شاعر مشرق اور اُن کا پڑپوتا
آج اقبال ڈے ہے سارا پاکستان چھٹی منا رہا ہے۔ اقبال کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے وہ شخص جس پر کئی کتابیں لکھیں گئی، وہ شاعر ہی نہیں فلاسفر و مدبر بھی تھے، مگر اب بھی بہت کچھ ہے لکھنے کو مگر ہم نہیں لکھتے آج اُن کے بارے میں۔ اس بار میڈیا کے لئے یہ دن بھی باقی دنوں کی طرح کمرشلائز ہو گیا ہے موبی لنک بنیادی اسپانسر ہے ورنہ پہلے چند ایک سرکاری ادارے ہی اقبال ڈے کی مناسبت سے اشعار و پیغامات اپنے اپنے وزیر کے بیان کے ساتھ چھپاتے تھے ہمیں اس کے کمرشلائز ہونے پر ہر گز کوئی اعتراض نہیں کچھ نہیں تو شاید اس طرح ہی ممکن ہے نوجوانوں میں یہ دن ویلنٹائن یا اس جیسے دوسرے ایام کے طرح مشہور ہو جائے اور یار دوست اس دن کو نیند پوری کرنے یا برائے تفریح سمجھ کر ضائع نہ کریں۔
اتور کو سنڈے برانچ میں پی ٹی وی والوں نے جاوید اقبال کو علامہ اقبال پر گفتگو کے لئے مدعو کیا تھا، دوران گفتگو ایک کتاب جو کہ بچوں کے لئے لکھی گئی تھی اور اردو زبان میں تھی جاوید اقبال صاحب نے اُس کی افادیت بیان کرتے ہو کہا "ایسی کتاب انگریزی میں بھی لکھی جانی چاہئے کیونکہ اب اردو چھوٹے بچے اسے کیسے سمجھیں اب میرا Grandchild اس کتاب کی کو نہیں پڑح سکتا کیونکہ یہ اردو میں ہے"
میرا سوال یہ ہے کہ اگر اقبال جو اردو و فارسی کے شاعر ہیں کا پڑپوتا اپنے پڑدادا کی شاعری کی زبان سے نا واقف ہے تو کیا عام نوجوان پر اقبال نا واقف ہو تو اُسے قصور وار ٹھرانا درست ہو گا؟
اتور کو سنڈے برانچ میں پی ٹی وی والوں نے جاوید اقبال کو علامہ اقبال پر گفتگو کے لئے مدعو کیا تھا، دوران گفتگو ایک کتاب جو کہ بچوں کے لئے لکھی گئی تھی اور اردو زبان میں تھی جاوید اقبال صاحب نے اُس کی افادیت بیان کرتے ہو کہا "ایسی کتاب انگریزی میں بھی لکھی جانی چاہئے کیونکہ اب اردو چھوٹے بچے اسے کیسے سمجھیں اب میرا Grandchild اس کتاب کی کو نہیں پڑح سکتا کیونکہ یہ اردو میں ہے"
میرا سوال یہ ہے کہ اگر اقبال جو اردو و فارسی کے شاعر ہیں کا پڑپوتا اپنے پڑدادا کی شاعری کی زبان سے نا واقف ہے تو کیا عام نوجوان پر اقبال نا واقف ہو تو اُسے قصور وار ٹھرانا درست ہو گا؟
ایک شریف آدمی۔۔۔۔
وہ بزرگ دفتر میں داخل ہوئے تو اُس وقت میں اور میرا دوست ایک کیس کے بارے میں آپس میں مختلف زاویوں سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ انہیں کوٹ میں سے کسی نے ہماری طرف refer کیا تھا، ہم نے اُن سے اُن کے کیس کے بارے میں سوال کیا تو اُن کے کہانی سے معلوم ہوا کہ جوان بیٹے پر چار مختلف کیس بنے ہیں جن کی بناء پر وہ جیل میں ہے اور اُن کی پہلی خواہش اُس کی ضمانت کروانا ہے وہ بھی جلد از جلد۔ ہم نے اس سلسلے میں اُن کے بیٹے کے خلاف بننے والے کیسوں کی کاپیاں مانگی جو اُن کے پاس نہیں تھیں لہذا وہ لانے کا کہا جواب میں انہوں نے پوچھا کہاں سے ملیں گی؟
