آپ قانون شکن ہیں تو آپ کو قانون شکنی کی سزا ملنی چاہئے، ایسے میں ماتھے پر شکن لانا درست نہیں ،اس میں کوئی شک شبہ نہیں!۔ قانون شکنی کا کوئی جواز نہیں ہوتا! سچ ہے۔ مگر!!! قانون بنانے اور اس کے نفاذ کے چند طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ نہیں؟؟؟ بہار آئی! لاہوری بسنت منانا چاہتے تھے! حکومت (پنجاب) مان گئی! سپریم کورٹ کو منانے جاپہنچی! جو رام ہو گئی لہذا جس پتنگ باری کو حرام قرار دے چکی تھی کہ اس کی وجہ (وہ کوئی بھی ہو) سے کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے، اسے چند دن کے لئے حلال قرار دیا، لو اتنا آسان ہے حلال کرنا حرام کو؟؟؟۔ چند شرائط کا پابند بھی کیا۔ یار لوگوں نے پابندی اٹھنے کا کیا خیر مقدم! حکومت مخالف اسلامی جماعتوں نے کہاغلط قدم! قدم غلط تھا کہ نہیں مگر یار لوگوں نے اسے ڈگمگا دیا! ڈگمگاتا قدم کب تک ٹھیک جگہ پر پڑ سکتا ہے۔۔۔ پڑ گیا غلط جگہ پر! پندرہ دنوں کے لئے ملنے والی پتنگ بازی کی شہ پر بارہ افراد کی شہ رگ کٹی اور وہ جان ہار گئے! ان میں ایک چار سالہ بچہ اور تین سال کی بچی بھی شامل ہے، زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے!!! غلطی کس کی؟ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی واپس لگا دی! دو دن باقی تھے بسنت (بس انت بھی کہہ لیں) میں! اس سے پہلے ہی اتنی انت مچ چکی تھی کہ بس میں نہیں رہی تھی! اب دیکھے کون اس کا پابند ہوتا ہے؟ اور آیا پابند نہ ہونے والا بند ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یہ تو اب کوئی لاہوری ہی بتا سکتا ہے کہ پابندی کی کس قدر پابندی کی گئی؟؟؟؟ لاہور والے زندہ دل کہتے ہیں خود کو۔۔۔۔ زندہ دلی کا تعلق قانون سے کتنا ہے یہ تو مجھے معلوم نہیں! نہ یہ کہ دلی یا دل سے کتنا! مگر زندہ سے بہت ہے! اب دیکھو! بسنت بناء پتنگ ہوتی ہے یا بس انت ہو جاتی ہے ، میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اول پابندی ہٹنی نہیں چاہئے تھی اگر ہٹ ہی گئی تھی تو لوگوں کو کیمیکل ڈور کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا! یہ کہ اب کئی لاہوریوں نے پتنگ بازی کا سامان خرید و تیار کیا ہے اور اس پر یہ پابندی! وہ کہاں جائیں!!! دوسری طرف جان لیوا حادثات کے بعد پنجاب حکومت کے فیصلے کو غلط کہنا بھی مشکل ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

بش دي آنياں تے جانياں

