میرا پاکستان، میرے آنگن کا گلدستہ

میرا پاکستان، میرے آنگن کا گلدستہ

 آج 14 اگست ہے—یومِ آزادی۔

ایک ایسا دن جسے ہم عموماً پاکستان کی آزادی کا دن کہتے ہیں، مگر شاید اسے ایک نئی مملکت کے وجود میں آنے کا دن کہنا زیادہ معنی خیز ہے۔ پاکستان کسی پہلے سے موجود ملک کی محض آزادی کا نام نہیں تھا؛ یہ برصغیر کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے ظہور کا دن تھا۔

اکثر اس سارے تاریخی عمل کو صرف تقسیمِ ہند کے عنوان سے بیان کر دیا جاتا ہے، حالانکہ تاریخ شاید اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جب انگریز اس خطے میں آئے تو پورا برصغیر کسی ایک مضبوط، متحد سیاسی اکائی کی صورت میں موجود نہیں تھا۔ یہاں مختلف ریاستیں، سلطنتیں، نوابیاں، رجواڑے اور مقامی حکومتیں تھیں۔ برطانوی اقتدار نے انہیں مختلف ادوار اور مختلف طریقوں سے اپنے زیرِ نگیں کیا اور رفتہ رفتہ ایک وسیع نوآبادیاتی نظام قائم ہوا۔

پھر وقت بدلا۔

دو عالمی جنگوں نے برطانیہ سمیت یورپ کی بڑی طاقتوں کو کمزور کیا۔ نوآبادیاتی نظام کی گرفت ڈھیلی ہونے لگی اور بالآخر برصغیر بھی اس تسلط سے نکلا۔ اسی تاریخی اتھل پتھل کے درمیان پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک مسلم اکثریتی آزاد مملکت کی حیثیت سے وجود میں آیا۔

لیکن پاکستان صرف ایک مذہبی یا جغرافیائی شناخت کا نام نہیں۔

یہ کئی زبانوں، ثقافتوں، تہذیبوں، نسلوں، علاقوں اور برادریوں سے مل کر بننے والی ایک ریاست ہے۔ ہر خطہ اپنا رنگ رکھتا ہے، ہر زبان اپنی مٹھاس، ہر ثقافت اپنی خوشبو اور ہر برادری اپنی ایک الگ پہچان۔

یوں سوچیں تو پاکستان ایک گلدستے کی مانند ہے۔

اور گلدستے سے یاد آیا کہ آج میرے گھر کے صحن میں بھی کچھ پھول کھلے ہوئے ہیں۔ انہی میں سے چند کی تصاویر آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔

یہ سب پھول ایک جیسے نہیں۔

کسی کا رنگ شوخ ہے، کسی کا ہلکا۔
کچھ اپنی خوشبو سے متوجہ کرتے ہیں، کچھ اپنے رنگوں سے۔
اور کچھ ایسے پودے بھی ہیں جن کے پھول شاید زیادہ خوشبودار نہ ہوں، مگر ان کے پتوں کو چھوئیں تو ایک الگ ہی مہک فضا میں پھیل جاتی ہے۔

میرے صحن کے اس چھوٹے سے گلدستے میں کچھ ایسے پودے بھی موجود ہیں جو آج کی تصاویر میں دکھائی نہیں دیں گے۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ آج ان پر کوئی پھول نہیں کھلا تھا۔

مگر پھول نہ ہونے سے ان کا وجود ختم نہیں ہو جاتا۔

وہ وہیں ہیں۔
اسی آنگن کا حصہ۔
اسی مٹی میں اپنی جڑیں جمائے ہوئے۔

کچھ پودے سخت جان ہیں؛ دھوپ، گرمی اور موسم کی سختیاں آسانی سے سہہ لیتے ہیں۔ کچھ بہت نازک ہیں، ذرا سی بے توجہی انہیں مرجھا دیتی ہے۔ کچھ اپنی خوبصورتی کے ساتھ کانٹے بھی رکھتے ہیں۔

مگر میں ان کانٹوں کی وجہ سے انہیں اپنے آنگن سے نکال نہیں دیتا۔

کیونکہ وہ بھی اسی گلدستے کا حصہ ہیں۔
ان کا رنگ، ان کی ساخت، ان کا الگ ہونا ہی تو اس گلدستے کی خوبصورتی ہے۔

شاید پاکستان بھی ایسا ہی ہے۔

ہم سب ایک جیسے نہیں ہیں—اور شاید ہمیں ایک جیسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔

ہماری زبانیں مختلف ہیں، ثقافتیں مختلف ہیں، رہن سہن مختلف ہے، خیالات اور ترجیحات بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی کی آواز بلند ہے، کوئی خاموش ہے۔ کوئی رنگوں میں نمایاں ہے، کوئی بظاہر پس منظر میں؛ کسی کی شخصیت پھول جیسی ہے اور کسی کے مزاج میں کچھ کانٹے بھی ہیں۔

مگر ہم سب کی جڑیں اسی آنگن کی مٹی میں ہیں۔

اور جس طرح میرے صحن کے مختلف پھول، پودے، خوشبوئیں اور کانٹے مل کر اسے خوبصورت بناتے ہیں، اسی طرح پاکستان کی اصل خوبصورتی بھی شاید ہماری یکسانیت میں نہیں، ہمارے تنوع میں ہے۔

اختلاف، مختلف ہونا یا الگ شناخت رکھنا اس گلدستے کی کمزوری نہیں—اگر ہم ایک دوسرے کے وجود کی جگہ باقی رکھیں تو یہی فرق اس کی سب سے بڑی خوبصورتی بن سکتا ہے۔

میرے آنگن کے پھولوں کی طرح،
ہم بھی الگ الگ رنگ رکھتے ہوئے
ایک ہی گلدستے کی زینت ہیں۔

یہ گلدستہ ہمارا پاکستان ہے۔

یومِ آزادی مبارک۔ 🇵🇰

تبصرے ()

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں