is, and will remain, in the hands of the powerful, who ultimately decide who will be its next inheritor.

​جو ٹھہرے ہیں تو شاید دل میں کچھ ہے

جو چل پڑیں گے تو یہ بھی نہ ہوگا



مکمل تحریر پڑھیں ←
برسات کے کیڑے

برسات کے کیڑے

 "برسات کا یہ کیڑا، جو دیمک سے دیملی بنتا ہے، شاید یہ گمان کرتا ہے کہ اندھیروں میں لکڑیاں چاٹ کر بہت جی لیا… اب پر نکل آئے ہیں تو کیوں نہ پروانے کہلائیں، اور شمع پر نثار ہو کر اپنے انجام کو امر کر جائیں!"


کتنے پروانے جلے راز یہ پانے کےلیے
شمع جلنے کے لئیے ہے یا جلانے کے



مکمل تحریر پڑھیں ←
🌊 سیلاب اور حکمرانوں کی کارکردگی

🌊 سیلاب اور حکمرانوں کی کارکردگی

 آسمان سے برستا پانی ہر سال نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ کبھی پنجاب، کبھی خیبرپختونخوا اور اب سندھ کے حکمرانوں کی کارکردگی اس سیلابی ریلے میں بہہ کر رہ جاتی ہے۔ تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنی ناقص کارکردگی کو امدادی سامان اور فوٹو سیشنز کے ذریعے کیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔



اصل سوال یہ ہے کہ بارش بذاتِ خود تباہی نہیں لاتی۔ پانی کی یہ بارش قدرت کا تحفہ ہے، مگر تباہی اس وقت آتی ہے جب زمین پر بیٹھے حکمران اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ وہ بروقت ان تجاوزات کو ختم نہیں کرتے جو پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہی رکاوٹیں بستیوں کو اجاڑ دیتی ہیں، کھیت کھلیان ڈبو دیتی ہیں اور انسانی جانیں نگل لیتی ہیں۔


مزید برآں، وہ درخت جو زمین کو مضبوطی اور توازن فراہم کرتے ہیں، ان کی حفاظت بھی نہیں کی جاتی۔ کہاوت ہے: "پانی درختوں کو نہیں مارتا، پتھروں کو بہا لے جاتا ہے۔" لیکن یہاں معاملہ الٹ


ہے—حکمرانوں کی غفلت درختوں کو کاٹ دیتی ہے اور بستیوں کو کمزور کر دیتی ہے۔


المیہ یہ بھی ہے کہ وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی سب کے سامنے کھلنے کے باوجود سیاسی کارکن اپنی جماعت کے سربراہ پر سوال اٹھانے کے بجائے مخالف جماعت کو نشانہ بناتے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلا سوال اپنی قیادت سے ہونا چاہیے: آخر کیوں ہر سال بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے سامنے یہ نااہلی اور بے بسی دکھائی دیتی ہے؟


مکمل تحریر پڑھیں ←

مہنگائی و پھل

 🍎 سیب دل کی نالیوں کو صاف رکھنے اور کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

🍌 کیلا جسم کو پوٹاشیئم فراہم کرتا ہے، جو ہڈیوں کو کیلشیم کے ضیاع سے بچاتا ہے۔

🍈 امرود فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہاضمہ بہتر کرتا ہے اور قبض کو دور رکھتا ہے۔

🥭 آم میں وٹامن B6 اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں، جو دماغی صحت اور نیورونز کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔

🍑 آڑو میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن C جسم کو فری ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

🍇 انگور پانی اور پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتا ہے، جو گردوں کو صاف رکھنے اور انہیں بہتر طور پر کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔


اور مہنگائی.. یہ سب کھانے نہیں دیتی!

