گزشتہ دنوں اردو بلاگنگ کی دنیا میں ہی ویڈیو مین نظر آنے والے قصے سے متعلق پڑھ کر ہی خود پر ترس آیا تھا! کیونکہ کہ ہم ایسے واقعات کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں کہ بچہ یا تو سڑک پر پیدا ہو جاتا ہے یا ہسپتال میں سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے موت کی آغوش مین چلا جاتا ہے! ایسے میں برطانوی ڈاکٹر کا اپنے ملک کے وزیراعظم سے یہ سلوک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہاں اخلاقیات زندہ ہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں اس میدان میں کچھ کچھ خرابی کی ابتداء ہو ہی گئی ہے لگتا ہے کیونکہ سنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو جبری چھٹیوں پر روانہ کر دیا گیا ہے!!!خبر کا آغاز نہایت دلچسپ ہے "احساس کمتری کے مارے ہوئے معاشرے ہمیشہ سے برطانوی جمہوریت کے راگ الاپتے رہے ہیں لیکن حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ " ہون فیر!!!!
روشن خیالوں جرنیلوں کا مولوی پن
جی ہم کہہ سکتے ہیں "مولوی" ایک پیشہ نہیں کیفیت ہے یہ کسی وقت کسی میں بھی بیدار ہو سکتی ہے یا پروان پا سکتا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ روشن خیالوں کے الزام کے مطابق "مولوی" ایک ایسا کردار ہے جو اپنے نظریے و سوچ و مقاصد کے راستے میں آنے والی ہر بات و عمل کو اسلام مخالف قرار یا خلاف شریعت قرار دے کر اُس کو کچلنے یا راستے سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہے۔
عوام کا عام سا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت و انتظامی ادارے اپنے تمام اقدامات ملکی مفاد میں اُٹھائے مگر ذاتی مفاد کی رسی سے بندھے صاحب اقتدار و اختیار کے حامل طبقہ کے افراد اپنے ہر قدم کو ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بتا کر اندھیرے غار کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔
امریکی جی حضوری میں اول اول چند ٹکوں کی خاطر ملک کی نوجوانوں و عزتوں کو فروخت کیا۔ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جب امریکا کی جنگ پر سوال کیا جانے لگا تو خاموش کروانے کے لئے "مولوی" نامی کردار کی روش پر چلتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے والے کو "شدت پسند" یا "انتہا پسندوں" کا ساتھی قرار دے دیا!!
مگر یقین جانے اب بھی روشن خیال کود آئیں گے میدان میں اور "روشن خیالوں کے مولوی پن" سے آپ کو مزید واقفیت دیں گے۔
یہ کیا بات ہوئی؟
دنیا میں اب تک تمام کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی مشہوری کرتی ہی وہ بتاتی ہے کہ ہماری اس پروڈکٹ میں یہ خوبی ہے آپ اسے ضرور استعمال کریں اور اگر آپ اس کو وافر مقدار میں استعمال کریں گے تو آپ کو یہ یہ رعاتیں دی جائِں گی۔ صارف تک پہنچنے کے لئے وہ باقاعدہ تشہیر کے لئے الگ بجٹ مختص کتی ہیں مگر۔۔۔۔۔ اس کے بر عکس اپنے پیپکو والے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں کہتے ہیں کم سے کم استعمال کرو، لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ کم سے کم بجلی استعمال کرو اور وافر استعمال کرع گے تو اور مہنگی ملی گی باقاعدہ تشہیر کرتے ہیں اور اپنے اس پیغام کو بذریعہ تشہیر عوام تک پہنچانے کے لئے باقاعدہ رقم مختص کرتے ہیں مگر عوام ہے کہ مانتی ہی نہیں!! یہ کیا بات ہوئی؟ چلیں رہنے دیں اشتہار دیکھے!
;
اور یہ گانا بھی
++++++++++++
ماہرین نے بلاتحقیق یہ بات ثابت ہونا تسلیم کر لی ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام طلاقوں کی پہلی اہم وجہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود شادی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ تمام شادیوں کا انجام طلاق نہیں ہوتا مگر اس حقیقت سے انکار کیا جانا نہ ممکن ہے کہ بغیر شادی ہے طلاق دی جا سکے، اس ہی سلسلے میں پروفیسر نا معلوم نمبر 1 نے تحقیق کئے بغیر زبان کھولی کہ شادی طلاق کی واحد وجہ نہیں مگر اولین وجہ ضرور ہے اُن کا کہنا تھا کہ ہم جو طلاق پر بلا تحقیق یہ بات کہہ رہے ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم خود شادی شدہ ہیں یا ہم میں سے اکثر کے نہایت قریبی رشتہ دار یا دوست وغیرہ، ماہر نامعلوم نمبر 2 کا کہنا تھا کہ طلاق کی تعداد میں ہم دوسری و تیسری وجہ یا دیگر وجوہات کو دور کر کے ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ طلاق پہلی وجہ یعنی شادی کے اختتام کا موجب بنتی ہے یوں پھر باقی وجوہات ثانوی ہو جاتی ہیں پروفیسر نامعلوم نمبر 3 نے پروفیسر نامعلوم نمبر 2 کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہان یہ بات درست ہے کہ اول وجہ شادی ہی ہے طلاق کی لہذا اگر اس سلسلے میں شادی کا نہ ہونا طلاق کے نہ ہونے کی اولین گارنٹی ہے!! جب اس رپورٹ پر ملک کے مشہور ماہر نامعلوم نمبر 4 سے پوچھا گیا تو انہون نے ماہرین کے ناموں کے بارے میں جاننا چاہا جب بتایا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کے خوف سے نام بتانے سے گریذہ ہیں تو پروفیسر نامعلوم نمبر 4 نے کہا یہ کیا بات ہوئی؟ بعدازہ انہوں نے ہمارے رپوٹر نامعلوم کو فون کر کے اپنا نام شائع نہ کرنے کو کہا کہ دراصل میری بیوی کہیں یہ رپورٹ نہ پڑھ لے ویسے بات ٹھیک ہی ہے۔
دفعہ 144
“ابے سنا کچھ اپنے شہر قائد میں دفعہ 144 لگ گئی"
ابے کیا اب کے سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگی ہے؟
“اڑے نہیں بے! وہ شہر میں سیاسی بینر، جھنڈے ،پوسٹرلگانے اور دیوار پر سیاسی نعرہ وغیرہ پر پابندی لگ گئی ہے"
نہ کر یار! کس کس پر پابندی ہے؟
“ابے سب سیاسی جماعتوں پر"
چل اوئے! کیا چھوڑو بندہ ہے تو سب پر کیسے لگ سکتی ہے؟
“کیوں!!! کیوں نہیں لگ سکتی"
ابے آدھا شہر بی بی کی سالگرہ منانے کی دعوتوں پر مشتمل بینر، پوسٹروں اور پارٹی کے جھنڈوں سے بھر گیا ہے اور تو پابندی کی بات کر رہا ہے
“اچھا!!! ایسا ہے"
پھر ہو سکتا ہے کہ اپنے شہر کے رحمان بابا نے "مشروب حیات" کے سرُور میں سالگرہ منانے کی منادی کو 144 لگائی ہو؟
چل اوئے!!۔