ہم نے اس سلسلے میں اُنہیں دو طریقے بتائے اول قانونی دوئم غیر قانونی (بمعہ رشوت)، یہ بھی وضاحت کردی کہ جناب قانونی طریقہ اول تو طویل ہے دوسرا کئی کاغذات کی کاپیاں نہیں مل سکے گی۔
بزرگ نے قانونی طریقے سے کاغذات نکالنے کو بہتر جانا۔اس کے بعد بات آگے بڑھی تو ہم نے اُن کے بیٹے کے کیس کی وہ تفصیلات جاننا چاہی جو ابتدائی طور پر ہمیں معاملات کو جاننے کے لئے درکار تھی۔
آخر میں جب وہ جانے لگے تو ہم نے ایک بار پھر اُنہیں تلقین کی کہ قانونی طور پر ہم درست راہ تب ہی متعین کر سکتے ہیں جب کیس کے کاغذات موجود ہوں لہذا آپ جلد از جلد اُن کا بندوبست کردیں۔ وہ جاتے جاتے رُک گئے اور دوبارہ بیٹھ گئے۔
کہنے لگے “آج کل کے یہ جو تم نوجوان ہو ناں تم لوگوں نے بہت مایوسی کیا ہم بوڑھوں کو، تم ہر آنے والے کو دونمبری کا طریقہ ہی بتاتے ہو یا یہ کہہ لو بھی بتاتے ہو؟”
ہم، میں اور میرے ساتھی، نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نہ سمجھنے والے انداز میں دوبارہ اُن بزرگ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔
اب اُن بزرگ نے باقاعدہ ایک کلاس (بے عزتی)لینے کے انداز میں معاشرے کی برائیوں کا تذکرہ کرنا شروع کیا اور اُس کا اصل محرک آج کے نوجوان کو بتایا، خاص کر سرکاری دفاتر (جن میں بلخصوص عدلیہ میں کلرک و پیشکار وغیرہ) میں موجود رشوت کلچر ہے، ابھی اُن بزرگ کی گفتگو(لیکچر) زور و شور سے جاری تھی کہ ہمارے دوست نے اُن سے الٹا سوال کر ڈالا کہ “آپ کی عمر کتنی ہے”
اول تو اس سوال پر سٹپٹا گئے پھر گویا ہوئے “72 سال”
پھر دوسرا سوال تھا”عدالتوں کے چکر میں کب سے پڑے؟”
کہنے لگے” کوئی لگ بھگ چار پانچ سال ہو گئے ہیں جب سے میرا چھوٹا بیٹا پکڑا گیا ہے”
ہمارے دوست نے کہا “انکل ابتدائی عمر کے بیس سال اور یہ پانچ سال کُل ہو گئے پچس سال، ان پچس سالوں کو اگر آپ کی عمر سے نکال دیا جائے تو کُل تقریبا 47 سال شعور کے آپ نے اس معاشرے کے درمیان گزارے ہیں، کیا اس دوران آپ نے کبھی کوئی احتجاج کیا؟ کوئی جلوس نکالا؟ کوئی تحریک نکالی؟ کوئی اور ایسی کوشش کہ یہ جو معاشرے میں مختلف بُرائیاں موجود ہیں یا جنم لے رہی ہیں اُس کو روکا جائے! کبھی کوئی بھوک ہرتال کی ہو پریس کلب میں؟ کیا آپ نے ایسا کیا؟”
بزرگ کا کہنا تھا “بھائی میں شریف آدمی ہوں ساری عمر خاموشی سے نوکری کی ہے۔ میری تو آدھی عمر تو آپریشن ٹھیٹر میں گزری ہے نوکری کی اور سیدھا گھر! مجھے کیا معلوم تھا معاشرے میں کیا ہو رہا ہے”