😤😆

مکمل تحریر پڑھیں ←

نو عمر آفیسر

 آفسری ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے، لیکن اس کا سب سے تباہ کن اثر اُس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ایک نو عمر افسر کے ماتحت کوئی ایسا شخص آ جائے جو عمر میں اس کے باپ کے برابر ہو اور ہر بات پر "جی سر، جی سر" کہنے پر مجبور ہو۔

ایسے میں کم عمر افسر اپنے سے کئی گنا تجربہ رکھنے والے بزرگ ماتحت کو محض ایک "چاکر" سمجھنے لگتا ہے۔ سوچیے، اس رویے کا نفسیاتی اثر اس بزرگ ملازم پر جو ہو گا سو ہو گا مگر اس نو عمر آفیسر پر جو اثر ہوتا ہے، وہ شاید زیادہ گہرا، دیرپا اور تباہ کن ہوتا ہے — جو اسے انسانیت، شائستگی اور ادارہ جاتی حکمت و احترام سے محروم کر دیتا ہے۔

اپنی زندگی میں ہم نے خود یہ منظر بارہا دیکھا — کسی کم عقل نو عمر "مالک" کے ہاتھوں اُن ملازمین کو بے توقیر ہوتے دیکھا جنہوں نے اپنی پوری عمر محنت، دیانت اور تجربے سے نظام چلایا تھا۔

آج کے دور میں عمر اور تجربہ، طاقت اور اختیار کے مقابلے میں اکثر بے وقعت نظر آتے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

تخت یا تختہ

 

سیاستدان ملزم ہو تو جیل کاٹنا بہادری نہیں مجبوری ہوتی ہے ڈیل کرنے والے وہ نہیں ہوتے  جو اسے اندر ڈالتے ہیں وہ ہوتے ہیں جو اسے اندر رکھ نہیں سکتے۔ ایسی مجبوری بہادری     نہیں ہوتی کمزوری ہوتی ہے۔ سیاسی قیدی اگر  طاقتور ہو تو وہ قیدی نہیں ہوتا۔ ہر قید سے بھاگ جانے والا مفرور و بگھوڑا ہوتا ہے تحت و تختہ، تاج و زندان میں سے ایک کا چناؤ
طاقت و کمزور کے درمیان ہوتا ہے۔

#شغل  #رائے

مکمل تحریر پڑھیں ←

شاہ دولہ کے چوہوں جیسے

مائیکرو سیفلی پیدائش کے دوران لگے والی ایک ایسی بیماری ہے جس کی بناء پر نومولود کے دماغ کی پرورش رک جاتی ہے۔ گجرات کے ایک بزرگ شاہ دولے کا مزار ایسے بچوں کی پناہ گاہ ہے۔ اس بناء پر ان بچوں کو شاہ دولہ کے چوہے کہا جاتا ہے کہ سر و دماغ چھوٹا رہ جانے سے چہرہ بہت باریک و پتلا ہوتا ہے۔ ایک قیاس والا الزام یہ بھی افواہ کی صورت میں مشہور ہے کہ یہاں اولاد کی منٹ قبول ہونے پر جو پہلی اولاد یہاں چھوڑ کر  جاتی ہے وہ مکمل تندرست ہوتی ہے مگر مکینیکل طریقے سے سر کو کسی سانچے نما شے میں قید کر کے دماغ کی پرورش روک دی جاتی ہے اور آکسیجن کی کمی سے سر و دماغ کی ساخت چھوٹی رہ جاتی ہے۔
شاہ دولہ کے چوہے اس اعتبار سے آسانی سے پہچانے جاتے ہیں کہ ان کے سر و دماغ کی ساخت چھوٹی ہوتی ہے۔ اگر دماغ کی بڑھوتی رک جائے تو دولہ شاہ کے چوہے تخلیق ہوتے ہیں تو اگر سوچ کی بڑھوتی کو کسی خاص سیاسی لیڈر کی محبت میں قید کر دیا جائے، کسی مخصوص مذہبی رنگ میں مقید کر دیا جائے، کسی لسانی تعصب کے سانچے میں باندھ دیا جائے تو کیا وہ بھی ایک طرح کے دولے شاہ کے چوہوں کے مقابلے کا گروہ نہیں بن جائے گا؟
کیا ہم ہم میں سے اکثر اپنے منفرد انداز کے دولے شاہ کے چوہے نہیں ہیں؟ غور کریں؟ کیا ہم نے اپنے شعور کی پرورش کو روک نہیں دیا؟ کیا ہم نے اپنی پسند سے متضاد سچائیوں کو نہ ماننے کے لئے تاویلیں نہیں جمع کر رکھیں؟ کیا ہمیں صرف اپنی پسند کا سچ سننے کی عادت نہیں ہو گی؟
کچھ دھیان تو دیں؟

مکمل تحریر پڑھیں ←

پاک بیتی

 شیری مزاری پارٹی چھوڑ گئی وجہ بیٹی، شاہ محمود قریشی اور پرویز الٰہی اب تک پارٹی کا حصہ ہیں وجہ ان کے بیٹے۔ جو پارٹی میں ہیں وہ محدود ہیں، یا تو جیل تک  یا پھر گھر تک۔

کسی نے کہاں جنہوں نے electable پارٹی کو دیئے تھے اب وہ ہی انہیں نکال رہے ہیں۔ پانچ چھ سال پہلے پی ٹی آئی کے لئے جو ن۔لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا وہ اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے پہلے نیازی صاحب لاڈلے تھے تو گود لیئے گئے تھے جنہوں نے گود لیا یہ جب ان کے ہی سر چڑھے تو پہلے انہوں نے عاق کیا اب در بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ اول اول دربدر کرنے کا ارادہ نہ تھا مگر اس گھمنڈ نے ہی مروایا جس کی بنا پر یہ بد تمیزی کا شکار تھے۔

اچھے بچے بنو تو تحت عطا کرنے والے بد تمیزی کرنے پر تختہ دار پر بھی چڑھا دیتے ہیں۔ پہلے بھی ایک کو وزیراعظم بنانے کو ملک دولخت کیا تھا مگر پھر بگڑنے پر سزا موت سنا دی۔ پہلے بھی ایک کو شہر کا بھائی بنایا تھا پھر آوارہ ہونے پر اسے اپنی ہی بنائی پارٹی سے بے دخل کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔ پہلے بھی ایک کو اہل بتاتے تھا مگر ڈسنے کی تیاری دیکھ کر نااہل قرار دیا۔ اب والا کیسے بچے گا؟

طاقتور اس وقت تک طاقتور ہیں جب تک اقتدار میں رہنے والا اس کا احسان مند رہے۔ صاحب اقتدار ہونے کا احساس اصل اقتدار ملنے سے ذیادہ پرفریب ہوتا ہے۔ احساس میں مبتلا احسان کی گرفت میں رہتا ہے۔ بادشاہ گر ہونا بادشاہ ہونے سے ذیادہ بہتر ہیں۔ وہ بادشاہ گر ہیں اب تک۔ آپ مانے یا نہ مانے وہ ثابت کر رہے ہیں۔

کوفے والے ہر جگہ آباد ہیں۔ مشکل وقت  آئے تو پہچانے جاتے ہیں۔ اقتدار میں شریک ہی بعد میں ملزم ٹھہرنے پر سلطانی گواہ بنتے ہیں۔  ان کا سلطانی گواہ بنانا تو ان کی فطرت ہے جیسے اقتدار ملتے ہی  اپنا اصل چہرہ آشکار کرنا جناب کا ایک فطری عمل تھا۔ اگر جناب اقتدار کو پانے و اقتدار میں  رہنے کو سب کچھ کر سکتے ہیں تو مخالف کو ایسا کرنے پر  اب طعنہ دینا بھی منافقت ہے۔


