بھتہ مافیا کے خلاف بھتہ خوروں کی جنگ

بھتہ مافیا کے خلاف بھتہ خوروں کی جنگ

کراچی میں کل ہرتال تھی تاجروں کی! کامیاب ہو گئی! ہرتال کامیاب ہوئی بقول اخبارات کے مگر مقصد میں کامیابی ابھی باقی ہے! مگر اس سے قبل یہ جاننا ضروری کہ مقصد کیا ہے اور کس کا؟ ابتدا میں خبر آئی یہ تاجروں کی ہرتال بھتہ مافیا کے خلاف تھی! بعد میں انکشاف ہوا یہ ایک بھتہ مافیا کی دوسری بھتہ مافیا سے لڑائی تھی جس کا آغاز بھتہ خوروں کے صوبائی و وفاقی اتحاد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا دراصل یہ مفاد کا اتحاد تھا جو بھتہ کی لڑائی کے باوجود رحمان بابا کی کرامت سے اب تک جاری ہے جس میں شدت گزشتہ سال کے آخری ماہ کی اس تقریر سے ہوئی!




ایک وڈے وزیر داخلہ ہیں اور ایک نکے یا صوبائی! نکے لڑائی کرتے ہیں وڈے صلح کے لئے پہنچ جاتے ہیں! نکے کی لڑائی اب اتحادیوں کے حکم پر تاجروں کی ہڑتالوں تک جا پہنچی ہے تو وڈے ابھی بھی سیاسی بیان سے فضاء خوشگوار کرنے کی کاوش میں مصروف ہیں مگر اتحادی راضی نہیں کہتے ہیں اپنوں کو قابو کرو! دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔
کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!
ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!
مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!
اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!
آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!
اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!
مکمل تحریر پڑھیں ←
تم نے بُرا کھیلا! مگر تم اچھے ہو!

تم نے بُرا کھیلا! مگر تم اچھے ہو!

پاکستان انڈیا سے ہار گیا! ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، مگر اپنی قوم کا کیا کریں جنہیں پڑوسی سے ہار قبول نہیں؟ اس بار ردعمل ویسا نہیں رہا کہ لوگ ٹیم پر ہار کی بناء پر ڈنڈے لے کر پڑ جائے اس بار ردعمل کافی مثبت رہا! اُمید و خواہش کے باوجود پیشن گوئی پر مشتمل ردوعمل نہیں ملے!
پاکستان کی عوام کو یار لوگ کہتے ہیں میڈیا نے شعور دیا! میڈیا میں اتنا شعور تھا کہ اچھے اچھوں کو مرحوم طوطے کی پیشن گوئی پر جیت کے خواب دیکھا دیئے اور طوطے کے حمایتی نجومیوں کو بھی میدان میں لے آئے! اب آپ بتاؤ کہ ہم میں اور پڑوسیوں کے میڈیا کی حرکتوں میں کتنا فرق ہے؟
سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ٹیم کے اس ٹورنامنٹ میں ویسے کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا جیسا کہ اُس سے توقع تھی! یہ عوام کی امیدوں پر پورا نہ اُترنے کا کام پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ تین ورلڈکپ سے کر رہی ہے! اول دونوں میں امید تھی کہ اچھا کھیلے گے سیمی فائنل نہیں تو ناک آؤٹ مرحلے تک تو ضرور جائے گے اور ایسا نہ ہوا ٹیم وقت سے پہلے واپس لوٹ آئی!! اب کے عوام کی رائے تھی کہ جلد واپس آ جائے گی مگر سیمی فائنل کھیل گئی! کر لو گل؟ خود کپتان نے سیمی فائنل سے آگے کا وعدہ نہیں کیا تھا!
میں بھی عوام میں سے ہوں! اس لئے ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتا ہوں! سات نوجوان کھلاڑی! جن کا یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ! اور اُس میں سیمی فائنل کھیلنا! ایک نہایت عمدہ کارگردگی ہے! مایوسی ہوئی سیمی فائنل میں یونس خان و مصباح کی بیٹنگ سے! یوں لگا وہ ٹیم کے لئے نہیں اپنے لئے کھیل رہے ہیں! واقعی لگتا ہے مصباح نے اس میچ میں آفریدی سے ہاتھ کر لیا ہے! عمر گل بھی پریشر میں اپنے کھیل کو خراب کر بیٹھے! عبدلزاق اور کامران کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے! سوچنا کیا ہے یہ تو اپ جانتے ہی ہوں گے؟
ان تمام باتوں کے باوجود "پاکستانی ٹیم! تم بُرا کھیلے مگر تم پھر بھی اچھے ہو" بھارت سے یہ میچ کھیلنا بھی تمہاری جیت ہے کیونکہ جو ملک جنوری 2009 سے تم سے نہ کھیلنے کے بہانے بنا رہا تھا تم نے اُسے وہاں پھنسایا کہ نہ اُگلے بنے نہ نگلے۔
ویسے ہم ہارکر بھی باوقار رہے ہیں! کہ اُن کی عزت تو جیت کر بھی برہنہ ہوئی جا رہی ہے!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
کھلی چھٹی سے آدھی چھٹی تک