ہمارے دوسرے دوست جو اس گفتگو کے دوران آ گئے تھے مخاطب ہوئے “یہ ہی تو ! آپ نے کوئی کوشش نہیں کی ناں، اچھا یہ بتائے کہ آپ نے کتنے سال آپریشن ٹھیٹر میں گزرے”
بزرگ گویا ہوئے “کوئی 36 سال”
دوسرے دوست نے اب اُن سے کہا “ساری عمر آپ نے آپریشن ٹھیٹر میں گزار دی، میں خود شاہد ہوں، یہ اسپتال والے کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کا شوہر، کسی کی بیٹی، ماں یا کوئی اور پیارا اگر مر جائے تو میت کو اُس وقت تک اُس کے ورثا کے حوالے نہیں کرتے جب تک کہ وہ ہسپتال کے تمام واجبات ادا نہیں کرتا، اور ایسے بل کئی مرتبہ لاکھوں میں بھی چلے جاتے ہے، اب وہ شخص اپنے پیارے کو دفن کرنے کا بندوبست کرے یا ہسپتال والوں کے بل اُتارنے کے لئے بھاگ ڈور کرے؟ کیا آپ نے وہاں کبھی اس پر آواز اُٹھائی؟”
بزرگ کچھ دیر خامو ش رہنے کے بعد گویا ہوئے “بھائی میں مزدور ، نوکر بندہ تھا کیا بولتا ایک نوکری تھی اگر وہ بھی چلی جاتی تو بھوکھا مرتا میں کون سا ڈاکٹر تھا کہ اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتا”
دوست بولا “آپ اپنی مثال لے لیں ہر ایک جب خود پرپڑتی ہے تو ہی بولتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے، اس سے ہی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، آپ بھی عدالتی معاملات میں خود پھنسے تو سب برائیاں نظر آنے لگی ورنہ سب اچھا تھا۔ وہ کیا ایک لطیفہ ہےکہ ایک سیاست دان ایک جلسے میں تقریر کررہا تھا کہ میں آپ سب کی تمام پریشانیاں دور کر دوں گا مگر آپ مجھ سے عوام کی بات مت کریں وہ تو بے وقوف ہے، جاہل ہے اور جلسے میں تمام حاضرین یہ سوچ کر تالیاں بجانے لگ پڑے کہ میں تو عوام نہیں یہ جو میرے دائیں بائیں ہیں یہ ہیں عوام۔”
بزرگ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے “یار تم لوگ تو مجھ بوڑھے پر ہی وکالت جھاڑنے لگ پڑے ہو، یہ کام عدالت میں کرنا، میں تمہیں کل پرسوں تمام کیسوں کے کاغذات لا دوں گا”
اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی سچ ہے شاید کہ ایک شریف آدمی دامن بچانے کے چکر میں پورے معاشرے کو گندہ کر دیتا ہے! یا نہیں ؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
ہم نے اس سلسلے میں اُنہیں دو طریقے بتائے اول قانونی دوئم غیر قانونی (بمعہ رشوت)، یہ بھی وضاحت کردی کہ جناب قانونی طریقہ اول تو طویل ہے دوسرا کئی کاغذات کی کاپیاں نہیں مل سکے گی۔
بزرگ نے قانونی طریقے سے کاغذات نکالنے کو بہتر جانا۔اس کے بعد بات آگے بڑھی تو ہم نے اُن کے بیٹے کے کیس کی وہ تفصیلات جاننا چاہی جو ابتدائی طور پر ہمیں معاملات کو جاننے کے لئے درکار تھی۔
آخر میں جب وہ جانے لگے تو ہم نے ایک بار پھر اُنہیں تلقین کی کہ قانونی طور پر ہم درست راہ تب ہی متعین کر سکتے ہیں جب کیس کے کاغذات موجود ہوں لہذا آپ جلد از جلد اُن کا بندوبست کردیں۔ وہ جاتے جاتے رُک گئے اور دوبارہ بیٹھ گئے۔