مکمل تحریر پڑھیں ←

انصاف یا رعایت

اپنے کام کی وجہ سے عدا لت کے فیصلے ا ور جج کا رویہ دونو ں مدنظر رہتے ہیں۔ میرا یہ خیال پختہ ہو چکا ہے کہ ججز کی اکثریت میں گناہ گار کو سزا سنائے جانے کے لئے جو قوت و حوصلہ درکار ہے وہ ناپید ہے۔ جورسپروڈنس (علم قانون )کی روح سے عدالتیں فوجداری مقدمات میں انصاف کرنے کی پابند ہیں، مگر ملکی عدالتوں میں بیٹھے ججز اور ان کے سامنے پیش ہونے والوں وکلاء انصاف نہیں relief (رعایت) کے شوقین ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیں! ملزم جو شواہد سے مجرم ثابت ہوتا ہو کو اگر مقدمہ کے آخر میں رعایت کے تحت بریت ملے تو ملنے والی رعایت کیا معاشر ے و عام آدمی سے دشمنی نہیں؟ سزا کی ججمنٹ لکھنا صرف جج کے حوصلہ و قو ت کی ہی نہیں قابلیت کی بھی محتاج ہے۔ 
 سندھ ہائی کو رٹ نے مقدمات کے جلد ٹرائل کو یقینی بنانے کو ایک point system بنایا ہے جس کا دباو ججز پر ہوتا ہے۔ ممکن ہے میری رائے غلط ہو مگر محسوس ہوتا ہے مہینے کے اختتام پر آنے والے فیّصلے انصاف کم اور “رعایت “ کا سبب ذیادہ بنتے ہیں۔ ججز کی خود کو بھی رعا یت دیتے ہیں اور “مجرم” کو بھی۔ مگرکیا یہ رعایت معاشرے کے لئے سود مند ہے؟ منصف دنیا کے کسی کونے کا ہو وہ ملزم کو حاصل قانونی حقوق اور عام آدمی کی حفاظت کی ذمہ داری کے درمیان توازن رکھنے کے د رمیان دباو کا شکار رہتا ہے اور اس ہی دباو کی وجہ سے ججز کی اکثریت فیصلے سنانے کے بعد افسوس کا شکار ضرور ہوتے ہے۔بے انصافی کا بوجھ بڑا بھاری بوجھ ہے۔ ناانصافی صرف یہ نہیں کہ ملزم کو “ رعایت” کے تحت بری کر دیا جائے بلکہ اس کی بنتی ممکنہ سزا سے ذیادہ سزا دینا بھی ناانصافی ہے جو یقینا ذیادہ سنگین ہے۔
منصف کا توازن قائم رکھنا ہی اصل عدل ہے۔ میزان عدل کے دونوں پلڑے برابر ہو تو ہی نتیجہ انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

وقت


"ایک دور تھا سر پر اتنے بال تھے کہ بالوں میں کنگھی ٹوٹتی تھی اب یہ حال ہے کہ کنگھی میں بال ٹوٹتے ہیں۔ ایک یہ دور ہے کہ کوئی واجبی صورت دوشیزہ بھی متوجہ نہیں ہوتی ایک دور تھا مرد و زن دونوں سے بڑی محنت خود کو بچانا پڑتا تھا"