کھلی چھٹی سے آدھی چھٹی تک

“اوئے بڑی جلدی میں ہے، کہاں جا رہا ہے؟"
یار میچ ہے گھر جا رہا ہوں
“تو بھی آدھی چھٹی کما کر آ رہا ہے"
ہاں یار، ہماری تو آدھی چھٹی تھی اور تمہاری؟
“ہماری پوری چھٹی تھی"
یار سمجھ نہیں آیا وفاق نے آدھی چھٹی دی اور صوبے نے پوری کیوں؟
“سیدھی سے بات ہے جس کو جتنی چھٹی ملی ہوئی ہے اُس نے اتنی چھٹی عوام کو دی"
مطلب کیا ہے؟
“دیکھ ہار بڑے صاحب نے گیلانی صاحب کو آدھی چھٹی دے رکھی ہے اور آدھی گیلانی کے مخالفین کو تو گیلانی نے آدھی چھٹی عوام کو دی"
بات سمجھ میں نہیں آئی مگر چلو یہ بتاو پھر سندھ میں پوری چھٹی کیوں ہے؟
“لے یار پہلے تو یہ بتا سندھ میں چھٹی کس نے کی؟"
وزیراعلی و گورنر نے۔
“دیکھ اب سمجھ، سندھ میں آدھی چھٹی ملی ہوئی ہے قائم شاہ و کمپنی کو اور آدھی چھٹی ملی ہوئی ہے لندن والی سرکار و کمپنی کو، آپس کی بات ہے وہ جو ولی صاحب و کمپنی کو آدھی چھٹی ملی ہے ناں اُس کا کچھ استعمال وہ بھی سندھ میں کر لیتے ہے"
تو پھر؟
“تو پھر کیا؟ آدھی چھٹی گورنر کی اور آدھی وزیراعلی کی ہو گئی ناں کھلی چھٹی۔ جانو جس کو جتنی چھٹی ملتی ہے نا اُتنی ہی وہ آگے دیتا ہے"
کیا ہودہ وضاحت دی ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
پاک بھارت سیمی فائنل اور ہندوستانی چینل

پاک بھارت سیمی فائنل اور ہندوستانی چینل

خرم ابن شبیر کے بلاگ پر آپ نے انڈین میڈیا کی پاک بھارت سیمی فائنل کے بارے میں خبرون کا جائزہ تو لیا ہو گا۔ ہم نے لگے ہاتھوں ذیل میں چند ایسی ہی
دلچسپ خبروں کو جمع کیا ہے کہ کیسے انڈین میڈیا پاکستانی ٹیم کی توہین کر رہا ہے ۔ وقت ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیں۔

























دلچسپ بات یہ کہ بھارتی میڈیا نے اپنی ٹیم کو بھی میچ فیکس کرنے کے الزام ست سرفراز کیا ہے۔ وہ کدھر ہے آئی سی سی؟