کہنے لگے “آج کل کے یہ جو تم نوجوان ہو ناں تم لوگوں نے بہت مایوسی کیا ہم بوڑھوں کو، تم ہر آنے والے کو دونمبری کا طریقہ ہی بتاتے ہو یا یہ کہہ لو بھی بتاتے ہو؟”
ہم، میں اور میرے ساتھی، نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نہ سمجھنے والے انداز میں دوبارہ اُن بزرگ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔
اب اُن بزرگ نے باقاعدہ ایک کلاس (بے عزتی)لینے کے انداز میں معاشرے کی برائیوں کا تذکرہ کرنا شروع کیا اور اُس کا اصل محرک آج کے نوجوان کو بتایا، خاص کر سرکاری دفاتر (جن میں بلخصوص عدلیہ میں کلرک و پیشکار وغیرہ) میں موجود رشوت کلچر ہے، ابھی اُن بزرگ کی گفتگو(لیکچر) زور و شور سے جاری تھی کہ ہمارے دوست نے اُن سے الٹا سوال کر ڈالا کہ “آپ کی عمر کتنی ہے”
اول تو اس سوال پر سٹپٹا گئے پھر گویا ہوئے “72 سال”
پھر دوسرا سوال تھا”عدالتوں کے چکر میں کب سے پڑے؟”
کہنے لگے” کوئی لگ بھگ چار پانچ سال ہو گئے ہیں جب سے میرا چھوٹا بیٹا پکڑا گیا ہے”
ہمارے دوست نے کہا “انکل ابتدائی عمر کے بیس سال اور یہ پانچ سال کُل ہو گئے پچس سال، ان پچس سالوں کو اگر آپ کی عمر سے نکال دیا جائے تو کُل تقریبا 47 سال شعور کے آپ نے اس معاشرے کے درمیان گزارے ہیں، کیا اس دوران آپ نے کبھی کوئی احتجاج کیا؟ کوئی جلوس نکالا؟ کوئی تحریک نکالی؟ کوئی اور ایسی کوشش کہ یہ جو معاشرے میں مختلف بُرائیاں موجود ہیں یا جنم لے رہی ہیں اُس کو روکا جائے! کبھی کوئی بھوک ہرتال کی ہو پریس کلب میں؟ کیا آپ نے ایسا کیا؟”
بزرگ کا کہنا تھا “بھائی میں شریف آدمی ہوں ساری عمر خاموشی سے نوکری کی ہے۔ میری تو آدھی عمر تو آپریشن ٹھیٹر میں گزری ہے نوکری کی اور سیدھا گھر! مجھے کیا معلوم تھا معاشرے میں کیا ہو رہا ہے”
ہمارے دوسرے دوست جو اس گفتگو کے دوران آ گئے تھے مخاطب ہوئے “یہ ہی تو ! آپ نے کوئی کوشش نہیں کی ناں، اچھا یہ بتائے کہ آپ نے کتنے سال آپریشن ٹھیٹر میں گزرے”
بزرگ گویا ہوئے “کوئی 36 سال”
دوسرے دوست نے اب اُن سے کہا “ساری عمر آپ نے آپریشن ٹھیٹر میں گزار دی، میں خود شاہد ہوں، یہ اسپتال والے کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کا شوہر، کسی کی بیٹی، ماں یا کوئی اور پیارا اگر مر جائے تو میت کو اُس وقت تک اُس کے ورثا کے حوالے نہیں کرتے جب تک کہ وہ ہسپتال کے تمام واجبات ادا نہیں کرتا، اور ایسے بل کئی مرتبہ لاکھوں میں بھی چلے جاتے ہے، اب وہ شخص اپنے پیارے کو دفن کرنے کا بندوبست کرے یا ہسپتال والوں کے بل اُتارنے کے لئے بھاگ ڈور کرے؟ کیا آپ نے وہاں کبھی اس پر آواز اُٹھائی؟”