مکمل تحریر پڑھیں ←

ملزم ظہیر، یوتھیاپا اور لبرلز

ہمیں اپنے زمانہ طالب علمی اور پھر دور وکالت میں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کہ نوکری کی جائے شادی کے بعد ہم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ جج بنا جائے مگر وہ نہ بنے سکے البتہ سرکاری وکیل بن گئے۔ نوکری لگنے کے بعد معلوم ہوا وکالت میں آزادی و انکم نوکری سے ذیادہ ہے کہ مئی 2014 میں جتنی ہماری اوسط انکم تھی اگست 2020 کو ہماری تنخواہ اتنی ہوئی، کل ملا کرچھ سال بعد!!
جج کے امتحانات کی تیاری ہم ملیر کورٹ (کراچی) کی لائبریری میں یا پھر اپنے آفس میں کرتے تھے۔ لائبریری میں آٹھ سے بارہ افراد کا گروپ تھا جن میں ایک فرد ابھی وکالت کر رہا ہے ، ایک سرکاری وکیل یعنی کہ میں و باقی سب ججز ہیں۔ ہمیں سب سے خوش قسمت وہ وکلالت والا لگتا ہے ۔
دوران اسٹیڈی مختلف نوعیت کے قانونی معاملات کو بشکل کہانی ان پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ تبہی ایک بار نیا نیا سندھ میں پاس ہونے والا کم عمری کی شادی والا قانون بھی زیر بحث آیا دوران بحث یہ دلچسپ نقطہ سامنے رکھا گیا کہ کیا ہو اگر ایک سولہ اور آٹھارہ سال کے درمیانی عمر کی لڑکی سندھ سے نکل کے پنجاب میں جا کے کورٹ میرج کر لے، کیونکہ یہ عمل یہاں سندھ میں نکاح خواہ اور دولہے کے لئے تو قابل گرفت ہے مگر پنجاب میں یہ جرم ہی نہیں ہے کہ وہاں سولہ سال سے اوپر کی لڑکی کی شادی قانونًا درست ہے۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا نو سال بعد اس طرح کا ایک اصل مقدمہ ملک میں اس قدر مشہور ہو گا کہ ہر فرد اس کیس کے تمام کرداروں کے نام تک واقف ہو گا۔ یہ کیس اس کی کم عمر مبینہ مغویہ کے نام سے ہی مشہور ہے ہر یو ٹیوبر، شوشل میڈیا صارف اور روایتی میڈیا اس کیس کا ذکر کرتے ہوئے اس کم عمر مغویہ کا نام لیتے ہیں جبکہ قانون ایسے کیسوں میں “مظلومہ" یعنی victim کا نام پریس میں لینے سے منع کرتا ہے اور اسے قابل سزا عمل بتاتا ہے مطلب کہ جرم۔ اس بات پر بحث ممکن ہے کہ آیا واقعی کم عمر مبینہ مغویہ "مظلومہ" ہے یا نہیں اور اول اول اس نے خود جب میڈیا پر انٹرویو دیئے اب اس کے بعد بھی یہ قانون لاگو ہو گا یا نہیں۔ میری ذاتی رائے ہے قانون تو لاگو ہوتا ہے کیونکہ اس سلسلے میں کسی قسم کی چونکہ چونانچے والی کوئی شرط نہیں ہے قانون میں۔
جب کم عمری کی شادی کے اس قانون کے سلسلے میں مشاورت اور ورکشاپ ہو رہی تھیں تو ایک ایسی ہی ورکشاپ میں ہم نے سوال کیا آج آپ قانون تو پاس کروا رہے ہیں کہ کم عمر دلہن کے والدین، دولہے اور نکاح خواح کو سزا دی جائے گی مگر وہ جو نکاح ہوا ہے اسے تو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے اس کا کیا کریں گے دولہا سزا کاٹ کر واپس آتا ہے تو وہ خاندان کی مرضی یا عدالت میں حق زناشوئی کا کیس کرے گا تب متعلقہ عدالت کیا کرے گی اس پر بھی اسی قانون سازی میں حل نکالیں نیز یہ بھی کہا تھا کہ چلیں والدین کم عمر لڑکی کی شادی کرتے ہیں تو سزاوار ہوئے مگر ایک کم عمر لڑکی اپنی مرضی سے کورٹ میرج کرتی ہے تو کیا ہو گا اس کا بھی قانونی حل نکالیں۔ مگر کسی نے اس طرف توجہ نہ دی۔ دوسری تجویز تو چند منتظمین کوبری لگی خاص ایک ظاہری لبرل کو ان سے ورکشاپ کے بعد کی ہائی ٹی پر خوشگوار انداز میں تلخ باتیں بھی ہوئیں تھیں اس تجویز کی بناء پر کیونکہ وہ اسی ہفتے ایک کورٹ میرج کی پٹیشن میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں تھیں کم عمر جوڑے کی حمایت میں۔
