اللہ کے نیک لوگ!!!

کہتے ہیں اللہ والوں کا دل بہت نرم ہوتا ہے۔ جب کبھی اللہ کے رحم و پیار کا ذکر محفل میں ہوتا ہے تو اللہ والے اپنی رب کی محبت میں اشک بارہو جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ اِن کا اللہ کے محبوب نبی اور اُن کے نیک بندوں کے ذکرکے وقت ہوتا ہے۔
مجھے ہمیشہ اپنی اِس حالت پر خود پرغصہ آیا کہ مجھ پر یہ کیفیت کیوں طاری نہیں ہوتی، مجھے اللہ والوں جیسا کردار و دل کیوں نہیں حاصل۔ اس کا سب سے پہلے احساس مجھے تب ہوا جب میں مکہ میں کعبہ کے دروازہ کے قریب کھڑا دعا مانگ رہا تھا اور میرے آس پاس کھڑے تمام افراد ہی کعبہ سے لپٹ کر رورو کر دعا مانگ رہے تھے اور میں جہاں اُن پر رشک کر رہا تھا وہاں ہی خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیسا سخت دل ہے، کیسے مردہ احساسات کہ یہ لذت، یہ محبت، یہ ندامت، یہ کیفیت ، ایسی دعا مانگنے کا ہنر، اُس رب کو اپنی طرف کرنے کا یہ نسخہ ، اُن کی رحمت کو طلب کر کا یہ انداز مجھے کیوں نہیں آتا۔ کیسا کیا ہے جو میں اس نعمت سے محروم ہوں؟
ہر ہر بار جب میں ایسے کسی منظر، ایسی کسی شخصیت، ایسی کسی محفل کا حصہ ہوتا ہوں تو مجھے یہ احساس تنگ کرتا ہے کہ میں کیوں اس کردار ہے مالک نہیں ہوں؟؟

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

اوطاق جو قانون

کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں

مگر ہمارا احتجاج تو ایسا تھا!!!

آج صبح جب ہم گھر سے باہر نکلے تو ہماری اُمید سے ذیادہ ویرانی سڑکوں پر راج کر رہی تھا، لہذا صبح ہی اندازہ ہو گیا کہ عوام کا کیا موڈ ہے!
دوپہر کو جمعہ کی نماز پر جاتے ہوئے ہم گھر سے یہ نیت کر کے گیا تھا کہ اگر مسجد سے کوئی جلوس ناموس رسالت کے سلسلے میں نکلا تو اُس میں ضرور شرکت کی جائے گی! خطبہ میں مولانا صاحب عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیان کے ساتھ ساتھ یہود و انصار کو کوس رہے تھے!!
فرض نماز کے بعد ایک قرارداد پیش ہوئی جس میں گستاخانہ فلم کی مذمت کی گئی! اور بین الاقوامی دنیا سے توہین رسالت سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ کیا گی (جیسے باہر کی دنیا ان کی سن لے گی)۔ اس کے بعد معلوم ہوا اہلیان ماڈل کالونی کی تمام (مسالک کی) مساجد نے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا ہے جس کے تحت مسلکی اختلافات ، سیاسی نظریات، لسانی جھگڑوں اور ذاتی دشمنیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ ریلی ناموس رسالت کے سلسلے میں نکالی جائے گی!لہذا ہماری محلے کی مسجد “باغ حبیب” سے ایک جلوس 9C اسٹاپ پر جائے گا وہاں سے دیگرمساجد سے آنے والی ریلیوں کو لیتا ہوا آگے بڑھے گا! ہم بھی ساتھ ہو لیئے! دوران خطبہ بھی مولانا نے کئی بار پُر امن رہنے کی تلقین کی تھی جلوس کے آغاز سے قبل پھر پُر امن رہنے پر زور دیا گیا!
نعرے مارتے لوگ پہلی منزل کی طرف روانہ ہوئے، 9C اسٹاپ پر پہنچ کر دیگر ریلیوں کا انتظار کیا جانے لگا جبکہ ایک ریلی ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئی تھی انتظار کے دران مقرر لوگوں کو جہاں جوشیلا کرنے والی تقاریر کر رہے تھے وہاں ہی پُرامن رہنے کی تلقین جاری تھی۔ قریب چار مزید مساجد کی ریلیاں وقفے وقفے سے وہاں پہنچ گئی! جن میں چند کالعدم تنظیموں کے افراد اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شریک تھے سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے بغیر تھے!!
وہاں سے تمام ممکنہ مساجد کی ریلیاں جنہوں نے یہاں تک آ کر ایک بڑے جلوس کی شکل میں آگے بڑھنا پہنچ گئیں تو جلوس آگے روانہ ہوا! یہ جلوس اعوان ہوٹل، لی بروسٹ، ماڈل موڑ سے ہوتا ہوا اپنی فائنل منزل ماڈل کالونی قبروستان تک جانے لگا راستے میں دیگر ریلیاں بھی اس میں شامل ہو گئی جلوس مکمل طور پر پُرامن رہا لوگ نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری، اور دیگر نعرے لگاتے آگے بڑھتے رہے! ماڈل کالونی کی تاریخ میں اتنا بڑا جلوس جو میرے اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار سے ذیادہ تھا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا! جس میں ہر عمر کے افراد شامل تھے!!! اور ایسے افراد بھی جو اپنے بچوں کو ہجوم یا کسی بھی دیگر قسم کے جلسے جلوس میں شرکت کرنے سے باقاعدہ منع کرتے ہیں۔
پورے جلوس میں کی جانے والی سب سے شر انگیز حرکت پتلوں کو جلانے کی تھی!! شر انگیز نعرہ امریکہ مردہ باد اور گستاخ رسول کی سزا ، سر تن سے جدا تھا۔
یہ نہیں معلوم کہ ایسی سچی ریلیوں کی بھی میڈیا کوریج جو کہ ملک میں بڑی تعداد میں نکالی گئیں میڈیا میں کیوں جگہ نہیں بنا پائی شاید اس لئے کہ یہ اُن کے “مفاد” میں نہیں!!!