بزرگ کچھ دیر خامو ش رہنے کے بعد گویا ہوئے “بھائی میں مزدور ، نوکر بندہ تھا کیا بولتا ایک نوکری تھی اگر وہ بھی چلی جاتی تو بھوکھا مرتا میں کون سا ڈاکٹر تھا کہ اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتا”
دوست بولا “آپ اپنی مثال لے لیں ہر ایک جب خود پرپڑتی ہے تو ہی بولتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے، اس سے ہی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، آپ بھی عدالتی معاملات میں خود پھنسے تو سب برائیاں نظر آنے لگی ورنہ سب اچھا تھا۔ وہ کیا ایک لطیفہ ہےکہ ایک سیاست دان ایک جلسے میں تقریر کررہا تھا کہ میں آپ سب کی تمام پریشانیاں دور کر دوں گا مگر آپ مجھ سے عوام کی بات مت کریں وہ تو بے وقوف ہے، جاہل ہے اور جلسے میں تمام حاضرین یہ سوچ کر تالیاں بجانے لگ پڑے کہ میں تو عوام نہیں یہ جو میرے دائیں بائیں ہیں یہ ہیں عوام۔”
بزرگ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے “یار تم لوگ تو مجھ بوڑھے پر ہی وکالت جھاڑنے لگ پڑے ہو، یہ کام عدالت میں کرنا، میں تمہیں کل پرسوں تمام کیسوں کے کاغذات لا دوں گا”
اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی سچ ہے شاید کہ ایک شریف آدمی دامن بچانے کے چکر میں پورے معاشرے کو گندہ کر دیتا ہے! یا نہیں ؟
احساس مر رہا ہے؟
سنا ہے ایک دور تھا کہ جب کسی علاقے میں کوئی معصوم یا بے قصور مارا جاتا تھا تو ماحول ایسا افسردہ ہو جاتا تھا کہ کوئی ناواقف بھی محسوس کر لیتا تھا کہ کچھ بُرا ہو گیا ہے۔ ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا مگر بزرگ تو یہاں تک بتاتے ہیں کہ آسمان پر لالی آ جاتی تھی اور ہواوں کے جکڑ چلا کرتے تھے۔ اور قریب کے دیہات کے رہائشیوں کو بھی ظلم ہونے کی خبر ہو جاتی تھی۔ ہم نے ایک ایسا ہی قصہ سنا کہ ایک عورت کو قتل کیا گیا تھا اُس کی لاش کئی دن کے بعد ملی اُس کی موت کا اندازہ لوگوں نے ایک ایسی سی آندھی کے گزرے دن سے منسوب کر کے کیا اور بعد میں پکڑے جانے والے قاتل نے بھی اقرار کیا کہ وہ ہی دن دراصل اُس کی بربریت کا دن تھا۔ اب یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ آیا واقعی معصوم کے قتل پر ہواوں کے جکڑ چلا کرتے تھے یا قاتل ہی اُس دن جوش میں آجاتے تھے مگر جو حقیقت ہے وہ یہ کہ انسان کی زندگی کی درحقیقت بہت تھی انسان ہی کی نظر میں۔
اب کیا حال ہے؟ اب سب کو اپنی جان ہی صرف عزیز معلوم ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا پر آنے والی خود کش بمبار اور حملہ آوروں کی خبروں اور دیگر اس طرح کی خبروں پر عام افراد کے تبصرے نہایت حیرت انگیز ہیں۔ جیسے ایک مرتبہ ہم گلی میں لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھ رہے تھے کہ ایک اور لڑکا جو ابھی گھر سے آیا تھا نےآتے ہی اپنے ساتھوں کو ایک خود کش حملے کی خبر سنائی۔