چاچا جی دے لارے تے رنڈے رین کنوارے، مگر اپنے چچا جی (انکل سام) نے تو لارا بھی نہیں لگایا، ہم تو سمجھ رہے تھے شائد لارا ہی لگا دیں، وہ آئے اور چلے گئے، بش اور مش آپس میں ملے، کہتے ہیں دونوں کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔۔۔۔ اہم امور وہ جو بش کے نزدیک اہم تھے۔۔۔۔ اور جو مش کے تھے؟؟ وہ امور ہی کہاں تھے، لہذا ان پر کوئی خاص بات ہی نہیں ہوئی۔۔۔ کئی اہم امور میں “کئی“ سے مراد وہ معاملہ جو بش کے لئے کئی کے برابر ہے۔۔۔۔ وہ ہی جن کی “گرد“ سے بھی جناب کو “دہشت“ محسوس ہوتی ہے لہذا اس “دہشت“ بھری“گرد“ کو بٹھانے سے متعلق گفتگو کی گئی۔
ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، بغیر وردی والا صدر تو آگے پیچھے سے شکایات سن کر آیا تھا، کوئی لسٹ کی بات کر رہا تھا اور کسی نے “اتنک وادی“ کا ذکر کیا !!!! ، کان بھرے گئے تھے، غصہ سے بھرے ہوئے آئے، ون ٹو ون ملاقات میں پریس کیا اور باہر آ کر پریس کانفرنس، ہائے رے یہ صحافی!!! مش کے امور کے متعلق سوال کر بیٹھے! پھر جواب ایسے آئے کہ ان کی طرف سے جواب ہی سمجھے، مسئلہ کشمیر !!! ارے خود حل کرو !! اپنی مصیبت ہمارے گلے میں مت ڈالو!!! کرو مذاکرات !!! ہون آرام اے، ہم تو مذاکرات مرنے جاتے ہیں اور دوسرے مذاق کرتے ہیں اب اس کا کیا کریں؟ دفاعی تعاون کا ذکر کیا تو آگاہ کیا گیا کہ دفع ہی تعاون کر رہے ہیں آپ کو دفع کر رکھا اور دوسروں کو گلے لگا رکھا!!! ہو گیا ناں دفع ہی تعاون! اور تجارتی تعلقات!!! ان پر تو تالا ہی سمجھے!!!!
البتہ حکم صادر ہو گیا کہ جمہوریت بحال کی جائے!!! وردی والا صدر اپنا منہ لے کر رہ گیا! لو میرا یہ بھرم بھی نہیں رہنے دیا!! جمی ہوئی ریت بھی ہٹ گئی !!! بش کے آنے جانے پر تو بلے بلے نہ ہوئی البتہ انضمام صاحب گیند بلا سیکھانے جا پہنچے۔ ہم تو سنتے آئے تھے کہ بیس بال کرکٹ کا بگڑا ہو ا کھیل ہے۔۔۔۔۔ اب معلوم ہوا کرکٹ بیس بال سے ملتا جلتا کھیل ہے، بھائی یہ ہی تو اپنے کرکٹ کے کپتان نے بش کو بتایا ہے اب یہ الگ بحث کہ کیسے بتایا ہو گا؟۔اب خود سمجھ لیں ہم کیسے کوئی بات انہیں سمجھاتے ہیں!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

جھاڑي ميں الجھا دامن

وہ آئے جنہوں نے ساری دنیا میں بم چلائے۔ بش (اردو میں جھاڑی) پاکستان آ گئے۔ سنا ہے کتے بھی لائے ہیں۔ شائد اس لئے کہ دیکھ لو یہ ہوتے ہیں کتے تم لوگوں کو کچھ پتہ ہے !!! نہ معلوم کس کس کو کہتے رہتے ہو! جیسے ؟؟؟ اسلام آباد (نام پر غور کرے) میں دہشت گردوں کے خلاف نئے منصوبوں پر غور ہوگا، دہشت گرد کون اس پر نہیں!! دیکھے کیا ہوتا ہے! کیا ہوا ہے!!!بھارت سے ایٹمی ٹیکنالوجی پر معاہدہ ہوا انہیں ایف سولہ اور ایف ١ٹھارا کی آفر!! ہمیں تسلی وافر!! کہتے ہیں کہ بھارت سے یہ معاہدہ اس لئے کیا کہ چین کا چین(سکون) اڑایا جا سکے! اور شائد ہماری نیند!!! معاہدہ کا ایک مقصد ایران گیس پائیپ لائین منصوبہ بھی روکنا بھی ہے!!! اب ہمارا فائدہ جہاں بھی ہوتا ہے ڈنڈی مار لی جاتی ہے !! ہے کوئی بات!!! اس معاہدہ سے ایران اور کوریا بھی ناراض ہیں کہ یہ تو دوہری پالیسی ہے!!!! لو انہیں اب سمجھ آئی!!! ہمارا تو ہنس ہنس کے پیٹ دوہرا ہو رہا ہے!!! دیر سے سمجھے ہیں!!! اور خود ہم اب بھی نہیں سمجھے!! یا سمجھنا نہیں چاہ رہے۔۔۔ این پی ٹی کا ذکر کر ڈالا چین نے!! اس کے تحت معاہدہ کرنا چاہیے تھا معاہدہ!!! لو معاہدہ کرنا تھا اس سے انکار نہیں!!! کیسے لوگ ہیں یہ سمجھتے ہی نہیں!!! اب دیکھے بش کچھ کرتے یا بس لارا ہی دیتے ہیں!! ارے ارے نہیں نہیں میں ان کی بیگم کی بات نہیں کر رہا وہ تو ساتھ ہی جائیں گی!!!! میں لارے کی یعنی بس امید دلانے کی بات کر رہا ہوں !!! ویسے کچھ اچھی کی امید رکھنا مشکل ہی ہے۔۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
سزا، مانگ اور توقع عبث

سزا، مانگ اور توقع عبث

اندھیرے میں کچھ دیر کھڑے رہے توآنکھ دیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے، مگر آگر روشنی میں ہو کر بھی آنکھ بند کر لی جائے تو کچھ بھی نظر آنا نا ممکن ہے۔ دل کی تسلی کے لئے تراشے گئے بہانے و دلائل دراصل آنکھ بند کرنے کے ہی مترادف ہے، آنکھ بند کرنے کا عمل!!! جس میں ہم سب مبتلا ہیں!!!!! موجودہ حالات کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں!!! یقین آ جائے گا!!!
خاکہ نویسی !!!! وہ بھی رسول اللہ کی!!! اسلام میں ویسے بھی تصویر کشی کی اجازت نہیں ہے!!!! اوپر سے رسول اللہ کی؟؟؟ اگر اس کی اجازت ہوتی تو شائد اہل مسلم رسول کی اس تصویر کے پجاری ہوتے۔۔۔ جو ان کے تصور سے ہی اس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اوپر سے ایسے خاکہ جن کا مقصد (نعوذ بااللہ) مزاح کا عنصر پیدا کرنا ہے!!! تمسخر اڑانا!!!! “اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور کافر اِن میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو“ (سورہ المائدہ آیت ٥٦)
توہین رسالت ہوئی! سب کو علم ہے، ردعمل کیا ہے!!! احتجاج۔۔۔۔ کیوں کیا بس احتجاج ہی ہو
سکتا ہے؟؟ اب احتجاج بھی ایسا جو اسلام کی روح کے خلاف، جلوس میں پتلے جلائے جاتے ہیں!! اسلام میں پتلا بننے کی اجازت ہے؟؟؟ توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!!!! پوچھا کیوں ؟؟؟ کہنے لگے کہ غم جب غصہ میں بدل جائے تو انسان مشتعل ہو جاتا ہے!! اور ایسے میں اہل مسلم کا غم غصہ کی شکل اختیار کر گیا ہے!! کہ اس کے ایمان پر حملہ ہوا ہے!!! اللہ سے محبت اور اس کے رسول سے محبت ایمان کا حصہ ہے!!! اچھا!!! توڑ پھوڑ کرنے والے مسلمان ہے تو جن کا نقصان ہو وہ کون؟؟؟ وہ بھی مسلمان!!! روکئے اگر وہ بھی مسلمان تو “مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ اب بتاؤ ایسے احتجاج کا فائدہ !!! کہ پھر ایمان خطرے میں!!!
