نوبت یہاں تک کیوں آن پہنچی

ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی

مکمل تحریر پڑھیں ←
ٹونی بلیر کو لکھا گیا الطاف حسین کا خط

ٹونی بلیر کو لکھا گیا الطاف حسین کا خط

آج اپنی تباہ کن پریس کانفرنس میں ذولفقار مرزا نے الطاف حسین کے ٹونی بلیر کو لکھے گئی جس خط کا حوالہ دیا ذیل میں اُس کی کاپی آپ سے شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں انہوں نے کیا مطالبات کئے وہ پڑھ لیں!


مکمل تحریر پڑھیں ←

ایسا کیوں؟؟

ب ہم کیا کریں؟ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں ہم نے اپنے پڑوسی سی لیا ہوا انٹرنیٹ کا کنکشن اُتارا اور پی ٹی سی ایل والوں کا ڈی ایس ایل لگوانے کا آرڈر دے دیا! جس دن پی ٹی سی ایل والا اپنی ڈیوائس دے کر گیا اُس دن (جمعرات 10 اگست 2011) کو ہمارے علاقے میں بارش ہو گئی! جس سے فون ڈیڈ ہو گیا۔ یوں انٹرنیٹ کیا آن ہوتا ہمارے گھر والے فون کی سہولت سے بھی محروم ہو گئے۔ اُس پر ظلم یہ کہ موبائل فون پر کال کرکے جو رشتہ دار گھر کے نمبر نہ اُٹھانے کی شکایت کرتا یہاں سے جواب آتا "جب سے شعیب نے انٹرنیٹ لگایا ہے فون ڈیڈ ہو گیا ہے" یوں اصل قصور وار ہم ٹھہرتے!
ہم نے فون کے ڈیڈ ہونے کے اگلے دن ہی اپنی شکایت درج کروا دی مگر مجال ہے محکمہ کی کان پر جوں بھی رینگی ہو ہاں ہمیں فون کر کے ہر بار یہ ضرور پوچھتے کہ جی نیٹ لگ گیا ہے یا نہیں پی ٹی سی ایل والے! جس پر ہم انہیں اپنے فون کے خراب ہونے کا رونا روتے اور الگ سے بھی اپنی شکایت 1218 پر درج کرواتے یہ یوں کہہ لیں کہ پہلے سے موجود زخم (شکایت) ہو ہرا کرتے مگر کون سنے ہماری آہ و زاری؟ بس ایک جواب ملتا کہ جی آپ کی شکایت ہم نے آپ کی متعلقہ ایکسچنج کو کر دی ہے۔ بس!
آخر منگل کی رات بتاریخ 16 اگست ہم نے آخری بار 1218 پر کال کی اپنی شکایت میں ایک جھوٹ کا اضافہ کیا کہ "آج لائین مین آیا تھا فون ٹھیک کرنے کے 500 روپے مانگ رہا تھا جب ہم نے نہیں دیئے تو وہ وہ فون ٹھیک کیئے بغیر واپس چلا گیا" فون کال 10 بجے رات کو کی اوربدھ کی صبح بتاریخ 17 اگست گیارہ بجے لائن مین نے آ کر ایک طرف تو پہلے فون ٹھیک کیا دوسری طرف کہا جی کس نے آپ سے پیسے مانگے تھے گھر والوں نے تو ایسی کسی شکایت سے انکار کیا کہ ہم نے نہیں کی مگر 12:30 بجے پی ٹی سی ایل والوں کی میرے موبائل پر کال آئی جناب فون ٹھیک ہو گیا ناں آپ کا؟ اور اب کے تو پیسے نہیں مارنگے ناں نیر کیا یہ ہی تھا جو آج آیا جس نے پیسے مانگے تھے!! آپ کو معلوم ہو گا ہمارا جواب کیا ہو گا!!
مگر اب دل پر ایک بوجھ سا ہے کہ ہم نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس کا کیا حل ہے کہ یہ بوجھ ہٹ جائے؟؟ اس موئے فون کو دیکھنے کو بھی دن نہیں کر رہا!! دوئم ذہن میں یہ پریشانی کہ کیا معاشرے میں اب سچ سے ذیادہ جھوٹ کی سنی جاتی ہے؟ ایسا کیوں؟