جو لڑکا بیٹنگ کر رہا تھا اُس نے پوچھا "کتنے مرے؟"
جواب آیا "27 ہیں اب تک کی خبروں کے مطابق"
تو اُن کا تبصرہ تھا " لگتا ہے آج نصف سینچری ہو جائے گی، چلو چھوڑو یار چلو آو کرکٹ کھیلوں ماجد یہ تمھاری ٹیم میں ہے اب دونوں ٹیمیں برابر ہو گئی ہیں اور تمہاری ٹیم کا کوئی بندہ دو باریاں نہیں لے گا" اور کرکٹ کا میچ شروع ہو گیا۔
یہ ایک ہی مثال نہیں ہے ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں روز بروز ایسے حملوں پر ہمارا رد عمل واجبی سا ہوتا جارہا ہے ہم اپنے حکمرانوں پت تنقید کرتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں بس وہ ایک مذمتی بیان جاری کرنے سے ذیادہ کچھ نہیں کرتی مگر سچ تو یہ ہے کہ اب عام آدمی بھی اس کو المیہ سمجھنے کے بجائے صرف حادثہ سمجھنے لگ پڑے ہیں۔
یہ کیوں ہے؟ ہم شعور کی کس راہ پر گامزن ہیں یا کس سطح کے گمراہ؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
اب کیا حال ہے؟ اب سب کو اپنی جان ہی صرف عزیز معلوم ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا پر آنے والی خود کش بمبار اور حملہ آوروں کی خبروں اور دیگر اس طرح کی خبروں پر عام افراد کے تبصرے نہایت حیرت انگیز ہیں۔ جیسے ایک مرتبہ ہم گلی میں لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھ رہے تھے کہ ایک اور لڑکا جو ابھی گھر سے آیا تھا نےآتے ہی اپنے ساتھوں کو ایک خود کش حملے کی خبر سنائی۔
جو لڑکا بیٹنگ کر رہا تھا اُس نے پوچھا "کتنے مرے؟"
جواب آیا "27 ہیں اب تک کی خبروں کے مطابق"
تو اُن کا تبصرہ تھا " لگتا ہے آج نصف سینچری ہو جائے گی، چلو چھوڑو یار چلو آو کرکٹ کھیلوں ماجد یہ تمھاری ٹیم میں ہے اب دونوں ٹیمیں برابر ہو گئی ہیں اور تمہاری ٹیم کا کوئی بندہ دو باریاں نہیں لے گا" اور کرکٹ کا میچ شروع ہو گیا۔
یہ ایک ہی مثال نہیں ہے ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں روز بروز ایسے حملوں پر ہمارا رد عمل واجبی سا ہوتا جارہا ہے ہم اپنے حکمرانوں پت تنقید کرتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں بس وہ ایک مذمتی بیان جاری کرنے سے ذیادہ کچھ نہیں کرتی مگر سچ تو یہ ہے کہ اب عام آدمی بھی اس کو المیہ سمجھنے کے بجائے صرف حادثہ سمجھنے لگ پڑے ہیں۔
یہ کیوں ہے؟ ہم شعور کی کس راہ پر گامزن ہیں یا کس سطح کے گمراہ؟
بابا ویلا
مکمل تحریر پڑھیں ←پاکستان کا ہر فن مولا میڈیا
بلیک واٹر پاکستان میں
Shoiab Safdar Ghumman
اسلام
الطاف بھائی
امریکہ
اوبامہ
ایم کیو ایم
پاکستان
جنگ آزادی
حکمران
دہشت گرد
قادیانی
ویڈیو
میرا دل بدل دے
کالا پانی
تحریر= اوریا مقبول جان