مکمل تحریر پڑھیں ←
گرگٹ ڈپلومیسی

گرگٹ ڈپلومیسی

لو جی پاکستان اور ہندوستان میں تیسری کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز ہو چکا ہے، دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی طرف سے پہلے جمہوری و سول ڈپلومیسی ہے! اول دونوں سربراہ جو بھارت گئے فوجی تھے! لہذا پہلی سول کرکٹ ڈپلومیسی!! ضیاء کی ایک اور باقیات جس کو پی پی نے اپنایا۔ ابتدا ہندوستان میں جانے کی ہم نے کی تھی کرکٹ میچ پر مگر گزشتہ دو دعوتیں کرکٹ میچ کی پڑوس سے آئی ہیں! دلچسپ بات یہ کہ کرکٹ ڈپلومیسی میں ہر بار میزبان بھارت ہی رہا ہے!
ان میچوں کا کیا ہوا تھا جن میں ہم بھارت کرکٹ دپلومیسی کرنے گئے تھے؟ کچھ یاد ہے؟ ہمارا پلا بھاری رہا تھا!! ایک ڈرا اور ایک ہم جیت گئے تھے اور عوام میں جتنی محبت ہے وہ تو سامنے کی بات ہے! ہار دونوں طرف نا قابل معافی جرم ہے کھلاڑیوں کے لئے! اب کیا ہو گا دیکھنا پڑے گا۔
کچھ فیکٹ سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ ہو گا کیا؟ مثلا پاکستان کبھی ورلڈکپ کے کسی بھی مقابلے میں بھارت سے نہیں جیتا! موہالی میں کبھی نہیں ہارا! ضروری ہے کھیل کو کھیل کے طور پر لیا جائے قومی تعلقات کی تلخیوں کو اس میں حصہ نہ دیا جائے۔
یہ میڈیا جو آج کرکٹ ڈپلومیسی کو امن کا چھکا قرار دے رہا ہے ورلڈکپ کے آغاز میں اس نے ایک خبر جس کی تصدیق نہ ہو سکی کی کافی تشہیر کی، جو عوام مین ہندوستان کے بارے مین منفی رجحان کو فروغ دینے کو کافی تھی۔ وہ خبر کی "مالی" نامی طوطے کی ہندوستانی شہریوں کے ہاتھوں قتل کی کہ اُس نے پاکستان کو فاتح ورلڈکپ قرار دیا تھا۔ یعنی اب بات کھیلاڑیوں کے کھیل سے نکل کر جانوروں و نجومیوں کی پیشن گوئی پر آ گئی ہے۔۔۔۔ کیا بات ہے ؛
ہم اپنی ٹیم کی جیت کے لئے دعا گو ہیں ویسے یہ الگ بات ہے کہ قومی ٹیم کی جیت کے دُعا گو ساتھوں پر "چند" احباب غیرت برگیڈ کے الزام کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں یوں لگتا ہے کہ اپنی ٹیم کی جیت کے لئے پُر امید ہونا مذہبی انتہا پسندی و دہشت گردی ہے!یوں لہذا جو توانائیاں دوسروں کو زیر کرنے پر خرچ کرنی چاہئے وہ اپنے گھر میں انہیں سمجھانے میں ضائع ہو جاتی ہیں!
کھیل کے میدان کو میدان جنگ نہ سمجھا جائے نہ ہی کھیلوں کے تعلقات کو قومی مفادات یا قومی غیرت سے جوڑا جائے! میدان میں اترنے والی دونوں ٹیمیں جیت کی جدوجہد کرین گی اور بہتر کھیل و مضبوط اعصاب والی ٹیم میدان مار لے گی۔ ہماری نیک خواہشات اپنی تیم کے ساتھ ہیں مگر اگر لڑ کر بھی ہار جائے شرط ہے جیت کی جدوجہد تو افسوس تو ہو گا مگر اپنی ٹیم سے شکایت نہیں۔ ضرورت ہے جیت امن کی ہو۔
مکمل تحریر پڑھیں ←