مکمل تحریر پڑھیں ←

Civic Sense

ارے میاں یہ کس کی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہو؟
“یار میری اپنی ہے ابھی گزشتہ ہفتہ لی ہے تو بھی ناں۔۔۔"
اوہ اچھا مبارک مبارک!! مٹھائی کب کھلا رہا ہے۔
“مٹھائی رہنے دے!! ایسی کی شوگر ہو جائے گی تجھے"
چل کھانا کھلا دینا اب تیرے سے کیا ضد کرنی!!! سڑکوں کی یہ مچھلی لی ہء مچھلی ہی کھلا دینا!
“بہت اچھے بھائی!! لگتا ہء جتنی کی موٹر سائیکل لی ہء اتنی کی تو دعوتیں پڑ جائیں گی!!”
یہ سواری خطرناک ہے ویسے، وہ الگ بات ہے یہ اس قدر ہو گئی ہے کہ اب تو اپنی حکومت نے pedestrian bridge پر بھی تم جیسے موٹر سائیکل والوں کے لئے راستہ بنانا شروع کر دیا ہے"
"ابے کیا کہہ رہا ہے؟ کہان بنایا ہے راستہ؟"
یار وہ شاہرہ فیصل پر نرسری اسٹاپ کے پاس تو پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے کے لئے جو پل بنایا ہے! اس کے علاوہ نا تھا کے پرانے پُل پر بھی تم لوگوں کے لئے کافی پہلے سے ramp ہیں
“اللہ!! میں اپنا سر دیوار سے مارو یا تیرے سر پر پتھر دے مارو؟"
کیوں؟ کیوں؟
“ یہ حال ہے تم جیسے پڑھے لکھے لوگوں گا تو باقیوں کا کیا حال ہو گا؟ ابے لعنتی وہ موٹر سائیکلیسٹ کے لئے نہیں بلکہ wheelchair والون کے لئے ہے!”
اوہ! اچھا!
“تمہاری حکومتوں کا بھی یہ ہی حال ہے انہیں علم ہی نہیں ہوتا! کہ قانون بنا کر اُس پر عمل کیسے کروانا ہے شہر میں 120 کے قرین pedestrian پل ہیں مگر مجال ہے دو یا تین کہ علاوہ کسی میں معذور افراد ہے لئے سہولت ہو یہ ہی حال شہر میں تعمیر ہونے والی عمارتوں و تفریح مقامات کے لئے ہے"
اچھا اچھا ٹھیک ہے، سمجھ آ گئی ہے