یہ قوم یا ہجوم کسی سیاسی ، لسانی، مذہبی، مسلکی اور سوشل ایشو پر جذباتی بھی بہت ہے اور سخت بھی۔ کسی بھی موقف پر جذباتی انداز میں ڈٹ جانے کا نتیجہ عدم برداشت اور بدتمیزی ہی نکلتا ہے۔ جو رویوں میں پختہ ہوتا جا رہا ہے خاص کر جب یہ خیال ہو کہ پکڑ نہیں ہو گی۔ ایسا ہی اس کیس میں بھی ہے اس کیس کو رپورٹ کرنے والے اور اس رپورٹ کو فالو کرنے والے دونوں اخلاقیات سے عاری رپورٹنگ کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی دونوں طرف کے احباب جھوٹ کی آمیزش بھی کرتے ہیں جانے انجانے میں۔ فرد کو اپنے موقف پر ڈٹ جانا چاہئے اول جب وہ درست ہو دوئم جب اس سے کسی فرد کو اور خاص کر پورے معاشرے کو نقصان نہ پہنچتا ہو مگر ہم اپنی انا کی تسکین کے لئے یہ سب کرتے ہیں تو یہ تباہی ہے۔
لڑکی کے باپ یا فیملی کی سختی کی تو سمجھ آتی ہے اپنے مسلکی و سوشل بیک گراونڈ کی وجہ سے۔ وکالت کے دوران ہر پانچ میں سے ایک کورٹ میرج میں ہمیں لڑکی کی ایسی ہی فیملی سے واسطہ پڑتا تھا اور نتیجہ لڑکی اپنے خاندان سے مزید دور ہو جاتی تھی یوں راوبط دوبارہ بننے کے امکانات خاتم ہو جاتے ہیں۔ سو فیصد کیسوں میں جو لڑکی کورٹ میرج کے لئے گھر چھوڑتی ہے اس کی فیملی کی کسی ناں کسی خاتون (فیمیل ممبر) کو معاملات کا پہلے سے علم ہوتا ہے وہ کوئی بھی رشتہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے ایک کورٹ میرج کروائی جس میں لڑکی کی فیملی لڑکے کی فیملی سے کئی گناہ طاقتور تھی اور معاشی طور پر مضبوط بھی۔ ابتداء میں باپ اور دیگر فیملی ممبر نے مخالفت کی مگر ملک سے باہر رہنے والے لڑکی کے بھائی نے ہم سے رابطہ کیا ملاقات ہوئی ، جوڑے کی ملاقات اپنے دفتر میں کروائی طے پایا لڑکی واپس آئے چونکہ خاندان کے باہر کے لوگوں کو علم نہیں لہذا ہم اس سلسلے میں ابتداء سے رخصتی تک کے تمام لوازمات کرتے ہیں کہ معاشرے میں عزت قائم رہے لڑکی لڑکا خوفزدہ تھے۔ ان کی ویڈیو بیانات و دیگر کاروائی کر کے واپس اپنے خاندانوں میں بھیجا گیا۔ پھر رشتہ مانگنے سے لے کر نکاح و رخصتی تک کے تمام ضروریات انہوں نے مکمل کی یہ دونوں خاندانوں و جوڑے کے لئے اچھا ہوا۔ شادی کے لئے یقینًا ہمارے معاشرے میں خاندانوں کا رضامند ہونا لازم ہے مگر وہ جو الگ خاندان بنانے کی بنیاد بنے گے انہیں بھی اہمیت دی جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔
عدالتی و قانونی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بات سیدھی سی ہے میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ یہاں قاضی نکاح والا سمجھ لیں یا انصاف کرنے والا دونوں ٹھیک ہیں۔ لڑکی جس کے حق میں بیان دے گی وہ ہی کامیاب ہو گا۔ لڑکی کو کراچی لانے کا مقصد اسے ظہیر سے دور کرنا ہے مگر کیا ایسے میں وہ اپنے باپ کاظمی صاحب کے قریب ہو جائے گی؟
ہم اپنی خواہش و مرضی کو درست و ٹھیک بات پر فوقیت دیتے ہیں ۔ خواہش، مرضی و مفاد تو بدلتا رہتا ہے مگر حق و سچ دائمی ہے۔ انا کی جیت میں رشتے کچلے جاتے ہیں کچلے جا رہے ہیں اور ایسے معاملات میں ہم پارٹی بن کر کسی ایک کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ ان کے درمیان جو خونی رشتہ رکھتے ہیں میں مزید دوریاں پیدا کر رہے ہیں۔ قانون میں ایسے کیسوں کی "مظلومہ" کے نام کی پریس میں ممانعت کافی نہیں بلکہ خاندانوں کے نام اور مقدمات کی کوریج پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ تب ہی انصاف ہو پائے گا ورنہ سیاسی کیسوں کی طرح ایسے معاملات میں بھی پہلا قتل سچ و انصاف کا ہو گا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