کسی نے کہا مکالمہ کرنا چاہئے اہل مغرب سے۔۔۔ کس بات پر؟؟؟ کوئی علمی بحث شروع کی ہے انہوں نے؟؟؟ کوئی تحقیقی کتاب لکھئ ہوتی جس میں کوئی اعتراز ہوتا تو کرتے مکالمہ۔۔۔ دیتے جواب!!! پہلے بھی تو اعترازات کا جواب دیا ہے !!
کسی کی رائے ہے رسول کی شخصیت کے بارے میں اہل مغرب کو آگاہ کیا جائے۔۔۔۔ وہ اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں۔۔۔ ہر زبان میں رسول کی شخصیت کے بارے میں کتب موجود ہیں۔۔۔ پھر یہ اعتراز یا شرارت ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جن کا مقصد ہی تنگ کرنا ہوتا ہے۔ توہین رسالت کے سلسلے میں معافی کا مطالبہ ہو رہا ہے!!! جس نے توہین کی وہ معافی مانگ لے! کہا جا رہا ہے رسول نے بھی اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کردیا تھا!!! بڑھیا کا راستے میں کچرا ڈالنے، اہل طائف کی سنگ باری کرنے اور اہل مکہ کی دی جانے والی اذیتوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات ہیں !!!! بعد کے ادوار میں کیا ہوا!!! بخاری شریف جلد دوئم میں کعب ابن اشرف کا واقعہ!!! یہودی سردار رسول اللہ کو (نعوذ باللہ) برا بھلا کہتا رہتا تھا، ایک صحابی نے اجازت طلب کی کہ اسے قتل کرنے کی، نہ صرف اجازت بلکہ دعا بھی دی، وہ صحابی تلاش کرنے نکلے، کعب ابن اشرف سردار تھا، جس قلعہ میں مقیم تھا صحابی اس قلعہ کے پاس چھپ گئے اور شام ڈھلتے ہی ڑیور کے ساتھ چھپ کر قلعہ میں ڈاخل ہو گئے، رات یہودی سردار کعب کی خوب گاہ میں داخل ہو کے اس جہنمی کو قتل کیا، اور باہر بھاگے سیڑھیاں اترتے ہوئے پاؤں پھسلا اور ٹانگ ٹوٹ گئی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے بنی رحمت نے ٹانگ پر دست مبارک رکھا،نہ صرف درد ختم ہوا بلکہ ٹانگ پھر جڑ گئی۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ایک شاعر حطب توہین رسالت کا مرتکب تھا، فتح مکہ کے موقع پر جب جب آپ نے سب کو معاف کردیا تو صحابہ نے حطب کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا وہ لعین واجب قتل ہے، بتایا گیا کہ وہ تو غلاف کعبہ سے لپٹ کر رو رہا ہے۔۔۔ آپ کا ارشاد تھا کہ حرم کی حدود اسے پناہ نہیں دے سکتی، چنانچہ قتل ہوا۔۔۔۔۔ ہم ہیں کہ معافی کی بات کر رہے ہیں ان کے لئے۔۔۔۔
“ازادی صحافت“ کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم تو اپنے پیغمبر کے بارے میں بھی یہ حرکت (توہین) کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ اب کوئی آپ سے کئے کہ “میں تو اپنے باپ کی بھی توہین کرتا ہو تو تیری کیسے مننہ کرو؟“ تو کیا اس پر آپ اسے کیا کہے گے کہ بھائی ٹھیک ہے آپ میری بھی اور میرے باپ کی کی بھی توہین کر لو؟؟؟؟؟
اب دیکھے “او ائی سی“ کیا کرتی ہے ؟؟ Oh I See کے علاوہ بھی کچھ کرے گی کہ نہیں۔۔۔۔۔ یا بس “ او آئی سی تے فیر ٹور گئی سی“ والا معاملہ ہو گا؟؟؟؟ عجیب بات ہے!!! سزا کچھ ہے اور ہماری مانگ کچھ ؟؟؟ توہین رسالت کی!!!! ان سے اور کیا توقع رکھی جائے؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←