مکمل تحریر پڑھیں ←

میرے ملک دی بجلی جی

ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔


مکمل تحریر پڑھیں ←

خبر ہوئی کیا خبر ہے؟

شہر میں افواہ چل رہی ہو تو تمام نہ سہی یار لوگ کہتے ہین کچھ تو سچ ہوتا ہے ہے۔ اب کیا کریں کہ ایک خبر کے ساتھ ہی وکلاء برادری میں بھی افواہ چل پڑی ہے! خبر کیا ہے؟
خبر یہ ہے کہ جناب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محترم طفیل ایچ ابراہیم صاحب نے استعفی دے دیا ہے! خبر میں "حقیقی" و "آفاقی" حوالہ تو ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ محترم کے پاس "اہلیان کراچی" اور "کراچی لورز" نامی دیواری چاکنک کے اصل ماں باپ کے مخالف کے کیس کی نہ صرف تنسیخ کی درخواست دائر ہے بلکہ ضمانت بھی مانگی گئی ہے۔ "آفاق" میاں گزشتہ آٹھ دس سال سے جیل میں ہیں باقی کیسوں مین ضمانت مل چکی مگر اب ایک ہی کیس رہ گیا ہے! اب جبکہ 21 اپریل کے گزٹ میں یہ قانونی ترمیم متعارف ہو چکی کہ اگر قتل کے کیس کے مجرم کا مقدمہ دو سال مین ختم نہیں ہوتا تو اُسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔
اب افواء عام ہے کہ محترم جسٹس صاحب کی ذاتی وجوہات دراصل "خطرہ جان ہے" کیونکہ ضمانت تو بنتی ہے مگر جو "بیان" پر مشتعل ہوتے ہیں، شہر میں مئی کے مہینے میں "عوامی طاقت" کا مظاہرہ کرتے ہیں! اُن کا پریشر جسٹس صاحب برداشت نہ کر سکے!
سچ کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم تو بس افواہ کی بات کر رہے ہیں۔

اپ ڈیٹ؛ لیں جناب ایک اور جج نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا۔ یہ ہے مافیا کی طاقت خاص کر جب وہ سیاست میں بھی ہو اور اقتدار کا حصہ بھی۔ مگر لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
اے لڑکی تو روتی ہے؟ دختر کراچی کے نام۔۔۔

اے لڑکی تو روتی ہے؟ دختر کراچی کے نام۔۔۔

اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
وہ باپ جو سر کا سایہ تھا
جو تم سب کا سرمایہ تھا
قربان ہوا زرداروں پر
عصبیت کے دلالوں پر
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
جو باپ سراپا شفقت تھا
جو الفت کا ایک پیکر تھا
اب لوٹ کے گھر نہ آئے گا
بس تم سب کو تڑپائے گا
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ہاں تیری یہ آہ و فغاں
چلی ہے سوئے آسماں
سارے شہر کے بام و در
انسانیت پہ نوحہ خواں
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
یہ سسکیاں، یہ ہچکیاں
کیسے سنیں صاحب صدر
سب ساتھ ہیں قاتل انہی کے
کیسے ہو انصاف ادھر؟
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ذرداری، الطاف و اسفندیار ہیں
خون ناحق پہ سبھی تیار ہیں
ان سے ناطہ توڑ لو، لوگو سنو
ورنہ یونہی خوف و دہشت میں جیو
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے


وقاراعظم (اردو بلاگر و شاعر

مکمل تحریر پڑھیں ←

معذور ہیں اسپیشل یا اسپیشل دراصل معذور؟

ابے بڑا خوش ہیں خیر ہے ناں؟
“ابے خوش کیوں نہ ہوں، آج اسپیشل اولیمپکس میں شمولیت و شاندار کارکردگی کے بعد اپنے ملک لوٹ آئے ہیں! کل 57 میڈل پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتے ہیں"
ابے ہاں کارکردگی واقعی عمدہ تھی۔
“ہاں! اور اولیمپکس کا سب سے تیز ترین ایتھلیٹ بھی ایک پاکستانی ہے!! کیا پیارا سا نام تھا اُس کا۔۔۔۔۔۔ذہن مین نہیں آ رہا"
شایدعدیل امیر!!
“ہاں ہاں یہ ہی نام تھا!! کُل تین سونے کے میڈل تو اس اکیلے نے ہی جیتے ہیں"
واقعی یار دلی خوشی ہوئی اپنے ان ذہنی معذوروں کی اس اعلی پرفارمنس پر
محترم ذہنی معذور نہیں اسپیشل!! اور اس عمدہ کارکردگی دیکھانے والے تو نہایت اسپیشل سمجھے!”
او کے بابا اوکے
ذہنی معذور تو وہ ہیں جنہیں تم اسپیشل کہتے ہوں اور وہ ملک کے لئے کھیلنے کو ذہنی اذیت سمجھتے ہیں!!! سمجھے؟"

مکمل تحریر پڑھیں ←