فیصلہ

عدالتیں سائلین کی مرضی کے فیصلے کرنے کو نہیں بلکہ جو انہیں عین انصاف لگے اپنی قانونی سمجھ بوجھ کے تحت آزادانہ فیصلے دینے کو ہیں۔ 
 جج کی مرضی و خواہش ممکن ہے کبھی انصاف کے متضاد ہو مگر وہ پابند ہے کہ قانون و حقائق (جو عدالت کے سامنے ہوں) کے مطابق فیصلہ دے۔ تاریخ بہت ظالم ہے یہ آگاہ کر دیتی ہے کون سا فیصلہ انصاف کے مطابق تھا اور کون سا خواہش کے زیر اثر۔ یوں پردہ فاش ہوتا ہے کون سا منصف ایماندار تھا اور کون سا قاضی بے ایمان۔ 
کسی سائل کا فیصلے کو ناانصافی کہنا اسے غلط فیصلہ نہیں بناتا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اقتدار کا نشہ

نشہ فرد کی عقل کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ اکثر اس کی سمجھ بوجھ کو بھی مکمل طور پر "متاثر" کرتا ہے۔ مدہوشی میں کیئے گئے فیصلے کبھی بھی ہوش مندی میں کئے گئے فیصلوں جیسے بہتر نہیں ہوتے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کا حصہ ہنا بھی ایک قسم کا نشہ ہے جوالگ ہی مدہوشی کا سبب بنتا ہے۔ تخت سے جڑے رہنے کی خواہش اور اپنی طاقت کو بڑھانے کا شوق! فرد کو قانون کی لاقانونیت کے لئے پر اکساتا ہے۔ تاریخ ایسے افراد کو ولن بتاتی ہے جبکہ وہ جو بنتی تاریخ میں جی رہے ہوتے ہیں اس وقٹ خود کو مسیحا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند

متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند


ہم میں سے ہر ایک ہر معاملے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے اس کی وجہ اس کا اپنا خاص ماحول جس میں اس نے نشوونما پائی یا وہ طبقہ جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی معاشی حیثیت بھی اس کے ماحول و تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی کے لئے پچاس ہزار ایک ماہ کے لئے کافی ہیں اور کوئی اس میں بمشکل ایک ہفتہ "گزارا" کر پاتا ہے۔

جب ہم نے اپنی وکالت شروع کی یعنی اپنے سینئر سے الگ ہوئے تو ایک پہلا مسئلہ جس سے ہمارا واسطہ پڑا وہ سائل سے معاوضے کا تعین تھا۔ جس لاء فرم سے ہم نے وکالت سیکھنے کی ابتداء کی تھی وہ ایک اونچے طبقے سے تعلق رکھتی تھی لہذا میرے ریفرنس کے افراد کے لئے اس حیثیت کی فیس ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ وکالت کے آغاز میں اس بات کی تو سمجھ آ گئی کہ معاوضہ طلب کرتے وقت صرف مسئلہ کی پچیدگی ہی نہیں بلکہ سائل کی قوت خرید کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔

متواسط طبقے کے سائل سے جس ضمانت کے ہم چالیس ہزار طلب کرتے تھے چند ہمارے دوست وہ کام بیس ہزار میں اور کچھ سینئر وکلاء اسے طرز کی ضمانت کے ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے فیس کی مد میں لیتے تھے۔ فرق ٹریٹمنٹ کا ہوتا تھا بس۔ قانون و دلائل میں کیا فرق ہونا ہے بشرطیکہ وکیل محنتی ہو۔ وہ کہتے ہے ناں ایک امیرزادے کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو اس کا باپ ایک وکیل کے پاس اپنا کیس لے کر گیا معاملات طے ہو رہے تھے تو امیرزادے کا باپ وکیل کی "کم" فیس کی بناء پر بددل ہو گیا کہ جو اس قدر کم معاوضہ مانگ رہا ہے اس نے کیا مقدمہ لڑنا ہے لہذا وہ ایک دوسرے وکیل کے پاس کیس لے گیا بھاری معاوضہ دینے کے بعد بھی اس کے بیٹے کو سزا ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد باپ کی ملاقات پہلے والے وکیل سے ہوئی تو اس نے بچے کے مقدمے بارے پوچھا تو باپ نے آگاہ کیا کہ اسےسزا ہو گئی ہے جس پر وکیل صاحب بولے " دیکھ لیں جو کام آپ نے پندرہ لاکھ میں کروایا وہ میں تین میں کردیتا"۔

یہ قیمت یا معاوضہ کا فرق وکالت ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں نام (جسے آپ برانڈ کہہ لیں) اور ٹریٹمنٹ (اسے آپ پریزنٹیشن یا سہولت کہہ لیں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میرے والد جب اپنی نوکری سے ریٹائر ہوئے تو باقی پاکستانیوں کی طرح انہوں نے بھی ریٹائزمنٹ کے بعد حج کا رادہ کر رکھا تھا۔ حج ایک مشقت والی عبادت ہے لہذا اس مشقت کو کم کرنے کے لئے انہوں نے سرکاری کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر سے حج پر جانے کا پروگرام بنایا 2016 میں جب سرکار پونے چار لاکھ کا حج کروا رہی ی میرے والدین نے جو پیکج لیا وہ ساڑھے سات لاکھ فی کس والا تھا حرم و مدینہ میں قریب رہائش و دیگر سہولیات کی بنا پر ان کا حج با آسانی ہوا۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ مولانا طارق جمیل صاحب پندرہ لاکھ فی کس کے حساب سے حج کا پیکج دے رہے ہیں۔


ہر طبقے کے اپنے برانڈ ہوتے ہیں ہر شعبہ میں۔ ان کی اپنی شرائط ہوتی ہیں۔ میرے جیسے متواسط طبقے کے بندے کو کبھی بھی بڑے نام (برانڈ) کی خریداری بارے میں نہیں سوچنا چاہئے۔ ایم ٹی جے برانڈ ابھی کا نہیں ہے شروع سے ہی اوپری طبقے کا برانڈ ہے۔ ان کے پیروکار ابتداء سے ہی "بڑے نام" رہے ہیں۔ بڑے برانڈ آہستہ آہستہ ہر شعبہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان پر تنقید یا ان کی حمایت کرتے واقت احتیاط کریں کیونکہ کہیں آپ کے اپنے  نظریات اور کہیں آُپ کا اپنا طبقہ اس تنقید یا حمایت کا نشانہ بن سکتا ہے۔ چالیس والا آزار بند سو روپے میں یا چار سو والی ٹوپی پندرہ سو میں ہرگز مہنگی نہیں بس وہ آپ کے لئے نہیں ہے کیونکہ آپ کی کلاس دوسری ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←